حضرت داوٗد علیہ السلام نے شاہِ طالوت کے لیے عظیم الشان خدمات سر انجام دی تھیں، لیکن بائبل کے مطابق شاہِ طالوت حضرت داوٗد علیہ السلام کی ہر دلعزیزی اور قوت دیکھ کر ان سے حسد کرنے لگا تھا اور انھیں ٹھکانے لگوا دینا چاہتا تھا۔ سمتھ کی لغتِ بائبل میں وضاحت ہے:

Unfortunately David's fame proved the foundation of that unhappy jealousy of Saul towards him which, mingling with the king's constitutional malady, poisoned his whole future relations to David. (133). He [David] also still performed from time to time the office of minstrel [singer or musician of the king\'s court]; but the successive attempts of Saul upon his life convinced him that he was in constant danger. (133), he escaped by night, (133). David\'s life for the next few years was made up of a succession of startling incidents. (133); he is hunted by Saul from place to place like a partridge. ؂24

بدقسمتی سے داوٗد ؑ کی شہرت شاہِ طالوت کے ان [حضرت داوٗدعلیہ السلام ] سے اس ناخوش گوار حسد کی بنیاد ثابت ہوئی جس نے داوٗد ؑ سے اس کے مستقبل کے تمام تعلقات میں زہر گھول دیا۔ مزید براں شاہ طالوت کی جسمانی کمزوری اور بیماری بھی اس [حسد] کا باعث بنی ۔(...)۔ وہ [حضرت داوٗد علیہ السلام ] ابھی تک وقتاً فوقتاً بادشاہ کے دربار کے شاہی موسیقار کے طور پر بھی خدمات بجا لاتے تھے، لیکن شاہ طالوت کی بار بار ان کی جان لینے کی کوششوں سے انھیں یقین ہو گیا کہ ان کی جان مسلسل خطرے میں ہے۔ (...) ۔ انھوں نے رات [کی تاریکی ] میں راہِ فرار اختیار کی، (...)۔ اگلے چند سال تک داوٗد ؑ کی زندگی مسلسل چونکا دینے والے حیرت انگیزواقعات سے عبارت تھی۔ (...)۔ شاہِ طالوت جگہ جگہ تیتر کے شکاری کی طرح ان کی گھات میں تھا۔

اسی دوران میں حضرت داوٗد علیہ السلام کے سرپرست سیموئیل نبی کا انتقال ہو گیا۔ داوٗد علیہ السلام شاہ طالوت کی پہنچ سے دور رہنے کے لیے فاران کے بیابان کی طرف بھاگ گئے۔بائبل کی کتاب ۱۔سموئیل میں بیان کیا گیا ہے:

اور سموئیل مر گیااور سب اسرائیلی جمع ہوئے اوراُنھوں نے اُس پر نوحہ کیا اور اُسے رامہ میں اُسی کے گھر میں دفن کیا اورداوٗد اٹھ کر دشتِ فاران کو چلا گیا۔ ۲۵؂

یہ فاران وہی جگہ ہے جہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ہاجرہ اس وقت سے آباد ہوگئے تھے، جب انھیں حضرت ابراہیم علیہ السلام وہاں چھوڑ آئے تھے۔ اگر یہ وہ دوسرا فاران ہوتا جو صحراے سینا میں واقع تھا تو شاہِ طالوت کی اس تک رسائی کوئی مشکل نہ ہوتی اور حضرت داوٗد علیہ السلام وہاں بالکل غیرمحفوظ ہوتے۔ چنانچہ یہ وہی فاران ہو سکتا ہے جس کا بائبل میں ان الفاظ میں ذکر آیا ہے:

اور خدا نے اس لڑکے کی آواز سنی اور خدا کے فرشتے نے آسمان سے ہاجرہ کو پکارا اور اسے کہا اے ہاجرہ تجھ کو کیا ہوا ؟ مت ڈر کیونکہ خدا نے اس جگہ سے، جہاں لڑکا پڑا ہے، اس کی آواز سن لی ہے۔ اٹھ اور لڑکے کو اٹھا اور اسے اپنے ہاتھ سے سنبھال، کیونکہ میں اس کو ایک بڑی قوم بناؤں گا۔ پھر خدا نے اس کی آنکھیں کھولیں اور اس نے پانی کا ایک کنواں دیکھا اور جا کر مشک کو پانی سے بھر لیا اور لڑکے کو پلایا ۔ اور خدا اس لڑکے کے ساتھ تھا اور وہ بڑا ہوا اور بیابان میں رہنے لگا اور تِیراَنداز بنا۔ اور وہ فاران کے بیابان میں رہتا تھا اور اس کی ماں نے ملکِ مصر سے اس کے لیے بیوی لی۔ ۲۶؂

اگر یہ دوسرا یعنی سینائی والا فاران ہوتا تو یہ طالوت کی بالکل پہنچ میں ہوتا اور حضرت داوٗد علیہ السلام وہاں کسی صورت محفوظ نہ ہوتے۔
یہ بات تاریخی طور پر بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے اور زمینی حقائق کے بھی عین مطابق ہے کہ خانۂ کعبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے تعلق رکھنے والے اہل عرب یہاں فریضۂ حج ادا کرنے آتے تھے۔ حضرت داوٗد علیہ السلام کو فاران کے بیابان میں بکہ کے مقام پر رہنے کا جو موقع ملا تھا، ظاہر ہے کہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انھوں نے فریضۂ حج بھی ادا کیا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی اس جاے پناہ کی ایک مرتبہ پھر زیارت کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں تاکہ وہاں حج کا فریضہ سر انجام دے سکیں۔

________

حواشی

24. Smith\'s Bible Dictionary, p.138.
25. The Bilbe: KJV-I Sam, 25:1.

۲۶؂ کتابِ مقدس، کتابِ پیدایش ۲۱: ۱۷ ۔ ۲۱۔

____________