یہ بات متفقہ طور پر تسلیم شدہ ہے کہ عبرانی بائبل میں متعلقہ مقام پر اصلی لفظ بکا ہے۔ سیاق و سباق اس بات کی صریح دلالت کر رہے ہیں کہ یہاں یہ اسم معرفہ کے طور پر استعمال ہوا ہے اور بائبل کے اکثر تراجم میں اس کی یہی حیثیت برقرار رکھی گئی ہے۔ بعض تراجم اس کی اصل حیثیت کا ادراک نہیں کر سکے اور انھوں نے اسے اسم معرفہ کے بجاے ایک عام سا لفظ سمجھ لیا ہے۔ اور پھر انھوں نے من مانے طریقے پر مندرجہ ذیل مختلف معنی دے دیے ہیں: رونا، آنسو، بلسام کا درخت، شہتوت، کوئی اور درخت، خشک وادی وغیرہ۔ یہ سب ایک غلط کاوش ہے اور کسی غلط فہمی پر مبنی ہے۔
عبرانی لفظ بکا تین حروف تہجی ب228ک228الف سے مرتب ہے۔ ’سٹرونگز ڈکشنری‘ کے مطابق اس کے معنی ہیں:

\'weeping' ؂43 or 'the weeping tree (some gum-distilling tree, perhaps the balsam,):-mulberry tree.' ؂44 . \'Bakah\' is also composed of three alphabetical letters = (b+k+h), meaning \'to weep; gen. to bemoan, to bewail, complain, mourn, with tears, weep' ؂45

رونایا ’رونے والا درخت (کوئی گوند والا درخت، جیسے شاید بلسام کا درخت)، شہتوت کا درخت‘۔’بکہ‘بھی تین حروفِ تہجی ب228ک228ہ سے مرکب ہے جس کے معنی ہیں: ’رونا، عام طور پر آہیں بھرنا، آہ و زاری کرنا، شکایت کرنا، ماتم کرنا، آنسوؤں کے ساتھ رونا۔‘

جہاں تک اس کے استعمال کا تعلق ہے تو حقیقت یہ ہے کہ بَکَّہ دراصل مَکَّہ کا قدیم نام تھا۔ شروع میں یہ اسی لفظ بَکَّہ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔۴۶؂ ذیل میں لفظ بکہ کے لغوی معانی کی وضاحت کے لیے عربی کے چند مستند حوالے درج کیے جاتے ہیں۔
اٹھارہ جلدوں میں عربی زبان کی ایک مشہور لغت ’لسان العرب‘ میں اس کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے:

قال یعقوب: بَکَّۃُ ما بین جبلی مَکَّۃ لأن الناس یبکُّ بعضہم بعضًا فی الطواف أی یَزْحَمُ؛ (...) وقیل: بَکۃ اسم بطن مَکّۃ سمیت بذلک لازدحام الناس. وفی حدیث مجاہد: من أسماء مَکّۃَ بَکّۃُ، قیل: بَکّۃُ موضع البیت ومکۃُ سائر البلد، وقیل: ہما اسما البلدۃ، والباء والمیم یتعاقبان.۴۷؂

یعقوب کہتا ہے: بَکَّہ وہ ہے جو مَکّے کے دوپہاڑوں کے درمیان واقع ہے، کیونکہ لوگ طواف کے دوران میںیہاں ایک دوسرے کو کچل دیتے تھے یا یہاں بہت زیادہ ہجوم ہو جاتا تھا ۔(...)۔ کہا جاتا ہے کہ بَکَّہ اندرون مَکّہ کا نام ہے اور اسے یہ نام لوگوں کی وہاں بہت بھیڑ ہو جانے کی وجہ سے دیا گیا تھا۔ مجاہد کی روایت میں بیان کیا گیا ہے ’بَکَّہ مَکّہ کے ناموں میں سے ہے‘ اور کہا جاتا ہے: ’بکّہ خانۂ خدا کا محل وقوع ہے اور مکّہ پورے شہر کا نام ہے۔‘ یہ بھی کہا گیا ہے [بَکَّہ اور مَکّہ] دونوں ہی اس شہر کے نام ہیں اور’ب‘ اور’م‘ [حروفِ ابجد] ایک دوسرے کی جگہ آتے ہیں۔

(سولہ جلدوں کی) ’تہذیب اللغۃ‘ عربی زبان کی ایک انتہائی قابل اعتبار لغت ہے۔ اس میں اس وضاحت کے سلسلے میں لکھا ہے:

قال اللیث: البک: دقّ العنق. ویقال سمِّیت مکۃ بکّہ لأنہا کانت تبُکُّ أعناق الجبابرۃ اذا ألحدُوا فیہا. ویقال: بل سمِّیت بکّۃ لأن الناس یَبُکُّ بعضہم بعضًا فی الطُّرق، أی یدفع. عمرو عن أبیہ: بَکّ الشئ’ أی فسخہ؛ ومنہ أخذت بکّہ لأنہا کانت تبکُّ أعناقَ الجبابرۃ اذا الحدُوا فیہا۔ ویقال: بل سمیِّتْ بکۃ لأنَّ الناسَ یبکُّ بعضُہم فی الطُّرُق.(...). قیل: انّ بَکّۃَ موضع البیت، وسائرُ ما حولہ مکّۃ. قال: (الزجاج) والاجتماع أن مکّۃ وبکّۃ الموضع الذی یحجُّ الناسُ الیہ، وہی البلْدَۃ. (...). وقال(الزجاج): (لَلذی ببکۃ مبارکۃ). فأمّا اشتقاقہ فی اللغۃ فیصلح أن یکون الأسم اشتق من بکّ الناسث بعضہم فی الطواف، أی دفع بعضہم بعضا. وقیل: انما سمِّیت بکّۃ لأنہا تبکُّ أعناق الجبابرۃ.۴۸؂
اللیث لکھتا ہے: ’البک‘ کے معنی ہیں گردن توڑنا۔ کہا جاتا ہے کہ مکے کا نام بکہ اس لیے پڑ گیا تھا کہ جب کوئی ظالم سیدھے راستے سے انحراف کرتا تھا تو وہ اُس کی گردن توڑ دیتا تھا۔ اور یہ کہا جاتا ہے کہ بکے کانام بکہ اس لیے رکھا گیا تھا، کیونکہ یہاں لوگ راستوں میں ایک دوسرے کو کچل دیتے تھے یا دھکے دیتے تھے۔ عمرو اپنے والد سے روایت کرتا ہے: ’بک الشیء‘، یعنی اُسے توڑ دیا یا اُس کے جوڑ الگ کر دیے اوراسی سے لفظ بکہ ماخوذ ہے، کیونکہ جب کوئی شخص یہاں حد سے تجاوز کرتا تھا تو یہ ایسے ظالموں کی گردنیں توڑ دیتا تھا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسے بکہ کا نام اس وجہ سے دیا گیا، کیونکہ اس کی راہوں میں لوگ ایک دوسرے کو کچل دیتے تھے۔(...)۔ زجاج کہتا ہے : ’کہا جاتا ہے کہ بکہ حرم کا محلِ وقوع ہے اور جوکچھ اس کے اردگرد ہے، وہ مکہ ہے‘۔وہ (زجاج) کہتا ہے:اور اس بات پر اتفاقِ راے ہے کہ مکہ اور بکہ وہ مقام ہیں جہاں لوگ حج کے لیے آتے ہیں، اور یہ شہر ہے۔(...) اور وہ (زجاج) کہتا ہے:اور جہاں تک اس کے لغوی اشتقاق کا تعلق ہے تو یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ’لوگ طواف میں ایک دوسرے کو کچل دیا کرتے تھے یعنی ایک دوسرے کو دھکے دیا کرتے تھے‘۔ اور کہا جاتا ہے کہ بکہ کو یہ نام اس لیے دیا گیا تھا ،کیونکہ یہ ظالموں کی گردنیں توڑ دیتا تھا۔

معجم الوسیط‘ میں ہے: ’بکّہ یعنی مکّہ‘۔۴۹؂
الصحاح‘ میں وضاحت کی گئی ہے:

وبَکَّۃُ: اسم بطنِ مکۃَ، سمِّیتْ بذلک لازدحام الناس. ویقال سمِّیتْ لأنَّہا کانت تَبُکُّ أعناقَ الجبابرۃ.۵۰؂
بکّہ مکّہ کے اندرونی حصے کا نام ہے۔ اس کا یہ نام اس لیے پڑا تھا کیونکہ اس میں لوگوں کا بہت ہجوم ہوجاتا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا یہ نام اس لیے رکھا گیا تھا کیونکہ یہ بڑے بڑے ظالموں کی گردنیں توڑ مروڑ دیتا تھا۔

ترتیب القاموس المحیط‘ نے بھی’بکّہ‘ کی قدرے تفصیل سے وضاحت کی ہے:

ومنہ بَکَّۃُ لِمَکَّۃَ، أو لِما بَین جَبَلَیْہا. أو لِلمَطافِ لِدَقِّہا أعناقَ الجَبابِرَۃِ، أو لازْدِحامِ الناسِ بہا.۵۱؂
بکّہ یا تو مکّہ کے لیے استعمال ہوتاہے یا جو کچھ مکّہ کے دو پہاڑوں کے درمیان ہے، اس کے لیے ہے یا مطاف کے لیے، کیونکہ یہ مفروروں کی گردنیں توڑ دیتا ہے یا اس وجہ سے کہ اس میں لوگوں کا بہت ہجوم ہوتا ہے۔

محیط المحیط‘ بھی عربی لغا ت میں ایک سند کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ فیروز آبادی کی مشہور لغت ’القاموس المحیط‘ کی نظر ثانی شدہ اور ترقی دادہ صورت ہے۔ اس نے بھی اس لفظ کی اسی طرح وضاحت کی ہے:

بکّۃ لغۃ فی مکّۃ أو اسم ما بین جبلیہا أو للمطاف قیل سمیت بذلک لدقہا اعناق الجبابرۃ أو لازدحام الناس بہا.۵۲؂
یہ اس جگہ کا نام ہے جو مکہ کے دو پہاڑوں کے درمیان واقع ہے یا مطاف کا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کیونکہ یہ متکبروں کی گردنیں توڑ دیتا تھا یا اس لیے کہ وہاں لوگوں کا بہت ہجوم ہوجاتا ہے۔

جہاں تک عربی الفاظ کے بنیادی مادوں کا تعلق ہے ’معجم مقاییس اللغہ‘ ایک سند کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس نے اس لفظ کی تشریح مندرجہ ذیل الفاظ میں کی ہے:

قال الخلیل: ’البَکّ‘ دَقُّ العنُق، ویقال سمیت بکّۃ لأنّہا تَبُکُّ أعناق الجبابرۃ، اذا ألْحَدُوا فیہا بظُلْمٍ لم یُنْظَرُوا؛ ویقال بل سُمِّیَتْ بَکَّۃُ لأنّ النّاسَ بعضُہم یبکُّ بعضًا فی الطُّواف، أی یدفع.۵۳؂
الخلیل کہتا ہے ’البک یعنی گردنیں کچلنا یا توڑنا‘۔ اور کہا جاتا ہے کہ بکّہ کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کیونکہ یہ ظالموں کی گردنیں کچل دیتا تھا۔ جب وہ ظلم کی طرف مائل ہوتے تو وہ منظر سے ہٹا دیے جاتے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا نام بکّہ اس لیے پڑا کیونکہ لوگ طواف کے دوران میں ایک دوسرے کو کچل دیتے تھے یا پرے دھکیل دیتے تھے۔

الخلیل بن احمد (۱۰۰ ۔ ۱۷۵ ہجری) عربی لغات کے سب سے زیادہ مستند محققین میں سے ایک ہے۔ عربی زبان کی اولین لغت ’کتاب العین‘ اسی کی ترتیب دی ہوئی ہے ۔وہ کہتا ہے:

البَکُّ: دَقُّ العُنُق. وسُمِّیَتْ مَکّۃُ: بکَۃ، لأنّ النّاس یبکُّ بعضہم بعضًا فی الطّواف، [أی]: یدفع بعضہم بعضًا بالازدحام. ویقال: بل سُمِّیت، لأنّہا کانت تبُکّ أعناقَ الجبابرۃ اذا ألحدوا فیہا بظُلْم.۵۴؂
البک یعنی گردن کچل دینا۔مکہ کا نام بکہ اس لیے رکھا گیا کیونکہ لوگ طواف کے دوران میں ایک دوسرے کو کچل دیا کرتے تھے یا ہجوم کی وجہ سے ایک دوسرے کو پرے دھکیل دیا کرتے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کویہ نام اس لیے دیا گیا تھا کیونکہ یہ ظالموں کی گردنیں کچل دیتا تھا جب وہ زمین میں ظلم کے ذریعے سے راہِ حق سے انحراف کرتے تھے۔

اخبارمکہ‘ عربی زبان میں چھ جلدوں میں مکہ کی ایک مفصل تاریخ ہے۔ ذیل میں ’اسماء مکہ‘ نامی اس کی فصل سے چند اقتباسات نقل کیے گئے ہیں:

وقال لی رجل من أہل مکۃ، وأعطانی کتابًا عن أشیاخہ، فاذا فیہ أسماء مکۃ، فیما زعم المکیون . واللہ أعلم. قالوا: ہی مکۃ، وبکۃ، بَرَّہ، بَسَّاسہ، اُمّ القُریٰ، الحَرَم، المسجد الحَرام ، والبَلَد الامین.(...). وقالوا من أسماۂا صلاحِ.(...). وقال بعض المکیین: من أسماۂا [کوثی].۵۵؂
مکہ کے کسی باشندے نے مجھے اپنے آباو اجداد میں سے کسی کی لکھی ہوئی ایک کتاب دی۔ اس میں مکہ کے وہ نام بیان کیے گئے تھے جن کے متعلق مکہ کے باشندوں کا دعویٰ تھا کہ وہ اس کے نام ہیں، یعنی مکّہ، بکّہ، بَرَّہ، بَسَّاسہ، اُمّ القُریٰ، الحَرَم، المسجد الحَرام اور البَلَد الامین۔ (...)۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ناموں میں سے ’صلاحی‘ بھی ایک نام ہے۔ (...)۔ بعض مکے والوں کا دعویٰ ہے کہ’ کُوثیٰ‘ بھی اس کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔

مکتوب فی أسفل المقام: أنا اللہ ذوبکۃ حرمتہا یوم خلقت السموات والأرض.۵۶؂
المقام‘ کے نیچے لکھا ہے :میں اللہ ہوں ، بکّہ کا رب۔ میں نے اسے اس دن مقدس قرار دیا جب زمین و آسمان وجود میں لائے گئے۔

قرآن نے اس مقام کے نام کے لیے مکّہ اور بکّہ، دونوں الفاظ استعمال کیے ہیں۔ جب اس کا ذکر قدیم زمانے کے ایک مقام کے طور پر کیا گیا ہے تو اس کا نام’ بکّہ‘ لیا گیا ہے، جیسا کہ قرآن کی تیسری سورت میں آیا ہے:

إِنَّ أَوَّلَ بَیْْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبَارَکًا وَّہُدًی لِّلْعَالَمِیْنَ . فِیْہِ آیَاتٌ بَیِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاہِیْمَ وَمَن دَخَلَہُ کَانَ آمِنًا وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْْہِ سَبِیْلاً .۵۷؂
بے شک سب سے پہلی عبادت گاہ، جو انسانوں کے لیے تعمیر ہوئی، وہ وہی ہے جو مکّہ میں واقع ہے۔ اس کو خیر وبرکت دی گئی تھی اورتمام جہان والوں کے لیے مرکزِ ہدایت بنایا گیاتھا۔ اس میں کُھلی ہوئی نشانیاں ہیں، ابراہیم علیہ السلام کا مقامِ عبادت ہے، اور اُس کا حال یہ ہے کہ جو اس میں داخل ہوا، مامون ہوگیا۔ لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، وہ اس کا حج کرے۔

قرآن میں وہ دوسرا موقع جہاں یہ لفظ آیا ہے، سورۃ الفتح ہے۔ یہاں یہ لفظ نبی اکرم ﷺ کے عہد کے پس منظر میں بیان ہوا ہے:

وَہُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْْدِیَہُمْ عَنکُمْ وَاَیْْدِیَکُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَکُمْ عَلَیْْہِمْ وَکَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا.۵۸؂
وہی ہے جس نے مکے کی وادی میں اُن کے ہاتھ تم سے اورتمھارے ہاتھ اُن سے روک دیے، حالاں کہ وہ اُن پر تمھیں غلبہ عطا کر چکا تھا اور جو کچھ تم کر رہے تھے، اللہ اُسے دیکھ رہا تھا۔

یہاں اس کا ذکر مکے کے نام سے ہوا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں اس کا نام ’مکّہ‘ ہی رائج تھا۔
حروفِ تہجی ’ب‘ اور ’م‘ کا مخرج (آواز کا سرچشمہ) ایک ہی ہے یعنی ہونٹ۔ اس طرح یہ بات عین قرینِ قیاس ہے کہ امتدادِ زمانہ کے ساتھ لفظ بکّہ نے مکّہ کی شکل اختیار کر لی ہو۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس جگہ کا اصلی اور قدیم نام بکّہ ہی تھا۔ حضرت داوٗد علیہ السلام نے یہی قدیم نام استعمال کیا، کیونکہ ان کے زمانے میں اس شہر کا یہ نام زیادہ رائج تھا جو بعد کی صدیوں میں بدل کر لفظ ’مکّہ‘ کی شکل اختیار کر گیا۔
بائبل کی متعلقہ آیت میں ہے: ’وادئ بکا میں سے گزرتے ہوئے وہ اس میں ایک کنواں بناتے ہیں۔‘حضرت ہاجرہ اپنے بیٹے اسماعیل ؑ کے لیے پانی کی تلاش کے دوران میں وادئ بکا میں سے گزر رہی تھیں، جس کے نتیجے میں انھیں ایک کنواں (بیر سبع یا زم زم) دیا گیا تھا۔ جن لوگوں کو اس وادئ بکّہ کی زیارت کا موقع ملا ہے، وہ یہ بات خوب جانتے ہیں کہ خانہ کعبہ ایک نشیبی علاقے میں واقع ہے۔ سابقہ ادوار میں جب یہاں زور دار بارش ہوتی تھی تو یہ جگہ ایک تالاب کی سی شکل اختیار کر لیتی تھی۔ اب وہاں ایک نہایت جدید نکاسئ آب کا نظام تعمیر کر دیا گیا ہے اور بارش کا پانی وہاں سے تیزی کے ساتھ بہ جاتا ہے۔ اس طرح اس آیت کا ہر جز مکہ کے زمینی حقائق پرپوری طرح منطبق ہے۔
آیت ۷ میں بیان ہے: ’وہ قوت سے قوت کی طرف جاتے ہیں‘ یہ الفاظ زائرین (حجاج کرام) کے جوش و جذبہ کی عکاسی کرتے ہیں۔ جوں جوں وہ حرمِ کعبہ کے قریب سے قریب تر پہنچتے ہیں تو ان کے جوش و جذبے میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ،جو انھیں تھکاوٹ کے بجاے نئی قوت اور جوش و جذبہ بخشتا ہے۔
آیت کا دوسرا جملہ ہے: ’ان میں سے ہر ایک صیہون میں خداوند کے حضور ظاہر ہوتا ہے‘ یا، جیسا کہ NIVمیں بیان ہے، ’یہاں تک کہ ہر ایک صیہون میں خداوند کے حضور نمودار ہوتا ہے‘۔ اس طرح یہ بات ضروری ہو جاتی ہے کہ لفظ صیہون کا قدرے تفصیلی مطالعہ کیا جائے۔
جہاں تک اس کے معنی کا تعلق ہے ’انسا ئیکلوپیڈیا ببلیکا‘ کا بیان ہے:

Various explanations of the name have been given. Gesenius (Thes. 1164) and Lagarde (Ubers. 84. n) derive from [a Hebrew word meaning] 'to be dry,' (...) Wetzstein derives from 'to protect,' so that the name would mean 'arx, citadel'; cp Zin. ؂59

اس لفظ کی متعدد توضیحات بیان کی گئی ہیں۔ Geseniusاور Lagardeاسے ایک ایسے عبرانی لفظ سے ماخوذ قرار دیتے ہیں جس کے معنی ہیں خشک ہونا۔ (...) Wetzstein اسے حفاظت کرنا سے ماخوذ قرار دیتے ہیں۔اس طرح اس لفظ کے معنی ہوں گے’ ایک قلعہ‘۔
’انٹرپریٹرز بائبل ڈکشنری ‘میں وضاحت ہے:

The etymology of the name is uncertain. It may be related to the Hebrew (sayon), "dry place", "parched ground" ( Isa. 25:5; 32:2). ؂60

اس نام کا اشتقاق غیر یقینی ہے۔ اس کا تعلق عبرانی لفظ صیہون سے ہو سکتا ہے جس کے معنی ہیں: ’خشک جگہ‘ ، ’جھلسی ہوئی زمین‘ ۔

ملاحظہ کیا جا سکتا ہے کہ ’خشک جگہ‘ یا ’جھلسی ہوئی زمین‘ کا اطلاق صرف مکہ کی بے آب و گیاہ سرزمین ہی پر کیا جا سکتا ہے۔ اس کا اِطلاق یروشلم کی سرسبزوشاداب زمین پر کسی طرح ممکن نہیں۔
بائبل میں آنے والے دوسرے ناموں کی طرح ’صیہون‘ کے بھی ایک سے زیادہ مفہوم ممکن ہیں۔ یہ بات عین قرین قیاس ہے کہ ایک صیہون مکہ کا ہو اور دوسرا یروشلم کا، لیکن’خشک جگہ‘ یا ’جھلسی ہوئی زمین‘ کے مفہوم کے لحاظ سے موجودہ سیاق و سباق میں اس کا اطلاق صرف مکہ ہی پر کیاجاسکتا ہے۔ موجودہ کتاب کے مصنف کے لیے یہ بات ممکن نہیں کہ وہ یہاں اس پر تفصیلی گفتگو کرے، تاہم یہ بات انتہائی قابل توجہ ہے کہ اس وقت یروشلم میں کوئی حرمِ مقدس موجود نہ تھا، اس لیے یہاں یروشلم کے کسی صیہون کا مفہوم کسی طرح ممکن نہیں۔ مزمور کا بقیہ حصہ حضرت داوٗد علیہ السلام کی اس شدید خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ کاش انھیں بھی دوسرے زائرین کی طرح حرمِ الٰہی کی زیارت کا موقع نصیب ہو۔
روایات اور تاریخی واقعات کا ماضی میں جتنا پیچھے جا کر جائزہ لیا جائے، اُ س سے اس بات کی نشان دہی ہوتی ہے کہ سرزمین موریا (مکہ کی ایک پہاڑی) کے علاقے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے حقیقی اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے لیے پیش کیے جانے کی یادگار زمانۂ قدیم سے منائی جارہی ہے، لیکن قوم یہود یا مسیحیوں میں کوئی ایک بھی ایسی جگہ یا رسم یا تہوار یا نشانی یا عمارت نہیں جہاں وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے اکلوتے بیٹے کوقربانی کے لیے پیش کرنے کے کسی واقعے کی کوئی یادگار مناتے ہوں۔ اب یہ قاری کا کام ہے کہ وہ کوئی معروضی نتیجہ اخذ کرے۔
اس باب کے بغور مطالعے سے مندرجہ ذیل نکات واضح ہوتے ہیں :

۱۔حضرتِ داوٗد علیہ السلام کے دور میں ’قوموں کے خدا وند کا کوئی گھر‘ پہلے سے موجود تھا۔
۲۔ یہ ایک مقدس حرم تھا اور دورو نزدیک سے بکثرت حجاج کرام اس کی زیارت کے لیے آیا کرتے تھے۔
۳۔ حضرت داوٗد علیہ السلام اس جگہ ایک قابلِ لحاظ مدت تک کے لیے قیام پذیر رہے تھے۔
۴۔ یہ حرم مقدس وادی بکہ میں واقع تھا۔
۵۔ اپنے وطن واپس جانے کے بعد انھیں بعض اسباب کی بنا پر اس حرمِ مقدس کی زیارت کا موقعہ نصیب نہیں ہوا تھا۔
۶۔ انھوں نے اس حرمِ مقدس کی زیارت کے لیے اپنی شدید خواہش کا اظہار کیا۔
۷۔ وہ ان پرندوں پر رشک کا اظہار کرتے ہیں جو بے روک ٹوک اس حرمِ مقدس میں اپنے آشیانے بناتے اور وہاں رہتے ہیں۔
۸۔اُنھیں خداوند کے اِس گھر سے اتنی عقیدت ہے کہ اپنے وطن میں، جسے وہ اس حرمِ مقدس کے مقابلے میں برائی اور مکاری کی سرزمین قرار دیتے ہیں، رہنے کے مقابلے میں اس ’بیت اللہ‘ کی دربانی کوزیادہ پسند کرتے ہیں۔
۹۔ اُن کے خیال میں’خدا وند کے دربار‘ میں ایک دن بسر کرنا کسی اور جگہ ایک ہزار دن کے قیام سے بہتر ہے۔
۱۰۔ یہودیوں کا حرمِ مقدس (یعنی ہیکلِ سلیمانی) اُس وقت تک معرضِ وجود ہی میں نہ آیا تھا۔ یہ تو اُن کی وفات کے بعد اُن کے بیٹے حضرتِ سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کرا یا تھا۔ اُس وقت تک صرف مکہ مکرمہ کا خانہ کعبہ ہی موجود تھا جو اُن کے بزرگ آبا ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام نے قریباً دس صدیاں پہلے تعمیر کیا تھااور پورا سال لاکھوں عقیدت مند اس کی زیارت کے لیے آتے تھے۔

________

 

حواشی

43. Strong's Dic. of the Hebrew Bible, p. 21, entry No. 1056.
44. Strong's Dic. of the Hebrew Bible, p. 21, entry No. 1057.
45. Strong's Dic. of the Hebrew Bible, p. 21, entry No. 1058.

۴۶؂ ملاحظہ کیجیے آگے حاشیہ ۵۷ ۔ ۵۸۔
۴۷؂ ابن المنظور،’ لسان العرب‘(بیروت: دار صادر، ۱۳۰۰ ھ)، ۱۰: ۴۰۲۔
۴۸؂ ابو منصور محمد بن احمد الأزہری،’ تہذیب اللغۃ‘(القاہرہ: الدار المصریہ للتألیف والترجمہ، سن ندارد)، ۹: ۴۶۳ ۔۳۶۴۔
۴۹؂ ’المعجم الوسیط‘ (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ۱۹۷۲ء)۱: ۶۷۔
۵۰؂ اسماعیل بن حماد الجوہری،’ تاج اللغۃ وصحاح العربیۃ‘ (بیروت: دار العلم للملایین، ۱۹۸۴ء)، ۴: ۱۵۷۶۔
۵۱؂ الاُستاذ الطاہر احمد الزاوی، ’ترتیب القاموس المحیط علی طریقۃ المصباح المنیر‘ (بیروت: دار الکتب العلمیہ، ۱۹۷۹ء)، ۱: ۳۰۸۔
۵۲؂ المعلم بطروس البستانی،’ محیط المحیط‘، (بیروت، مکتبہ لبنان ناشرون، ۱۹۹۳ء) ، صفحہ ۵۰۔
۵۳؂ احمد بن فارس،’معجم مقاییس اللغۃ‘( بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۲۰۰۱ء) ، صفحہ۹۲۔
۵۴؂ الخلیل بن احمد،’ کتاب العین ‘(بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۲۰۰۱ء) ، صفحہ ۸۴۔
۵۵؂ الامام ابی عبد اللہ محمد بن اسحاق الفاخری،’اخبار مکہ فی قدیم الدھر و حدیثہ‘، (مکہ، مکتبہ النہضۃ الحدیثہ، ۱۹۸۷ء) ۲: ۲۸۲ وبعد۔
۵۶؂ ’اخبار مکہ فی قدیم الدھر و حدیثہ ‘، ایضاً، صفحہ۲۹۳۔
۵۷؂ قرآن کریم ، سورۃ آل عمران۳: ۹۶ وبعد۔
۵۸؂ قرآن کریم، سورۃ الفتح ۴۸: ۲۴۔

59. Enc. Biblica, 4:5421.
60. The Interpreter's Dic. of Bible, 4:959.

____________