حقیقت یہ ہے کہ بائبل کے اکثر علما یہ بات جانتے ہی نہیں کہ بکہ یا بکا کا محل وقوع کیا ہے اور وہ اس حقیقت کا برملا اعتراف بھی کرتے ہیں۔ان میں سے چند مستند علما کے نظریات ذیل میں نقل کیے جا تے ہیں:

۱۔ ’کنٹمپریری انگلش ورشن‘ (صفحہ ۷۰۷) نے یہاں ایک ذیلی حاشیہ درج کیا ہے:

Dry Valley: Or 'Balsam Tree Valley.' The exact location is not known.

خشک وادی:یا ’بلسام کے درختوں کی وادی‘۔ یقینی محل وقوع معلوم نہیں۔

۲۔’دی نیو امریکن بائبل‘ نے اس آیت پر ایک ذیلی حاشیہ درج کیا ہے:

Baca valley: Hebrew obscure; probably a valley on the way to Jerusalem.

وادی بکا: عبرانی مبہم ہے: غالباً یروشلم کے راستے میں ایک وادی۔

۳۔ ’دی جیروم تفسیرِ بائبل‘ (صفحہ۵۹۱)نے آیات ۷ ۔ ۸ کو ملا کر ان پر ایک ذیلی حاشیہ دیا ہے:

A description of the pilgrim's journey. The MT is uncertain.

حاجی کے سفر کا بیان ۔ مسورائی متن غیر یقینی ہے۔

۴۔ ’سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ لغاتِ بائبل‘ نے اس لفظ کی قدرے مفصل تشریح بیان کی ہے۔ وضاحت کے اختتام پر وہ اس کی غیر یقینی حیثیت کا اظہار کیے بغیر نہ رہ سکا:

Baca (baka). [Heb. Baka, possibly 'balsam tree.'] The name of a valley in Palestine (Ps 84:6), possibly so named because balsam trees grew there. Some have thought that it is another name for the Valley of Rephaim, where trees of that species were found, but this is pure conjecture. There were doubtless many valleys in which balsam trees grew. Another interpretation names it the valley of 'weeping' from the Hebrew bakah, 'to weep,' a word that differs only slightly from baka. However, neither interpretation helps to identify this place . ؂33

(بکا)۔ [عبرانی بکا ، بلکہ غالباً ’ بلسام کا درخت‘ ] ۔ فلسطین کی ایک وادی کا نام ۔ (مزمور ۸۴: ۶)۔ غالباً اس کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ وہاں بلسام کے درخت اُگتے تھے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ وادئ رفائیم کا دوسرا نام ہے۔ جہاں اس قسم کے درخت پائے جاتے ہیں، لیکن یہ محض ظن و تخمین ہے۔ بلاشبہ وہاں ایسی بہت سی وادیاں تھیں جن میں بلسام کے درخت اگتے تھے۔ ایک اور تاویل کے مطابق اس کا نام عبرانی لفظ بکا یعنی رونا سے وادئ گریہ و بکا بنا ہے۔ یہ لفظ بکا سے صرف خفیف حد تک مختلف ہے، تاہم کوئی تاویل بھی اس مقام کی نشان دہی میں مددگار ثابت نہیں ہوتی۔

۵۔ ’دی نیو آکسفرڈ اینوٹیٹڈبائبل‘ (صفحہ ۷۴۷)نے آیات ۵ ۔ ۷ کے حواشی میں لکھا ہے:

Baca, some unknown, desolate place through which the pilgrims must go.

بکا، کوئی نامعلوم اور بے آباد جگہ جس میں سے زائرین (حاجیوں) کوگزرنا پڑتا تھا۔

۶۔ ’دی ہارپرز بائبل ڈکشنری‘نے بھی اسی راے کا اظہار کیا ہے:

Baca [bay'kuh], unidentified valley associated with weeping or balsam [Ps. 84:6]. The term is derived from the verb 'to drip,' hence its association with weeping. ؂34

بکا، غیر متعین وادی جو، یا تو رونے سے متعلق ہے، یا بلسام سے (مزمور ۸۴:۶)۔ یہ لفظ ٹپکنے سے ماخوذ ہے اور یہی اس کو رونے سے منسلک کرنے کا باعث ہے۔

۷۔ ڈبلیو سمتھ اپنی’تفسیر بائبل‘ میں اگرچہ اسے فلسطین کی ایک وادی قرار دیتا ہے، لیکن تاہم اُس کی مندرجہ ذیل توضیح سے اُس کی بے یقینی صاف ظاہر ہے:

That it was a real locality is most probable from the use of the definite article before the name. ؂35

یہ بات کہ یہ کوئی حقیقی مقام تھا، اس بنا پر ممکن دکھائی دیتا ہے کہ اس نام سے پہلے لام تعریف استعمال کیا گیا ہے۔

۸۔ کولنز کیGem Dic. of the Bible میں بھی اس کے متعلق ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا گیا ہے:

It may simply be a valley in Palestine (Ps. 84,6). It may simply be the Valley of the balsam trees, or it may be the Valley of Weeping (Heb. Bakah) or the Valley of little water. ؂36

ہو سکتا ہے کہ یہ محض فلسطین کی کوئی وادی ہو (مزمور ۸۴:۶)۔ یہ سادہ الفاظ میں بلسام کے درختوں کی وادی ہو سکتی ہے یا یہ گریہ و بکا کی وادی ہو سکتی ہے (عبرانی بکہ) یا بہت ہی تھوڑے سے پانی کی وادی۔

۹۔ جے ہیسٹنگزکیDic. of the Bible Revised One Vol. میں اس کی مشکوک حالت کی طرف اس طرح اشارہ ہے:

An allegorical place-name, found only in Ps. 846 (AV, RSV), where RV renders \'Valley of Weeping.' Most probably it is no more an actual locality than is the 'Valley of the Shadow of Death' in Ps 234. ؂37

تمثیلی انداز میں ایک جگہ کا نام ، جو صرف مزمور ۸۴:۶ میں ملتا ہے (RSV, AV)۔اس مقام پر RVکا ترجمہ ہے ’گریہ و بکا کی وادی‘۔ غالب امکان یہ ہے کہ یہ مزمور ۲۳:۴ میں ’موت کے سائے کی وادی‘ کی طرح کوئی حقیقی جگہ نہیں۔

۱۰۔ اے۔ ایس اگلن ’ہیسٹنگز لغت بائبل‘ میں اپنے مقالے ’بکا‘ میں اس وادی کے متعلق غیریقینیوں کے علاوہ کوئی چیز بھی دریافت نہیں کر سکا ہے:

If an actual valley (the article is not quite conclusive), it may be identified either with 'the valley of Achor, i.e. trouble'; 'the valley of Rephaim'; a Sinaitic valley with a similar name (Burckhardt); or the last station of the caravan route from the north to Jerusalem.
Perseverance and trust not only overcome difficulties, but turn them into blessings; this is the lesson, whether the valley be real or only (as the Vulg. Vallis lacrymarum has become) an emblem of life. ؂38

اگر یہ کوئی واقعی وادی ہے (مقالے میں اس کے متعلق کوئی قطعی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکا ہے)، تو یا تو اس کی ’وادئ اخور یعنی مصیبت کی وادی‘کے طور پر نشان دہی کی جا سکتی ہے؛ یا ’وادئ رفائیم‘ کے طور پر؛ یا صحراے سینا کی اسی نام کی کسی وادی کے طور پر(برک ہارٹ)؛ یا پھر یہ شمال سے یروشلم کی طرف آنے والے کا روانوں کا آخری پڑاؤ ہو سکتی ہے۔
صبر و استقلال اور اعتماد کے ذریعے سے نہ صرف مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے، بلکہ ان کے ذریعے سے انھیں نعمتوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس میں یہی سبق مضمر ہے، خواہ یہ وادی کوئی حقیقی وادی ہو یا محض علامتِ حیات۔

۱۱۔ ڈبلیو ایچ مارٹن بھی تقریباً انھی خیالات کا حامل ہے۔ وہ ’انٹر پریٹرز بائبل ڈکشنری‘ میں اپنے مقالے’بکا‘ میں لکھتا ہے:

No valley of such a name has yet been identified, (....). In the same vein, it is quite possible that the valley was entirely symbolic. ؂39

ابھی تک اس طرح کے نام کی کسی وادی کی نشان دہی نہیں کی جا سکی، (...)۔ اسی انداز میں یہ بھی بالکل ممکن ہے کہ یہ وادی کلیتاً علامتی ہو۔

۱۲۔ ڈاکٹر فرانٹس بہل (Dr. Frants Buhl of Copenhangen Univ.)اور ڈاکٹر مورس جسٹراؤ (Dr. Morris Jastrow of Univ. of Pennsylvania)نے بیان کیا ہے:

(...); but it signifies rather any valley lacking water. ؂40

(...)؛ بلکہ یہ کسی ایسی وادی کی نشان دہی کرتاہے جس میں پانی نہ ہو۔

۱۳۔ ’اے نیو کمنٹری اون ہولی سکرپچر‘کو بھی اس بات کا یقین نہیں کہ وادئ بکا کسی جگہ مل سکتی ہے:

Baca was the name of some valley [Note the air of uncertainty regarding the location of the valley!] on the way to the city. ؂ 41

بکا کسی وادی کا نام تھا [ملاحظہ کیجیے کہ وادی کے محل وقوع کے متعلق کیسی غیر یقینی کی فضا پائی جاتی ہے] جو شہر کے راستے میں واقع تھی۔

پِیک (Peake)کی تفسیر بائبل کا بیان ہے:

The valley of Baca ; this rendering is better than 'valley of weeping' (LXX, RV). The location of the valley is unknown. Baca may mean \'balsam tree\', which grows in dry soil. The point at all events seems to be that the valley is arid. ؂42

وادئ بکا: یہ ترجمہ’ رونے کی وادی‘ (ہفتادی ترجمہ اورنظر ثانی شدہ ترجمہ) سے زیادہ بہتر ہے۔ اس وادی کا محل وقوع معلوم نہیں۔ بکا کے معنی ’بلسام کا درخت‘ بھی ہو سکتے ہیں جو درخت خشک زمین میں اگتا ہے۔ بہر صورت اہم نقطہ یہ دکھائی دیتا ہے کہ وہ وادی خشک تھی۔

مندرجہ بالا معلومات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ بائبل کے علما وادی بکا کے ٹھیک ٹھیک محل وقوع کے متعلق کوئی یقینی دعویٰ نہیں کر سکتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ حرمِ یروشلم کی زیارت سے ہٹ کر اس کا کسی اور جگہ سے تعلق قائم کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یا تو وہ یہ بات فراموش کر چکے ہیں یا اسے جان بوجھ کر نظر انداز کررہے ہیں کہ :

۱۔یہ مزمور حضرت داوٗدعلیہ السلام نے لکھا ہے۔
۲۔ حضرت داوٗدعلیہ السلام کی زندگی میںیروشلم میں ایسا کوئی حرم سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔
۳۔ اس مزمور کی زبان اور تالیف سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ حضرت داؤد ؑ یہاں کسی ایسے حرم کا ذکر کر رہے ہیں جو عملی طور پر کہیں نہ کہیں موجود ہے۔
۴۔ حضرت داوٗدعلیہ السلام بڑے جذباتی انداز میں اس حرم کی زیارت کا شوق ظاہر کر رہے ہیں، لیکن کیونکہ یہ ان کی حدودِ سلطنت سے باہر ہے، اس لیے وہ یہاں حاضری دینے سے قاصر ہیں۔

اگربائبل کے علما نے اس مزمور کے واضح الفاظ اور منشا کو نظر انداز نہ کیا ہوتا اور اگر انھوں نے اس مقام کی نشان دہی کی مخلصانہ کوشش کی ہوتی تو وہ بڑی آسانی سے اس کا محل وقوع دریافت کر لیتے۔

________

حواشی

33. 7th Day Adventist Bible Dic. Revised. Ed., p. 114.
34. Harper's Bible Dic., p. 89.
35. William Smith, A Dic. of the Bible, p. 73.
36. Rev. James L. Dow, Collins Gem Dic. of the Bible, p. 54.
37. J. Hasting's Dictionary of the Bible Revised One Vol. Edn., p. 84.
38. J. Hastings, A Dictionary of the Bible, 1:230.
39. Interpreter\'s Dic. of Bible, 1:338.
40. Jewish Encyclopaedia 2:415.
41. A New Commentary on Holy Scripture, p. 364.
42. Peake's Com. of Bible, p. 431.

____________