۱۵-    یہ بات معلوم ہو چکی ہے کہ قسم سے اصل مقصود استشہادواستدلال ہے۔ تعظیم صرف اس صورت میں پیش نظر ہوتی ہے جب اللہ تعالیٰ اور اس کے شعائر کی قسم کھائی جائے بلکہ اس صورت میں بھی بعض اوقات جیسا کہ اوپر ہم دکھا چکے ہیں صرف استدلال مقصود ہوتا ہے پس ان باتوں کے واضح ہو جانے کے بعد اب اس امر میں شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہی کہ قرآن کی وہ قسمیں جن پر معترض نے دو آخری شبہے وارد کیے ہیں ۔ تمام تراستشادواستدلال کے لیے ہیں۔

اگر کوئی معترض یہ کہے کہ ہم مانتے ہیں کہ قسم کی اصل شہادت کے لیے ہے لیکن چونکہ اس کا استعمال زیادہ تر تعظیم  کے لیے ہے اس لیے اب اس کا یہی مفہوم باقی رہ گیا ہے اور اصل مفہوم یعنی شہادت بالکل غائب ہو گیا ہے چنانچہ یہی وجہ ہے کہ غیر اللہ کی قسم کی ممانعت وارد ہے۔ پس اس کے اصل مفہوم کا لحاظ اب صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب کوئی قوی دلیل اس کے لیے موجود ہے۔

اس اعتراض کا جواب ہماری طرف سے یہ ہے کہ ہم تسلیم کرتے ہیں لیکن اقسام قرآن کے اس خاص مفہوم کی طرف ہماری توجہ خود قرآن کی رہنمائی سے ہوئی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ان میں سے بعض دلائل ہم یہاں بیان کریں۔

۱-      قرآن نے ایک ہی لفظ کبھی بندے کے لیے استعمال کیا ہے اور کبھی اللہ تعالیٰ کے لیے۔ ایسی صورت میں لامحالہ لفظ کے مختلف مفاہیم میں فرق پڑتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ جل شانہ کی طرف کوئی ایسی بات منسوب ہو جائے جو اس کی عظمت وتقدیس کے منائی ہو۔ مثلاً صلوٰۃ جب بندے کی طرف سے ہوتو دعا کے معنی میں ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتو رحمت کے مفہوم میں ہے اسی طرح شکر بندے کی طرف سے اعتراف نعمت ہے اور خدا کی طرف سے ہماری نیکیوں کی پذیرائی ہے۔ یہی حال تو بہ ، سخط، مکر، کید، اسف اور حسرت وغیرہ الفاظ کا ہے۔ بلکہ حق یہ ہے کہ ہماری لغت  کا کوئی لفظ بھی ایسا نہیں جس کو ہم اس فرق کے لحاظ کے بغیر اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال کرتے ہوں ہم تمام الفاظ میں یہی کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال کرتے وقت ان کے صرف انہی مفاہیم کو سامنے رکھتے ہیں جوخدا کی ذات برتر کے شایان شان ہوں ۔ بعینہٖ یہی طریقہ ہم نے قسم میں اختیار کیا ۔ اس کے مختلف پہلوئوں میں سے جو پہلو ہم کو اللہ تعالیٰ کی ذات کے مناسب نظر آیا وہ ہم نے اختیار کر لیا ۔ھُوَخَیْرٌوَّ اَحْسَنُ تَاوِیلًا۔

۲-      حمل نظیر علی النظیر اور تفسیر آیات بالآیات کا اصول بھی اس کی طرف رہبری کرتا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ قرآن کبھی تو دلائل وآیات کو سیدھے سادے اسلوب پر بیاں کرتا ہے اور کبھی ان کے لیے قسم کااسلوب اختیار کر لیتا ہے اور مقصود دونوں صورتوں میں اہل نظر کے  سامنے شہادت پیش کرنا ہوتا ہے اس کی مثال یہ ہے کہ قرآن مجید میں فرمایا:

 اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّھَارِ وَ الْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِیْ الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ مَّآئٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا وَ بَثَّ فِیْھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآئِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ۔(البقرہ: ۱۴۶)

آسمانوں اور زمین کی پیدائش ،رات اور دن کی آمدوشد،اور ان کشتیوں میں جو لوگوں کے لیے نفع رساں  سامان لے کر سمندوں میں چلتی ہیں اور اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا اور اس سے زمین کو اس کے خشک ہونے کے بعد شاداب کیا اور اس میں طرح طرح کے جانور پھیلائے اور ہوائوں کی گرداش اور آسمان وزمین کے درمیان مسخر بادلوں میں عقل مندوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔

اس طرح کی آیتیں قرآن مجید میں بہت ہیں اور ان سب کا مقصود استشہاد و استدلال  ہے۔ پھر غور کرو گے تو دیکھو گے کی بعینہٖ یہی چیزیں ہیں جن کو قرآن نے بطریق قسم شہادت میں پیش کیا ہے قسم والی آیات پر ایک نظر ڈال کر دیکھو وہ کیا چیزیں ہیں؟آسمان زمین،سورج، چاند، رات، دن، فجر، وقت چاشت، ہوا، ابر، پہاڑ، سمندر، شہر، انسان، باپ، بیٹا، نر، مادہ، جفت، طاق وغیرہ وغیرہ اور ظاہر ہے کہ یہ وہی چیزیں ہیں جو سادہ اسلوب میں بطور دلیل و شہادت پیش کی جاتی ہیں پاس ان کے دلیل ہونے کے ثبوت میں خود قرآن مجید کے نظائر موجود ہیں اس لیے ان کو تعظیم کے مفہوم میں لینا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔

۳-      خود مقسم بہ بھی اس دعوے کی تائید کرتا ہے کیونکہ کوئی عاقل ایک لمحے کے لیے بھی یہ باور نہیں کر سکتا کہ اللہ تعالیٰ خود اپنی پیدا کی ہوئی بعض چیزوں کو ایک معبود ومقدس کی حیثیت دے دے گا۔ بالخصوص جب کہ چیزیں بھی ایسی ہوں جن میں تقدس کا کوئی خاص پہلو موجود نہ ہو۔ مثلاً دوڑنے والے گھوڑے،غباراڑانے والی آندھی،وغیرہ وغیرہ اور اس کے برعکس قرآن نے ان تمام چیزوں کے متعلق یہ بیان کیا ہے کہ سب مطیع ومحکوم اور خلق کی نفع رسائی کے لیے مسخر ہی۔ پس مجردان چیزوں کی قسم کھانا ہی اس امر کا ثبوت ہے کہ ان کو محض بطور شہادت کے پیش کیا گیا ہے۔

۴- مقسم بہ اور مقسم علیہ میں بالعموم نہایت واضح مناسبت موجود ہوتی ہے قرآن نے ان قسموں کو ایسے قالب میں پیش کیا ہے کہ صاحب نظر بادنی تامل مقسم علیہ کے ساتھ ان کے تعلق کو پالینا ہے صاحب تفسیر کبیر قسم کو تعظیم کے لیے سمجھتے ہیں چنانچہ اسی خیال کے ماتحت انہوں نے انجیر وزیتون کے فضائل بیان کرنے میں زور قلم صرف کیا ہے تاہم سورہ ذاریات کے شروع میں جو قسمیں وارد ہیں ان کے اندر دلیل وشہادت ہونے کی ایک جھلک ان کو بھی نظر ِآتی ہے چنانچہ انہوں نے لکھا ہے کہ ۔

انھا کلھا دلائل اخرجھا فی صورۃ الایمان

یہ سب دلائل ہیں جو بصورت قسم پیش کیے گئے ہیں۔

ہمارا خیال ہے کہ اگر امام رازی قرآن کی ان تمام قسموں پر جو استدلال کے لیے آئی ہیں غور کرتے تو وہ سب مین شہادت ہی کے پہلو کو ترجیح دیتے۔

۵-  جس طرح کی تعمیم قرآن مجید میں عام آیادت ودلائل کے بیان کے سلسلے میں ہے۔ بعینہٖ اسی قسم کی تعمیم ووسعت بعض جگہ مقسم بہ میں بھی موجود ہے۔ مثلاًفرمایا ہے۔

فَلَآ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ  وَمَا لاَ تُبْصِرُوْنَ (الحاقہ :۳۸-۳۹)

سو نہیں،میں قسم کھاتا ہوںاس کی چیز کی جس کو تم دیکھتے ہو اور اس چیز کی جس کو تم نہیں دیکھتے۔

اس قسم میں جملہ کھلی چھپی چیزوں کو سمیٹ لیا ہے اور یہ وہی تعمیم ہے جو

وِاَنْ مِّنْ شَئِی اِلَّایُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ۔۔الایہ (اسرائ۴۴)

نہیں ہے کوئی شے مگر اس کی تسبیح کرتی ہے حمد کے ساتھ

میں ہے اور اسی تعمیم سے ملتی جلتی بات یہ ہے کہ جہاں قسم کھائی ہے وہاں متقابل چیزوں کا ذکر کیا ہے یعنی روز و شب ،زمین اور آسمان پس کیے باور کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کی اس عموم کے ساتھ تعظیم فرمائی ہو۔البتہ ان کو دلیل وشہادت کے طور پر ذکر کرنے کی وجہ سمجھ میں آتی ہے پس اس راہ کے سوا کوئی اور راہ اختیار کرنا ہمارے نزدیک بالکل غلط ہے۔

۶- بعض جگہ مقسم بہ کے بعد ایسی تنیہات بھی موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو اہل  نظر کے سامنے بطور دلیل وشہادت پیش کیا گیا ہے۔مثلاً

وَالْفَجْرِوَلَیَالٍ عَشْرٍ وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ وَالَّیْلِ اِِذَا یَسْرِ ہَلْ فِیْ ذٰلِکَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍ (الفجر : ۱-۵)

شاہد ہے فجر اور دس راتیں اور جفت وطاق اور راستہ جب ڈھل چلے کیوں اس میں تو ہے قسم عقلمند کے لیے۔

اس میں آخری ٹکڑا ہَلْ فِیْ ذٰلِکَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْر(کیوں اس میں توہے قسم عقلمند کے لیے) بالکل اسی طرح کی بات ہے  جیسی کہ بالعموم دلائل کے ذکر کے بعد قرآن مین آتی ہے مثلاً سورہ نحل میں بہت سے دلائل  کے بعد فرمایا ہے۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ (۱۲)

اس میں بہت سی نانیاں ہیں عقلمند کے لیے۔

سورہ طٰہٰ میں ہے:

اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّاُ دلِی النُّھٰی(۵۴)

بے شک اس میں بہت سی نشانیاں ہیں اہل عقل کے لیے

آل عمران میں ہے:

اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّاُ ولیِ الْاَبصَارِ(۱۲)

بے  شک اس میں سامان عبرت ہے اہل بصیرت کے لیے۔

اسی عام اسلوب کے مطابق سورہ فجر میں بھی قسمیں کھانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ ان قسموں کے اندر اہل عقل وبصیرت کے لیے بہت سے دلائل پوشیدہ ہیں۔

سورہ واقعہ کی تنبیہ بھی اس سے ملتی جلتی ہوئی ہے فرمایا ہے۔

 فَلآَ اُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُوْمِ وَاِِنَّہٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ (۷۵-۷۶)

سو نہیں ،میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے ڈھلنے اور ڈوبنے کی جگہوں کی اور بلاشبہ یہ ایک عظیم الشان قسم ہے اگر تم لوگ جانو۔

یعنی اس میں بہت بڑی دلیل اور ایک عظیم الشان شہادت ہے یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ قسم کی بڑائی کی تصریح فرمائی ہے۔ مقسم بہ کی عظمت کا کوئی ذکر نہیں فرمایا۔

۷- بالعموم مقسم بہ کا ذکر ایسے صفات کے ساتھ ہوتا ہے کہ اس سے استدلال مترشح ہوتا ہے۔مثلاً

وَالنَّجمِ اِذَاھَوٰی۔

شاہد ہے ثریا جب مائل ہو۔

 فَلآَ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِ الْکُنَّسِ وَالَّیْلِ اِِذَا عَسْعَسَ(التکویر: ۱۵-۱۶)

سو نہیں ،میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے چلنے والے (ستاروں) کی ۔

وَالصّّّٰفّٰتِ ،صَفًّا،فَالزَّ اجِرٰتِ زَجْرًا فَالتّٰلِیٰتِ ذِکّرًا(الصفت : ۱- ۳)

قسم ہے ان کی جو صف باندھتے ہیں پھر ڈانٹتے ہیں پھر ذکر کی تلاوت کرتے ہیں۔

وَالذّٰرِیٰتِ ذَرْوًا،فَالحٰمِلٰتِ وِقْرًا وَالّجٰرِیتٰ یُسْرًا فَالمُقَسِّمٰتِ اَمرًا۔(الذاریات : ۱- ۴)

قسم ہے ہوائوں کی جو اڑاتی ہیں غبار پھر اٹھالیتی ہے بوجھ پھر چلنے لگتی ہیں آہستہ، پھر الگ الگ کرتی ہیں معاملہ کو۔

وَلَآ اُقسِمُ بالنّٰفْس الّلوَّامَۃِ (القیامۃ)

اور نہیں میں قسم کھاتا ہوں ملامت گر کی۔

غور کرو تاروں کا گرنا اور پیچھے ہٹنا،ملائکہ کی صف  بندی،ہوائوں کی غبارانگیزی اور تقسیم امر،نفس کی ملامت گری،ان باتوں کو استدلال سے زیادہ تعلق ہے یا تعظیم سے ۔

۸- بعض مقامات میں ایسا ہے کہ مقسم بہ سے پہلے عام دلائل وآیات کا ذکر ہے  پھر اس کے بعد مقسم بہ ایسے انداز سے آیا ہے کہ انگلی اٹھا کر تمام پچھلی دلیلوں کی طرف اشارہ کررہا ہے گویا استدلال کا جو پہلو مدنظر  تھا اس کی تمہید پہلے ہی سے جماد ی گئی تھی ایسے مواقع نظم قرآن کے طالب کے لیے بڑے نشاط انگیز ہوتے ہیں اس کو ایک مثال سے سمجھنا چاہیے۔ سورہ ذاریات میں فرمایا ہے۔

 وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ  وَفِی السَّمَآئِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْن۔َ(۲۰-۲۲)

اورزمین میں نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے اور خود تمہارے اندر بھی۔ کیا تم دیکھتے نہیں؟اور آسمان میںتمہاری روزی ہے اور وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔

یعنی آسمان وزمین میں خدا کی پروردگاری اور روزجزا کی بے شمار نشانیاں موجود ہیں جیسا کہ دوسرے مقامات میں اس کی تفصیل فرمائی ہے پھر آسمان وزمین کے دلائل جزا کا حوالہ دینے کے بعد فرمایا۔

 فَوَرَبِّ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ اِِنَّہٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَآ اَنَّکُمْ تَنْطِقُوْنَ (الذاریات:۲۳)

پس آسمان اور زمین کے پروردگار کی قسم،یہ بات حق ہے جس طرح کہ تم بولتے ہو۔

’’وہ" سے مراد اس آیت میں جزاء ہے جن لوگوں نے یہاں قرآن مراد لیا ہے ان کا خیال صحیح نہیں ہے۔

اس قسم پر جم کر غور کرو۔ اس میں تعظیم کا پہلو موجود ہے کیونکہ قسم اللہ تعالیٰ کی کھائی گئی ہے لیکن اس کے باوجود اس میں آسمان اور زمین کی نشانیوں سے استدلال کا پہلو نمایاں طور پر نظر آتا ہے چنانچہ مقسم بہ کا ذکر ایسی صفت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ جو ماسبق استدلال کی طرف خود اشارہ کررہی ہے اور چونکہ اس میں تعظیم کا پہلو زیادہ ابھرا ہوا تھا جو ممکن تھا کہ استدلال کے پہلو کو دبا دیتا اس لیے مناسب ہو اکہ استدلال کی تمہید پہلے استوار کی جائے۔

ممکن ہے اس ساری بحث کے بعد بھی کسی کے دل میں یہ خلش رہ جائے کہ جب اصل حقیقت یہ تھی کہ پچھلے علماء پر یہ کیوں مخفی رہی اور جو بات آج تک علماء نے نہیں لکھی اس بات پر دل کیسے مطمئن ہو؟اس شہبے کا جواب ہم انشاء اللہ اگلی فصل میں دیں گے۔