دسواں باب 

مسلمانوں کے ایک طبقے میں یہ سوچ عام ہے کہ امتِ مسلمہ کا اصل مقصد پوری دنیا پر غلبہ حاصل کرنا ہے۔ اس سوچ کے لیے عموماً یہ دلیل دی جاتی ہے کہ حضورؐ کا مشن بھی یہی تھا۔ اسی مشن کے تحت آپؐ نے جزیرہ نمائے عرب کو فتح کیا اور اسی مشن کے تحت صحابہ کرامؓ نے آگے بڑھ کر روم وایران کو اپنے زیرِ نگیں کرلیا۔ چنانچہ اب ہمارا بھی یہی مقصد ہونا چاہیے کہ جیسے ہی ہم طاقت حاصل کریں، تو ہم پوری دنیا پر اسلام کا جھنڈا لہرائیں۔
یہ سوچ صحیح نہیں ہے اور اس کے لیے دی گئی دلیل بھی صحیح نہیں۔ قرآن مجید کے الفاظ میں حضورؐ کا اصل مشن یہ تھا کہ آپؐ دین کی دعوت دینے والے ہیں، نذیر وبشیر ہیں، اس دین کو قبول کرنے والوں کو دین سکھانے والے ہیں اور ان کا تزکیہ کرنے والے ہیں۔ جزیرہ نمائے عرب پر آپؐ کا غلبہ آپؐ کا مشن نہیں بلکہ ایک خدائی سکیم اور سنتِ الٰہی تھی، جسے ہر صورت میں پوراہونا تھا۔ یہ وہی سنت الٰہی ہے جو اس سے پہلے بھی سب رسولوں کے لیے براہ راست پوری ہوئی اور اسے حضورؐ کے لیے بھی لازماً پورا ہونا ہی تھا۔ اگر سرزمینِ عرب کے کچھ طبقات عام لوگوں کو اسلام قبول کرنے سے بزور منع نہ کرتے تو سرزمینِ عرب کے سب لوگ پرامن طور پر اس دین کو اُسی طرح قبول کرلیتے جس طرح حضرت یونسؑ کی قوم نے دین کو قبول کرلیا تھا۔ حضورؐ کے زمانے میں مسلمانوں کی طرف سے لڑی گئی جنگیں تین نوعیت کی تھیں۔ وہ یا تو دفاعی جنگیں تھیں، یااُن قبیلوں پر آگے بڑھ کر حملہ کیا گیا جو مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے تیاری کررہی تھیں، اور یا وہ بیت اللہ کو مشرکین کے قبضے سے چھڑانے کے لیے تھی، کیونکہ بیت اللہ پر مشرکین کا قبضہ ناجائز تھا۔ اسلام کی دعوت کو سب سے زیادہ ترقی صلحِ حدیبیہ کے بعد کے دو سالہ پرامن ماحول میں ہوئی۔ 
صحابہ کرامؓ کے زمانے میں لڑی جانے والی جنگوں کی بھی یہی حیثیت تھی۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کی مزید تفصیل کی جائے۔ دراصل حضورؐ نے اپنی وفات سے تقریباً چار سال پہلے جزیرہ نمائے عرب کے اردگرد کے سب حکمرانوں کو خطوط کے ذریعے اسلام کی دعوت دی۔ اور اس کے ساتھ اپنے سفیر بھیجے تاکہ اگر وہ اسلام کو سمجھنا چاہیں تو یہ سفیر اُن کو تفصیل سے اسلام کے متعلق بتاسکیں۔ بادشاہوں کو خط لکھنے کی وجہ یہ تھی کہ اس زمانے میں ملوکیت کا عام دور دورہ تھا۔ رعایا یہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ وہ کسی ایسے مذہب کوقبول کرلیں جس کا مخالف اُن کا بادشاہ ہو۔ چنانچہ وہاں کی رعایا تک اسلام کی دعوت پہنچانے کا واحد طریقہ یہ تھا کہ وہاں کے بادشاہوں کو اس کی طرف متوجہ کیا جائے۔ 
ان خطوط کے تین طرح کے اثرات ہوئے۔ ایک یہ کہ مخاطب نے اسلام قبول کرلیا۔ مثلاً نجاشی جو حبش کا بادشاہ تھا، اُس نے اسلام قبول کرلیا۔ دوسرا یہ کہ حکمران نے اسلام قبول نہ کیا مگر اس پیغام پر غور کرنے کی ہامی بھرلی اور سفیر سے اچھا سلوک کیا۔ اس کی مثال مصر اور بحرین کے بادشاہوں کی تھی۔ تیسرا یہ کہ نہ صرف پیغام کو حقارت کی نظر سے دیکھا بلکہ سفیر سے بھی برا سلوک کیا۔ مثلاً شاہ فارس۔ ظاہر ہے کہ ان ممالک کے اندر عرب سے تجارتی قافلے بھی جاتے رہتے تھے۔ اس لیے اسلام کا نام اور پیغام اس ذریعہ سے بھی پہنچتا رہا۔ نیز چونکہ حکمرانوں کے ذرائع ورسائل تو بہت زیادہ ہوتے ہیں اس لیے وہ اس پیغام سے اچھی طرح متعارف بھی ہوتے رہے۔ 
جب حضورؐ کی وفات ہوگئی تو اُس وقت حالات میں کچھ بنیادی تبدیلیاں آنے لگیں۔ ایک یہ کہ اردگرد کے حکمرانوں پر تو اتمامِ حجت ہوچکا تھا۔ مگر ان کے عوام کے لیے دین کا پیغام پہنچانے اور اگر وہ ایمان لانا چاہیں تو ان کے ایمان لانے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔ دوسرا یہ کہ بعض ہمسایہ ممالک نے مسلمانوں کو نیست ونابود کرنے کے لیے لشکر جمع کرنے شروع کردیے تھے۔ تیسرا یہ کہ لوٹ مار کرنے والے کئی قبائلی گروہ اسلامی حکومت میں بدامنی پھیلاتے اور پھر ہمسایہ ممالک میں پناہ لے لیتے۔ یہ تمام حالات اس امر کے متقاضی تھے کہ اِن کا نوٹس لیا جائے، اور اس نئی ریاست کو خطرات سے بچایا جائے۔ چنانچہ پالیسی یہ بنی کہ جن ممالک سے کوئی خطرہ نہیں تھا،ان سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا، مثلاً حبش۔جن کے ساتھ معاہدے ہوسکتے تھے، ان سے معاہدے کیے گئے، مثلاً بحرین اور مصر۔اور جو ممالک کھلم کھلا دشمنی پر اتر آئے ان سے جنگ کی گئی۔ 
اس طریقہ سے مسلمانوں کے قدم جہاں جہاں پہنچے، وہاں اسلام بھی بہت سرعت کے ساتھ پھیلا۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ لوگوں کو بزور مسلمان بنایا گیا۔ بلکہ اصل وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کے اپنے سابقہ حکمرانوں اور نئے حکمرانوں کے اخلاق وکردار میں اتنا واضح فرق تھا کہ ان کے لیے اسلام قبول کرنا خوشی کا باعث بن گیا۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس پورے دور میں کسی ایک فرد کو بھی جبراً مسلمان نہیں بنایا گیا۔ 
درج بالا تفصیل سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا اصل کام اس دین کی دعوت و اشاعت ہے۔ اگر کوئی ریاست اِس میں مزاحمت کرتی ہے، یا اپنے ہاں کے مسلمانوں پر ظلم ڈھاتی ہے،اور یا کسی مسلمان ملک پر حملہ کرتی ہے، تو یقیناًاِس کے جواب میں مسلمان حکومت کو بھی لڑنے کا حق ہے۔ لیکن اگر کوئی غیر مسلم حکومت اِس دعوت کے راستے میں مزاحمت نہیں کرتی تو مسلمانوں کے پاس ایسی غیر مسلم حکومت کے خلاف لڑنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ آزادی کے ساتھ باوقار زندگی گزارنا جس طرح ہر انسان کا حق ہے، اسی طرح یہ مسلمانوں کا بھی انفرادی اور اجتماعی حق ہے۔ تاہم پوری دنیا پر غلبہ ہمارا مشن اور مقصد نہیں ہے۔ اگر ساری غیر مسلم جمہوری حکومتوں کو ختم کرنا اور اسلام کا سیاسی غلبہ قائم کرنا ہمارا مقصد بن جاتا ہے تو پھر دنیا میں امن کے قیام کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس صورت میں یہ ضروری ہوگا کہ ہم ساری غیر مسلم حکومتوں کو اپنا دشمن سمجھیں۔ ظاہر ہے کہ اس کے جواب میں وہ بھی ہمیں دشمن سمجھیں گی۔ پھر وہ ہمارے مشن کو ہم پر اپنے حملے کے لیے جواز بناکر کہیں گی کہ ’’اگر ان مسلمانوں کو طاقت حاصل ہوگئی تو ان کا اصل کام ہی یہی ہے کہ یہ غیر مسلم حکومتوں کو ملیامیٹ کردیں، اس لیے ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ خود آگے بڑھ کر مسلمانوں کو مغلوب کرلیں تاکہ مسلمانوں کو کبھی مطلوبہ طاقت حاصل ہی نہ ہوسکے‘‘۔ گویا ہمارے مشن کی روشنی میں ہم پر حملے کو سب غیر مسلم حکومتیں اپنے لیے جائز سمجھیں گی، اس لیے کہ ہماری طاقت ان کی مغلوبیت کا باعث ہوگی۔ 
اصل حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اپنی استطاعت کی حد تک ساری دنیا کو اسلام کا پیغام پہنچانا ہے۔ یہ پیغام حالتِ امن میں بہترین طریقے سے پہنچ سکتا ہے۔ اگر کوئی قوم اس کو قبول کرلے تو وہاں خود بخود مسلمانوں کی حکومت قائم ہوجائے گی۔ ماضی میں بھی ایسا ہوا ہے۔ بے شمار علاقے ایسے ہیں جن کو مسلمانوں نے کبھی بھی فتح نہیں کیا، بلکہ وہاں خالصتاً دعوتی طریقوں سے اسلام پھیلا۔ انڈونیشیا، ملایشیا، مالدیپ اور کئی افریقی ممالک اس کی زندہ مثال ہیں۔ اگر ماضی میں ایسا ہوا تھا تو مستقبل میں بھی یقیناً ایسا ہوسکتا ہے۔