۲۱- عربی کے اہل زبان اس نکتے کو جانتے ہیں کہ مترادف الفاظ میں باہم دگر فرق ہوتا ہے اور ہر ایک کے لیے ایک خاص مفہوم اور اس کے استعمال کے لیے ایک متعین حد ہے قرآن مجید نے اپنے استعمالات میں اس فرق کو پوری طرح ملحوظ رکھا ہے جس کو صرف زبان کے ماہر ناقادین ہی سمجھ سکتے ہیں۔ مثلاً ’’ریاح‘‘ کا لفظ ہمیشہ فائدہ رسانی کے مواقع میں استعمال ہوا ہے اور ’’ریح‘‘ ضرر کے موقع کے لیے مخصوص ہے یہی حال لفظ امطار کا ہے یہ عذاب کے مواقع میں استعمال ہوا ہے اسی اصول کے مطابق مختلف الفاظ قسم کے استعمال میں فرق کیا گیا ہے جس سے ان الفاظ کی خصوصیات پر روشنی پڑتی ہے۔

اٹھارویں فصل میں ہم بیان کرآئے ہیں کہ قسم کی بعض صورتیں ایسی ہیں جن سے آدمی کے وقار اور شرف کو نقصان پہنچتا ہے۔ اب دیکھو قرآن نے اس حالت کو محض لفظ کے استعمال میں فرق کرکے کس طرح نمایاں کردیا ہے جو لوگ اپنی قسم سے اپنے تئیں ذلیل کردیتے ہیں اور ایسے مواقع پر قسم کھاتے ہیں جن مواقع پر قسم کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ان کی قسم کے لیے قرآن کے حلف کا لفظ استعمال کیا ہے سورہ براء ت میں منافقین کی قسموں کا ذکر سات جگہ آیا ہے چونکہ ان لوگوں کی قسمیں تمام تر وناء ت نفس اور جھوٹے عذرات  کا نتیجہ ہوتی تھیں اس سبب سے قرآن نے ہر جگہ اس کے لیے حلف کا لفظ استعمال کیا اور سارے قرآن میں جہاںکہیں بھی لفظ استعمال ہوا ہے قسم کھانے والے کی دناء ت اور دروغ بافی کی غمازی کررہا ہے زبان کے عام استعمالات میں بھی اس لفظ کی حیثیت یہی ہے نا بغہ نے نعمان بن منذر کے دربار میں انتہائی خوشمد اور تذلل کا اظہار کرنا چاہا تو کہا۔

حلفت فلم اترک لنفسک ریبہ
ولیس وراء اللہ للمرء مذہب
 میں نے قسم کھائی اور تمہارے لیے بدگمانی کا کوئی موقع باقی نہیں چھوڑا اور خدا سے آگے تو آدمی کے لیے کوئی راہ ہے ہی نہیں۔

اسی میں حلف کا لفظ استعمال کرکے اس نے انتہائی عاجزی اور خوشامد کا اظہار کردیا ہے اور خوشامد میں نابغہ کا کوئی حریف ہے بھی نہیں ۔مشہور ہے کہ:

اشعر ہم امراء القیس اذارکب و دالاعشٰی اذا طرب وعنترۃ اذاغضب والنابغۃ اذا رھب

سب سے بڑا شاعر امرء القیس ہے جب کہ سوار ہو۔اعشٰی ہے جب کہ مست ہو ،عنترہ ہے جب کہ غضب ناک ہونا بغہ ہے جب کہ خوفزدہ ہو۔

اگر لفظ کی اس خصوصیت کو تم سمجھ گئے ہو تو مذہبی نقطہ نظر سے اس کا فائدہ بھی سمجھ سکو گے ہمارے تمام مفسرین اور تورات کے مترجمین اللہ تعالیٰ کے لیے حلف کا لفظ استعمال کرنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے،بے تکلف کہہ دیں گے حلف اللہ بکذا (اللہ تعالیٰ نے اس بات کی قسم کھائی) حالانکہ اس لفظ کا استعمال اللہ تعالیٰ کے لیے کسی طرح موزوں نہیں رہے۔

قسم کے بقیہ الفاظ کی خصوصیات سمجھنے کے لیے تمہیں ساتویں فصل پڑھنی چاہیے وہاں ہم نے تمام الفاظ کی تشریح کی ہے۔ اس سے تم خود ہر ایک کی خصوصیت سمجھ سکو گے۔ یہاں ہم کو صرف اس قدر بتانا تھا کہ قسم بعض مواقع میں مذموم ہوتی ہے اور اسی موقع کے لحاظ سے قرآن نے اس کی مذمت کی ہے اور ایک خاص  لفظ کے استعمال سے اس کو متعین بھی کردیا ہے اور یہ قانون کی تفصیل اور وضاحت کا وہ درجہ ہے جو صرف شریعت اسلام کے لیے مخصوص ہے جیسا کہ فرمایا:

 وَ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْئٍ وَّ ھُدًی وَّ رَحْمَۃً وَّ بُشْرٰی لِلْمُسْلِمِیْنَ۔ (النحل: ۸۹)

اور ہم نے تم پر کتاب اتاردی جو ہر چیز کا واضح بیان ہے اور ہدایت رحمت اور خوشخبری ہے اطاعت کرنے والوں کے لیے۔