باب چہارم 

ہم سب کی یہ خواہش ہے کہ اُمت مسلمہ کے سارے ممالک ایک ایسے عظیم بلاک کی شکل میں ڈھل جائیں جیسے ایک گلدستے میں مختلف پھول کھلے ہوں۔ ایسا اسلامی بلاک جو سیاسی، معاشی اور معاشرتی طور پر ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو، ایک دوسرے کے دکھ درد کا ساتھی ہو اور ہر مصیبت میں ایک دوسرے کے کام آئے۔ ایسے خواب کی تعبیر ہر گز ناممکن نہیں۔ اس وقت یورپی یونین کے نام سے ایک ایسا ہی بلاک وجود میں آچکا ہے جہاں ایک ہی سکہ چلتا ہے، ویزے کی پابندیاں نہ ہونے کے برابرہیں اور کسی ملک کی سرحد پارکرتے ہوئے یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ دوسرے ملک میں داخل ہوا جارہا ہے۔حتیٰ کہ ان میں سے بہت سے ممالک نے اپنا ویزا بھی مشترک کرلیا ہے۔ یہی حال جی ایٹ کے ممالک کا ہے۔ ان ملکوں، جن میں امریکہ اور دوسرے سات ترقی یافتہ ممالک شامل ہیں، کے سربراہی اجلاس باقاعدگی کے ساتھ منعقد ہوتے ہیں اور اکثر وبیشتر حالات میں یہ متفقہ پالیسی بنانے میں یہ کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔ اگر آج کی دنیا میں یہ سب کچھ ہوسکتا ہے تو پھر ایک عظیم تر اسلامی بلاک کیوں قائم نہیں ہوسکتا۔ 
کچھ لوگ تو اس سے بھی آگے بڑھ کر ایک واحد مسلمان ریاست کا خواب دیکھتے ہیں، تاہم اس راقم کی نظر میں نہ تو یہ قرآن وحدیث کا کوئی تقاضا ہے اور نہ اس کی ضرورت ہے۔ سورہ انفال کے آخری حصے کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ کے زمانے میں اُس وقت کے حالات میں خود قرآن مجید نے ریاست مدینہ کے شہریوں کے بارے میں قانون بنادیا تھا اور اس ریاست سے باہر رہنے والے مسلمانوں کو اس ریاست کا شہری تسلیم نہیں کیا تھا۔ حضورؐ نے بھی اس بات کو اپنے ارشادات کے ذریعے واضح کردیا تھا۔ آج کی دنیا میں اس بات کی ضرورت نہیں کہ دو ملک آپس میں ضم ہوجائیں۔ اگر اُن کے درمیان نرم سرحدیں برقرار رہیں اور وہ مضبوط تجارتی اور دفاعی معاہدوں کے ذریعے آپس میں بندھے رہیں تو یہ بھی کافی ہے۔ ویسے بھی چونکہ عالم اسلام بہت بڑے رقبے پر پھیلا ہواہے اور مختلف خطوں کے درمیان معاشرت، آداب واطوار، لباس، زبان، کھانوں، رسوم ورواج اور موسم کے اعتبار سے بہت بڑا فرق ہے، اس لیے ان سب کو ایک ملک کی صورت دینا مناسب نہیں ہوگا اور یہ بہت سے مسائل کو جنم دے گا۔
تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ دوممالک کے درمیان قریب تر تعلق یا اتحاد کے لیے کچھ بنیادی شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔ ان میں سے پہلی شرط یکساں سیاسی نظام ہے یعنی یہ بات کہ دونوں ممالک میں کامل جمہوری کلچر ہونا چاہیے۔ اگر سیاسی نظام ایک جیسا نہ ہو تو دو ممالک کے درمیان کوئی بڑا قدرِ مشترک نہیں رہتا، ان دونوں کے ممالک کے باشندے آپس میں آزادانہ گفت وشنید نہیں کرسکتے اور غیر جمہوری ملک کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ ایک جمہوری ملک کے باشندوں کو اپنے ہاں بلا روک ٹوک آنے کی اجازت دے، کیونکہ اس سے اُس کے اقتدار کو خطرہ ہوتا ہے۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ ایسے دو ملک کچھ محدود معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ دوسری اہم شرط یہ ہے کہ قریب آنے والے ممالک کی معیشت کم وبیش یکساں ہونی چاہیے۔ اگر ایک ملک بہت مالدار ہو تو وہ ملک کسی دوسرے غریب ملک کے ساتھ اتحاد کو پسند نہیں کرے گا۔ حتیٰ کہ اُس کے باشندے بھی اس کی مزاحمت کریں گے۔ ماضی میں عالمِ اسلام کے اندر ہم متعدد حکومتوں، اُن کے شکست وریخت اور کئی ریاستوں کے مابین ناکام اتحاد کے واقعات دیکھ چکے ہیں۔ خلفائے راشدین کے بعد ہم جتنی حکومتوں کو دیکھتے ہیں وہ یاتو خاندانی حکومتیں تھیں اوریا پھر کسی طاقتور آدمی نے بزورِ بازو کچھ علاقوں کو فتح کرلیا تھا۔ جس حکومت کو ہم خلافتِ عثمانیہ کہتے ہیں، وہ درحقیقت ایک خاندان کی حکومت تھی جس کے متعلق دوسرے مسلمان نسلی گروہوں کا یہ خیال تھا کہ انہوں نے ہمیں غلام بنا دیا ہے۔ اُسی عثمانی سلطنت کے خلاف عربوں نے پوری طرح انگریزوں کا ساتھ دیا، اس لیے کہ عربوں کے خیال میں ترکوں نے اُن کو غلام بنالیا تھا۔ ماضی قریب میں ہم پہلے مصر اور شام اور پھر بعد میں مصر اور لیبیا کے ادغام کی ناکام داستان دیکھ چکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کی ناکام داستانوں کو مزید دہرانے کا عالمِ اسلام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔
چنانچہ اس راقم کے خیال میں عالمِ اسلام کے ایک عظیم تر متحد بلاک بنانے کا ایک ہی طریقہ ہے، وہ یہ کہ پہلے ہر ملک اپنے گھر کو ٹھیک کرے۔ اپنے ہاں جمہوری کلچرکا آغاز کرے اور اپنی معیشت کو ٹھیک کرے ۔اس طرح جن جن مسلمان ممالک میں جمہوریت کو جتنا فروغ حاصل ہوگا، اُتنا ہی وہ ممالک ایک دوسرے کے قریب تر آجائیں گے۔اس نقطہ نظر کا اظہار علامہ اقبال نے اپنے مشہور خطبات میں کیا تھا اور راقم کو اُس سے پوری طرح اتفاق ہے۔