عوام الناس کے بارے میں با لعموم دو غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں:


اول یہ کہ ان معصوموں کو ہمیشہ بادشاہوں کی بداعمالیوں کی سزا ملتی ہے۔ یہ حقیقت کی درست ترجمانی نہیں ہے۔ عوام الناس قومی جسد کا اکثریتی حصہ ہوتے ہیں اور انھی کا اجتماعی رویہ قومی کردار کومتعین کرتا ہے۔ قوم کے عروج و زوال میں ان کے اخلاقی رویے کا ہمیشہ ایک کردار رہاہے۔زوال کا عمل گو اشرافیہ کے اخلاقی انحطاط سے شروع ہوتا ہے ، مگر یہ پاےۂ تکمیل اسی وقت پہنچتا ہے جب عوام عقل، فطرت اور مذہب کی تمام رکاوٹیں پھلانگ کر اندھادھند ان کی پیروی شروع کردیںیا پھر اجتماعی خیر و شر سے بے نیاز ہوکر اپنی ذات میں مگن ہوجائیں۔ مورخین نے بغداد کی تباہی سے قبل وہاں کے عوام الناس کی بے حسی، اخلاقی پستی اور مذہبی تفرقہ بازی کا جو نقشہ کھینچا ہے ، وہ ہماری بات کی تصدیق کرتا ہے۔ رومن قوم میں دور زوال میں توہم پرستی اور بدکاری ، دونوں کا اجتماع ہوگیا تھا۔ ایرانیوں کے دور زوال میں مزوک نامی مجوسی رہنما کے اثرات پھیلے جس نے دولت اور عورت، دونوں کو مشترک قرار دے دیا تھا۔ جس کے بعد پوری قوم عیش پرستی میں مخمور ہوگئی۔
اسی طرح یہ خیال کیا جاتا ہے کہ دور حاضر سے قبل عوام کی حیثیت بھیڑ بکریوں کے اس گلے کی سی ہوتی تھی جس کی قسمت کا تمام تر انحصار اپنے گلہ بان کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔ جنھیں اپنی زندگی کے کسی فیصلہ کا کوئی اختیار نہیں ہوتا تھا۔ اکثر حالات میں ان کی حیثیت حوصلہ مند قائدین اور مقتدر طبقات کے درمیان برپا رہنے والے معرکوں کے تماشائی کی سی ہوتی تھی۔ عوام ’کالانعام‘ اور ’الناس علی دین ملوکہم‘ جیسے محاورے قدیم معاشرے میں ان کے فکری اور عملی مقام کو بہت اچھے طریقے پر واضح کرتے ہیں۔ یہ بات بڑی حد تک درست ہے ، لیکن یہ کلی حقیقت نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ عوام الناس کی زندگیوں کے فیصلے اگر حکمران کرتے رہے ہیں تو بہرحال انھیں بھی ان کی قومی امنگوں، خواہشات اور جذبات کا احترام کرنا پڑا ہے۔یہ تاریخ کے بعض ادوار میں اگر حالات کے اسیر محض رہے ہیں تو بعض مقامات پر بہرحال ان کی رضا و خوشنودی کے لیے مقتدر طبقات کو بھی اپنے طرزعمل کو متعین کرنا پڑا ہے۔سلطنت روم میں عیسائیت کے فروغ کے بعد رومی حکمران قسطنطین کا قبول عیسائیت اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اسی طرح عوام کے جذبات مجروح کرکے طاقت کے زور پر ان پر حکومت کرناممکن تھا ، لیکن اس کا طویل عرصے تک برقرار رہنا ممکن نہ تھا۔ مثال کے طور پر بنو امیہ کا طرز عمل کئی اعتبار سے عام مسلمانوں کے جذبات کے منافی تھا۔ چنانچہ بنو عباس نے اس بے چینی کا فائدہ اٹھایا اور ایک موثر تحریک چلا کر اس وقت بنو امیہ کی حکومت کا خاتمہ کردیا ، جب ان میں مزیدکئی صدیوں تک اقتدار میں رہنے کی سکت باقی تھی، جیسا کہ اندلس میں اگلی تین صدیوں تک انھوں نے اپنا اقتدار قائم رکھا۔
بہرحال، اس میں کوئی شک نہیں کہ دور جدید میں عوام الناس کو غیر معمولی تقویت حاصل ہوئی ہے۔ بالخصوص جمہوریت کے فروغ کے بعد عوامی امنگوں کے خلاف اقتدار میں رہنا عملاًنا ممکن ہوچکا ہے۔سیاسی نمائندے، جن کے ہاتھوں میں قوم کی تقدیر ہوتی ہے ، عوامی تائید کے بعد ہی اقتدار میں آتے ہیں۔البتہ یہ الگ بات ہے کہ اب حکمران جور و ستم کے بجاے پروپیگنڈے کے سحر سے لوگوں کو اپنا اسیر بناتے ہیں اورعوام آج بھی اپنی ذہنی کمزوری کی بنا پر مقتدر طبقات کے اشارۂ ابرو پر جیتے ہیں۔ پہلے یہ ان کی تلوار کے خوف سے ہوتا تھا اور اب میڈیا کی زنجیریں عوام کے فکر و عمل کو جکڑ لیتی ہیں،تاہم یہ صورت حال تعلیم اور شعور کے فروغ کے ساتھ مشروط ہے۔ جہاں عوام تعلیم یافتہ اور باشعور ہوتے ہیں ، وہاں وہ اپنے فیصلے خود آزادانہ طور پر کرتے ہیں، اور جہاں تعلیم اور شعور ناپید ہیں ، وہاں پہلے اگر انھیں آزادانہ فیصلے کا اختیار نہ تھا تو اب ان میں آزادانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

____________