بعض احادیث کی بنیاد پر کچھ لوگوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ عورت باعث نحوست ہے۔ اس نقطۂ نظرکی تائید میں، مثال کے طور، پر یہ روایت نقل کی جاتی ہے:

عَنِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ عَدْوٰی وَلاَ طِیَرَۃَ وَالشُّؤْمُ فِیْ ثَلاَثَۃٍ: فی الْمَرْأَۃِ وَالدَّارِ وَالدَّابَّۃِ. (احمد، رقم ۶۴۰۵)
’’ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اچھوت، برا شگون اور نحوست کسی چیز میں نہیں ہے، سوائے تین چیزوں کے: عورت، گھر اور جانور میں۔ ‘‘

یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی حدیث کو سمجھنے کے لیے اس کے تمام متون کا تجزیہ کیاجانا ضروری ہے۔ اگرتمام متون کو سامنے رکھے بغیر کسی حدیث کو سمجھاجائے گا تو بعض اوقات بالکل غلط نتیجے پر پہنچنے کا امکان ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث کے راوی بعض اوقات کچھ تفصیلات بیان نہیں کرتے اور بات کو اجزا میں بیان کرتے ہیں۔ چنانچہ مکمل بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سارے اجزا کو سامنے رکھ کرنتیجہ نکالا جائے تاکہ ایک حدیث اپنے پورے سیاق وسباق اور پیش وعقب کے ساتھ ہمارے سامنے آجائے۔
اس ضمن میں امام احمد بن حنبل کی’’ مسند‘‘ میں یہ حدیث اس معاملے کی صحیح تصویر پیش کرتی ہے:

عَنْ أَبِیْ حَسَّانَ الأَعْرَجِ أَنَّ رَجُلَیْنِ دَخَلاَ عَلٰی عَاءِشَۃَ فَقَالاَ: إِنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ: أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُوْلُ: إِنَّمَا الطِّیَرَۃُ فِی الْمَرْأَۃِ وَالدَّابَّۃِ وَالدَّارِ، قَالَ: فَطَارَتْ شِقَّۃٌ مِّنْہَا فِی السَّمَاءِ وَشِقَّۃٌ فِی الأَرْضِ فَقَالَتْ: وَالَّذِیْ أَنْزَلَ الْقُرْآنَ عَلٰی أَبِی الْقَاسِمِ، مَا ہٰکَذَا کَانَ یَقُوْلُ وَلٰکِنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُوْلُ: کَانَ أَہْلُ الْجَاہِلِیَّۃِ یَقُوْلُوْنَ: الطِّیَرَۃُ فِی الْمَرْأَۃِ وَالدَّارِ وَالدَّابَّۃِ. (رقم ۲۶۱۳۰)
’’حضرت ابو حسان اعرج سے روایت ہے کہ دو آدمی حضرت عائشہ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کے پاس آئے اور کہا: حضرت ابو ہریرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ نحوست صرف عورت، جانور اور گھر میں پائی جاتی ہے۔ یہ بات سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بہت ناراض ہوئیں اور کہا:اس ذات کی قسم جس نے ابوالقاسم( صلی اللہ علیہ وسلم) پر قرآن نازل کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز یہ نہیں فرمایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا تھا، وہ یہ ہے کہ دور جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے کہ نحوست عورت ، گھر اور جانور میں پائی جاتی ہے۔ ‘‘

حدیث کے اس متن سے یہ بات واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات غلط منسوب کی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تینوں باتیں بیان کی تھیں جو جاہلیت کے زمانے میں لوگ کہا کرتے تھے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی راے ہرگز نہیں تھی اور بغیر تصدیق کے ایسی باتوں کو اللہ کے پیغمبر کی طرف منسوب کرنا انتہائی نامناسب بات ہے۔

____________