باب چہارم

اس موضوع کے حوالے سے تین سوالات اہمیت کے حامل ہیں۔ پہلایہ کہ کیااسلام خواتین کوحق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت دیتاہے؟ دوسرا یہ کہ کیا خواتین انتخاب میں حصہ لے سکتی ہیں ؟اورتیسرا یہ کہ کیا ایک خاتون سربراہ مملکت بن سکتی ہے؟ 
ریاست کے اجتماعی امورچلانے کے لیے اسلام نے جوضابطہ تجویز کیاہے وہ یہ ہے کہ تمام اجتماعی وسیاسی امورباہمی مشورے یعنی جمہوری اصولوں اورجمہوری کلچرکے مطابق طے کئے جائیں۔ قرآن مجید کاارشاد ہے:

وامرھم شوریٰ بینھم (شوریٰ 42 ،آیت38)
(ان مسلمانوں) کے تمام امورباہمی مشورے سے طے ہوتے ہیں‘‘

قرآن مجید کے اس ارشاد میں مرد اور عورتیں سب شامل ہیں۔ اس لئے ایک مسلمان ریاست کے لئے یہ لازم ہے کہ وہ مردوں کی طرح عورتوں سے بھی رائے لینے کا اہتمام کرے۔ ان کو ووٹ کاحق دے اور مردوں کی طرح خواتین کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ تمام اجتماعی امور میں رائے دیں۔ قرآن مجید میں ایک پیغمبر حضرت شعیب ؑ کے بارے میں آتا ہے کہ ان کو ان کی بیٹی نے جو مشورہ دیا وہ انہوں نے قبول کیا۔ سورۃبقرہ(233:2)میں شیرخوار بچے کے دودھ چھڑانے کے معاملے میں یہ ہدایت آئی ہے کہ شوہر اور بیوی باہمی مشورے سے یہ فیصلہ کریں۔
حضورؐ نے بھی کئی معاملات میں خواتین سے مشورہ کیا اور ان کے مشوروں کو قبول بھی کیا ۔ اس ضمن میں سب سے مشہور واقعہ یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جب صحابہ کرامؓ بہت غمگین تھے اور حضورؐ نے انہیں ایک حکم دیا تو اس پرعمل کرنے کے لئے کوئی شخص بھی نہ اٹھا۔ اس پر حضورؐ نے اپنی ایک اہلیہ حضرت اُم سلمہؓ سے مشورہ طلب کیا۔ اور اس مشورے کے نتیجے میں تمام صحابہ کرامؓ اٹھ کر عمل کرنے میں مصروف ہوگئے۔
صحابہ کرامؓ اجمعین بھی خواتین کو شریک مشورہ رکھتے تھے۔ صحیح روایات میں اور تاریخی کتابوں میں کئی ایسے واقعات نقل کئے گئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خواتین سے مشورے لیتے تھے اور ان کے مشوروں پر عمل بھی کرتے تھے۔مثلاً صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق مسلمانوں کے ایک اہم اجتماعی معاملے کے موقعہ پر ایک بہت مشہورصحابی حضرت عبداللہ ابن عمرؓ نے اپنی بہن حضرت حفصہؓ سے مشورہ کیا اور ان کے مشورے پر عمل کیا۔ خلفائے راشدین بھی خواتین کو شریک مشورہ رکھتے تھے۔ اس ضمن میں تاریخی کتابوں میں کئی واقعات درج ہیں۔ حضرت عثمانؓ کو خلافت کے منصب پر فائز کرنے یا نہ کرنے کے ضمن میں حضرت عبدالرحمانؓ بن عوف کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی۔ انہوں نے اس موقعہ پر خواتین سے بھی رائے لی تھی۔
جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس ضمن میں اسلام نے ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی کہ خواتین کو ذمہ داری کے مناصب نہیں دئے جا سکتے۔ جب وہ ذمہ داری کے منصب کو حاصل کر سکتی ہیں تو یقیناًوہ کسی بھی انتخاب میں امیدوار بھی بن سکتی ہیں ۔حضرت شفا بنت عبداللہ کو حضرت عمرؓ نے بازار کی نگرانی کا کام سونپا تھا(ملاحظہ ہو الاصابہ، الاستیعاب اور اسدالغابہ)۔ اسی طرح ایک اور صحابیہؓ حضرت سمرا بنت نہیک کو بھی بازاروں کی نگرانی کاکام سونپا گیا تھا اور وہ مجرموں کو سزائیں بھی دیتی تھیں(ملاحظہ ہو الاستیعاب)۔
اس امت کے ایک جلیل القدر فقیہہ امام ابن جریرؒ کے مطابق تمام مقدمات میں ایک عورت قاضیہ بن سکتی ہے اور امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک فوجداری مقدمات کے علاوہ وہ باقی تمام معاملات میں قاضیہ بن سکتی ہے۔ گویا اسلام کے مطابق ایک خاتون مشورہ بھی دے سکتی ہے، فیصلہ بھی کر سکتی ہے اور فیصلے پر عمل درآمد بھی کروا سکتی ہے۔ درج بالا دونوں سوالات کے ضمن میں اب امت مسلمہ کے اندر کوئی خاص اختلاف رہابھی نہیں تاہم تیسرے سوال یعنی یہ کہ کیا ایک خاتون سربراہ مملکت بن سکتی ہے، پربہت اختلاف رائے ہے۔ ا س ضمن میں ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ ایک خاتون کوکسی بھی صورت میں یہ حق نہیں کہ وہ ریاست کی سربراہ بنے اوردوسرانقطہ نظر یہ ہے کہ ایسی کوئی پابندی اسلام میں موجود نہیں ۔ ہمارانقطہ نظران دونوں کے بین بین ہے۔ اس موقف کی وضاحت کے دوران میں باقی دونوں نقطہ ہائے نظر کے دلائل اورہماری طرف سے ان پرتنقید ساتھ ساتھ آجائے گی۔ 
ہمارا نقطہ نظریہ ہے کہ قرآن مجیدکے ایک اشارے کے مطابق ر یاست کی سربراہی کے لئے جسمانی صلاحیتیں اورمردانہ خصوصیات بھی بہت پسندیدہ ہیں۔ تاہم یہ قرآن مجید کاایک اشارہ ہی ہے ، کوئی براہ راست حکم نہیں۔ گویایہ ایک پسندیدہ امرہے کہ مسلمان ریاست کاسربراہ مردہو۔ تاہم اس ضمن میں کوئی آئینی یاقانونی پابندی عائد نہیں کی جاسکتی اس لئے کہ ایسی پابندی عائد کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس بارے میں قرآن مجید میں کوئی واضح حکم آیاہو۔ اب ہم اس نکتے کی تفصیل بیان کریں گے۔ 
قرآن مجید کابیان ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک پیغمبرحضرت داؤد ؑ نے اُس قوم کے لئے طالوت حکمران مقررکیا ۔ اس پربنی اسرائیل نے اعتراض کیا۔ چنانچہ قرآن مجید نے ان کااعتراض اورپیغمبرکاجواب اس طرح نقل کیاہے۔

وقال لہم نبیہم ان اللہ قد بعث لکم طالوت ملکاً قالو انیّٰ یکون لہ الملک علینا ونحن احق بالملک منہ ولم یؤت سعۃًْ من المال قال ان اللہ اصطفٰہ علیکم وازدہ بسطۃً فی العلم والجسم واللہ یؤتی ملکہ من یشآءُ واللہ واسع علیم۔ (بقرۃ 2- ،آیت247)
’’ بنی اسرائیل نے کہا: یہ ہمارے حکمران کیسے ہوسکتاہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس سے زیادہ توہم اس حکومت کے حق دارہیں اوریہ تووہ شخص ہے کہ اسے مال ودولت کی وسعت بھی حاصل نہیں ہے۔ ان کے پیغمبرنے فرمایا: اللہ نے اسی کوتمہاری سربراہی کے لئے منتخب کیاہے اور(دیکھو اس کے لئے اسے)علمی اورجسمانی برتری بھی عطافرمائی ‘‘

اس آیت میں یہ اشارہ موجود ہے کہ حکمران کے لئے جسمانی وجاھت بھی بہت پسندیدہ ہے اورظاہرہے کہ ایسی وجاھت مردوں میں ہی ہوسکتی ہے۔ تاہم یہ ایک اشارہ ہی ہے واضح حکم نہیں۔ اس لئے کہ اگر قرآن مجید کے پیش نظراس ضمن میں کوئی واضح حکم دینامقصودہوتا تووہ ایساکردیتا۔ یہ قرآن مجید کاایک معروف اسلوب ہے کہ جب وہ کوئی واقعہ بیان کرتاہے تواس سے متعلق مختلف احکام بھی بیان کردیتاہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں یمن کی ایک خاتون حکمران ، ملکہ سبا، کاواقعہ سورہ نمل میں بیان ہواہے۔ جسے حضرت سلیمان ؑ نے اسلام کی دعوت دی اوروہ مسلمان ہوگئی۔ تاہم اس موقعہ پرقرآن مجیدنے اس خاتون کی حکمرانی کی نہ تصویب کی، نہ تغلیط ۔ قرآن مجید اس پربھی خاموش ہے کہ اس خاتون کے اسلام قبول کرنے کے بعد اس کواپنی حکومت پربحال رکھاگیا یانہیں۔ اگرقرآن مجیداس بارے میں کوئی دوٹوک با ت کہناچاہتاتویہ بہت مناسب موقعہ تھا کہ وہ اس ضمن میں دینی حکم کی وضاحت بھی کردیتا۔ تاہم جب قرآن مجید نے اس معاملے کواجمال میں رکھا ہے تو اس سے یہی نتیجہ نکلتاہے کہ حکمرانی کے لئے مردانہ وجاھت پسندیدہ ہے مگرلازم نہیں۔ 
عورت کی حکمرانی کے خلاف دومزید آیات سے بھی استدلال کیاجاتاہے ۔ ایک سورۃ بقرہ2-کی آیت 228 اوردوسری سورہ نساء 4- کی آیت 34۔ تاہم ان آیات سے اس ضمن میں کوئی استدلال نہیں کاجاسکتا۔ یہ دونوں آیات میاں بیوی سے متعلق ہیں۔ یعنی یہ کہ جب ایک مرد اورایک عورت آپس میں شادی کرلیں تو اس اجتماعیت میں سربراہ شوہرہوگا۔ بہرحال ان دونوں آیات سے یہ اشارہ نکلتاہے کہ سربراہی کے لئے مرد ہی زیادہ موزوں ہے۔ تاہم اگرقرآن مجید ریاست کے متعلق اس نکتے پر زوردیناچاہتا تووہ خاندان کی طرح ریاست کے بارے میں بھی ایسی ہی وضاحت کے ساتھ یہ بات کہتا۔ 
جہاں تک روایات کاتعلق ہے ، دوروایات ایسی ہیں جن کاتجزیہ کرناضروری ہے۔ پہلی روایت صحیح بخاری کی ہے۔ ا بوکبرہؓ صحابی سے روایت ہے کہ جب حضورؐ کو یہ اطلاع ملی کہ ایران میں سابقہ بادشاہ کسریٰ کی بیٹی کوحکمران بنادیاگیا ہے توآپؐ نے فرمایا: ’’ وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جس نے عورت کوحکمران بنادیاہو‘‘ اس روایت کے ضمن میں چند اہم سوالات پیداہوتے ہیں:
* اس حدیث کے راوی حضرت ابوکبرہؓ کے مطابق ان کو یہ روایت جنگ جمل کے موقعہ پریاد آئی۔ جنگ جمل 36 ؁ھ میں حضرت علیؓ اورحضرت عائشہؓ کی افواج کے درمیان میں ایک سازش کے تحت لڑی گئی ۔ گویاحضرت ابوکبرہؓ نے یہ بات حضورؐ سے کم وبیش تیس برس پہلے سنی تھی۔ اس دوران میں ان کویہ بات یاد نہیں تھی اورایک خاص موقعہ پریاد آئی۔ یہ بڑی عجیب بات ہے۔
* حضورؐ سے یہ بات یقیناًبہت دوسرے صحابہؓ نے بھی سنی ہوگی۔ کیونکہ یہ بات ہے ہی اتنی اہم۔لیکن اورکسی صحابی سے یہ بات روایت نہیں ہوئی۔ جنگ جمل کے موقعہ پردونوں طرف ہزاروں صحابہؓ کرام موجود تھے۔ لیکن اورکسی کویہ بات یاد نہیںآئی۔ نہ صرف یہ بلکہ اس حدیث کی بناپرکسی صحابی نے حضرت عائشہؓ کا ساتھ بھی نہیں چھوڑا۔ ظاہرہے کسی حدیث پرعمل کرنے کے سلسلے میں صحابہ کرامؓ سے بڑھ کرکون ہوسکتاہے؟
* درایت کے اعتبارسے بھی یہ واضح ہے کہ حضورؐ ایسی بات نہیں فرماسکتے۔ اس لئے کہ دینوی فلا ح توان قوموں نے بھی پائی ہے جہاں عورتیں حکمران رہی ہیں۔ جہاں تک اخروی فلاح کی بات ہے تو ان میں مردوعورت کی کوئی تمیزنہیں۔
* اس حدیث کے ایک درمیانی راوی عوف بن ابی جمیلہ ا س گروہ میں سے ہیں جوحضرت علیؓ کوحضرت عثمانؓ پرفضیلت دیتے تھے۔ یہ بات سب مورخین جانتے ہیں کہ ایک خاص گروہ کے کچھ افراد کی طرف سے حضرت عائشہؓ کوبدنام کرنے کی پوری مہم چلائی گئی ۔ اس لیے کہ وہ حضرت عثمانؓ کی طرف دارتھیں۔
* یہ حدیث درحقیقت خبرواحد ہے۔ خبرواحد کامطلب یہ ہے کہ روایت کی تمام کڑیوں میں سے کسی نہ کسی کڑی پرصرف ایک آدمی اس کوآگے روایت کرتاہے۔ اوراس روایت کے بیان کرنے میں اس کے ساتھ دوسراکوئی شریک نہیں ہوتا۔ یہ بات مسلمہ ہے کہ خبرواحد سے کوئی دینی حکم ، ثابت نہیں ہوتا۔
* حضرت عائشہؓ کے حالات پریہ حدیث سرے سے منطبقہی نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ حضرت عائشہؓ نے قطعاً حکمرانی کاکوئی دعویٰ نہیں کیاتھا۔ 
دوسری روایت ترمذی کی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا: ’’ جب تمہارے حکمران تم میں بہترین لوگ ہوں اورتمہارے دولت مندلوگ سخی ہوں اورتمہارے معاملات باہمی مشورہ سے طے کئے جاتے ہوں تو اس وقت تمہارے لئے زمین کی پیٹھ اس کے پیٹ سے بہترہے اورجب تمہارے حکمران تم میں سے بدترین لوگ ہوں ، تمہارے دولت مند لوگ کنجوس ہوں اورتمہارے معاملات عورتوں کے سپرد کردئے جائیں توپھرتمہارے لئے زمین کاپیٹ اس کی پیٹھ سے بہترہے۔‘‘
یہ روایت اپنے مضمون کے اعتبار سے بالکل صحیح ہے اوراس میں معاملات سے متعلق بات کامفہوم یہ ہے کہ ہراچھے معاشرے میں جمہوری اصول کارفرماہوناچاہیئے یعنی ہرمعاملے میں مردوں اورعورتوں اورتمام طبقات کی رائے کاشامل ہونااوراس رائے کااحترام لازم ہے۔ تاہم اگرکسی معاشرے میں مرد اجتماعی معاملات سے بالکل ہی بیگانہ ہوجائیں ، ہاتھ پیرتوڑ کرانتہائی سست اورعیاش بن جائیں اورذمہ داری کے تمام کام کاکلیۃً عورتوں کے حوالے کردیں اورعورتیں مجبوراً ان کاموں کوسنبھال لیں تویہ ایک بڑی ہی ناپسندیدہ صورت حال ہے۔ گویایہ روایت عورتوں کے خلاف نہیں بلکہ اصلاً مردوں کی سستی اورعیاشی کی مذمت میں ہے۔
اس مسئلے کے ضمن میں احادیث کی چھ اہم کتابوں میں صرف یہی دوروایات ہیں ۔
یہاں یہ بات بھی واضح ہونی چاہیئے کہ حضرت عائشہؓ کے جنگ جمل کے موقعہ پراقدام سے یہ جواز نکالنا کہ اسلام میں خواتین کی حکمرانی کوئی پسندیدہ کام ہے ، بھی غلط ہے۔ اس لئے کہ حضرت عائشہؓ نے قطعاً حکمرانی کاکوئی دعویٰ نہیں کیاتھا۔ وہ توحج کے لئے مکہ تشریف لائی تھیں۔ مکہ میں ان کوحالات کی سنگینی کااحساس ہواتومدینہ واپس جانے کے بجائے بصرہ چلی گئیں۔ اس اثنا میں وہ سب لوگ بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے جوحضرت علیؓ کے سیاسی مخالفین تھے۔ ان کامطالبہ یہ تھا کہ حضرت علیؓ ، حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کوگرفتارکریں اورسزادیں۔ دوسری طرف حضرت علیؓ کانقطہ نظریہ تھا کہ وہ ایساکریں گے مگرجب حالات ان کے قابومیں ہوجائیں گے۔ اس بات پر دونوں گروہوں کے درمیان تین دن تک گفتگوہوتی رہی ۔ گفتگوکامیاب ہوئی ایک معاہدہ صلح پراتفاق رائے ہوگیااورطے پایاکہ اگلے دن صبح معاہدہ لکھا جائے گا۔ دونوں افواج میں ایسے سازشی عناصرموجود تھے جوان دونوں کوآپس میں لڑاناچاہتے تھے ۔ چنانچہ انہوں نے ایسی سازش کی کہ دونوں طرف کے لوگ سمجھے کہ مخالف فریق نے وعدہ خلافی کرکے حملہ کردیاہے ۔ اس وقت حضرت عائشہؓ کجاوے کے اندرایک اونٹ پرسوارتھیں ۔ ان کااونٹ اس مقصدسے میدان جنگ میں لایاگیاکہ اس کودیکھ کرلڑائی تھم جائے مگراس سے مخالفین نے یہ سمجھا کہ اب وہ خودکمان کرنے کے لئے آگئی ہیں ۔ چنانچہ لڑائی نے اورزورپکڑلی۔ بآلاخراس لڑائی میں حضرت علیؓ کی فوج کوفتح حاصل ہوئی اورانہوں نے نہایت احترام کے ساتھ حضرت عائشہؓ کومدینہ روانہ کردیا (ملاحظہ ہواردودائرہ معارف اسلامیہ ۔ جلد 7-جنگ جمل)
اس تفصیل سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت عائشہؓ قطعاً حکمرانی کی دعویدارنہیں تھیں۔ انہوں نے میدان جنگ میں فوج کی کمان بھی نہیں کی تھی۔ اس سانحے کے بعد وہ بائیس برس مزیدزندہ رہیں۔ یہ تمام وقت انہوں نے خواتین کی تعلیم وتربیت میں گزارا۔ اگروہ کسی سیاسی قیادت کی دعویدارہوتیں تواس دوران میں لازماً مزیدسیاسی سرگرمیاں دکھاتیں۔ 
ہمارے نزدیک اسلام کایہ رویہ کہ اس نے مردکی سربراہی کواشاریۃً پسند کیا مگراسے لازم نہیں ٹھہرایا، بہت حکمت پرمبنی ہے۔ بعض اوقات معاشرے میں ایسے حالات پیش آسکتے ہیں جب ایک قوم یاایک بڑا طبقہ صرف ایک عورت کی قیادت پرہی متفق ہوسکتاہے۔ خصوصاً اس وقت جب ایک سربراہ اچانک فوت ہوجائے یاا سے قتل کردیاجائے ۔ قریبی تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خواتین کومجبوراً اس وقت میدان قیادت میں اترناپڑاہے جب ان کے باپ یاخاوند کسی اچانک حادثے کاشکارہوئے ۔ ورنہ عموماً اس ذمہ داری کوپسندنہیں کرتیں۔