آگے ارشاد ہے۔ 
الیوم احل لکم الطیبٰت وطعام الذین اوتواالکتٰب حل لکم وطعامکم حل لہم والمحصنٰت من المومنٰت والمحصنٰت من الذین اوتواالکتٰب من قبلکم اذاٰتیتموہن اجورہن محصنین غیرمسٰفیحین ولامتخذی اخدانٍ ومن یکفر بالایمان فقدحبط عملہ وہوفی الاٰ خرۃ من الخٰسرین۔ (مائدہ 5۔ آیت 5 )
" آج تمہارے لئے ساری پاک چیزیں حلال کردی گئی ہیں۔ اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور پاکیزہ عورتیں بھی تمہارے لئے حلال ہیں۔ اہل ایمان میں سے ہوں یا اہل کتاب میں سے۔ بشرطیکہ تم ان کے مہر ادا کرکے نکاح میں ان کے محافظ بنو۔ نہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو۔ یا چوری چھپے آشنائیاں کرو""
متعہ درحقیقت آزاد شہوت رانی ہی تو ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ قرآن مجیدتو عام اہل ایمان مردوں اور عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ جب ان کی آپس میں ملاقات ہو تو ان کی آنکھوں میں حیا ہو۔ مہذب کپڑے پہنے ہوئے ہوں اور عورتیں اپنی زینت ظاہر نہ کریں۔ مثلاً ملاحظہ ہو سورہ نور 24 ۔ آیات 31-30۔ ان کا حوالہ پہلے دیا گزر چکا ہے۔ 
نکاح کے تعلق کے ضمن میں قرآن مجید اتنے تفصیلی احکام دیتا ہے کہ عقائد کے بعد گویا قرآن مجید کی نظر میں یہی سب سے اہم چیز ہے۔ اس ضمن میں وہ مہر کو زیر بحث لاتا ہے۔ میاں بیوی کے تعلقات کے ایک ایک پہلو پر روشنی ڈالتا ہے۔ ان دونوں کے حقوق و فرائض کا تعین کرتا ہے۔ ان کی علیحدگی کی صورتوں پر بحث کرتا ہے۔ اگر متعہ جائز ہوتا تو پھر یہ سب کچھ محض ایک مشق فضول ہوتا۔ کیونکہ متعہ کا تو مطلب ہی یہی ہے کہ بازار میں کسبیاں بیٹھی ہیں۔ خریدار جاکر حریصانہ جنسی نظروں سے جائزہ لے رہے ہیں۔ پھر ایک متعیں مدت ، خواہ وہ ایک رات ہو یا اس کا کچھ حصہ ، کے لئے خریداری ہوجاتی ہے اور اس وقت کے بعد ددونوں ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہو جاتے ہیں۔ متعہ کے جواز کی صورت میں سورۃ نور ، بقرہ، مائدہ اور نساء تو کیا ، مرد و عورت کے جنسی تعلق سے متعلق تمام قرآن مجید Irrelevent ہو جاتا ہے۔ چنانچہ یہ صاف ظاہر ہے کہ متعہ اسلام میں بالکل حرام اور نا جائز بلکہ درحقیقت زنا ہے۔ 
تاہم جہاں تک احادیث کا تعلق ہے۔ یہاں صورت حال مختلف ہے، اس ضمن میں جب ان تمام روایات کو جمع کر دیا جائے جن کی سند بالکل صحیح ہے تو وہ درج ذیل گروپوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ 
* پہلا گروپ ان روایات کا ہے۔ جن کے مطابق مکی دور میں ہی متعہ کو ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔ اسلام سے پہلے عر؂ب معاشرت میں متعہ عام تھا۔ بطور مثال ملاحظہ ہو۔ " ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ آغاز اسلام میں متعہ جائز تھا۔ جب ایک آدمی کسی گاؤں میں چلا جاتا جہاں اس کی کوئی جان و پہچان نہ ہوتی تھی تو و ہاں کسی عورت سے اس لئے نکاح کر لیتا کہ جتنے دن وہاں قیام کرنا ہے تو یہ خاتون اس کے مال و متاع کی حفاظت بھی کرے گی اور اس کے معاملے کو بھی درست رکھے گی(یعنی اس کی جنسی ضروریات بھی پوری کرے گی) یہاں تک کہ سورۃ مومنون کی آیت نازل ہوئی تو ابن عباسؓ نے کہا کہ ان دو شرم گاہوں کے علاوہ باقی سب حرام ہیں۔ (ترمذی، کتاب النکاح)
* احادیث کے دوسرے گروب کے مطابق یہ فعل تھا تو شروع سے ہی حرام ، تاہم ابتدائے اسلام میں بعض مواقع پر حضورؐ نے اس سے صرف نظر فرمایا۔ صحیح بخاری کتاب النکاح میں ابو جمرہ کی روایت اس کی تائید کرتی ہے۔ ابن ماجہ کتاب النکاح میں حضڑت عبداﷲبن عمر کی روایت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ نیز صحیح مسلم کتاب النکاح میں اورا بن مسلمہ کی روایت سے بھی یہی مفہوم مترشح ہوتا ہے۔ 
* احادیث کے تیسرے گروپ کے مطابق صرف جنگ کے موقع پر جب کہ مردوں سے بیویاں بہت دور ہوتی تھیں متعہ کی اجازت وقتی طور پر مل جاتی تھی۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم کتاب النکاح میں قیس نے عبداﷲ بن مسعود سے اس مفہوم کی روایت نقل کی ہے۔ نیز بخاری و مسلم کتاب النکاح میں جابر بن عبداﷲ اور مسلمہ بن اجوع کی روایت بھی اس کی تائید کرتی ہے۔ 
* احادیث کے چوتھے گروپ کے مطابق چھ ہجری میں صلح حدیبیہ کے تین مہینے بعد غزوہ خیبر کے موقعہ پر متعہ کی ممانعت کی گئی۔ ایسی ایک روایت ابن عباسؓ نے حضرت علیؓ سے لی ہے اور صحیح بخاری نے اسے کتاب النکاح میں نقل کیا ہے۔ اسی روایت کو صحیح مسلم نے بھی کتاب النکاح میں نقل کیا ہے۔ 
* احادیث کے پانچو یں گروپ کے مطابق حضورؐ نے فتح مکہ کے روز یعنی آٹھ ہجری میں متعہ کو حرام قرار دیا۔ مثلاایسی ایک روایت سیرہ کے واسطے سے صحیح مسلم کتاب النکاح میں آئی ہے۔ 
* احادیث کے چھٹے گروپ کے مطابق حضورؐ نے فتح مکہ کے دن نہیں بلکہ اس سے کچھ دن بعد جبکہ بعض لوگ متعہ سے لطف اندوز ہو چکے تھے۔ اس فعل کو ممنوع قرار دیا۔ سیرۃ الجہنی کی روایت جو صحیح مسلم میں نقل ہوئی ہے۔ اس کی تائید کرتی ہے۔ 
* احادیث کے ساتویں گروپ کے مطابق حضورؐ نے حجۃ الوداع یعنی دس ہجری میں متعہ کو ممنوع قرار دیا۔ یہ روایت اما م زہری نے ربیع بن سیرۃ کے حوالے سے بیان کی ہے۔ اور اسے ابو داؤد کتاب النکاح میں روایت کیا گیا ہے۔ 
* احادیث کے آٹھویں گروپ کے مطابق حضورؐ اور اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ کے عہد میں متعہ کی عام اجازت تھی۔ بعد میں حضرت عمرؓ نے اپنے دور حکومت میں اسے ممنوع قرار دیا۔ صحیح مسلم میں ابو زبیر کی روایت کردہ حدیث اور صحیح مسلم ہی میں عطاء کی حدیث میں یہی کچھ بیا ن ہوا ہے۔ 
* احادیث کے نویں گروپ میں وقت کے تصریح کئے بغیر یہ درج ہے کہ حضورؐ نے متعہ کو حرام ٹھہرایا۔ صحیح مسلم میں ربیع بن سیرۃ جہنی کی ایک روایت میں وقت کی تصریح نہیں ہے۔ اسی طرح صحیح مسلم کتاب النکاح میں ایک روایت کے الفاظ ہیں۔ رسول اﷲؐ نے فرمایا" متعہ تہمارے لئے آج کے دن سے قیامت تک کے لئے حرام ہے۔ جس کسی نے (ممتوعہ کو) کوئی چیز دی ہو۔ وہ اسے واپس نہ لے۔ " 
درج بالا نو کی نو گروپوں میں چند پہلو توجہ کے قابل ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سب روایات سند کے لحاظ سے صحیح ہیں۔ دوسرا یہ کہ یہ سب آپس میں ایک دوسرے سے بالکل متضاد ہیں اگر دو چار روایات میں کوئی تطبیق پیدا کی جاسکتی ہے تو باقی آپس میں اتنی مخالف و متضاد ہیں کہ ان کے درمیان کوئی کمزور سی ہم آہنگی پیدا کرنا بھی ناممکن ہے۔ تیسرا یہ کہ ایک ہی شخص (بعض حالات میں صحابیؓ اور بعض حالات میں تابعیؒ )سے بھی متضاد روایات موجود ہیں۔ مثلاً ابن عباس سے ایک روایت یہ ہے کہ متعہ کوسورۃ مومنون نے ممنوع کردیا اور انہی سے دوسری روایت یہ ہے کہ وہ متعہ کے جواز کا فتویٰ دیتے تھے۔ انہی سے تیسری روایت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے سابقہ فتویٰ سے رجوع کر لیا تھا۔ اسی طرح سیرۃ جہنی سئے روایت ہے کہ فتح مکہ کے چند دن بعد متعہ کو ممنوع قرار دیا گا۔ انہی کے بیٹے ربیع سے یہ روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن اسے منع کر دیا گیا۔ انہی ربیع سے یہ بھی روایت ہے کہ متعہ کو حجۃالوداع کے موقع پر یعنی فتح مکہ کے ایک سال بعد ممنوع قرار دیا گیا۔ چوتھا پہلو یہ ہے کہ ان میں سے بہت سی روایات میں ایسی باتیں موجود ہیں جو نہ صرف یہ کہ صریحاً قرآن مجید کے خلاف ہیں بلکہ وہ ذوق سلیم پر سخت گراں گزرتی ہیں ۔ مثلاً ان میں یہ بتایا گیا ہے کہ آٹھ ہجری میں( جب کہ حضورؐ کی حکومت تقریباً پورے جزیرہ نمائے عرب پر قائم ہو گئی تھی اور سورۃ نور کی ہدایات کو نازل ہوئے کافی مدت گزر چکی تھی۔ ) لوگ بازاروں میں ایسی عورتوں کی تلاش میں نکلتے تھا۔ براہ راست بھاؤ تاؤ ہوتا تھا۔ خوب غور سے ایک دوسرے کے بدن کے مختلف حصوں کا جائزہ لے لیا جاتا۔ کسی قیمت پر سودا طے ہوتاجاتا اور پھر جو ہونا ہوتا وہ ہو جاتا۔ مثلاً صحیح مسلم کتاب النکاح کی روایت ہے۔ :’’ ربیع بن سیرہ سے روایت ہے کہ ان کا والد فتح مکہ میں رسول اﷲؐ کے ساتھ شریک تھا۔ اس نے بتایا کہ ہم پندرہ دن مکہ میں ٹھہرے۔ دن اور رات کو ملا کر یہ تیس ہوتے ہیں۔ اس اثنا میں ہمیں رسول اﷲؐ نے عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دے دی تو میں اور میرے قبیلے کا ایک اور آدمی ہم دونوں نکلے۔ میں اس کے مقابلہ میں خوبصورت تھا اور وہ ذرا بدصورت تھا۔ جب کہ میری چادر ذرا پرانی تھی اور میرے چچا زاد کی چادر بالکل نئی تھی۔ حتیٰ کہ ہم مکہ کے زیریں یا بالائی حصہ میں پہنچ گئے۔ وہاں ہمار سامنا ایک ایسی لڑکی سے ہوا جو اونٹنی کی طرح جوان اور نہایت خوبصورت گردن والی تھی۔ ہم نے اسے کہا کہ کیا تم ہم میں سے کسی کے ساتھ متعہ کرنے پر تیا ر ہو؟ وہ بولی تم مجھے اس کے عوض کیا دو گے؟ ہم دونوں نے اپنی اپنی چادر اس کے سامنے کھول کر رکھ دی۔ وہ ہم دونوں کو بغور دیکھنے لگی اور میرا ساتھی بھی اسے سر سے لے کر سرین تک بغور ملاحظہ کر رہا تھا۔ میرے ساتھی نے کہا کہ اس کی چادر تو بالکل پرانی جب کہ میری چارد بالکل نئی اور خوبصورت ہے۔ یہ سن کر وہ بولی کہ اس کی چادر میں کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ بات اس نے دو تین مرتبہ کہی۔ غرض یہ کہ میں نے اس سے متعہ کیا۔ میں اس وقت تک اس کے ہاں سے نہ نکلا جب تک رسول اﷲؐ نے متعہ کو حرام قرار نہ دے دیا۔ (دوسری روایت میں تین دن کا ذکر ہے)
یہ بات واضح ہے کہ دین کے معاملے میں یہ بنیادی اصول ہے کہ قرآن مجیدہر چیز کے لئے فیصلہ کن ہے۔ اس کی حکومت ہر چیز پر قائم ہے۔ وہ سب سے بلند و برتر ہے اور اگر کوئی حدیث قرآن مجید سے ٹکراتی ہے تو ہم قرآن مجید کے مقابلے میں اس حدیث کو قطعاً کوئی وزن دینے کیلئے تیار نہیں۔ حدیث اپنی بنیاد میں بہر حال ایک اطلاع ہی تو ہے جو ایک انسان نے دوسرے انسان کو پہنچائی ہے۔ انسانوں کی اس پوری زنجیر میں اصل بات بگڑ بھی سکتی ہے۔ یادداشت کا مسئلہ بھی پیدا ہوسکتا ہے اور جان بوجھ کر بھی تحریف کی جاسکتی ہے۔ جتنے بھی حفاظتی اقدامات کئے جائیں بہر حال ہر طرح کی غلطیاں اس میں درآ سکتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ خود پروردگار نے اٹھایا ہے۔ لہذا خلاف قرآن مجید، حدیث کو کسی صورت میں بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔
یہاں ہمارے سامنے ایک اور سوال آتا ہے۔ وہ یہ کہ کیا درج بالا روایات کے نو گروپوں کی کوئی توجیہہ ممکن ہے اور ان روایات کے درمیان کوئی تطبیق کی جاسکتی ہے۔ ہمارے نزدیک اس کی واحد توجیہہ اور تطبیق یہ ہوسکتی ہے کہ متعہ تو ابتداء ہی سے حرام تھا۔ تاہم چونکہ سوسائٹی کی اخلاقی تربیت بتدریج ہی ہونی چاہیئے۔ اس لئے بعض مواقع پر اس فعل سے صرف نظر کیا گیا۔ نیز یہ کہ یہ ہدایت سب مسلمانوں تک فوری طور پر شاید پہنچی بھی نہیں۔ اسی لئے اس کا رواج کچھ عرصے تک جاری رہا۔ بہرحال حضورؐ نے بھی اس بار بار منع فرمایا اور بدرجہء آخر جب حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ اب بھی کچھ لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہیں تو انہوں نے ریاستی مشینری کی پوری قوت سے اس کا اعلان اور نفاذ کردیا۔ 
ہماری درج بالا توجیہہ سے بھی تمام روایات کے درمیان تطبیق نہیں ہوتی ۔ چنانچہ جتنی روایات قرآن مجید کے واضح نصوص کے خلاف ہیں، وہ یقیناًقابل رد ہیں، خواہ وہ کسی بھی کتاب کا جزو ہوں۔


مسئلہ غلامی اور اسلام

اس کتاب میں اس سے قبل جہاں جہاں آیات قرآنی نقل کی گئی ہیں۔ ان میں سے بعض جگہ غلاموں اور لونڈیوں کا ذکر آیا ہے۔ چنانچہ یہ ضروری ہے کہ اس بات کو واضح کیا جائے کہ غلامی کے ضمن میں اسلام کا صحیح نقطۂ نظر کیاہے اور اسلام نے اسے کس طریقے سے ختم کیا۔ 
غلامی اسلام کے نظام کا جزو نہیں ہے۔ قرآن مجید کے مطابق پروردگار نے انسان کو تکریم عطا کی ہے اور اسے احسن تقویم پر پیدا کیا ہے۔ ارشاد ہے ۔
" ولقد کرمنا بنی اٰدم وحملنٰہم فی البروالبحرورزقنٰہم من الطیبٰت وفضلنٰہم علیٰ کثیرٍ ممن خلقنا تفضیلا" ( بنی اسرائیل 17۔آیت 70)
" اور ہم نے بنی آدم کوعزت بخشی اور انہیں خشکی اور تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں میں رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فضیلت بخشی"
آگے ارشاد ہے۔
" لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم"(تین95 ۔ آیت 4)
" ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔"
پروردگار نے انسان کو مسجود ملائک بنایا۔ زمین میں اسے ایک آزاد اور خود مختار مخلوق (خلیفہ) کی حیثیت دی۔ اس کے مابین خدائی تقسیم صرف شعوب و قبائل کی تقسیم ہے اور یہ بھی اس لئے کہ باہم تعارف کا ذریعہ بنے۔ ارشاد ہے۔
" یا ایھا لناس اناخلقنٰکم من ذکرٍوّ انثیٰ وجعلنٰکم شعوبًاوّ قبآئل لتعارفوان اکرمکم عنداللہ اتقٰکم" (الحجرات49۔آیت13)
" اے لوگو! ہم نے تم کو ایک نر اور مادی سے پیدا کیا ہے اور تم کو کنبوں اور قبیلوں میں تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے سے تعارف حاصل کرو۔ اﷲ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ اشرف وہ ہے۔ جو تم میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہے"
اس کے بعد اسلام میں غلامی کا کیا سوال۔ اس میں تو مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کیلئے یہ قانون بنایا گیا ہے کہ اس کے باہمی امور تمام مسلمانوں (نہ کہ تمام آزاد مسلمانوں) کے باہمی مشورے سے چلائے جائیں گے۔ پھر اسلام تما م مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دیتا ہے۔ ارشاد ہے۔ 
" انمالمومنون اخوۃ" (الحجرات49۔آیت 9)
" تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں"
ان احکام و اصول کی موجودگی میں یہ ناقابل تصور ہے کہ اسلام اس بات کو تسلیم کرسکتا ہے کہ ایک فرد کو اپنے جان و مال سمیت دوسرے فرد کی غلامی میں دے دیا جائے کہ وہ اس سے جو چاہے اور جس طرح چاہے سلوک کرے۔
درحقیقت اسلام نے اس ادارے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کردیا ہے۔ لیکن اسے ختم کرنے کے لئے تدریج کا طریقہ اختیار کیا تاکہ معاشرے میں انتشار نہ پھیلے اورمعاشرہ درہم برہم نہ ہو۔ اس وقت غلامی کے اس ادارے پر عر ب کی معیشت اس طرح منحصر تھی جس طرح آج ہماری معیشت سود پر منحصر ہے۔ ہر تیسرے فرد کے پاس بیسیوں غلام ہوتے تھے۔ جن سے زراعت ، تجارت اور دوسرے کام لئے جاتے تھے۔ ایسے وقت میں اگر ان ہزاروں لونڈی غلاموں کو بیک وقت آزاد کر دیا جاتا تو معاشرے میں ان کے کھپانے کو کوئی صورت نہیں تھی۔ ان میں سے اکثر اپنی کفالت کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ اس کانتیجہ یہی نکلتا کہ غلام بھیک مانگتے، جرائم کرتے اور لونڈیاں عصمت فروشی کرتیں۔ پھر اس وقت اسلام کی مخالف قوتیں بھی اس سے بڑا فائدہ اٹھاسکتی تھیں۔ ان مصلحتوں کی وجہ سے اسلام نے ان کی آزادی کے لئے ایک ایسی راہ اختیار کی جس سے کوئی مسئلہ بھی پیدا نہیں ہوا اور بتدریج تمام باصلاحیت لونڈیاں اور غلام آزاد ہوکر اسلامی معاشرے کا جزو بن گئے۔
اس ضمن میں اسلام نے سب سے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ مکی زندگی کے بالکل ابتدائی دور ہی سے غلام آزاد کرنے کو ایک بہت بڑی معاشرتی نیکی قرار دیا۔ ارشاد ہوا۔
" فک رقبۃ" (بلد 90۔آیت 13)
" گردنیں چھڑاؤ" 
اس کے بعد مدنی دور میں قرآن نے بتایا کہ ان کے انسانی حقوق باقی سب لوگوں کے بالکل برابر ہیں۔ ارشاد ہوا۔
واعبدوااللہ ولا تشرکوابہ شیئاوبالوالدین احساناوبذی القربی والیتٰمیٰ والمسٰکین والجارالجنب والصاحب بالجنب وابن السبیل وماملکت ایمانکم ان اللہ لا یحب من کان مختالا فخور۔(نساء4 ۔ آیت 36۔)
" اﷲ ہی کی بندگی کر و اور کسی چیز کو بھی اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین ، رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، رشتہ دار پڑوسیوں، اجنبی پڑوسیوں ، ہم نشیینوں ، مسافروں اور غلاموں کے ساتھ بہترین سلوک کرو۔ یقین جانو اﷲ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا۔ جو مغرور و متکبر ہو" "
اس کی تشریح میں حضورؐ نے بھی نہایت واضح الفاظ میں غلاموں او ر لونڈیوں کے ساتھ نہ صرف حسن سلوک کی ہدایت فرمائی بلکہ مالکوں پر ان کے انسانی حقوق کو قانون کے حیثیت سے نافذ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید نے بعض گناہوں اور کوتاہیوں کی صورت میں غلام آزاد کرنے کو کفارہ اور صدقہ ٹھہرایا ۔
پھر قرآن مجید نے تمام ذی صلاحیت لونڈی اور غلاموں کے نکاح کرنے کی ہدایت فرمائی تاکہ معاشرہ کے اندر ان کا اخلاقی و معاشرتی معیار اونچا ہو۔ ارشاد ہے۔
واٰنکحوالایامیٰ منکم والصلحین من عبادکم وامآئکم ان یکونوافقرآ ءَ یغنہم اللہُ من فضلہ واللہ واسع علیم۔(نور 24 ۔آیت 32۔)
" مجرد لوگوں اور ذی صلاحیت غلاموں اور لونڈیوں کے نکاح کرو۔ اگر وہ تنگ دست ہوں گے تو اﷲ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا اور اﷲ بڑی وسعت والا اور علم والا ہے""
قرآن مجید نے ریاست پر یہ لازم قرار دیا کہ وہ اپنے خزانے کے مصارف میں ایک مستقل مد " فی الرقاب" رکھے۔ اس مد کے ذریعے ریاست از خود زیادہ سے زیادہ غلام اور لونڈیاں خرید کر آزاد کرے۔(توبہ9۔آیت60)
زمانہ جاہلیت میں جن مالکوں نے لونڈیوں سے پیشہ کرانے کے لئے چکلے قائم کر رکھے تھے ۔ ان کے چکلوں کو ختم کر دیا گیا۔ 
لونڈیوں اور غلاموں کے لئے تحقیر آمیز الفاظ استعمال کرنے کے بجائے"فتیٰ" اور " فتاۃ" کے الفاظ استعمال کرنے کی ہدایت فرمائی گئی۔(یہ محبت کے ساتھ کسی کو بلانے کا اس وقت کا معروف طریقہ تھا)۔ تاکہ لوگوں کا قدیم تصور بدل جائے۔ 
اس کے بعد دو کام ایسے کئے گئے جن کی وجہ سے موجود غلاموں کی تعداد کم از کم حد تک گھٹ گئی اور آئندہ کے لئے غلامی کی جڑ کاٹ دی گئی۔ پہلا کام مکاتیب کا اصول تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر غلام کو یہ حق مل گیا کہ وہ ایک معاہدے کے ذریعے کچھ رقم ادا کرکے آزادی حاصل کر سکتا ہے۔ عام لوگوں اور ریاست سے کہا گیا کہ وہ اس ضمن میں غلاموں کی پوری پوری مد د کریں۔ ارشاد ہوا:
والذین یبتغون الکتٰب مما ملکت ایمانکم فکاتبوہم ان علمتم فیہم خیراوّ اٰتوہم من مال اللہ الذی اٰتٰکم ۔(نور24۔ آیت33 کا حصہ)
" تمہارے لونڈی ، غلاموں میں سے جو لوگ مکاتبت کرنا چاہیں۔ اگر تم ان میں (مال کمانے کی )صلاحیت پاؤ تو ان سے معاہد ہ کرلو اور ان کو اس مال میں سے دو۔ جو خدا نے تم کو دیا ہے""
سورۃ محمد میں ارشاد ہوا۔
" فا ما منا بعدو اما فدآ ءً حتٰی تضع الحرب او زارھا" (محمد 447۔ آیت 4 کا حصہ)
" لڑائی (میں فتح حاصل کرنے اور قیدیوں کو مضبوط باندھنے )کے بعد ان قیدیوں کو یا تو احسان کرکے چھوڑنا ہے۔ یا فدیہ لیکر ۔ یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے"
چونکہ لونڈی ، غلام صرف جنگ کے دوران میں ہی بن سکتے ہیں۔ اس لئے اس حکم کے ذریعہ آئندہ کے لئے یہ دروازہ ہی بند کر دیا گیا اور اس طرح اسلام نے غلامی کے ادارے کا مکمل طور پر خاتمہ کرلیا۔