اسی طرح زمانہ رسالت کی لونڈیوں کا معاملہ تھا۔ ان لونڈیوں کا بچپن اور جوانی پوری اس عالم میں گزری تھی کہ وہ خاندان کی حفاظت سے محروم تھیں اور ان کی پوری تربیت نہایت ناقص اخلاقی حالات میں ہوئی تھی۔ ایسی لونڈیوں کے متعلق قرآن مجید نے یہ ہدایت کی کہ اگر ان کے موجودہ مالک یا شوہر انہیں پاک دامن رکھنے کا پورا اہتمام کریں اور اس کے باوجود ان سے یہ جرم سرزد ہو جائے تب بھی انہیں آدھی سزا دی جائے گی۔ اس لئے کہ ان کی اخلاقی بنیادوں میں کمزوری موجود ہے۔ سورۃ نساء میں ارشاد ہے۔

"فااذا احصن فان اتین بفاحشۃٍ فعلیہن نصف می علی المحصنٰت من العذاب "(سورۃ نور24- آیت25)
’’پھرجب وہ اس طرح پاک دامن رکھی جائیں اوراگروہ بدچلنی کی مرتکب ہوجائیں توان کے لئے اس سزاسے آدھی سزا ہے۔ جوآزاد عورتوں کے لئے مقررکی گئی ہے‘‘

آج کے حالات میں جب کہ جنسی جذبات کوابھارنے کے میلانات ہرطرف موجود ہیں۔ لوگوں کی اخلاقی تربیت ناقص ہے۔ بے شمارلوگوں کو ضروری خاندانی یاسماجی حفاظت حاصل نہیں۔ ریاست کواس ضمن میں مناسب قانون سازی کرنی چاہیئے اورعدالت کوبھی ہرمعاملے کااس پہلوسے بھی خیال کرناچاہیئے۔
تیسراسوال یہ ہے کہ اگرکوئی عام فرد کسی کواس جرم میں ملوث دیکھ لے توکیایہ ضروری ہے کہ اس کی خبرحکومت تک پہنچائے؟
اس کاجواب یہ ہے کہ دین اس بات کوپسند نہیں کرتا۔ تہمت کاقانون اسی لئے قرآن مجید نے بیان کیا۔ اسی نکتہ کوحضورؐ نے واضح کرتے ہوئے ایک شخص سے فرمایا  
’’تم اس مجرم کا پردہ ڈھانک دیتے تویہ تمہارے لئے زیادہ اچھاہوتا‘‘ (الموطا۔ کتاب الحدود)

اسی طرح مجرم کے لئے یہ بھی زیادہ مناسب یہی ہے کہ وہ اس کوظاہر نہ کرے بلکہ اللہ سے توبہ واستغفار کرے۔ حضورؐ نے فرمایا:  
’’ تم میں سے جوشخص اس طرح کی کسی غلاظت میں ملوث ہوجائے ۔ اسے چاہیئے کہ اللہ کے ڈالے ہوئے پردے میں چھپارہے۔ لیکن اگروہ اپناپردہ کھولے گاتوہم اس پر اللہ کاقانون نافذکریں گے۔ ‘‘ (الموطا۔ کتاب الحدود)

چوتھاسوال یہ ہے کہ شادی شدہ زانی کی سزاکیاہے؟
چونکہ یہ سوال اس کتاب کی حدود میں نہیں آتا۔ اس لئے ہم اس پر تفصیل سے بحث نہیں کریں گے۔ تاہم اس سوال کا مختصرجوا ب ضرورآناچاہیئے اس لئے کہ بعد کے سوالوں کی وضاحت اس کے بعد ہی ممکن ہوسکے گی۔ اس سوال کے بارے میں دومؤقف ہیں ۔ ایک یہ کہ ہراس زانی کورجم کیاجائے گاجوشادی شدہ ہو۔ کیونکہ حضورؐ نے ایک مقدمے میں شادی شدہ زانی کورجم کرنے کاحکم دیاتھا۔ اس گروہ کا کہناہے کہ سورۃ نور کاحکم شادی شدہ زانیوں کے لئے نہیں ہے بلکہ صرف غیرشادی شدہ مجرموں کے لئے ہے۔
اس کے برعکس دوسرے گروہ کامؤقف یہ ہے کہ حق وباطل کامعیارقرآن مجید ہے۔ قرآن مجید کوباہر سے کوئی بھی چیزمنسوخ نہیں کرسکتی ۔ اگرپروردگارکوشادی شدہ مجرموں کے بارے میں کوئی علیحدہ قانون نافذ کرناہوتا تووہ اس واضح آیات والی سورت میں ایک فقرے کااضافہ کردیتا۔ اس لئے زناکی سزا توصرف اورصرف وہی ہے جوسورہ نورمیں بیان ہوئی ۔ باقی رہی بات اُن مجرموں کی جن کوحضورؐ نے رجم کی سزادی وہ ان کو محض ان کے شادی شدہ ہونے کی بناپر نہیں دی گئی بلکہ وہ سزا ان کو سورۃ مائدہ آیت 34-33کے تحت دی گئی۔ جس میں فساد فی الارض کے جرم کی سزابیان کی گئی ہے۔ شادی شدہ ہونا ان کے جرم میں مزید اضافے کاباعث تھا کیونکہ وہ حلال مواقع کے باو جود حرام کا ارتکاب کرتے تھے۔ 
پہلے مؤقف کی ایک غلطی یہ بھی ہے کہ اس میں سارا زورشادی شدہ ہونے یانہ ہونے پردیاگیاہے۔ حالانکہ زندگی میں کئی مواقع ایسے پیش آتے ہیں جب ایک انسان شادی شدہ ہونے کے باؤجود عملاً تجرد کی زندگی گزاررہاہو۔ مثلاً روزگارکی وجہ میاں بیوی کئی سال سے ایک دوسرے سے دورہوں یاان میں ایک کاانتقال ہوچکاہو یاان میں سے کوئی دائم المریض ہو۔ اس طرح کا کوئی فردزناکا مرتکب ہوا اوراسے رجم کی سزادی جائے ، قرین انصاف نہیں لگتا۔
پہلے مؤقف کی ایک غلطی یہ بھی ہے کہ اس میں جوتخصیص کی گئی ہے وہ عقلی لحاظ سے بھی صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ اس کومطابق سزامیں کوئی فرق نہیں کیاگیا۔ حالانکہ انسانی ضمیر یہ تقاضاکرتاہے کہ ایک عام مجرم اورمعاشرے میں زناکورواج دینے والے مجرم کے درمیان سزامیں فرق ہونا چاہیئے۔ اس سوال پر اگرقرآن مجید کی روشنی میں غوروفکر کیاجائے تومعلوم ہوتاہے کہ زناکے عام مجرموں کیلئے سزاسورہ نور میں بیان ہوئی ہے۔ جب کہ عادی مجرموں اوربدکاری کا اڈہ چلانے والوں کی سزا دراصل وہی ہے جوفساد فی الارض کے مجرموں کے لئے سورۃ مائدہ میں بیان ہوئی ہے۔
اس بحث پرایک بڑا لڑیچر وجود میں آچکاہے ۔ اس موضوع پرپہلے گروہ کے مکمل دلائل کے لئے تفہیم القرآن جلدسوم، تفسیرسورۃ نوراورمحمدرفیق چوھدری کی کتاب ’’حدرجم ‘‘ کامطالعہ مفید ہے۔ جبکہ دوسرے گروہ کے دلائل جانے کے لئے تدبرقرآن تفسیر سورہ نور ازمولانااصلاحی اورجاوید احمدغامدی کی کتاب ’’برہان‘‘ اور ’’حدود و تعزیرات‘‘ کامطالعہ مفید ہے۔ جناب خورشید احمد ندیم نے اپنی کتاب ’’اسلام کاتصورسزاوجزا‘‘میں دونوں طرف کی نمائندہ تحریریں جمع کردی ہیں۔
پانچواں سوال یہ ہے کہ گینگ ریپ ، قحبہ گری اورزنابالجبر کی کیاسزا ہے؟اوریہ جرائم کیسے ثابت ہوتے ہیں؟
اس کاجواب یہ ہے کہ درج بالاتمام جرائم دراصل فسادفی الارض کے ضمن میں آتے ہیں جن کے بارے میں سورہ مائدہ آیات 34-33میں قانون بیان ہواہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کے مرتکبین کوعبرتناک طریقے سے قتل بھی کیاجاسکتاہے(رجم عبرتناک طریقے سے قتل کا ایک طریقہ ہے) یاکوئی اورعبرتناک سزابھی دی جاسکتی ہے اوراگرصورت حال ایسی ہو کہ ریاست وحکومت کی مصلحت کی خاطر کوئی عبرتناک سزادینا مناسبنہ ہو توایسے لوگوں کویاتوجلاوطن کردیاجائے یاکسی خاص علاقے میں نظربند کردیاجائے۔ تاکہ ان کے شرومصیبت سے معاشرے کوچھٹکاراملے۔
رہایہ سوال کہ جرائم کیسے ثابت ہوتے ہیں ؟ اس کاجواب یہ ہے کہ یہ جرائم اسی طریقے سے ثابت ہوتے ہیں جس طریقہ سے دنیاکے دوسرے جرائم ثابت ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں دین نے ہمیں کسی خاص طریقہ کاپابند نہیں کیا۔ قحبہ گری کے خاتمے کے لئے البتہ قرآن مجید نے ایک خصوصی قانون نافذ کیاہے وہ یہ ہے کہ جوعورتیں عصمت فروش ہوں اورمسلمان رہنے کے باوجود اس جرم سے بازنہ آتی ہوں ان پر مسلمانوں میں چارگواہ طلب کئے جائیں جوپوری ذمہ داری کے ساتھ یہ گواہی دیں کہ فلاں عورت کوسوسائٹی میں ایک قحبہ عورت کی حیثیت سے جاناجاتاہے اورہم بھی اسے اسی حیثیت سے جانتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ انہوں نے کسی خاص موقع پراسے خود اپنی آنکھوں سے زناکرتے دیکھاہو۔ ایسی صورتحال میں اگرعدالت جرح وتحقیق کے بعد ان کی گواہی پرمطمئن ہوجاتی ہے توایسی عورتوں کوگھروں میں نظربند کردیاجائے یاان کوفسادفی لارض کی سزاؤں میں حالات کے لحاظ سے کوئی بھی سزادے دی جائے۔ ارشادہے۔

والٰتی یاتین الفاحشۃ من نسآئکم فاستشہدواعلیہن اربعۃً من کم فان شہدو افامسکوہن فی البیوت حتیٰ یتوفہن الموت اویجعل اللہ لہن سبیلاً۔(سورہ نساء4-,آیت15)
ْْْ’’ اورتمہاری (مسلمان) عورتوں میں سے جوبدکاری کی عادی ہیں ۔ ان پراپنے اندر سے چارگواہ طلب کرو ۔ پھراگروہ گواہی دے دیں توایسی عورتوں کوگھروں میں نظربند کردو یہاں تک کہ ان کوموت آجائے یااللہ ان کے لئے کوئی راہ نکال دے۔‘‘

درج بالاہدایت سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ ایسی قحبہ عورتوں کے خلاف عوامی شکایات پرایکشن لینابنیادی طورپرحکومت کی ذمہ داری ہے اورحکومت ہی اس محلے کے کم ازکم چارمعتبرترین افراد کوگواہی کے لئے ازخود طلب کرے گی۔ 
چھٹا سوال یہ ہے کہ اگرگینگ ریپ یازنابالجبرمیں متاثرہ خاتون کے سوا کوئی گواہ نہ ہوتوکیس کیسے ثابت ہوگا اوراگرکیس ثابت نہ ہوسکاتوکیاخاتون قذف کی مجرم ٹھہرے گی؟
اس کاجواب یہ ہے کہ ایسے واقعات کاہوناقرین قیاس ہے اس لئے کہ عام طورپر ایسے مجرم ویران اورتنہاجگہوں میں اس طرح کے جرائم کرتے ہیں ۔ عام حالات میں اس بات کاتصور بھی نہیں کیاجاسکتاکہ محض کسی مرد کوبدنام کرنے کی خاطر کوئی خاتون اتنابڑاواقعہ اپنے سرلے لے گی۔ جس سے اسے ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کااندیشہ ہو۔ قرآن مجید کے الفاظ سے صاف ظاہرہے کہ قذف کاقانون درحقیقت معاشرے کے ان مفسد لوگوں سے نمٹنے کے لیے ہے جوشریف خواتین پر بدکاری کے الزامات لگاتے رہتے ہیں۔ اسی لئے قرآن مجید میں ’’محصنٰت‘‘ کالفظ استعمال ہواہے جس کامطلب ہے ’’ پاک دامن عورتیں‘‘۔ گویابنیادی طورپر یہ خواتین کے عزت ووقار کی حفاظت کاقانون ہے۔ یہ قانون اس لئے نہیں ہے کہ مظلوموں کا منہ بند کیا جائے اور معاشرے میں گینگ ریپ کے ملزم دندناتے پھریں۔ اس لئے ہمارے نزدیک یہ بات قرآن مجید کی روح کے عین مطابق ہے کہ ریاست واضح طور پر یہ قانون بنائے کہ اس طرح کے واقعات میں کیس اسی طرح ثابت ہوگا جس طرح دنیا بھر کے دوسرے جرائم میں کیس ثابت ہوتے ہیں یعنی طبی معائنہ، انگلیوں کے نشانات، ملزم کے کپڑوں اور حالات وقرائن سے ہی جرم ثابت ہوگا۔ اس ضمن میں چارعینی گواہوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اس کی ضرورت صرف اس وقت ہونی ہے جب ایسے فرد پر الزام لگایا جائے جس کی حیثیت عرفی معاشرے میں بالکل مسلم ہو۔
جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ کیا کیس ثابت نہ ہو سکنے کی صورت میں ایسی خاتون قذف کی مجرم ٹھہرے گی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی خاتون کے ضمن میں دو امکانات ہیں۔ ایک یہ کہ اس کے الزام صحیح لگایا ہے لیکن دعویٰ کے ثبوت کے لئے اتنی شہادت موجود نہیں جن کی بنیاد پر ملزم کو سزا دی جا سکے یا شہادتوں میں کوئی فنی مسئلہ درپیش ہے یا پولیس کے ہتھکنڈوں کی وجہ سے کیس کمزور ہو گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں متاثرہ خاتون بالکل بے قصور ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس نے محض کسی کو بدنام کرنے یا پیسہ بٹورنے کی خاطر ایسا الزام لگایا ہے۔ اس صورت حال میں مزید تین پہلو موجود ہیں۔ ایک یہ کہ کیا الزام کسی شریف آدمی پر لگایا گیا ہے یا ایک ایسے آدمی پر لگایا گیا ہے جس سے اس طرح کی حرکت کا سرزد ہونا ممکن ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایسے الزام سے مرد کی بہر حال اتنی بدنامی نہیں ہوتی جتنی خاتون کی ہوتی ہے۔ تیسرا پہلو یہ ہے کہ ایک غلط الزام ایک عورت اپنی پوری زندگی میں صرف ایک ہی دفعہلگا سکتی ہے ۔ کیونکہ ایک ہی کیس کے بعد اس کا اعتماد عدالت اور معاشرے کی نظر میں ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ ان تمام عوامل کی وجہ سے آج کی صورت حال میں یہ لازم ہے کہ یہ قانون بنایا جائے کہ گینگ ریپ اور زنابالجبر کے الزام کے ثابت نہ ہو سکنے کی صورت میں خاتون پر از خود کوئی مقدمہ نہیں بنے گا۔ 
تاہم اگر متاثرہ فریق سمجھے کہ اس کو بدنام کرنے کی خاطر ایک بالکل بے بنیاد الزام اس پر لگایا گیا ہے تو وہ عدالت میں اپنی ہتک عزت کے لئے مقدمہ دائر کر سکتاہے۔
ساتواں سوال یہ ہے کہ اگرایک عورت کوحمل ٹھہراہواہواوروہ زنابالجبر کادعویٰ دائرکرے مگراپنا دعویٰ عدالت کے اطمینان کے مطابق ثابت نہ کرسکے توکیااس عورت پرزناکے الزام مقدمہ دائرکیاجائیگا۔ 
اس کاجواب یہ ہے کہ آج کی صورتحال میں ایک اہم سوال ہے اس لئے کہ اس وقت بھی ایسی سینکڑوں خواتین پاکستانی جیلوں میں بند ہیں جوزنابالجبر کے دعوے کے ساتھ عدالت میں آئیں تھیں مگرجب وہ عدالت کے اطمینان کے مطابق اپنا کیس ثابت نہ کرسکیں توالٹا انہی پر ریاست کی طرف سے یہ موقف اختیارکرکے مقدمہ دائر کیاگیاکہ اس عورت کاحمل توبہرحال اس کاثبوت ہے کہ وہ زنامیں ملوث ہوئی ہے ۔اب اگرزنابالجبرنہیں ہوا تولازماً زناباالرضا ہواہے اس لئے عورت مجرم ہے ۔یہ دلیل صحیح نہیں ہے ۔ عین ممکن ہے کہ زنابالجبرہواہومگراسے عدالتی اطمینان کے مطابق نہ کیاجاسکتاہو۔ چنانچہ اس معاملے میں جس طرح ملزم کوعدالت کی طرف سے شک کافائدہ دیاگیاہے اسی طرح مدعی بھی شک کافائدہ اٹھانے کامستحق ہے۔ دوسراپہلویہ ہے کہ اگرعورتوں کواسی طرح قصوروارٹھہرایاجانے لگا توپھرکوئی عورت قانون وانصاف کے حصول کے لئے عدالت کادروازہ ہی نہیں کھٹکھٹائے گی۔ یوں ملک میں بے انصافی اورظلم کادوردورہ ہوجائے گا۔ تیسراپہلویہ ہے کہ یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ اگرعورت راضی نہ ہوتواس کے ساتھ زنابالجبرہوہی نہیں سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ جان سے مارنے کی دھمکی ایک خاتون کواس کام پرمجبورکرسکتی ہے۔ اس کے خطوط یاکسی دوسرے غیرذمہ دارانہ فعل کے ذریعے اسے بلیک میل کیاجاسکتاہے اورایک دفعہ کے بعد اسے باربار بلیک میل کیاجاسکتاہے۔ چوتھاپہلویہ ہے کہ جدیدعلم نے ڈی این اے (D.N.A) ٹیسٹ کی صورت میں ایک طریقہ دریافت کیاہے جس کے ذریعے سے اعتماد کے ساتھ یہ کہاجاسکتاہے کہ حمل مخصوص مرد سے ٹھہراہے یاکسی اورسے ۔ یہ ضروری ہے کہ اس ٹسٹ کی سہولت بہم پہنچائی جائے اس لئے کہ ا س ٹسٹ کی صرف موجودگی ہی سے اس طرح کے کیسوں میں بہت کمی واقع ہوجائے گی۔ جب تک ملک میں مطلوبہ سہولت دستیاب نہیں ہوتی اس وقت تک عورت اورمرد کے ٹشوز اورخون کے نمونے کوباہربھجوانے کاانتظام بھی ہوسکتاہے۔
درج بالاتمام پہلوؤں اورعوامل کومدنظر رکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ آج کے حالات میں یہ واضح قانون سازی کی جائے کہ اگرکوئی حاملہ خاتون عدالت میں اپناکیس ثابت نہ کرسکے تواس خاتون پرریاست کی طرف سے ازخود کوئی کیس دائر نہیں کیاجائے گا۔ 
آٹھواں سوال یہ ہے کہ اگرعدالت کے سامنے زناکاکوئی مقدمہ پیش ہواورمقدمہ ثابت نہ ہوسکے توکیا عدالت اپنے اختیارات کے تحت مدعیوں کو ساقط الشہادت قراردے گی یااس کے لئے متاثرہ فریق کوایک اورمقدمہ دائرکرناپڑے گا؟
اس کاجواب یہ ہے کہ اگرغلط الزام پاک دامن شریف عورتوں یعنی ’’محصنٰت‘‘ پرلگایاجائے توعدالت پریہ لازم ہے کہ وہ مقدمے کافیصلہ کرتے وقت ازخود مدعیوں کوقذف کی سزابھی دے۔ اس کے لئے متاثرہ فریق کوعلیحدہ سے کیس دائرکرنے ضرورت نہیں۔ اس لئے کہ قرآن مجید نے واضح طورپراس معاملے میں حکومت وعدالت کوبراہ راست مخاطب کیاہے۔ ارشاد ربانی کاترجمہ ہے۔

’’اورجولوگ پاک دامن عورتوں پرتہمت لگائیں ، پھرچارگواہ نہ لائیں توان کواسی کوڑے مارواوران کی گواہی پھرکبھی قبول نہ کرو‘‘

درج بالاآیت کاصاف مطلب یہ ہے کہ یہ کام کرنا حکومت وعدالت کی براہ راست ذمہ داری ہے۔ اگر اسے متاثرہ فریق کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا تو قوی اندیشہ ہے کہ وہ اس معاملے میں مقدمہ بازی کی الجھنوں ، وقت اورپیسے کی مزید ضیاع ،مزید رسوائی کے خوف اوربااثرافراد کے دباؤ کی وجہ سے عدالت میں نہیں جائے گا۔ یوں قذف کے مجرم بغیرسزاکے آزادپھریں گے۔ 
چنانچہ آج کے حالات میں یہ لازم ہے کہ یہ واضح قانون بنایاجائے کہ’’ محصنٰت‘‘پربے ثبوت مقدمہ دائرکرنے والوں کوعدالت ازخود قذف کی سزا دے گی۔  

عورت کی دیت کامسئلہ:

جب کوئی انسان دوسرے کے ہاتھ غلطی سے قتل ہوجائے تواسلامی احکام کی روسے یہ لازم ہے کہ یہ فعل کرنے والا مقتول کے ورثاء کوتاوان اورجرمانے کے طورپرکچھ رقم اداکرے۔ اسے دیت کہتے ہیں۔ اس دیت کی مقدارکتنی ہے اورکیامقتول مرداورایک مقتول عورت کی دیت برابرہے ؟
اس ضمن میں تین نقطہ ہائے نظرہیں۔ ایک نقطہ نظریہ ہے کہ اس کی مقدار سواونٹ یااس کے برابررقم ہے اورعورت کی دیت مردکی دیت کانصف یعنی پچاس اونٹ ہے اس لئے کہ بعض کمزورروایات میں یہ بات آئی ہے ۔ اس نقطہ نظر کے تفصیلی دلائل جانے کے لئے ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ کے جون ، جولائی اوراکتوبر 1984 ؁ کے شماروں کامطالعہ کرناچاہیئے۔ اس میں جماعت اسلامی کی علماء کمیٹی ، مولاناگوہررحمان اورعبدالوکیل علوی کی طرف سے اس نقطہ نظرکی حمایت کی گئی ہے۔
دوسرانقطہ نظر یہ ہے کہ عورت اورمرد کی دیت میں کوئی فرق نہیں۔ اس نقطہ کے تفصیلی دلائل جاننے کے لئے مولاناعمراحمد عثمانی کی کتاب ’’فقہ القرآن‘‘ جلدچاراورجلد چھ کامطالعہ ضروری ہے۔ علامہ طاہرالقادری نے بھی اس نقطہ نظرکی حمایت میں مضمون تحریرکیاہے۔
تیسرانقطہ نظریہ ہے کہ دیت کالفظ قرآن مجید میں اسم نکرہ (common noun) کی شکل میں آیاہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ اس کی کوئی مقدار شریعت نے طے نہیں کی۔ ارشاد ہے۔

ودیدمسلمۃ الیٰ اھلہ الاان یصدقو (سورۃ نساء 4 ،آیت 92کاحصہ)
’’ اور(غلطی سے قتل کرنے والے اس فرد پر) یہ لازم ہے کہ وہ مقتول کے وارثوں کوخون بہادے الایہ کہ وہ اسے معاف کردیں‘‘

اسی طرح قرآن مجید سییہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ دیت معاشرے کے دستور،رواج اوروقتی قانون یعنی معروف کے مطابق اداکیاجائے۔ ارشادہے:

فمن عفی لہ من اخیہ شی ءُ فاتباع بالمعروف واداالیہ باحسان (بقرہ 2 ،آیت 178)
’’پھرجس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ رعایت کی گئی تومعروف کے مطابق اس کی پیروی کی جائے اورجوکچھ بھی خون بہاہو وہ خوبی کے ساتھ اداکردیاجائے‘‘

درج بالاہدایت سے یہ بخوبی واضح ہوتاہے کہ دیت کی کوئی مقررہ مقدارنہیں ہے۔ یہ ریاست پرمنحصر ہے کہ وہ حالات کے لحاظ سے جوقانون سازی بھی کرناچاہے کرسکتی ہے۔
حضورؐ نے اپنے زمانے میں عرب کے سابقہ دستور کے مطابق دیت کونافذ کیا اوراس میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ حضورؐ نے اپنی طرف سے ایک مستقل دینی حکم کی حیثیت سے کوئی واضح فرمان جاری نہیں فرمایا۔اس طرح ہر زمانے میں ، وقت اورحالات کے لحاظ سے دیت کی مقدارمیں کمی بیشی ہوسکتی ہے۔ اس تیسرے نقطہ نظر پرتفصیلی بحث جاویداحمد غامدی کی کتاب ’’ حدودوتعزیرات‘‘ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ ہمیں اسی نقطہ نظرسے اتفاق ہے اس لئے کہ یہ قرآن مجید کے عین مطابق ہے۔ اس سے تمام احادیث اورتاریخی روایات کی تسلی بخش توجیہہ ہوجاتی ہے اوریہ بات انسانی ضمیر اورعقل عام کے عین مطابق ہے۔  

اسلام کاقانون وراثت:

اسلام کے وراثت پرعام طورپریہ اعتراض کیاجاتاہے کہ اس میں عورتوں کاحصہ مردوں سے آدھاہے۔ بے شک اسلام کاعام قانون یہی ہے تاہم اس میں چند پہلواگرمدنظر رہیں تومعلوم ہوجائیگا کہ یہ تقسیم بالکل انصاف پر مبنی ہے اورقدرتی ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ شادی کی صورت میں عورت ایک اضافی حصے یعنی مہرکی حق دارہوتی ہے جومرد کے مال میں اسے دیاجاتاہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ شادی کے بعد اپنی بیوی اوربچوں کے تمام اخراجات کی ذمہ داری مردپرہے اواس کے برعکس عورت پراپنے مال میں سے کسی خرچ کرنے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ حتی کہ شادی کے بعد اس کے تمام ذاتی اخراجات بھی مرد ہی کے ذمے ہوتے ہیں۔ اس بات کاتیسراپہلویہ ہے کہ قرآن مجید کی ہدایات کے مطابق بعض حالات میں جب کہ ترکہ زیادہ حصوں میں تقسیم ہورہاہو اوراندیشہ یہ ہوکہ عورت کے ذاتی اخراجات ، خصوصاً علاج معالجے کے اخراجات بڑھاپے کی وجہ سے ایک حد سے بڑھ جائیں گے وہاں عورت اورمرد کے حصے برابرہیں ۔ مثلاً سورۃ نسا4-،آیت 11 کے مطابق اگرایک صاحب اولاد شخص فوت ہوجائے تواس کے والد اوروالدہ دونوں کواس کے ترکے میں سے چھٹاحصہ ملے گا۔ ظاہرہے کہ اس صورت میں یہ دونوں یاتوبوڑھے ہونگے یابڑھاپے کے قریب ہونگے اوردونوں کی ذاتی ضروریات ، علاج معالجے کے اخراجات سمیت ، عام حالات سے زیادہ ہونگے۔ 
درج بالابحث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگرتمام پہلوؤں کومدنظررکھاجائے اورمردوعورت کے حقوق وفرائض کاخیال رکھاجائے تودونوں کے حصے درحقیقت مساوی ہیں۔


مسئلہ رضاعت:

اسلامی قانون کی روسے ماں کاگودانتہائی اہمیت کاحامل ہے۔ اس حد تک کہ اگرکوئی عورت کسی کی حقیقی ماں نہ ہولیکن وہ اس کی گود میں پرورش پائے ، اس کادودھ پیئے تووہ عورت اس فرد کے لئے ماں کی طرح ہوجاتی ہے۔ اس کے بچے اس فرد کے لئے روحانی بہن بھائیوں جیسے ہوجاتے ہیں اورایسی حالت میں اس مرد کے لئے اپنے ان روحانی بہن بھائیوں سے شادی کرنامنع ہے۔ گویا اس رشتے کواتناتقدس حاصل ہوگیاہے کہ اب اس کااحترام سب پرلازم ہے ۔اب اس خانون کاشوہر اس فرد کے لئے روحانی باپ کی مانند ہے۔
اس ضمن میں قانون کے اعتبار سے تین پہلوسمجھ لینے چاہیءں۔ایک یہ کہ اس رشتے میں وراثت منتقل نہیں ہوتی کیونکہ یہ درحقیقت ایک روحانی رشتہ ہے۔ دوسرایہ کہ اس فرد کے حقیقی بہن بھائیوں پراس رشتے کااطلاق نہیں ہوتا۔ اس لئے شادی بیاہ کے ضمن میں ان پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی۔ تیسرا پہلویہ ہے کہ قرآن مجید نے سورہ نساء 4-،آیت نمبر 23- ،میں اس بات کاذکرجن الفاظ میں کیاہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ رضاعت کارشتہ اسی وقت قائم ہوتاہے جب اس کے لئے باقاعدہ اہتمام ہو۔ یعنی اپنے حقیقی ماں باپ کا ارادہ اوران کی اجازت اوران کی نیت شامل ہو اور اس کے ساتھ ساتھ دوسری خاتون بھی باقاعدہ اس بچے یابچی کو اپنی رضاعی اولاد بنانے کے شعور کے ساتھ اس کودودھ پلائے اوریہ بھی کہ رضاعی ماں باپ کون ہیں تاکہ ان کے بچوں کو وہ اپنے بہن بھائیوں کی طرح سمجھے ۔ محض کسی اتفاقی واقعہ سے یاکسی روتے بچے کوچب کرانے کے لئے یاحقیقی ماں باپ کی اجازت واہتمام کے بغیریہ رشتہ قائم نہیں ہوتا۔ 


خواتین کاگھرسے باہرسفر:

یہ بات کہی جاتی ہے کہ عورت کے لئے گھرسے باہر اکیلے سفرکرنا ممنوع ہے۔ کیونکہ اس ضمن میں دوروایات موجود ہیں ۔ پہلی روایت کے مطابق حضورؐ نے ارشاد فرمایا:

’’ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایاعورت ایک دن رات کاسفرنہ کرے جب تک اس کے ساتھ کوئی محرم مرد نہ ہو‘‘ (ابوداؤد کتاب ا لمناسک )

دوسری روایت درج ذیل ہے:

’’ کسی عورت کے لئے جواللہ اوریوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ تین دن یااس سے زیادہ کاسفرکرے۔ بغیر اس کے کہ اس کے ساتھ اس کاباپ، بھائی، شوہر، بیٹا یاکوئی محرم مردہو‘‘ (صحیح مسلم کتاب الحج)

اس کے علاوہ مزید دوصحیح روایات بھی ہیں جن میں ایک روایت میں دودن رات کا ذکرہے اورایک روایت میں بریدیعنی آدھے کاذکرہے۔
درج بالاسب روایات میں مقدارسفرمیں اختلاف ہے۔ یہ بات ہم جانتے ہیں کہ دین بالکل واضح ہے اوراگرعورت کابغیرمحرم کے سفرممنوع ہوتا اوریہ دین کی ایک قطعی ہدایت ہوتی توپھرحضورؐ واضح طورپرایک ہی بات فرماتے ۔ مختلف اوقات میں مختلف ہدایات نہ دیتے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ اس کاتعلق وقتی حالات اورمصلحت سے تھا۔ حضورؐ کے زمانے میں جب کہ ابھی آپؐ کا اقتدارپورے جزیرہ نمائے عرب پرمستحکم نہیں ہوا تھا۔ عام طورپربدامنی تھی ۔ اسی بدامنی میں کسی عورت کااکیلے سفرکرناخطرے سے خالی نہیں تھا۔ واضح رہے کہ یہ سفربھی عام طورپرلق و دق صحرا ؤں میں اورآزادقبائل کے درمیان ہواکرتاتھا۔ چنانچہ یہ بات بالکل عقل وفطرت کے مطابق تھی کہ حضورؐ مسلمان عورتوں کی حفاظت اورعزت کی خاطریہ ہدایت دیتے تھے کہ وہ چوبیس گھنٹے سے زیادہ کاسفربغیرکسی قریبی عزیز کے نہ کریں ۔ معلوم ہوتاہے کہ جب بعد میں حالات زیادہ سازگار ہوگئے اوربدامنی کی وہ کیفیت نہ رہی تب حضورؐ نے اکیلے میں مزید لمبے سفرکی بھی اجازت دے دی۔ یہ بات کہ اس کاتعلق امن کی کیفیت سے ہے ،صحیح بخاری میں عدی بن حاتم کی روایت سے بھی ہمیں معلوم ہوتی ہے ۔ جس میں حضورؐ نے فرمایاکہ  
’’ بہت جلد امن کا ایسادوربھی آنے والاہے جب کجاوے میں ایک اکیلی خاتون حیرہ سے(بہت دوردراز علاقہ)کعبہ کے طواف کے لئے سفرکرے گی اورمکہ پہنچ کرکعبے کاطواف کرے گی مگراُسے سوائے اللہ کے خوف کے اورکوئی خوف نہ ہوگا۔( عدی کہتے ہیں کہ بعدمیں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ ایک اکیلی عورت حیرہ سے آتی ہے ، کعبہ کاطواف کرتی ہے اوراللہ کے سوا اس کوکسی کاڈرنہیں ہوتا) ۔‘‘ (صحیح بخاری کتاب المناقب حدیث نمبر3595)۔
  درج بالابحث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بغیرقریبی عزیزکے عورتوں کے سفرکامعاملہ وقتی حالات ، عقل عام اورمصلحتوں پرمبنی ہے۔ حالات جتنے بھی زیادہ خراب ہوں ، اتناہی ان کوکسی قریبی عزیز کے بغیرلمباسفرنہیں کرناچاہیئے اوراگرخطرے کی کوئی بات نہ ہوتوپھراس ضمن میں پابندی اسی تناسب سے کم ہوجاتی ہے۔گویاایک معاشرتی ہدایت ہے ۔ دین کے کسی قطعی اصول سے اس کاکوئی تعلق نہیں۔
انہی روایات کی بناپراس امت کے اہل علم کے درمیان یہ بحث ہے کہ کیاایک خاتون بغیرمحرم کے حج پرجاسکتی ہے یانہیں۔ اس ضمن میں امام مالکؒ اورامام شافعی ؒ کانقطہ نظر یہ ہے کہ اکیلی عورت ایسے لوگوں کے ساتھ حج کے سفرپرجاسکتی ہے جن کی اخلاقی حالت قابل اطمینان ہو۔ جب کہ امام ابن حزمؒ کانقطہ نظر یہ ہے کہ بے محرم عورت تنہابھی حج کے لئے جاسکتی ہے اوراگرمحرم موجود ہو مگروہ نہ جاسکتاہویانہ جاناچاہے ، تب بھی عورت کیلئے یہ جائز ہے کہ وہ اکیلی حج کے لئے چلی جائے ۔ ہمارے خیال میں حالات کے مطابق ان دونوں نقطہ ہائے نظرپرعمل کیاجاسکتاہے:


متعہ اوراسلام:

متعہ مردوعورت کے درمیان ایک ایسا وقتی جنسی رشتہ ہے جس میں ایک دوسرے پر میاں بیوی کے کوئی حقوق عائد نہیں ہوتے۔نہ وہ ایک دوسرے کے وارث ہوتے ہیں ۔ نہ ایسی عورت کے لئے عدت ہے نہ طلاق ہے ۔ اس کامطلب یہ ہے کہ مردنے کچھ پیسے دے کرایک عورت کوایک خاص مدت کے لئے جنسی طورپراستعمال کرلیا۔ گویایہ ایک قانونی قحبہ گری legalised prostitution)) ہے۔ کچھ مکاتیب فکر کے نزدیک اسلام میں یہ جائز ہے اوراپنے حق میں وہ اس ضمن میں صحیح بخاری اورصحیح مسلم کی کچھ روایات پیش کرتے ہیں۔ جن سے یہ معلوم ہوتاہے کہ حضورؐ اورحضرت ابوبکرؓ کے عہد میں متعہ پرعمل ہوتاتھا اوربالآخراسے حضرت عمرؓ نے اپنے وقت میں ممنوع قراردے دیا۔ گویایہ چیز ہے تواصلاًجائز مگرحضرت عمرؓ نے اپنے ایک انتظامیحکم کے ذریعے اسے ممنوع قرار دیا اور ظاہر ہے کہ انتظامی حکم تو بدل بھی سکتا ہے۔ چنانچہ یہ ضروری ہے کہ متعہ کو اسلام کی روشنی میں دیکھا جائے۔ کیونکہ اگر یہ چیز جائز ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اسلام میں یہ قحبہ گری جائز ہے۔ 
یہ بات واضح ہے کہ اسلام میں ہر چیز کے حق و باطل ہونے کا فیصلہ قرآن مجید کرتا ہے۔ یہی معیار ہے اور یہی سب سے بلند و برتر ہے۔ قرآن مجید اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ کسی مرد و عورت کے درمیان اگر کوئی جائز جنسی تعلق ہو سکتا ہے تو وہ صرف میاں بیوی کا ہے اور یا پھر اس عبوری دور میں جب کہ ابھی لونڈیاں موجود تھی ان سے بھی تعلقجائز تھا۔ یہ بات اتنی صاف اور مسلمہ تھی کہ اسلام کی ابتدائی دور میں نازل ہونے والی ایک سورت " المومنون" کی آیت نمبر 5-6میں یہ آیت نازل ہوگئی کہ صرف بیوی اور لونڈی سے جنسی تعلق جائز ہے۔ ارشاد ہے۔ 

" والذین ھم لفروجھم حفظون ۃ الا علی ازواجھم او ما ملکت ایمانھم فانھم غیر ملومین ۃ (المومنون 23 ۔ آیت 6-5)
" (یقیناً کامیاب ہوئے وہ اہل ایمان جو)اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ بجز اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے حد تک ، سو اس بارے میں ان کو کوئی ملامت نہیں"

اس کے بعد قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ اسلامی معاشرے میں چوری چھپے آشنائیاں کرنا ، آزاد شہوت رائی کرنا، اور خفیہ عہد و پیمان کرنا، یہ سب منع ہے۔ ارشاد ہے۔ 

ولاجناح علیکم فیماعرضتم بہ من خطبۃٍ النساء اواکننتم فی انفسکم علم اللہ انکم ستذکرونہن ولٰکن لاتواعدوہن سراً الاان تقولواقولامعروفاً 
" اور اس بات میں بھی کوئی گناہ نہیں اگر تم مرد ان بیوہ عورتوں کے ساتھ اُن کے زمانہ عدت میں نکاح کا ارادہ اشارے کنائے میں ظاہر کرو، خواہ دل میں چھپائے رکھو، اﷲ جانتا ہے کہ ان کا خیال تو تمہارے دل میں آئے گا ہی۔ مگر دیکھو خفیہ عہد و پیمان نہ کرنا۔ اگر کوئی بات کرنی ہےء تو معروف طریقہ سے کرو۔