باب پنجم

اسلامی قانون میں عورت کی حیثیت کے حوالے سے چند امور بہت اہم ہیں۔ ان میں سب سے پہلا مسئلہ عورت کی گواہی سے متعلق ہے۔ عام نقطۂ نظر یہ ہے کہ اسلام میں عورتوں اور مردوں کی گواہی میں فرق ہے۔ یعنی دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابرہے اور حدود یعنی قتل، ڈاکہ ، چوری اور زنا کے معاملات میں عورت کی گواہی سرے سے ہی معتبر نہیں۔ مناسب ہے کہ اس نقطۂ نظر کے دلائل کو پیش کرکے پھر اس کا تجزیہ کیا جائے۔ اس نقطۂ نظر کے حامیوں کی دلیل یہ ہے کہ سورۃ بقرہ میں قرض کے لین دین کی دستاویز لکھنے کے بارے میں قرآن مجید نے یہ ہدایت دی ہے کہ " اس پر اپنے مردوں میں سے دو آدمیوں کی گواہی لو اور اگر دو مرد نہ ہو تو ایک مرداور دو عورتیں گواہ بنالو۔ دو عورتیں اس لئے کہ اگر ایک الجھے تو دوسری اسے یاد دلا دے۔ یہ گواہ ایسے لوگوں میں سے ہونے چاہییں جن کی گواہی تمہارے درمیان مقبول ہو" ) بقرہ 2 ۔ آیت 282 کا ایک حصہ( ۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اصلاً عورتوں کی کسی بھی معاملے میں گواہی مردوں کے مقابلے میں نصف ہے۔ نیز صحیح بخاری کتاب الحیض کی ایک روایت سے بھی اس پر روشنی پڑتی ہے۔ جس میں عورتوں کو " ناقصات عقل و دین" قرار دیا گیا ہے۔ اس روایت کا متعلقہ حصہ درج ذیل ہے۔

" قلن: وما نقصان دیننا و مصلنا یا رسول اﷲ؟ قال الیس شھادۃ المراۃ مثل نصف شھادۃ الرجل؟ قلن: بلٰی۔ قال فذالک من نقصان عقلھا۔ الیس اذا حا ضت لم تصل ولم تصم؟ قلن: بلٰی۔ قال فذالک من نقصان دینھا۔ (صحیح بخاری۔ کتاب الحیض)
ترجمہ: عورتوں نے پوچھا۔ یا رسول اﷲ ہمارے دین اور عقل میں کیا نقص ہے؟ آپ ؐ نے فرمایا؂۔ کیا عورت کی شہادت مرد کے مقابلے میں آدھی نہیں ہے۔ عورتوں نے کہا ۔ ہاں ایسا ہی ہے۔ آپؐ نے فرمایا۔ یہ اس کے عقل میں نقص کی دلیل ہے۔ کیا ایسانہیں ہے کہ حیض کے دنوں میں عورتوں کو نماز اور روزہ چھوڑنا ہوتا ہے؟ عورتوں نے کہا۔ جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا۔ یہ اس کے دین میں نقص ہے۔

درج بالا دو دلائل کے بعد اس نقطۂ نظر کے حامیوں کا کہنا یہ ہے کہ چونکہ حدود یعنی بڑے جرائم کا معاملہ بہت ہی حساس ہے، اور ان کے معاملے میں کوئی کمزوری بھی برداشت نہیں کی جانی چاہئیے۔ اس لئے حدود کے معاملات میں عورت کی گواہی کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ 
درج بالا موقف کے مقابلے میں ایک دوسرا نقطۂ نظر بھی ہے۔ اس نقطۂ نظر کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام کے مطابق مرد و عورت میں عقل و دین کے اعتبار سے اصلاً کوئی فرق نہیں ۔ دونوں کے حقوق و فرائض آپس میں ہم مرتبہ و ہم پلہ ہیں۔ سورۃ بقرہ کی متعلقہ آیت کی ہدایت کی اصل روح یہ ہے کہ جس معاملے میں بھی کسی فریق کو عام طور پر زیادہ سروکار نہ ہو وہاں اس کے ساتھ بطور مددگار مزید گواہ بھی مقرر کردئے جائیں۔ نیز اس آیت کا تعلق صرف دستاویزی شہادت سے ہے۔ کسی واقعے یا جرم کے متعلق شہادت کا اس سے کوئی سروکار ہی نہیں ۔ باقی رہی جہاں تک حدیث کی بات تو اس واقعہ سے متعلق مزید تمام ر روایات کا مطالعہ کرنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اصل معاملہ شاید یوں نہ تھا جیسا اس روایت میں بیان کیا گیا۔ یہ روایت درایت (یعنی عقل و فہم) پر بھی پوری نہیں اترتی ۔ نیز یہ کہ عربی کے لفظ" نقص" کا مطلب صرف خامی یا کمزوری کے نہیں ہوتے بلکہ اس کا مطلب " رعایت دینا اور تخفیف کرنا" بھی ہے اور اگر یہ روایت صحیح ہوتو اس میں لفظ "نقص" کے یہی معنی ہیں۔
اب ہم یہ دلائل تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے۔
1۔ جہاں تک اس حقیقت کا تعلق ہے کہ مرد و عورت کے دین میں اسلامی اعتبار سے کوئی فرق نہیں اس کی واضح دلیل قرآن مجید کی درج ذیل آیات ہیں۔ چونکہ یہ آیات اس کتاب میں پہلے بھی آئی ہیں ۔ اس لئے صرف ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔

" مسلمان مرد اور مسلمان عورتین ، مومن مرد اور مون عورتیں، فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں ، راست باز مردا ور راست باز عورتیں، صابر مرد اور صابر عورتیں ، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجز کرنے والی عورتیں، صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں، روزے رکھنے والے مرداور روزہ رکھنے والی عورتیں، اپنی عصمت کی حفاظت کرنے والے مردا ور اپنی عصمت کی حفاظت کرنے والی عورتیں ، اﷲ کو یاد کرنے والے مرد اور اﷲ کو یاد کرنے والی عورتیں، یقیناًان سب کے لئے اﷲ نے مغفرت اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے " (احزاب 33۔ آیت 35 ) 

آگے ارشاد ہے۔

" میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں۔ خواہ وہ مرد ہو یا عورت ۔ تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو۔ (آل عمران 3 ۔ آیت 195)

آگے ارشاد ہے۔

" مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے دوست( اور مددگارو معاون)ہیں۔ بھلائی کی تلقین کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہیں جن پر اﷲ کی رحمت نازل ہو کر رہے گی۔ یقیناًاﷲ سب پرغالب اور حکیم و دانا ہے" (توبہ9۔ آیت 71 )

2 ۔ جہاں تک شہادت کے احکام کا تعلق ہے۔ یہ احکام قرآن مجید میں آٹھ مقامات پر آئے ہیں۔ ان میں سے سات مقامات میں عورت و مرد کی کئی تخصیص نہیں۔ یہ سات مقامات درج ذیل ہیں۔
سورۃنساء 4 ۔ آیت 6 ، سورۃ نساء 4 ۔ آیت 15 ، سورۃ مائدہ5 ۔ آیت 106 ، سورۃمائدہ 5 ۔ آیت 107 ، سورۃنور 24 ۔ آیت 4،سورۃنور24 ۔ آیت 6-9 ، سورۃطلاق65 ۔ آیت 2 
واضح رہے کہ یہ معاملات جن میں مرد و عورت کے درمیان گواہی میں کوئی فرق نہیں، انتہائی سنجیدہ معاملات ہیں۔ تاہم صرف ایک مقام یعنی سورۃ بقرہ 2 ۔ آیت 282 میں ایک خاص معاملے میں مرد وعورت کے درمیان فرق کیا گیا ہے اور یہ معاملہ درج بالا معاملوں کے مقابلے میں اتنی زیادہ اہمیت کا حامل نہیں۔ چنانچہ ہمیں یہ سوچنا ہے کہ اس خاص معاملے میں وہ کیا بات پوشید ہ ہے جس کی وجہ سے یہاں عام ڈگر سے ہٹ کر ایک مختلف قانون بیان کیا گیا ہے۔
سورۃ بقرہ 2 کی آیت 282 بنیادی طور پر اس معاملے سے بحث کرتی ہے کہ جب سوسائٹی کے اند دو افراد آپس میں قرض کا لین دین کریں تو اس کی دستاویزلکھ لینی چاہیئے۔ قرض ادا کرنے والا دستاویز لکھوائے۔ جس تعلیم یافتہ فرد کویہدستاویز لکھنے کے لئے درخواست کی جائے۔ وہ لکھنے سے انکار نہ کرے ۔ دستاویز پر دو مرد گواہ بنا لئے جائیں۔ یہ گواہ قریبی ، پسندیدہ اور قابل اعتماد ہونے چاہئیں اور اگر دو مرد موجود نہ ہوبلکہ ایک ہی مرد موجود ہو تو اس ایک مرد کے ساتھ ساتھ دو عورتوں کی گواہی بھی لے لی جائے۔ تاکہ اگر ایک عورت الجھن میں پڑ جائے تو دوسری اسے یاد دلادے۔ 
اصل وجہ یہ ہے کہ حضور ؐ کے زما نے میں عورتیں عام طور پر قرض کے لین دین سے دور رہتی تھیں۔ جو انسان جس معاملے سے جتنا لاتعلق ہو اس خاص معاملے میں اس کے بھولنے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔ مثلاً ہمارے پاکستانی معاشرے میں باورچی خانے کا کام عام طور پر خواتین سر انجام دیتی ہیں اور مرد اس سے لا تعلق ہوتے ہیں۔ اگر ایک دن کے لیے کسی مرد سے سالن پکانے کو کہا جائے تو یقیناًوہ یہ بھول جائے گا کہ نمک، مصالحہ، ٹماٹر اور گھی کب ڈالنا ہے اور کتنی مقدار میں ڈالنا ہے۔ اگر اس کے ساتھ یاد دلانے کے لئے دوسرا مرد موجود ہو تو دونوں مل کر ایک دوسرے کو یاد دلاتے رہیں گے۔ چنانچہ اگر کبھی ہماری عورتیں باہر جاتے وقت باورچی خانہ کسی مرد کے حوالے کریں تو بہتر یہ ہے کہ وہ ایک مرد کی بجائے دو مردوں کے حوالے کریں۔
بالکل یہی معاملہ اُس وقت کے معاشرے میں قرض کے لین دین سے متعلق تھا۔ چنانچہ یہ بہت مناسب تھا کہ اگر ایسی کسی دستاویز پر عورت کی شہادت کی ضرورت ہو تو ایک کے بجائے دو عورتیں اس پر دستخط کریں۔ 
اس ضمن میں دوسری بات یہ ہے کہ اسلام عورتوں کو زیادہ سے زیادہ رخصت دینا چاہتا ہے۔ وہ یہ نہیں چاہتا کہ اگر ایسے معاملات میں کوئی تنازعہ پیدا ہو جائے تو عورتوں کو عدالتوں میں گھسیٹا جائے اور وہ سارا سارا دن عدالتوں اور وکیلوں کی جرح کا سامنا کرتی رہیں۔ یہ کوئی اعزاز اور فخر کی بات تو نہیں بلکہ ایک تلخ اور ناگوار ذمہ داری ہے۔ اس لئے ایسی دستاویزوں پر بنیادی طور پر مردوں کو ہی گواہ بنانا چاہیے تاکہ عورتوں کو ناگوار کاموں کے بوجھ سے حتیٰ الوسع بچایا جا سکے۔ 
اس آیت کی وضاحت کے ضمن میں تیسرا اہم پہلو یہ ہے کہ یہ آیت صرف دستاویزی شہادت (Documentry Evidence) سے متعلق ہے۔ اس کا واقعاتی شہادت (Circumstantial Evidence) سے کوئی تعلق نہیں ۔ کوئی واقعہ یا کوئی جرم کسی سے پوچھ کر تو نہیں ہوتا۔ ممکن ہو اس وقت وہاں مر د ہوں۔ عورتیں ہوں ۔بچے ہوں ۔ویڈیو کیمرہ ہویا صرف آثار و قرائن مثلاً فنگر پرنٹس یا خون کے دھبے ہوں۔ لہذا کسی بھی واقعہ یا جرم سے متعلق عدالتی کارروائی میں ان سب چیزوں سے مدد لینی پڑ یگی۔ گویا حدود سے اس آیت کا کوئی تعلق نہیں۔ 
چوتھی بات یہ ہے کہ یہ آیت خواتین کو ایک غیر معمولی رعایت دیتی ہے۔ انصاف و قانون کا عام طریقہ یہ ہے کہ اگر ایک گواہ اپنے بیان میں الجھ جائے یا کچھ چیزیں بھول جائے تو اس کی گواہی نہایت کمزور تصور کی جاتی ہے اور گواہی کے دوران میں اسے کسی اور گواہ سے مدد لینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس اسلام نے خواتین کو یہ رعایت دی ہے کہ اگر وہ عدالت کے سامنے کنفیوز ہو جائے تو وہ دوسری گواہ سے بھی مشورہ کر سکتی ہے۔ خواتین کی عزت و وقا ر کو اسلام یقیناًبہت زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ 
3۔ جہاں تک بخاری کی روایت کا تعلق ہے اس ضمن میں یہ مسلمہ اصول ہے کہ ہر صحیح روایت کو بھی اپنے جیسی دوسری روایات اور عقل و فہم (یعنی درایت) کی روشنی میں دیکھا جائے۔ صحیح بخاری کا یہی واقعہ مستند راویوں کے واسطے سے مسند احمد بن حنبل میں بھی نقل ہو ا ہے۔ اس روایت کے مطابق یہ مکالمہ حضورؐ اور عام عورتوں کے درمیا ن نہیں ہوا۔ بلکہ حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ کی اہلیہ حضورؐ کے پاس گئی اور حضورؐ نے اکیلے میں ان سے یہ گفتگو کی۔ یہی واقعہ مستند راویوں کے واسطے سے سنن دارمی میں بھی نقل ہوا ہے اور اس روایت کے مطابق یہ مکالمہ حضورؐ اور عورتوں کے درمیان نہیں ہوا بلکہ یہ دراصل حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ کا قول ہے۔ اس تفصیل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حتمی طور پر یہ کہنا ممکن نہیں کہ آیا حضورؐ نے یونہی فرمایا تھا یا یہ آپؐ کا قول نہیں تھا۔ 
اسی روایت کو اگر درایت کی روشنی میں دیکھا جائے۔ (درایت ایک اصطلاح ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ کسی روایت کا تجزیہ کرتے وقت عقل و فہم ، عقل عام اور دوسرے ذرائع استعمال کرنا) تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسی بات حضورؐ فرما ہی نہیں سکتے۔ اس کی اصولی وجہ یہ ہے کہ سبب سے نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ نتیجے سے کبھی سبب برآمد نہیں ہوتا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ یہ فقرہ صحیح ہے کہ " فلاں لڑکا نالائق تھا اس لئے امتحان میں فیل ہوگیا" مگریہ فقرہ صحیح نہیں کہ" فلاں لڑکا فیل ہوگیا۔ اس لئے وہ نالائق ثابت ہوا" یہ فقرہ ال کی روشنی میں اس روایت کے اندر دلیل کو دیکھئے۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ چونکہعورتوں کی س لئے صحیح نہیں کہ فیل ہونے کی نالائقی کے علاوہ اور بھی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔
اب اس اصوگواہی آدھی ہے۔ اس لئے ان کی عقل میں نقص ہے۔ یہ دلیل ہی صحیح نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ نتیجے سے سبب کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ صحیح دلیل تو تب ہوتی جب یہ بتا دیا جاتا کہ فلاں فلاں دلائل کی رو سے یہ بات مسلمہ ہے کہ عورت کی عقل میں نقص ہے اس لئے اسلام نے یہ قاعدہ بنایا ہے کہ عورت کی گواہی آدھی رکھی جائے۔ ظاہر ہے کہ ایسی کوئی خارجی دلیل اس دنیا میں موجود نہیں ۔ دنیا کے تمام تجربات اس بات پر متفق ہیں کہ علم اور یادداشت کے معاملے میں مرد و عورت میں عمومی طور کوئی فرق نہیں۔
یہ روایت یہ بھی بتاتی ہے کہ چونکہ ایام حیض کے دوران میں عورت نماز و روزہ چھوڑتی ہیں اس لئے اس کا دین آدھا ہے۔ یہ دلیل بھی صحیح نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ بھی نتیجے سے سبب کو ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ صحیح طریقہ تو یہ ہوتا جب یہ بتایا جاتا کہ قرآن مجیدکی رو سے عورت کے عقائد ، ذمہ داریاں اور جرائم سب چیزیں آدھی ہیں۔ اس لئے اس کی نماز و روزہ بھی آدھا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ مرد وعورت کا عقیدہ بھی بالکل برابر، زکوٰۃ و حج بھی دونوں پر لازم ، جرائم کی سزا بھی دونوں کے لئے برابر ۔ گویا اصلاً ہر چیز میں دونوں برابر۔ اب ذرا نماز اور روزے کا تجزیہ کرکے بھی دیکھ لیتے ہیں کہ ان کی اصل صورت حال کیا ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ ایک خاتون کو عام طور پر مہینے میں سات دن ماہواری آتی ہے۔ یعنی ایک چوتھائی دنوں میں وہ نمازنہیں پڑھتی اور باقی تین چوتھائی دنوں میں اسے بھی نماز پڑھنی ہے۔ یہ آدھا تو نہ ہوا۔ پھر یہ کہ ایک خاص عمر کے بعد اسے ماہواری نہیں آتی۔ تب تو وہ مردوں کے بالکل برابر نماز پڑھتی ہے۔ تب تو ذمہ داریاں بالکل پوری ہو گئیں۔ تیسری بات یہ کہ ماہواری کے ایام میں نماز نہ پڑھنے کاحکم پروردگارہی کا دیا ہوا ہے۔ لہذا اس وقت میں ایک ماہواری والی عورت نماز نہ پڑھ کر خدا کا حکم پورا کر کے ایسا ہی اجر کماتی ہے جیسے دوسری خواتین نماز پڑھ کر، خدا کا حکم پورا کرکے کماتی ہیں۔ جہاں تک روزے کی بات ہے تو اس ضمن میں حقیقی صورت حال یہ ہے کہ ماہواری کے دوران میں جتنے روزے چھوٹ جائیں، ان کا بعد میں رکھنا لازم ہوتا ہے۔ گویا سب عورتیں مردوں کے بالکل برابر روزے رکھتی ہیں۔ پھر آدھا دین کہاں سے ہوگیا۔
درج بالا بحث سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ درایت کے اعتبار سے اس روایت پر ایسے سوالات وارد ہوتے ہیں جو اس روایت کو بہت کمزور بنا دیتے ہیں۔
اس روایت کے ضمن میں ایک تیسری بات بھی قابل توجہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس میں "نقص" کا جو لفظ آیا ہے بے شک یہ اردو میں خامی اور کمزوری کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن عربی زبان میں اس سے مراد " رعایت دینا اور تخفیف کرنا" بھی ہیں۔ اگر اس حدیث میں یہ مفہوم رکھ دیا جائے تو پھر اس روایت کے سمجھنے میں کوئی مشکل باقی نہیں رہتی۔ اس صورت میں اس روایت کا مطلب یہ بنے گا کہ عورتوں کو عدالت میں گواہی کے معاملے میں بھی رعایت دی گئی ہے اور دین کے بعض معاملات میں بھی ان کے لئے تخفیف کر دی گئی ہے۔ 
4۔ حضورؐ کی زندگی اور صحابہ کرامؓ کے زمانے کے بعض مصدقہ واقعات ایسے موجود ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ نے تنہا ایک عورت کی شہادت پر بھی حدود کے معاملے میں سزا دی ہے۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق ایک لڑکی کو ایک شخص نے قتل کردیا۔ اس لڑکی کو حالت نزع میں حضورؐ کے سامنے لایا گیا۔ اس کی نشاندھی پر قاتل کو پکڑ کر سزا دی گئی۔ 
اس طرح خلیفہ ثالث حضرت عثمانؓ بن عفان کی شہادت کی واحد عینی شاہد ان کی اہلیہ حضرت نائلہؓ تھیں اور اسی بنیاد پر حضرت عائشہؓ اور بہت سے کبار صحابہ نے قصاص کا مطالبہ کیا تھا۔
درج بالا بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جس سوسائٹی میں جس معاملے سے عورتوں کو عام طور پر سروکار نہیں ہوتا۔ ان معاملات میں دستاویزی شہادت کے ضمن میں عورتوں کو یہ رعایت اسلام کی طرف سے ملی ہے کہ عدالت میں ان کے الجھنے کی صورت میں وہ اپنے ساتھ مدد کے لئے ایک اور خاتون گواہ کو بھی شامل کریں گی۔ اس مخصوص حالت کے علاوہ مرد و عورت کی گواہی میں کوئی فرق نہیں۔  

اسلام کا قانون قذف:

اسلام خواتین کی عزت اور وقار کے معاملے میں نہایت حساس ہے۔ اس حد تک کہ قرآن مجید کے نزدیک شریف پاک دامن خواتین پر زنا کی تہمت لگانا بہت بڑا گناہ ہے اور اگر کوئی فرد کسی پاک دامن شریف عورت پر یہ تہمت لگاتا ہے تو اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اس کے ثبوت میں چار چشم دید گواہ پیش کرے اور اگر وہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اس کی سزا یہ ہے کہ اسے اسی(80) کوڑے مارے جائیں اور اسے ہمیشہ کے لئے ساقط الشہادت قرار دیا جائے یعنی آئندہ اس کی گواہی کسی بھی معاملے میں کبھی قبول نہ کی جائے۔ ارشاد ہے۔

ان الذین یرمون المحصنٰت الغٰفلٰت المؤمنٰت لعنوافی الدنیاوالاخرۃ ولھم عذاب عظیم۔یوم تشھدوعلیھم السنتھم وایدیہم وارجلہم بماکانویعلمون۔(سورۃ نور24 ۔ آیات 23، 24)
" بے شک جو لوگ پاک دامن ، بھولی بھالی با ایمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں۔ ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہوئی اور ان کے لئے ایک بڑا عذاب ہے۔ اس دن جس دن ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے سامنے ان کے اعمال کی گواہی دیں گے"

مزید ارشاد ہے۔

والذین یرمون المحصنٰت ثمَّ لم یاُتواربعۃشہدآء فاجلدوہم ثمٰنین جلدۃً ولاتقبلوالہم شہادۃً ابداً والئک ہم الفٰسقون۔(سورۃ نور24۔ آیت4)
" اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں۔ پھر چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اسی(80) کوڑے مارو اور ان کی کوئی گواہی کبھی قبول نہ کرو۔ یہی لوگ اصلی فاسق ہیں۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ " محصنٰت" یعنی پاک دامن عورتوں پر زنا کا الزام ثابت کرنے کے لئے اسلام نے چار چشم دید گواہوں کی اتنی کڑی شرط کیوں لگائی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایک شریف عورت (اور ایک شریف مرد) سے نفسانی خواہش کے تحت کوئی لغزش بھی ہوئی ہے تو مناسب یہ ہے کہ اس پر پردہ ڈال دیا جائے۔اور اسے معاشرے میں رسوا نہ کیا جائے۔ بلکہ اسے ماورائے عدالت سمجھا دیا جائیکہ وہ آئند ہ ایسے کاموں سے باز رہے توقع یہی ہے کہ وہ آئندہ کے لئے محتاط ہو جائے گا۔ سوسائٹی کے لے بلحاظ مجموعی یہی بہتر ہے۔ تاہم یہ بات یاد رکھنی چاہئیے کہ یہ شرط صرف ان لوگوں کے لئے ہے جن کی حیثیت عرفی بالکل مسلم ہو۔ جن لوگوں کی شہرت عام طور پر بدچلنی کی ہو، ان کے لئے یہ شرط نہیں ہے۔ ان کے جرم کو ثابت کرنے کے لئے ہر طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ 


اسلام کا قانون سزائے زنا:

یہ بات واضح ہے کہ اسلام کی رو سے زنا ایک بڑا جرم ہے۔ اس کی سزا کے ضمن میں چند سوالات پیدا ہوتے ہیں ۔ 
* زنا کا جرم اگر اپنی سادہ شکل میں سرزد ہو تو اس کی کیا سزا ہے؟ اور یہ جرم کیسے ثابت ہوتا ہے۔؟
* کیا زنا کے بعض مجرموں کے ساتھ مخصوص حالات میں رعایت بھی کی جاسکتی ہے؟
* اگر کوئی فرد کسی کو یہ جرم کرتا ہو ا دیکھے تو کیا یہ ضروری ہے کہ اس کی خبر حکومت تک پہنچائے؟
* شادی شدہ زانیوں کی کیا سزا ہے؟
* گینگ ریپ ، زنا بالجبر اور قحبہ گری کی کیا سزا ہے؟ اور یہ جرم کیسے ثابت ہوتا ہے؟
* اگر گینگ ریپ یا زنا بالجبر میں متاثرہ خاتوں کے سوا کوئی گواہ نہ ہو تو کیس کیسے ثابت ہوگا ؟ اور اگر کیس ثابت نہ ہوسکا تو کیا خاتون قذف کی مجرم 
ٹھہرے گی؟
* اگر ایک عورت کو حمل ٹھہر جائے اور وہ زنا بالجبر کا دعویٰ دائر کرے اور وہ دعویٰ عدالت کے اطمینان کے مطابق ثابت نہ کر سکے تو کیا اس عورت 
پر زنا کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا؟
* اگر عدالت کے سامنے زنا کا کوئی مقدمہ پیش ہو اور مقدمہ ثابت نہ ہو سکے تو کیا عدالت اپنے اختیارات کے تحت مدعیوں کو ساقط الشہادت 
قرار دے گی یا اس کے متاثرہ فریق کو نیا مقدمہ دائر کرنا پڑے گا۔

ہم ایک ایک کر کے درج بالا سوالات کو لیں گے۔
پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ پروردگار نے سورۃ نور میں یہ احکام نازل فرمائے ہیں اور سورۃ کے آغاز میں ہی یہ فرمادیا ہے کہ اس کے احکام اور اس کی آیات بالکل واضح ہیں۔ ارشاد ہے۔

سورۃ انزلنٰہا وفرضنٰہا وانزلنافیہآ اٰیٰتٍ بینت لعلکم تذکرون۔ (سورۃ نور24 ۔ آیت 1 )
" یہ ایک اہم سورۃ ہے۔ جس کو ہم نے نازل کیا ہے اور اس کے احکام ہم نے فرض ٹھہرائے ہیں اور اس میں ہم نے صاف صاف ہدایات نازل کی ہیں۔ تاکہ تم اچھی طرح یاد رکھو"

اس کے بعد آگے زنا کی سزا بیا ن کی گئی ہے۔ ارشاد ہے۔

الزانیۃ والزانی فاجلدو کل واحدٍ منہما ماءۃ جلدۃٍ ولاتاخذوکم بہمارافۃ فی دین اللہ ان کنتم تومنون باللہ والیوم الاٰخر ولیشہدو عذابہما طآئفۃٍ من المؤمنین۔الزانی لاینکح الا زانیۃً اومشرکۃً والزانیۃ لاینکحہا الازان اومشرک وحرم ذٰلک علی المومنین۔(نور24۔ آیات2،3)
" زانی عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو اور خدا کے قانون کی تنفیذ کے معاملے میں ان کے ساتھ کوئی نرمی تمہیں دامن گیر نہ ہونے پائے۔ اگر تم ایک اﷲ اور روز آخر پر سچا ایمان رکھتے ہو اور چاہئیے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ موجود رہے۔ یہ زانی نکاح نہ کرنے پائے مگر زانیہ اور مشرکہ کے ساتھ اور اس زانیہ کے ساتھ نکاح نہ کرے مگر کوئی زانی یا مشرک۔ اہل ایمان پر یہ بہر حال حرام ٹھہرایا گیا ہے"

جہاں تک اس جرم کے ثبوت کا تعلق ہے تو ایسا الزام دو قسم کے لوگوں پر لگایا جا سکتا ہے۔ ایک وہ لوگ جو معاشرے میں انتہائی شریف اور باکردار انسانوں کی حیثیت سے مشہور ہوں۔ ایسے لوگوں کے ضمن میں قرآن مجید کی ہدایت یہ ہے کہ ایسے لوگوں پر صرف اسی وقت کوئی الزام لگایا جائے۔ جب اس کے ثبوت کے لئے چار چشم دید گواہ موجود ہوں۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جن کے رہن سہن ، پیشہ اور دوسرے حالات سے یہ اندازہ لگانے کی قوی وجہ موجود ہو کہ ان سے ایسا فعل سرزد ہو سکتا ہے ۔ایسے لوگوں کے ضمن میں یہ جرم ان سب طریقوں سے ثابت ہو سکتا ہے جو عقل کا تقاضہ ہو، مثلاً حالات ، قرائن، طبی معائنہ، پوسٹ مارٹم، انگلیوں کے نشانات ، گواہوں کی شہادت غرض یہ کہ وہ سب شواہد جن سے کوئی جرم کسی بھی عدالت میں ثابت ہو سکتا ہے۔ حضور ؐ نے ارشاد فرمایا: " دلیل پیش کرنا مدعی کی ذمہ داری ہے اور قسم وہ کھائے گا جو اس دعویٰ کا انکار کرے"(ترمذی۔ کتاب الاحکام)
دوسرے سوال یعنی یہ کہ " زنا کے بعض مجرموں کے ساتھ مخصوص حالات میں رعایت بھی کی جاسکتی ہے؟۔ " اس کا جواب یہ ہے کہ اس سزا کے بیان میں قرآن مجید نے صفت کا صیغہ استعمال کیا ہے یعنی الزانی و الزانیہ۔ اس وجہ سے یہ سزا بھی اس جرم کی انتہائی سزا ہے اور صرف انہی مجرموں کو دی جائے گی جن سے جرم بالکل آخری صورت میں سرزد ہو جائے اور اپنے حالات کے لحاظ سے وہ کسی رعایت کے مستحق نہ ہوں ۔ چنانچہ پاگل، بدھو، مجبور اور جرم سے بچنے کیلئے ضروری حفاظت سے محروم لوگ اس سزا سے مستثنٰی ہیں ۔ ان کو بھی یقیناًسزا دی جانی چاہیئے مگر انتہائی سزا سے کم تر۔
قرآن مجید نے ان عورتوں کے بارے میں جن کے مالک انہیں پیشہ کرنے پر مجبور کرتے تھے۔ فرمایا ہے:

" ومن یکرھھن، فان اﷲ من بعد اکراھھن غفوررحیم۔"(سورۃنور24 ۔آیت 33)
" اور جو لوگ ایسی عورتوں کو قحبہ گری کے پیشے پر مجبور کریں گے تو اس جبر کے بعد اﷲ ایسی عورتوں کیلئے غفور و رحیم ہے"