قائدین کی مذکورہ بالا بحث میں ہم نے یہ دیکھا کہ وہ قومی زندگی میں کتنا غیر معمولی کردار ادا کرتے ہیں۔اسی بنا پرتاریخ میں قائدین کا تذکرہ نمایاں الفاظ میں درج ہوتا ہے ۔تاہم وہ تنہا قومی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتے ، جب تک کہ قوم کی اشرافیہ ان کا ساتھ نہ دے۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اکثر حالات میں اشرافیہ ہی سے کسی قوم کی قیادت جنم لیتی ہے ۔یہی ایک بات قومی زندگی میں اشرافیہ کی اہمیت کی عکاس ہے۔
جیسا کہ ہم نے اس بحث کے شروع میں بیان کیا تھا کہ اشرافیہ کا گروہ وہ لوگ تشکیل دیتے ہیں جنھیں مال و اقتدار کے حصول کے مواقع اور صلاحیتیں خدا نے عام لوگوں سے زیادہ دی ہوتی ہیں۔چنانچہ اکثر ان لوگوں کے لیے معاش کی وہ جدو جہد جو دوسروں کی آخری توانائیاں تک نچوڑ لیتی ہے ، بہت بڑا مسئلہ نہیں بن پاتی۔ سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہونے والے اور ذاتی مشکلات سے محفوظ رہنے والے ہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو اجتماعی معاملات میں دخل اندازی کرتے ہیں۔ ان کے پاس نہ صرف اس کام کے لیے درکار وقت اور پیسا وافر مقدار میں ہوتا ہے ، بلکہ یہ ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے بھی بہت ضروری ہوتا ہے۔اس طرح وہ حکومت اور حکمرانوں سے قریب رہتے ہیں اوراقتدار کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
زمانۂ قدیم میں اشرافیہ نواب، امرا، رؤسا، جاگیر دار، فوجی سردار اور سیاسی اثر و نفوذ رکھنے والے خاندانوں کی صورت میں موجود تھی ۔عصر حاضر میں ان پرانی شکلوں کے علاوہ یہ لوگ صنعتی اور تجارتی اداروں کے مالکان ، انھیں چلانے والے باصلاحیت افراد اوردیگر منفعت بخش پیشوں سے وابستہ لوگوں کے روپ میں معاشرے میں موجود ہوتے ہیں۔یہ اپنی تعداد کے اعتبار سے معاشرہ کا ایک بہت قلیل حصہ ہوتے ہیں ، لیکن اجتماعی وسائل کے بیش تر حصہ پر ان کا قبضہ ہوتا ہے۔اس بنا پر ایک طرف تو حکمران اس بات پر مجبور ہوتے ہیں کہ ان لوگوں کا تعاون حاصل کریں، دوسری طرف عوام الناس پر بھی ان کا گہرا اثر ورسوخ ہوتا ہے،کیونکہ اپنے نان شبینہ کے لیے وہ زیادہ تر ان کے قائم کردہ اداروں ہی کے محتاج ہوتے ہیں۔تاہم دور حاضر میں جمہوریت ، انسانی حقوق اور مساوات کے نعروں اور آزادی فکر ،میڈیا اور تعلیم کے فروغ کی بنا پر عوام الناس کو غیر معمولی قوت حاصل ہوئی ہے۔ اس بنا پروسائل و اقتدار پر قابض اشرافیہ کو اب قومی زندگی میں وہ فیصلہ کن قوت حاصل نہیں رہی، جیسا کہ ماضی میں ا نھیں حاصل تھی۔بلکہ وہ دیگر گروہ جو عوام الناس کو متاثر کرنے کی اہلیت یا مواقع رکھتے ہیں ، وہ بھی بہت طاقت ور ہوگئے ہیں اور اپنی اسی طاقت کی بنا پر اشرافیہ میں شمار کیے جانے کے قابل ہیں۔ان میں اہل قلم، پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا سے وابستہ افراد اور دیگر علوم و فنون میں مہارت رکھنے والے وہ ممتاز افراد شامل ہیں جن کو عوام میں پذیرائی حاصل ہوجاتی ہے۔
چنانچہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دور حاضر میں اشرافیہ ایک ایسے باصلاحیت گروہ کا نام ہے جسے قدرت نے وسائل، اقتدار اور عوام میں نفوذ کے غیر معمولی مواقع اور صلاحیتیں عطا کی ہوتی ہیں۔معاشرے کے وہ تمام باصلاحیت لوگ جنھیں مواقع ملتے چلے جائیں ، اشرافیہ کے اس گروہ میں شامل ہوجاتے ہیں۔ تاہم اشرافیہ کی ہیئت ترکیبی میں فرق پڑنے سے اس حقیقت میں کوئی فرق نہیں پڑا کہ آج بھی کسی قوم کی قیادت اور سیادت مجموعی طور پر انھی کے پاس ہوتی ہے۔ عوام الناس آج بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ انھی سے متاثر ہوتے ہیں۔قوم کے اجتماعی خیر و شر اور قوم کے عروج و زوال میں ا ن لوگوں کا کردار آج بھی غیر معمولی ہے۔
قرآن قوموں کے عروج و زوال میں اشرافیہ کی اہمیت کو اس طرح بیان کر تا ہے: 


وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّھْلِکَ قَرْیَۃً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْھَا فَفَسَقُوْا فِیْھَا فَحَقَّ عَلَیْھَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰھَا تَدْمِیْرًا. (بنی اسرائیل۱۷: ۱۶)
’’ اور جب ہم کسی قو م کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوش حال لوگوں کو حکم دیتے ہیں تو وہ اس میں فساد شروع کردیتے ہیں ۔ پس ان پر عذاب کی بات ثابت ہوجاتی ہے اور انھیں برباد کرڈالتے ہیں۔‘‘


یہ لوگ معاشرے کے جسد میں اعضاے رئیسہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ جب یہ فساد کی طرف مائل ہوجاتے ہیں تو قومی زندگی کا توازن بگڑجاتا ہے ۔ اس کے برعکس جب تک یہ لوگ مجموعی طور پر خیر وصلاح کی طرف مائل رہتے ہیں ، قومی معاملات درست رہتے ہیں۔ خاص طور پر قوم کو جب چیلنج پیش آجائے تو یہی لوگ سب سے پہلے اس کا ادراک کرکے اس کی ٹھیک حیثیت متعین کرتے ہیں۔پھر انھی میں سے وہ لوگ ہوتے ہیں جو چیلنج کا جواب دینے کے لیے اٹھتے ہیں۔ اشرافیہ ہی میں سے وہ لوگ ہوتے ہیں جو ان قائدین کا دامے، درمے، قدمے، سخنے ساتھ دیتے ہیں۔ تاہم جب یہ گروہ چیلنج کا جواب دینے کی صلاحیت سے محروم ہوجائے تو قوم کا وجود خطرے میں پڑجاتا ہے اور آخر کار قوم تباہ ہوجاتی ہے۔ 

_____________