بائیسواں باب 

ہمارے ہاں تحریر وتقریر کا مقبول عام طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی ساری کمزوریوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دی جاتی ہے۔ کہاجاتا ہے کہ ہماری آج کی ساری مصیبتوں کی ذمہ داری دوسروں پر، یعنی مغرب پر، عائد ہوتی ہے۔ ہم ہر بات کے آخری نتیجے کے طور پر یہ کہتے ہیں کہ اگر مغرب یوں نہ کرتا تو ہمیں فلاں نقصان نہ پہنچتا۔ اس طرح ہماری ایک فریادی ذہنیت بن گئی ہے۔ اس فریادی ذہنیت کے پیچھے ہم اپنی ساری کمزوریوں سے صرفِ نظر کرجاتے ہیں اور یہ ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ خود ہماری اپنی کمزوریاں اور غلطیاں کیا ہیں۔ ڈاروِن نے اپنے نظریہ ارتقاء کے ضمن میں جو دواہم اصول دریافت کیے تھے، وہ انسانی اجتماعی زندگی کے ارتقاء پر سب سے بڑھ کر پورے اترتے ہیں۔ ان میں سے ایک اصول تنازع للبقا (Struggle for existance) ہے، جب کہ دوسرا اصول بقائے اصلح (Survival of the fittest)ہے۔ ان دونوں اصولوں کا مطلب یہ ہے کہ زندہ رہنے کے لیے مستقل جدوجہدکی ضرورت ہے، کیونکہ اس دنیا میں صرف وہی عزت کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے جوسب سے آگے بڑھ جائے۔ گویا اگر ہم غلطیاں کریں گے، سُست بن جائیں گے اور دوسروں کے ساتھ ترقی کی دوڑ میں شریک نہیں ہوں گے، تو دوسرے آگے بڑھ کر زندگی کے میدان پر قبضہ کرلیں گے۔اس صورت میں ہمیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ ہم دوسروں پر الزام لگائیں۔ کیونکہ قانونِ قدرت یہی ہے کہ بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھا جاتی ہے۔
اگر دیکھا جائے تو ہماری اکثر مصیبتوں کی ذمہ داری خود ہم ہی پر عائد ہوتی ہے۔ مثلاً اٹھارویں صدی کے بعد مسلم دنیا اس وجہ سے غلام بن گئی کہ پچھلے چار سو برس میں تعلیم، سائنس اور جمہوریت کے ضمن میں مغرب میں جتنی پیش رفت ہوئی تھی، ہم نے اپنے آپ کو اس سے بالکل بیگانہ رکھا۔ اس کا نتیجہ وہی ہوا جوہونا چاہیے تھا۔ آج ہماری سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنے ماضی کی غلطیوں کا بالکل غیر جذباتی اور معروضی تجزیہ کریں۔ جب ہم کمزور ہوں گے توہمارے مقابلے میں دوسری طاقتیں خودبخود ہماری کمزوری سے فائدہ اٹھائیں گی۔ ماضی میں ہم نے بھی دوسروں کی کمزوریوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ اقبال نے کیا خوب کہا تھا: 
ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق 
جو تجھے حاضرو موجود سے بے زار کرے
دے کے احساس زیاں تیرا لہو گرمادے 
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے
موت کے آئینے میں دکھا کر رخ دوست 
زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے 
لیکن اس کے بالکل برعکس ہمارے سیاسی لیڈروں، سیاسی مذہبی رہنماؤوں، صاحبانِ محراب ومنبر، اہلِ صحافت غرض یہ کہ ہر جگہ یہ رجحان (Trend)عام ہے کہ ہر چیز کا الزام مغرب کے سر مُنڈھ دیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مغرب جی بھر کر ہمارے خلاف اقدامات کررہا ہے۔ لیکن وہ تو یوں ہی کرتا رہے گا۔ وہ دراصل ہماری کمزوریوں اور خامیوں سے فائدہ اٹھارہا ہے۔ اگر ہم مغرب کی سازشوں کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو اس کا اصل طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی کمزوریوں کی طرف توجہ کریں اور اُن کا مداوا کریں۔ جب ہم اپنی کمزوریوں پر قابو پالیں گے تو پھر کسی کی کوئی سازش ہمارے خلاف کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ ہماری اصل کمزوری یہ ہے کہ مسلم دنیا میں جمہوری کلچر موجود نہیں ہے، انصاف نہیں ہے، تعلیم اور سائنس کی طرف کوئی توجہ نہیں ہے، تدبیر کے بجائے دو بدو مقابلے(Confrontation)پر سارا زور ہے اور مکالمے کے بجائے جبروطاقت کے ذریعے اپنی بات منوانے کا رجحان ہے۔ جب تک ہم ان کمزوریوں پر قابو نہیں پائیں گے تب تک یہ کسی حالت میں بھی ممکن نہیں کہ پروردگار ہمیں دنیا میں عزت اور وقار عطا کرے۔