پچیس واں باب 

انسان خطا کا پتلا ہے اور اُس سے اپنے زندگی میں بے شمار خطائیں اور غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ ان خطاؤں کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جن کا تعلق بندے اور خدا کے درمیان ہے۔ ان خطاؤں کو سامنے لانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن دوسری طرح کی خطائیں وہ ہیں جن کا تعلق کسی انسان کی جان، مال اور آبرو سے ہوتا ہے۔ یعنی کسی انسان کے ہاتھوں کسی دوسرے انسان کو کوئی تکلیف پہنچی ہوتی ہے۔ ان میں وہ غلطیاں بھی شامل ہیں جو کسی فرد یا جماعت کے غلط فیصلوں کی وجہ سے پوری قوم کی تکلیف کا باعث بنتی ہیں۔ اس دوسری قسم کی غلطیوں کا واضح اور ببانگ دہل اعتراف کرنے کی ضرورت ہے، خصوصاً وہ غلطیاں جو ذمہ داری کے کسی منصب پر رہتے ہوئے سرزد ہوجائیں۔ 
ہمارے ہاں اس طرح کی غلطیوں کو جماعتی رازوں کے نام پر چھپا دیا جاتا ہے۔ بسا اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ اگر ہم نے غلطیوں کا اعتراف کرلیا تو اس سے عوام میں ہمارا تاثر (Impression)مجروح ہوجائے گا۔ یہ دلیل بالکل غلط ہے، کیونکہ سب لوگ جانتے ہیں کہ انسانوں میں کوئی فرشتہ نہیں ہوتا جس سے کبھی کوئی غلطی سرزد ہی نہ ہو۔ غلطی کا اعتراف دوسروں کی نگاہوں میں انسان کی عزت کو بڑھا دیتا ہے، اس لیے کہ سب کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اگر اس شخص سے کوئی غلطی ہوجائے تو یہ اُس پر جما نہیں رہے گا، بلکہ اُس کا اعتراف کرے گا اور آئندہ کے لیے اُس سے بچنے کی کوشش کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن وحدیث اس ضمن میں حضورؐ کے زمانے کے سارے حالات بلا کم وکاست ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔ قرآن وحدیث میں کسی کی اجتماعی غلطیوں پر پردہ نہیں ڈالاگیا بلکہ ہر چیز کو بالکل کھول کر بیان کرکے اُس کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ پھر ان تمام باتوں کو قرآن وحدیث میں قیامت تک کے لیے محفوظ کرکے ہمیں بتادیا گیا کہ اجتماعی غلطیوں کا واضح اعتراف انتہائی ضروری ہے۔ ان کا تجزیہ بھی ضروری ہے اور آئندہ کے لیے ان غلطیوں سے اجتناب بھی ضروری ہے۔ 
بدقسمتی سے امت مسلمہ کے اندر پچھلے کئی سو برس سے اپنی غلطیوں کے اعتراف کی ذہنیت کا فقدان رہا ہے۔ دور کیوں جائیے خود اپنے ملک ہی کو دیکھ لیجئے۔ ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے کتنی بھیانک غلطیاں کی ہیں جن کا ملک وقوم کو خمیازہ بھگتنا پڑا۔ لیکن آج تک ان میں سے کسی نے غلطی کا اعتراف نہیں کیا گیا۔ یہی حال ہماری سیاسی پارٹیوں کا ہے۔ تقریباً ہر سیاسی پارٹی سے ماضی میں فاش غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ لیکن سوائے مسلم لیگ (ن) کے اور کسی گروہ نے اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کیا، بلکہ وہ سب اپنے سابقہ کرتوتوں کے لیے ہر وقت کوئی نہ کوئی جواز پیش کرتے رہتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے بھی اپنی سابقہ غلطیوں کا کوئی واضح اعتراف اور تجزیہ نہیں کیا بلکہ مجمل طور پر صرف اتنا کہا کہ ہم میں سے ماضی میں غلطیاں ہوئی ہیں جن کا ہم مستقبل میں اعادہ نہیں کریں گے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کا مجمل اعترافی بیان ناکافی ہے۔ 
یہ راقم بھی اپنی اجتماعی زندگی میں کئی اہم ذمہ داریوں پر فائز رہا ہے۔ اجتماعی زندگی میں کی جانے والی سب سے بڑی غلطی کا اعتراف اس راقم نے 20دسمبر2004ء میں شائع ہونے والے ایک کالم میں یوں کیا: 

’’میری زندگی کا سب سے بڑا گناہ اور جرم آج سے اکتیس برس قبل اُس وقت مجھ سے سرزد ہوا تھا جب میں مردان کالج سٹوڈنٹس یونین کا صدر تھا۔ اُس وقت قانون یہ تھا کہ کالج آنے والے طلبہ سے بس میں نصف کرایہ وصول کیا جائے گا۔ کئی کنڈکٹر اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور میرے پاس شکایت آجاتی تھی۔ ان کے مداوا کے لئے ٹرانسپورٹ یونین والوں سے کئی بار رابطہ کیا مگر شکایات کا سلسلہ جاری رہا۔ ایک دن یونین عہدیداروں نے یہ فیصلہ کیا کہ مردان آنے اور جانے والی تمام بسوں کو کالج میں اس وقت تک یرغمال بنایا جائے گا جب تک وہ اس ضمن میں حتمی وعدہ نہ کرلیں۔چنانچہ طلبہ سڑکوں پر پھیل گئے۔ اور تقریباً سو بسوں کو یرغمال بنا لیا گیا۔ قبضہ دو تین گھنٹے جاری رہا حتیٰ کہ ڈی سی، ایس پی اور ٹرانسپورٹروں کے عہدیداروں نے ہمیں لکھ کر دے دیا کہ آئندہ وہ طلبہ سے آدھا کرایہ وصول کریں گے۔ اس وقت مردان کے ڈی سی جہانزیب خان تھے جو کچھ دن پیشتر اللہ کو پیارے ہوچکے۔
چند دن تو ہم سب فتح کے نشے میں سرشار رہے لیکن پھر مجھے ایک احساسِ جرم نے آن لیا۔میں اکثر اوقات سوچتا تھا کہ اُس دن میری وجہ سے کتنے مریضوں کو تکلیف ملی ہوگی، کتنے سرکاری ملازمین بروقت اپنی ڈیوٹی پر نہیں پہنچے ہوں گے اور کتنے لوگوں کے انتہائی ضروری کاموں کا ہرج ہوا ہوگا۔ میں سوچتا تھا اس دن سینکڑوں، ہزاروں لوگوں نے’’کالجیوں‘‘کو بددعائیں دی ہوں گی۔ اور آخری ذمہ داری تو بہر حال مجھی پر آن پڑتی تھی اس لئے کہ صدرِ انجمن تو میں تھا۔
اس دن کے بعد آج تک ہزاروں مرتبہ اس قصور کی معافی کے لئے پروردگار کے حضور گڑ گڑایا ہوں، مگر ہر دفعہ جب کسی ہنگامے کی خبر سنتا ہوں تو اپنا جرم دوبارہ یاد آجاتا ہے۔شاید یہ احساسِ ندامت کبھی میرا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ آج سے پانچ برس قبل مجھے ایک میڈیکل ٹسٹ کے لئے پشاور جانا تھا۔ میرے پِتے میں بلا کا درد تھا۔ پبی کے قریب کالج کے طلبہ نے سڑک بلاک کی ہوئی تھی۔ ایک ایک لمحہ مجھ پر قیامت کا گزر رہا تھا مگر اُس وقت بھی میں یہ سوچ رہا تھا کہ کبھی میں نے بھی اسی طرح لوگوں کو تکلیف میں مبتلا کیا تھا۔
بہت بعد میں جب بھر پور مطالعے اور سلگتے ہوئے سوالات کا سامنا کرنا پڑا تو معلوم ہوا کہ اس معاملے کا صرف یہی ایک پہلو نہیں ہے کہ عامتہ الناس کو زحمت ہوتی ہے، بلکہ اس کا سب سے بڑا نظریاتی پہلو یہ ہے کہ معروف قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا مطلقاً منع ہے۔ مقصد خواہ کتنا ہی اچھا ہو، مطالبات خواہ کتنے ہی جائز ہوں، اگر اُن کو منوانے کے لئے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا جائے تو اس سے فساد برپا ہوجاتا ہے، ذہنیت بگڑ جاتی ہے اور سوسائٹی میں لاقانونیت کا دور دورہ ہونے لگتا ہے۔ اپنے آزاد ملک اور اپنے قانون کو توخیر بات ہی کیا ہے، تجربات نے صاحبانِ حکمت کو سکھا دیا کہ دور غلامی میں بھی قانون کا احترام ضروری ہے۔ جدوجہدِ آزادی بھی صرف وہ کامیاب ہوتی ہے جو خالصتاً عدم تشدد کی بنیاد پر ہو۔ اس سے استثنا ایک ہے، وہ یہ کہ اگر کسی صریح غیر اسلامی کام کا حکم دیا جائے مثلاً شراب پینے کا حکم دیا جائے تو اس کی پابندی نہ کی جائے۔
ہم جو کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہ رہے ہیں، جہاں ہمیں کسی غیر اسلامی کام کا حکم دینے والا کوئی قانون درپیش نہیں، جو ہمارا اپنا پیارا وطن ہے، جس کا ہر ذرہ ہمارے پاس امانت ہے، وہاں کوئی متشددانہ کاروائی تو گناہِ کبیرہ ہے۔
چنانچہ جب میں نے پڑھا کہ اسلامیہ کالج پشاور کے طلبہ نے ہنگامہ آرائی کی ہے، توڑ پھوڑ کی ہے کچھ قابلِ اعتراض نعرے بھی لگائے ہیں، اور اپنے مطالبات منوانے کے لئے تشدد کا سہارا لیا ہے تو اپنا پرانا وقت یاد آگیا اور جی چاہا کہ ان سے کہوں کہ ہمارے عظیم قائدین محمد علی جناح، باچا خان، مولانا مودودی اور مولانا حسین احمد مدنی نے تو جدوجہدِ آزادی میں بھی ہمیشہ عدم تشدد سے ہی کام لیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے جانشینوں کے جانشین ہم جیسے ناخلف ہوئے، جب کہ متشددانہ کاروائیوں پر ہماری پیٹھ ٹھونکی گئی اور ہمیں شاباش دی گئی۔ میر نے کیا خوب کہا تھا
کل پاؤں میرا کاسۂ سر پر جو آگیا
یک سر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا
کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر
میں بھی کبھو کسو کا سرِپُر غرور تھا۔
چنانچہ آج جب میں پچاس برس کا ہوچکا ہوں، میرے چار بچے عاقل وبالغ طلبہ وطالبات ہیں، اپنے نظریات کے غیر مبہم بیان کی ہر قیمت ادا کررہا ہوں،سارے طلبہ وطالبات مجھے اپنے بچوں ہی کی طرح لگتے ہیں۔ میں اپنے بچوں کو یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ آپ کا استاد اور آپ کا ہر پرووسٹ آپ کا روحانی باپ ہے۔ اگر میں اپنے بچوں کو نماز عشاء کے بعد باہر جانے کی اجازت نہیں دیتا، تواسی طرح ایک پرنسپل یہ حکم دے کر درحقیقت اپنا فرض پورا کررہا ہے۔
پیارے بچو! اپنے آزاد ملک کے اندر قانون کی پابندی صرف حکمتِ عملی نہیں بلکہ عقیدہ ہے۔ تشدد کا سہارا گناہِ کبیرہ ہے۔ یقیناًآپ کے بہت سے مطالبات صحیح بھی ہوں گے لیکن ان کو منوانے کے لئے پرامن راستے بھی موجود ہیں۔ عرض داشت لکھ لیجئے، مذاکرات کرلیجئے، ہم جیسے لوگوں سے کہئے، سیاسی اکابرین کو اپنے مطالبات پہنچائیے۔ امید ہے اس طریقے سے کچھ مطالبات تومان ہی لئے جائیں گے۔ اور اگر کچھ مطالبات نہ بھی مانے گئے تو کیا ہوا۔ مشکلات کے ساتھ جینے کا ڈھنگ ہی تو ایک انسان کوصیقل بناتا ہے۔
پیارے بچو! تعلیمی ادارے میں داخلہ دراصل ایک معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے طالب علم یہ وعدہ کرتا ہے کہ ہر استاد ومنتظم اس کا روحانی باپ ہوگا،اس کا اہم ترین کام اپنی پڑھائی کی طرف توجہ ہوگا، اور وہ کالج کے نظم ونسق کی پوری پابندی کرے گا۔ تعلیمی ادارے کے اندر ایک طالب علم کا سب سے بڑا فرض اس معاہدے کو لفظ و معنی کے ساتھ پورا کرنا ہے۔
پیارے بچو! میں برسوں پر محیط اپنے احساسِ ندامت کا بوجھ کچھ کم کرنے کی خاطر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ ممکن ہے میرے گناہ کی تلافی کی کوئی صورت نکل آئے۔ میں آپ سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ آئندہ آپ ہمیشہ پرامن رہیں گے، تشدد سے کبھی کام نہیں لیں گے اور قانون کی پابندی کریں گے۔‘‘