چوبیس واں باب 

اس دنیا میں انسان پر دو طرح کی مصیبتیں آتی ہیں، ایک وہ مصیبت جسے ہم قدرتی آفات سے منسوب کرتے ہیں مثلاً طوفان، زلزلے وغیرہ۔ دوسری قسم کی مصیبتیں وہ ہیں جو انسان کے اپنے ہاتھ سے اس پر آئی ہوئی ہوتی ہیں مثلاً بے احتیاطی سے ڈرائیونگ کے نتیجے میں ایکسیڈنٹ وغیرہ۔ پہلی قسم کی مصیبتیں دراصل آزمائش ہوتی ہیں۔ جب کہ دوسری قسم کی مصیبتوں کے بارے میں بھی قرآن مجید نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اگرچہ ان کے بارے میں آخری فیصلہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے، تاہم انسان کو یہ سوچنا چاہیے کہ یہ مصیبت خود اس کے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی ہے۔ اُسے اس مصیبت کے عوامل کا تجزیہ کرنا چاہیے اور آئندہ کے لیے ان سے بچنے کی تدبیر کرنی چاہیے۔ جنگِ اُحد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی جس پر سورہ آلِ عمران میں بہت تفصیلی تبصرہ کیا گیا۔ اس تبصرے کی آیت نمبر152میں فرمایا گیا: 

’’اے مومنو! اللہ نے (تائید ونصرت کا) جو وعدہ تم سے کیا تھا وہ تو اُس نے پورا کردیا۔ ابتدا میں اس کے حکم سے تم ہی دشمن کو قتل کررہے تھے۔ مگر جب تم نے کمزوری دکھائی، اپنے کام میں باہم اختلاف کیا، اور جوں ہی کہ وہ چیز اللہ نے تمہیں دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے (یعنی مالِ غنیمت)، تو تم اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے اس لیے کہ تم میں کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلے میں پسپا کر دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے‘‘۔ 

اس کے بعد آگے آیت نمبر165اور166میں فرمایا: 

’’یہ تمہارا کیا حال ہے کہ جب تم پر مصیبت آپڑی تو تم کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آئی؟ حالانکہ (جنگ بدرمیں) اس سے دوگنی مصیبت تمہارے ہاتھوں (دشمن پر) پڑ چکی ہے۔ اے نبیؐ،ان سے کہو، یہ مصیبت تمہاری اپنی لائی ہوئی ہے، اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جو نقصان لڑائی کے دن تمہیں پہنچا وہ اللہ کے اذن سے تھااور اس لیے تھا کہ اللہ دیکھے کہ تم میں سے مومن کون ہے‘‘۔ 

اسی طرح سورہ نساء آیت نمبر79میں فرمایا: ’’اے انسان، تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے، اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے، اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے تو وہ تمہارے اپنے کسب وعمل سے ہے۔‘‘ اسی طرح سورہ شوریٰ آیت نمبر30میں فرمایا: 

’’تم لوگوں پر جو مصیبت آتی ہے، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آتی ہے، اور بہت سے قصوروں سے اللہ ویسے ہی درگزر کرجاتا ہے‘‘۔ 

درج بالا آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب بھی ہمیں شکست ہویا کوئی دوسری مصیبت ہم پر آجائے تو ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اس مصیبت کے آنے میں ہمارا اپنا کیا حصہ تھا۔ یہ تجزیہ اس لیے ضروری ہے تاکہ آئندہ کے لیے ان غلطیوں سے بچا جائے جن کا ارتکاب ہم سے ماضی میں ہوا تھا۔ 
پچھلے تین سو برس سے مسلمانوں نے بہت سی فیصلہ کن شکستیں کھائی ہیں۔ 1757ء میں سراج الدولہ کو شکست ہوئی۔1790ء میں ٹیپو سلطان کو شکست ہوئی۔ 1830ء میں سید احمد شہیدؒ کی افواج کو سکھوں کے مقابلے میں شکست ہوئی۔ 1857ء میں ہم نے جنگ آزادی ہاردی۔ یہ تو صرف چند مثالیں ہیں،ورنہ اس طرح کی بے شمار شکستیں ہمارے حصے میں آئیں۔ 1971ء میں سانحۂ بنگال رونما ہوا۔ 1999ء میں کارگل کی جنگ میں ہمیں شکست فاش ہوئی۔ 2001ء کے آخر میں افغانستان میں طالبان حکومت کو شکست ہوئی۔ 
درج بالا واقعات میں کئی شکستیں ایسی ہیں جن میں مسلمانوں کے ہاں ایمان وعمل میں کوئی بڑی کمزوری نہیں تھی۔ مثلاً سید احمد شہیدؒ کے ساتھی ایمان وعمل کا بہترین نمونہ تھے۔ اسی طرح طالبان بھی عمل واخلاص کا بہترین نمونہ تھے۔ ان کے قول وفعل میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ جس چیز پر دوسروں کو عمل کرنے کا کہتے تھے، پہلے خود اس پر عمل کرکے دکھاتے تھے۔ سادہ، جفاکش، باحیا، پرعزم اور اپنے فہمِ اسلام کے لیے جان ہتھیلی پر رکھنے والے تھے۔ لیکن ایسا کیوں ہوا کہ پروردگار نے ان کو صرف چھ سال حکومت کرنے کا موقع دیا اور پھر اُن سے یہ موقع چھین لیا۔ 
دراصل درجِ بالا سب واقعات میں مسلمانوں کی اصل خامی دنیوی تدبیر کی کمزوری تھی۔ ہمارا دشمن ہم سے دنیوی تدبیر کے معاملے میں بہت آگے تھا، اس لیے پروردگار کی طرف سے ہمارے لیے شکست کا فیصلہ لکھ دیا گیا۔ پروردگار ہر چیز پر قادر ہے۔ اگر وہ چاہے تو ہماری شکست کو ایک لمحے میں فتح میں بدل دے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ سب سے بڑھ کر عادل بھی ہے۔ اُس کے عدل کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمانوں کو کبھی ایسی فتح عطا نہ کی جائے جس کے وہ مستحق نہ ہوں۔ 
پچھلے تین سو برس کی داستان صرف شکستوں کی کہانی نہیں ہے، بلکہ اس عرصے میں بہت سی کامیابیاں بھی مسلمانوں کے حصے میں آئیں۔ بشمول پاکستان، کئی مسلمان ممالک کو آزادی نصیب ہوئی۔ پچھلے چند برسوں کے دوران میں بوسنیا اور کوسوو آزاد ہوئے۔ چنانچہ ہمیں یہ تجزیہ کرنا چاہیے کہ جب ہم ناکام ہوئے تو دنیوی تدبیر کے حوالے سے ہم میں کیا خامیاں اور کمزوریاں تھیں۔ اور جب ہمیں کامیابی ملی تو کون سے عوامل کی وجہ سے ملی۔ اس طرح ایک سچا کھرا اور تلخ تجزیہ کرنے کے بعد ہی ہم اس قابل ہوسکیں گے کہ مستقبل کے لیے بہتر لائحہ عمل بنائیں۔