تینتیس واں باب 

ہم پاکستانیوں کے اندر کچھ ایسی خرابیاں پائی جاتی ہیں جس کا علاج ہم میں سے ہر ایک فرد کے پاس موجود ہے۔ اُن معاملات میں اپنے آپ کو تبدیل کرنا کچھ مشکل بھی نہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو تبدیل کرنے پر تیار نہیں۔ مثلاً ہم قانون شکنی میں لطف محسوس کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ قطار نہ بنائیں، اور ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ ہر دفتر میں ہمارا کام بغیر باری کے ہوجائے۔ ہم خود تو ٹریفک کے قانون کی پروا نہ کریں لیکن اگر کوئی دوسرا ٹریفک کا قانون توڑ کر ہم سے آگے نکل جائے، اپنی طاقت کے بل پر، قطار میں ہم سے آگے کھڑا ہوجائے اور یا ہماری نسبت اُس کا کام کسی دفتر میں جلدی ہوجائے تو ہمیں بڑا غصہ آتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ذہنی طور پر ہم ایک قانون شکن گروہ ہیں۔ حالانکہ یہ قانون شکنی سبھی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ مثلاً پاکستان میں ٹریفک کے حادثات اور ان حادثات میں ہونے والی اموات ترقی یافتہ ملکوں کی نسبت دس گنا زیادہ ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوسروں پر تو قانون لاگو ہو، مگر ہماری ذات اس سے مستثنیٰ رہے۔ حالانکہ ہم صرف اُسی صورت میں ایک منظم قوم کی حیثیت کرسکتے ہیں جب ہم قانون کو سب سے پہلے خود اپنے آپ پر نافذ کریں۔ تاہم اس کام کے لیے صبر اور برداشت ہم میں نہیں ہے۔ صبر اور برداشت کا رویہ مسلسل ریاضت اور خوداحتسابی کے نتیجے میں پروان چڑھتا ہے، مگر ہم یہ گھاٹی پارکرنے پر تیار نہیں ہیں۔ 
ہم میں سے ہر فرد ہر وقت سیاست پر بحث کرتا ہے۔ ہم حکومت پر تنقید کرکے اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں یا دل ہی دل میں کُڑھتے ہیں۔ ہمارے حجروں اور ڈرائنگ روموں کا محبوب ترین مشغلہ حکمرانوں اور سیاست دانوں پر تنقید ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ساری خرابیوں کی ذمہ دار حکومت ہے۔ ہمارا یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ جب تک حکومت ٹھیک نہ ہو تب تک کوئی بھی کام ٹھیک نہیں ہوسکتا۔ اور چونکہ حکومت ٹھیک نہیں ہورہی اس لیے باقی تو سب کچھ خراب ہوگا ہی۔ یقیناًیہ بات صحیح ہے کہ حکومت کو ٹھیک ہونا چاہیے اور ٹھیک کرنا چاہیے۔ لیکن اِس کے ساتھ ساتھ اتنی ہی ضروری یہ بات بھی ہے کہ ہم میں سے ہر فرد اپنی استطاعت کی حد تک خود بھی کچھ کرے۔ چنانچہ تبدیلی کے خواہش مند اور پرعزم فرد کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ بے شک حکومت ہماری زندگی کے ایک حصے کو کنٹرول کررہی ہے، مگر ہمارا باقی وقت تو ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔ کیوں نہ ہم یہ سوچیں کہ ہم کس طرح سوسائٹی کی خدمت کرسکتے ہیں۔ مثلاً بازاروں میں ہزاروں بچے بوٹ پالش کرتے ہیں، بھیک مانگتے ہیں اور بالکل چھوٹی عمر میں مکینکوں کے ساتھ بیٹھ کر کام کرتے ہیں۔ یوں ان کی تعلیم کا وقت نکل جاتا ہے اور یہ بچے ہمیشہ کے لیے معاشرے پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں کتنی ہی بیوائیں، بوڑھے اور یتیم ہیں جن کا کوئی آسرا نہیں۔ کتنے طلبہ ہیں جن کے پاس امتحان میں بیٹھنے کی فیس نہیں۔ کتنے بیمار ہیں جن کے پاس دواؤں کے پیسے نہیں۔ ایک باشعور انسان جب ان چیزوں کو دیکھتا ہے تو وہ یہ سوچتا ہے کہ میں آگے بڑھ کر ان کی کیا عملی مدد کرسکتا ہوں۔ یہ عملی مدد انفرادی طور پر بھی ہوسکتی ہے اور اجتماعی طور پر بھی۔ 
ہمارے ملک میں صفائی کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ گلیاں اور سڑکیں گندگی کا ڈھیر بن رہے ہیں۔ پلاسٹک کی تھیلیوں نے ہر ڈرینیج سسٹم کو خراب کرکے رکھ دیا ہے۔ لوگ جہاں چاہتے ہیں خالی تھیلے پھینک دیتے ہیں۔ جب لوگ اپنے گھر کی صفائی کرتے ہیں تو سارا کوڑا کرکٹ گھر کے سامنے پھینک دیتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت آکر اُن کی گلی کو صاف کرے۔ کھانے پینے کی دکانوں میں عموماً جالیاں نہیں لگائی جاتیں۔ اگر دوکاندار غلطی سے گاہک کو زیادہ پیسے دے دے تو گاہک اُسے واپس نہیں کرتا۔ اور اگر گاہک سے یہی غلطی ہوجائے تو دوکاندار اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ دوکاندار بیچنے والی چیز کی خامی گاہک کو نہیں بتاتا۔ رمضان میں مہنگائی اپنے پورے عروج پر ہوتی ہے۔ 
ہمارے یہاں حقوق اللہ اور حقوق العباد کے درمیان توازن کو عموماً مدِنظر نہیں رکھا جاتا۔ ایسے بے شمار مذہبی افراد موجود ہیں جو عبادات اور ذکروتسبیح کے نہایت پابند ہیں، لیکن ان کو اپنی بیویوں یا اپنے بچوں کے حقوق کا خاص خیال نہیں ہوتا۔ ایسے بہت سے لوگ گراں فروشی، سمگلنگ اور اسی طرح کے دوسرے دھندوں میں مصروف رہتے ہیں اور شاید یہ سمجھتے ہیں کہ اُن کی عبادت کے مقابلے میں یہ چیزیں کوئی بڑی اہمیت نہیں رکھتیں۔ پاکستان کے دین دار ترین علاقوں میں خواتین کو وراثت میں حصہ دینے کا کوئی رواج نہیں ہے۔ 
جب تک کوئی فرد ان چیزوں کے بارے میں اپنا ذہنی رویہ تبدیل نہ کرے، تب تک ان معاملات میں کوئی بہتری نہیں آسکتی۔ یقیناًان معاملات میں ریاست اور معاشرے کو بھی اپنا حصہ ادا کرنا ہے، لیکن ان کے ٹھیک ہونے میں سب سے بڑا حصہ فرد کا ہے۔ اگر ایک فرد اپنی جگہ پر یہ فیصلہ کرلے کہ معاشرہ ٹھیک ہو یا نہ ہو، کم ازکم میں اپنی حد تک اپنے آپ کو ٹھیک رکھوں گا اور خدمتِ خلق کی ہر ممکن کوشش کروں گا، تو یہی اصل تبدیلی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک فرد دوسروں کے تبدیل ہونے کا انتظار تو کرتا ہے مگر اپنے آپ کو تبدیل نہیں کرتا۔ یہ خرابیوں کی جڑ ہے۔ 
جدید ترین تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ خدمتِ خلق کاکام انسان کو بہت سکون و اطمینان دیتا ہے۔ ڈپریشن کی بیماری دور کرنے میں بھی یہ کام بہت ممد و معاون ثابت ہوتا ہے۔ اگر انسان روزانہ کسی نہ کسی فرد کو فائدہ پہنچائے اور کسی بھی دوسرے انسان کو نقصان نہ پہنچائے، تو ایسا انسان ذہنی طور پر بہت خوش ہوتا ہے۔ تحقیقات سے یہ بات بھی معلوم ہوچکی ہے کہ اس خدمتِ خلق کا کسی شخص کے مذہب یا مذہبی ہونے یا نہ ہونے سے کوئی زیادہ تعلق نہیں ہے۔ یعنی اگر ایک غیر مذہبی شخص بھی خدمتِ خلق کا کام کرتا ہے تو ایسے شخص کو بھی خوشی کی دولت ملتی ہے۔ گویا خدمتِ خلق کا انحصار ضمیر و احساس کی بیداری پر ہے۔ اس راقم کے نزدیک یہ بھی توحید کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے، اس لیے کہ یہ ضمیر واحساس خالقِ کائنات کا عطا کردہ تحفہ ہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے، اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے دوسروں کو فائدہ پہنچانے کاموقع ڈھونڈتے ہیں، اور اپنے احساس کو زندہ رکھ کر معاشرے کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔