امریکی خارجہ پالیسی میں دوست اور دشمن کا تصور 

امریکہ کے سیاسی تعلقات میں دوستی کا تصور اُس تصورسے بہت کچھ مختلف ہے جو ہم پاکستانی رکھتے ہیں۔ امریکی سیاسی لغت میں دوستی ایک خالصتاً کاروباری معاملہ ہے۔ یہ نہ تو کوئی دیرپا چیز ہے اور نہ اسے دیرپا ہونا چاہیے۔ البتہ جہاں مفادات کی نوعیت پائیداری کی متقاضی ہو، وہاں دوستی بھی ایک لمبے عرصے تک چل سکتی ہے۔ اسرائیل کے علاوہ دنیا کے ہر ملک کے بارے میں یہی امریکی پالیسی ہے۔ اس بات کو امریکیوں نے کبھی چھپایا بھی نہیں۔ وہ صاف طور پر اور علی الاعلان یہ کہتے ہیں کہ ہماری کسی ملک سے دوستی کی میعاد ہمیشہ باہمی مفادات کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ ان مفادات میں سے سب سے اہم گروہ G-8کے ممالک ہیں جن میں امریکہ کے علاوہ کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، سپین، اٹلی اور جاپان شامل ہیں۔ یہ سارے ممالک جمہوری ہیں، اقتصادی لحاظ سے دنیا میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں اور ان کی معاشرت بھی بڑی حد تک ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہے، اس لیے بہت سے معاملات میں ان کے مفادات بھی مشترک ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس گروپ کے سربراہی اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہوتے ہیں۔ اگرچہ کئی سیاسی معاملات میں ان کے درمیان اختلاف رائے ہوتا ہے، تاہم اس اختلاف رائے کو وہ اپنے معاشی اور اقتصادی مفادات کے آڑے نہیں آنے دیتے۔ 
امریکی خارجہ پالیسی میں برازیل، مصر اور پاکستان کو بھی ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ اسرائیل کو چھوڑ کر، دنیا بھر میں سب سے زیادہ امریکی امداد انہی تین ممالک کو ملتی ہے۔ برازیل جنوبی امریکہ کا سب سے بڑا ملک ہے۔ مصرعالم عرب کا سب سے ترقی یافتہ اور آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑا ملک ہے، اور پاکستان جنوبی ایشیا میں ایک ایسی جگہ پر واقع ہے جہاں امریکی مفادات ہر وقت پھنسے رہتے ہے۔ 
سعودی عرب، کویت اور خلیج کے دوسرے ممالک امریکی خارجہ پالیسی میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں، کیونکہ یہ بھی دنیا کے جغرافیے میں ایک منفرد جگہ پر واقع ہیں۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے بھارت کو بھی اپنی خصوصی مہربانی کا مستحق گردانا ہے۔ اس کی وجہ دراصل بھارت کی ایک ارب سے زیادہ لوگوں پر مشتمل صارفین کی آبادی ہے۔ دوسری طرف بھارت بھی امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے سب کچھ کرنے پر تیار ہے۔ 
امریکہ کی خارجی ترجیحات میں مذہب کو کوئی بڑا مقام حاصل نہیں۔ امریکہ نے افریقہ اور لاطینی امریکہ کے غریب عیسائی ملکوں کو کبھی کوئی اہمیت نہیں دی اور نہ ہی کبھی ان کی کوئی مدد کی ہے۔ فلسطین کے اندر موجود سارے عیسائی اسرائیل کے مخالف ہیں لیکن امریکہ نے کبھی ان عیسائیوں کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ امریکہ نے کئی ایسی خانہ جنگیوں میں کوئی خاص حصہ نہیں لیا جہاں ایک طرف عیسائی غالب اکثریت میں تھے اور دوسری طرف مسلمان تھے، لیکن وہاں امریکہ کے کوئی سٹریٹیجک مفادات نہیں تھے۔ مثلاً نائیجیریا کا ایک عیسائی اکثریت کا علاقہ بیافرا علیحدگی چاہتا تھا۔ اس مقصد کے لیے اس نے کئی برس تک مسلح جدوجہد کی لیکن امریکہ نے اس کی کوئی مدد نہیں کی۔ دوسری طرف جب یورپ کے سابقہ کمیونسٹ ممالک کے حصے بخرے کرنے کا عمل شروع ہوا تو وہاں دو مسلمان ممالک یعنی بوسنیا اور کوسوو کی آزادی کا امکان بھی پیدا ہونے لگا۔ اردگرد کے کٹر عیسائی ممالک مثلاً سربیا وغیرہ نے اس کی پوری مزاحمت کی اور مسلح کاروائیوں کے ذریعے ان دونوں علاقوں کو زیر کرنا چاہا۔ چونکہ اس علاقے میں امریکی مفادات موجود تھے، اس لیے بالآخر امریکہ ان دونوں مسلمان اکثریتی علاقوں کی مدد کو آگیا اور امریکی مداخلت کی وجہ سے یورپ کے اندر دومزید مسلمان ممالک وجود میں آگئے۔ اگرچہ امریکہ نے دو مسلمان ممالک یعنی افغانستان اور عراق میں فوجی مداخلت کی ہے، جو یقیناًایک ظالمانہ اور سفاکانہ اقدام تھا، لیکن امریکہ نے اس سے کہیں زیادہ مداخلت غیر مسلم ملکوں میں کی ہے۔ پچھلے سوبرس میں اس کی ساری بڑی جنگیں غیر مسلموں اور خصوصاً عیسائی طاقتوں سے ہوئی ہیں، مثلاً پہلی جنگ عظیم میں وہ برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر جرمنی جاپان اور اٹلی کے خلاف لڑا، جس میں فریقین نے ایک دوسرے کے کروڑوں افراد کوہلاک کردیا۔ دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے برطانیہ، فرانس اور کمیونسٹ روس کا ساتھ دیا تاکہ ہٹلر، مسولینی اور جاپان کو نیچا دکھا سکے۔ اس لڑائی میں بھی کروڑوں لوگ ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد سب سے بڑی امریکی لڑائی ویت نام میں لڑی گئی جہاں امریکہ کے اڑسٹھ ہزار فوجی ہلاک ہوئے۔ 
امریکہ نے مذہب کے نام کو وقتاً فوقتاً اپنے مفادات کے لیے تو ضرور استعمال کیا ہے لیکن اس کی اصل دلچسپی ہمیشہ اپنے ملک کے مفادات سے رہی ہے۔ مثلاً روس کے خلاف سرد جنگ کے دوران میں امریکہ نے کوشش کی کہ روس کو ملحد ثابت کرکے مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کرے۔ اسی طرح حالیہ نام نہاد ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘(War against Terrorism) میں اسلامی بنیاد پرستی کو ایک اہم عامل کے طور پر پیش کیا جارہا ہے، لیکن اس سے امریکہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ اس کے خلاف جاری غیر ریاستی مسلح کاروائیاں ختم ہوجائیں۔ دہشت گردی کے موضوع پر بھی ایک علیحدہ باب میں تفصیل سے بحث کی جائے گی۔ 
درج بالا سارے تجزئے کا خلاصہ یہ ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ امریکہ بحیثیت ملک بدستور مستقل طور پر سپر پاور کی حیثیت سے زندہ رہے اور اقوام عالم میں اس کا مقام سب سے اونچا رہے۔ تاہم امریکہ اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ساری دنیا کو اپنے قبضے میں لے لے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ نہ تو وہ مسلمانوں کی تعداد کم کرسکتا ہے، نہ مسلمانوں کو ختم کرسکتا ہے اور نہ ان سب کو جسمانی طور پر غلام رکھ سکتا ہے۔ امریکہ جانتا ہے کہ اس کے ہاں سپرمین نہیں بستے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ امریکی نظام اور امریکی انسانوں میں بھی بڑی کمزوریاں، جھول اور تضادات ہیں۔ لہٰذا وہ سب سے طاقت ور ملک کے حیثیت سے تو زندہ رہ سکتا ہے لیکن یہ ممکن نہیں کہ صرف اسی کے پاس طاقت ہو اور باقی کسی ملک کے پاس کوئی طاقت نہ ہو۔ 


امریکہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں کیسے دخیل ہوتا ہے 

عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ دنیا میں ہر جگہ امریکی تنخواہ دار ایجنٹ ایک بڑی تعداد میں ہیں جو امریکی ہدایات کے تحت اپنے ملکی معاملات میں امریکی پالیسی کے مطابق کام کرتے ہیں۔ یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ یقیناًامریکہ نے کئی ہزار افراد کو تنخواہ دار ایجنٹوں کی حیثیت سے بھی رکھا ہے، لیکن یہ دراصل وہ جاسوس ہیں جو دوسرے ممالک کے اہم ترین راز معلوم کرکے ان کو امریکہ کے ہاتھ فروخت کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ کام ہر ملک کرتا ہے اور امریکہ سب سے زیادہ کرتا ہے۔ لیکن جہاں تک سیاسی معاملات کا تعلق ہے، انہیں امریکہ اپنے تنخواہ دار ایجنٹوں کے ذریعے پاےۂ تکمیل تک نہیں پہنچاتا بلکہ اس کا ’طریقہ واردات‘ کچھ اور ہوتا ہے۔ دراصل امریکہ کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی ملک کے سیاسی لیڈروں اور اپنے نظریات کے لیے قربانی دینے والے دانشوروں کو خرید سکے خواہ وہ مخلص لبرل ہوں، سیکولرسٹ ہوں یا اسلامسٹ۔ کیونکہ ایسے سب لوگ اپنی جان ہتھیلی پر لے پھرتے ہیں۔ ان کو ہر وقت قیدوبند اور جلاوطنی کا خطرہ ہوتا ہے،اور یہ لوگ اپنے ملک کو چھوڑ کر مغرب میں جاکر بس بھی نہیں سکتے۔ اس کے بالکل برعکس تنخواہ دار ایجنٹ کی سب سے زیادہ دلچسپی پیسے سے اور اچھی زندگی گزارنے سے ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ تیسری دنیا کے ملکوں کی زندگی تو اس مقصد کے لیے بالکل راس نہیں۔ اس غرض کے لیے تو یہ ضروری ہے کہ انسان جب تک تیسری دنیا کے کسی ملک میں رہے، تب بھی اچھی زندگی گزارے اور اس کے بعد جاکر مغرب میں کہیں بس جائے۔ یہی وجہ ہے کہ تنخوادار ایجنٹ صرف وہی لوگ بنتے ہیں جو بیوروکریسی، مسلح افواج اور صحافت میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ سیاسی جدوجہد کرنے والے سیاست دان اور دانش ور کبھی ایسا سوچ بھی نہیں سکتے اس لیے کہ اس سے ان کو کوئی فائدہ بھی نہیں ہوتا۔ 
تیسری دنیا کے ممالک میں امریکہ کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ وہ ان ممالک کے اندرونی تضادات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ جن ممالک میں جمہوریت نہیں ہوتی وہاں یہ تضادات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس لیے ایسے ممالک کے اندرونی معاملات میں امریکہ کو دخل اندازی کے زیادہ مواقع مل سکتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کسی ملک کے اندر سارے سیاسی معاملات امریکہ سے پوچھ کرطے ہوتے ہیں۔ بلکہ ہوتا یوں ہے کہ جب ایک سیاسی معاملہ ہوچکتا ہے تو امریکہ یہ دیکھتا ہے کہ اب وہ اس معاملے سے کس طرح اپنے فائدے میں کوئی کام لے سکتا ہے۔ مثلاً جب اکتوبر2000ء میں پاکستان میں نوازشریف کا تختہ الٹا جارہا تھا، تو اُس وقت یقیناًامریکہ کو اس کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا اور نہ ہی یہ سب کچھ امریکہ سے پوچھ کر ہورہا تھا۔ البتہ جب ایک تبدیلی عمل میں آگئی تو امریکہ نے سوچا کہ اب اس تبدیلی سے کیسے فائدہ اٹھایا جائے۔ چنانچہ اس نے پاکستان کی فوجی حکومت سے اپنے حصے کا فائدہ اٹھالیا۔ 
امریکہ کو تیسری دنیا کے ڈکٹیٹر، بادشاہ اور فوجی حکمران بھی بہت راس آتے ہیں، اس لیے کہ ان سے معاملہ کرنا آسان ہوتا ہے۔ تاہم یہ کوئی مستقل قانون نہیں۔ کئی ڈکٹیٹر امریکہ کے مخالف بھی ہوتے ہیں۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ امریکہ ہر معاملے میں کامیاب ہو۔ مثلاً امریکہ کے بالکل قریب کیوبا میں فیڈرل کاسترو کی سربراہی میں کمیونسٹ حکومت قائم ہے۔ امریکہ نے اس حکومت کو ختم کرنے کے لیے بیسیوں بار کوشش کی ہے لیکن اس کی ہر کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی ہے۔ اس کے بالکل برعکس بہت سے ممالک اپنے ہاں امریکہ کو ہر سہولت،حتیٰ کہ افواج تعینات کرنے کی سہولت بھی فراہم کررہے ہیں اور یوں وہ امریکہ کے ساےۂ عاطفت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ 


امریکہ اور پاکستان 

پاکستان ان چار ممالک میں شامل ہے جنہیں پچھلے برسوں میں سب سے زیادہ امریکی امداد ملی ہے۔سوائے سٹیل مِل کے، پاکستان کا ہر اہم پروجیکٹ براہِ راست یا بالواسطہ امریکی امداد یا قرضے کا مرہونِ منت ہے۔ پاکستان کو امریکہ کی طرف سے مہیا کردہ بہت سے قرضے صرف ایک فیصد برائے نام سود پر دیے گئے ہیں۔ اربوں ڈالر کی ناقابل واپسی امداد اس کے علاوہ ہے۔ اب بھی پاکستانی بجٹ کا اکثر وبیشتر حصہ بالواسطہ طور پر امریکی قرضے پر مشتمل ہوتا ہے کیونکہ یہ تمام قرضے ورلڈ بینک یا ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی طرف سے ہوتے ہیں۔ ان دونوں بینکوں میں سب سے بڑا حصہ امریکی حکومت کا ہے۔ 
اس امریکی امداد کی اصل وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے بالکل ابتداہی سے اپنے آپ کو امریکی کیمپ کا حصہ بنالیا تھا، جس کی بنیاد بھارت کی مخالفت پر تھی۔ بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو ایک سوشلسٹ تھے اور انہوں نے پہلے دن سے ہی اپنے آپ کو روسی یا امریکی کیمپ سے نتھی کرنے کے بجائے غیر جانبدار ممالک کے گروپ کی بنیاد رکھی۔ تاہم اس گروپ کا جھکاؤ روس کی طرف تھا۔ چنانچہ جوں ہی پاکستان کے وزیراعظم نواب زادہ لیاقت علی خان کو امریکہ کا دورہ کرنے کی دعوت ملی، انہوں نے فوراً اس دعوت کو قبول کرکے پاکستان کو امریکی کیمپ میں داخل کردیا۔ اس کے بعد پاکستان امریکہ کے پروردہ بین الاقوامی اداروں سیٹو اور سینٹو کا ممبر بھی بن گیا۔ ان معاہدوں میں شمولیت سے پاکستان کو کشمیر کے معاملے میں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا کیونکہ اس نے بھارت کو یہ جواز فراہم کردیا کہ وہ کشمیر پر اپنے وعدوں کو پسِ پشت ڈال دے۔ 
درحقیقت پاکستان نے ان معاہدوں سے اپنے حقیقی مفادات کے لیے کچھ حاصل نہیں کیا۔ ہمارا حقیقی مفاد یہ تھا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو اور بھارت کے مقابلے میں ہمارا دفاع مضبوط ہوجائے۔ اس کے برعکس درج بالا معاہدے پاکستان کو صرف اشتراکی ممالک کی طرف سے حملے کی صورت میں دفاع کی ضمانت فراہم کرتے تھے۔ ان معاہدوں کے مطابق پاکستان پر یہ لازم تھا کہ پاکستان اس اسلحہ کو کسی غیر کمیونسٹ ملک کے خلاف استعمال نہیں کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ 1965ء کی جنگ میں جب پاکستان نے امریکی اسلحہ بھارت کے خلاف استعمال کرنا شروع کردیا تو امریکہ نے اس اسلحے کے فاضل پرزوں کی فراہمی پر پابندی لگادی۔ 
اہلِ پاکستان یہ شکایت کرتے ہیں کہ 1965ء کی جنگ میں امریکہ نے پاکستان کے لیے فاضل پرزوں کی فراہمی پر پابندی لگاکر ہمیں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا، اس لیے کہ پاکستان کے پاس تو صرف امریکی اسلحہ ہی تھا۔ اسی طرح 1971ء کی جنگ میں امریکہ نے بنگلہ دیش کی تخلیق رکوانے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ بالکل اسی طرح جب1988میں افغانستان سے روسی افواج چلی گئیں تو امریکہ نے بعد کے مسائل سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو تنہا چھوڑ کر اس خطے میں اپنی دلچسپی ختم کردی۔ 
ان شکایات کے مقابلے میں امریکہ نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ پاکستان برضاورغبت اور اپنے فیصلے سے مغربی کیمپ کے قریب آیا تھا۔ ہم نے اسے خوش آمدید کہنے کے ساتھ ساتھ ہمیشہ اسے یہ بتایا ہے کہ بھارت بھی بہت بڑا اور اہم ملک ہے۔ امریکہ اور بھارت کے درمیان بہت سی اقتدار اور روایات مشترک ہیں۔ اس لیے ہم بھارت سے بھی لازماً قریبی تعلقات رکھیں گے۔ 
اسی طرح امریکہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے ضمن میں ہم نے اقوام متحدہ میں ہمیشہ پاکستانی موقف کی حمایت کی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کا آخری فیصلہ باہمی گفت وشنید اور کشمیریوں کی حق خودارادیت ہی کے ذریعے سے ممکن ہے۔ تاہم یہ مسئلہ پرامن طریقے سے حل ہونا چاہیے۔ ہم نے ہمیشہ پاکستان سے کہا ہے کہ اس مسئلے پر پاک بھارت جنگ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوگی۔ پاکستان کو ہم نے تمام اسلحہ اس شرط کے ساتھ دیا تھا کہ اسے صرف کمیونسٹ خطرے کے خلاف دفاعی طور پر استعمال کیا جائے گا۔ جب ہمیں معلوم ہوا کہ 1965ء کی جنگ میں یہ اسلحہ بھارت کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے تو ہم نے اس اسلحے کے فاضل پرزوں کی فراہمی پر پابندی لگادی۔ پاکستان نے یہ جنگ ہم سے پوچھ کر شروع نہیں کی تھی۔ 
امریکیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کا قیام پاکستان کی اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور عدمِ جمہوریت کا نتیجہ تھا۔ مشرقی پاکستان کے 94فیصد عوام اپنے لیے علیحدہ ملک چاہتے تھے۔ بحیثیت ایک جمہوری ملک کے ہم اس سے کیسے نظریں چُراسکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اُس وقت سارے امریکی عوام اور امریکی حکومت بنگلہ دیش کے قیام کے حق میں تھی۔ البتہ جب ہمیں معلوم ہوا کہ بنگلہ دیش کے بعد اندراگاندھی اب مغربی پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے تو ہمارے ہی دباؤ پر وہ اس ارادے سے باز آئی اور مغربی محاذ پر اُس نے جنگ بندی قبول کرلی۔ 
امریکی یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم نے اس بات کو کبھی نہیں چھپایا کہ افغانستان میں ہماری دلچسپی صرف روسی افواج کے نکلنے تک محدود ہے۔ افغان مجاہد تنظیموں کو پاکستان نے ہی تخلیق کیا تھا اور یہ سب تنظیمیں پاکستان کے زیرِ اثر تھیں۔ پاکستان نے تو ہمیں یہ اجازت بھی کبھی نہیں دی کہ ہم ان تنظیموں سے براہِ راست بات کرسکیں۔ چنانچہ اگر روسی افواج کے نکلنے کے بعد یہ تنظیمیں چاربرس تک ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کو ختم نہ کرسکیں تو اس میں ہمارا کیا قصور تھا؟۔ چار برس کے بعد یعنی کابل کی فتح کے بعد اگر یہ سب تنظیمیں آپس میں لڑنے لگیں اور پاکستان کی مذہبی سیاسی پارٹیاں اس خانہ جنگی میں فریق بن گئیں تو اس میں ہمارا کوئی کردار نہیں تھا۔ 
اگر پاکستان اور امریکہ کے درمیان شکایات اور ان کے جواب کے درج بالا مکالمے کا تجزیہ کیا جائے تو صاف طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ امریکہ سے وہ توقعات وابستہ کی ہیں جن کے پورا کرنے کا امریکہ نے کبھی کہا نہیں ہوتا۔ دراصل ہم پاکستانی ایک جذباتی قوم ہیں جو بین الاقوامی تعلقات میں ’’کاروبار‘‘ پر نہیں، بلکہ ’’لوافےئر‘‘ پر یقین رکھتے ہیں۔ جب کہ اس کے برعکس امریکہ کے نزدیک خارجہ تعلقات خالصتاً ایک کاروباری معاملہ ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جن ملکوں کو اپنے اوپر یقین نہیں ہوتا، جو اپنے مسائل خودحل کرنے کے لیے پرعزم نہیں ہوتے اور جو اپنے داخلی معاملات کو جمہوریت اور مکالمے کے ذریعے ٹھیک نہیں کرتے، ان ممالک کی ذہنیت فریادی اور احتجاجی بن جاتی ہے اور پھر وہ اپنے مسائل حل کرنے کے لیے اپنے آپ پر انحصار کرنے کے بجائے دوسروں سے گلے شکوے کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ دوسرے ہمارے خلاف سازشیں کررہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک پاکستان میں حقیقی جمہوریت نہیں آئے گی اور ہم اپنے داخلی معاملات خود حل کرنے کے لیے عزم سے کام نہیں لیں گے تب تک امریکہ ہمارے معاملات میں خود ہماری کمزوریوں کی وجہ سے دخیل رہے گا۔ 


کیا پاکستان کو امریکہ سے دوستی رکھنی چاہیے یا دشمنی کرنی چاہیے؟ 

درج بالا بحث سے یہ بات بخوبی واضح ہوتی ہے کہ امریکہ صرف اپنے مفاد کا دوست ہے۔ اپنے مفادات کے لیے وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔ اس ضمن میں ہر طرح کی منافقت، دوغلاپن اور دہرا معیار اُس کے نزدیک جائز ہے۔ صرف اُسی ملک کو وہ اپنا دوست بناتا ہے جو اپنے آپ کو اُس کی تہذیب کے رنگ میں رنگنے اور خارجہ پالیسی میں اُس کی ہر ہاں میں ہاں ملانے کے لیے تیار ہو۔ اسرائیل اور کسی حد تک بھارت اس کی مثال ہیں۔ چنانچہ یہ ناممکن ہے کہ امریکہ پاکستان کو اپنا دوست سمجھے اور ایک دوست کی حیثیت سے اس کا خیال رکھے۔ 
تاہم کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم امریکہ سے دشمنی کریں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ امریکہ کی دوستی بھی خطرناک ہے اوراُس کی دشمنی بھی خطرناک ہے۔ اُس کی دشمنی نہ پاکستان کے مفاد میں ہے اور نہ امتِ مسلمہ کے مفاد میں ہے کیونکہ وہ ہمارے لیے ناقابلِ بیان مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ چنانچہ مناسب پالیسی یہ ہے کہ امریکہ سے صرف تعلق کار Working Relationرکھا جائے۔ اُس سے نہ دوستی رکھی جائے اور نہ دشمنی۔ 
امریکہ کی ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف جنگ کے موضوع پر ایک علیحدہ باب میں روشنی ڈالی جائے گی۔ 

(اس باب کی تیاری میں درج ذیل کتب سے مدد لی گئی ہے
O۔کولئیرز انسائیکلوپیڈیا
O۔تاریخِ امریکہ از فرانس واٹنے۔ مترجم محمد افضل محمود
O۔تہذیبوں کا تصادم از سیمول بی ہنٹگن
O۔امریکہ میں یہودی تنظیمیں از لی اوبرائن۔مترجم نذیر حق)