افغانستان میں امریکی مداخلت 

ظاہر شاہ کے وقت میں افغان فوج کے اندر کمیونسٹوں کا اثرونفوذ بہت بڑھ گیا تھا۔ 1973ء میں ظاہر شاہ کے چچا زاد بھائی سردار داؤد نے کمیونسٹوں کی مدد سے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ اس کے پانچ برس بعد یعنی اپریل 1978ء میں نور محمد ترکئی کی سربراہی میں کمیونسٹوں نے ایک فوجی انقلاب کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ ڈیڑھ سال بعد یعنی ستمبر1979ء میں کمیونسٹوں کے ایک اور دھڑے کے سربراہ اور وزیر دفاع حفیظ اللہ امین نے حکومت پر قبضہ کرلیا۔ چونکہ حفیظ اللہ امین کے لیے حالات کو اپنے کنٹرول میں رکھنا ممکن نہیں تھا، اس لیے تین مہینے بعد روسی افواج افغانستان میں داخل ہوگئیں اور ببرک کارمل کو صدارت پر فائز کردیا گیا۔ 
اس تبدیلی کے فوراً بعد پاکستان کے فوجی صدر جنرل ضیاء الحق نے کمیونزم مخالفت طاقتوں کی مدد کے ذریعے روسی افواج کی مزاحمت کا فیصلہ کرلیا۔ واضح رہے کہ افغان حکومت کے مخالف دھڑوں کے اکثر لیڈر مثلاً استاد ربانی اور گلبدین حکمت یار 1974ء سے ہی پاکستان میں مقیم تھے۔ یہ لوگ سردار داؤد کی حکومت کے بھی مخالف تھے، لیکن اب تو مسلح مزاحمت کے لیے ایک بہت بڑا جواز بھی مل گیا تھا۔ 
اُس وقت امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر جمی کارٹر کی حکومت تھی۔ اس نے روسی افواج کے خلافت مزاحمت میں پاکستان کی مدد کرنے میں کوئی خاص گرم جوشی نہ دکھائی۔ لیکن جب 1980ء میں ری پبلکن صدر ریگن اقتدار میں آیا تو اس نے اس کو روسیو ں سے ویت نام کی جنگ میں امریکی شکست کا بدلہ لینے کا بہترین سنہری موقع جانا اور اس نے اس مزاحمت کی کامیابی کو اپنی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا کام بنا دیا۔ اس پالیسی کے تحت امریکہ نے مزاحمت کرنے والی آٹھ تنظیموں اور جنرل ضیاء الحق کی حکومت کو اربوں ڈالر کا اسلحہ اور دوسری امداد دی۔ اس وقت امریکہ کو ’مجاہدین‘ کا لفظ بہت بھلا لگتا تھا۔ پاکستانی حکومت نے اس مزاحمت کو کفر اور اسلام کے مقابلے کا نام دیا۔ دوسری طرف امریکہ نے بھی اسے خدا پرستوں اور ملحدین کے درمیان مقابلے کا نام دیا۔ یوں امریکہ نے اس جنگ میں اپنے مفادات کو پورا کرنے کے لیے مذہب کا خوب خوب استعمال کیا۔ اس وقت امریکہ، مجاہدین اور پاکستان تینوں طاقتیں یہ سوچ رہی تھی کہ وہ ایک دوسرے کو استعمال کررہے ہیں۔ امریکہ کا خیال تھا کہ وہ اپنے ایک سپاہی کو بھی مروائے بغیر افغانستان میں روس کو شکست دے دے گا۔ دوسری طرف پاکستانی حکمرانوں کا یہ خیال تھا کہ اس مزاحمت کی کامیابی کی صورت میں افغانستان عملاً ہمارا پانچواں صوبہ بن جائے گا۔ اس وقت کے پاکستانی جرنیل اس مقصد کے لیے Strategic Depth کی اصطلاح استعمال کرتے تھے۔ تیسری طرف افغان مجاہدین کا یہ خیال تھا کہ وہ کامیابی کے بعد افغانستان میں ایک اسلامی حکومت تشکیل دے دیں گے۔ مجاہدین کی آٹھوں کی آٹھ جماعتیں آپس میں ایک دوسرے کی بھی سخت دشمن تھیں، اور ان میں سے ہر ایک گروہ یہی سمجھتا تھا کہ روسیوں کو شکست دینے کے بعد وہ باقی ماندہ تنظیموں پر بھی غالب آجائے گی اور یوں وہ بلاشرکت غیرے افغانستان میں اپنی حکومت قائم کرلے گی۔ 
اُس وقت امریکی یہ بھول گئے تھے کہ مذہبی جذبات کی بنیاد پر برپا کی گئی تحریک کا رخ کسی خاص موڑ پر اس کے خلاف بھی مُڑ سکتا ہے۔ پاکستانی حکمران یہ بھول گئے تھے کہ افغانستان اپنی صدیوں پرانی تاریخ بھول کر پاکستان کا پانچواں صوبہ بننے پر کیسے رضامند ہوسکے گا۔ اور افغان مجاہدین نے بھی اس وقت یہ بات فراموش کرلی تھی کہ کیا امریکیوں کے دل میں اسلام کے لیے یک بیک اتنی محبت کیسے پیدا ہوگئی ہے کہ وہ اپنے اربوں ڈالر دے کر خود اپنے ہاتھ سے ایک اسلامی حکومت کی تعمیر کرنے چلے ہیں۔پاکستان اور افغان مجاہدین تاریخ کا یہ سبق بھی بھول گئے تھے کہ جب بھی مختلف طاقتیں آپس میں اتحاد کرتی ہیں تو ہمیشہ سب سے بڑی طاقت ہی کے مفادات پورے ہوتے ہیں۔ چنانچہ تاریخ نے اِن تینوں طاقتوں کو اپنی اپنی منافقت اور خودغرضی کا بھرپور سبق سکھایا۔ 
1990ء کی خلیجی جنگ میں کویت کو آزاد کرانے کے لیے، اقوامِ متحدہ کے تحت، سب سے بڑا کردار امریکہ نے ادا کیا۔ ظاہر ہے کہ اس سے امریکہ کا اصل مقصد یہ تھا کہ مغرب کو تیل کی فراہمی بغیرکسی رکاوٹ کے جاری رہے۔ خلیجی جنگ میں کامیابی کے فوراً بعد امریکہ نے سعودی عرب میں اپنے فوجی اڈے بنالیے۔ ان فوجی اڈوں سے عالمِ اسلام میں بڑا غم وغصہ پیدا ہوا، اس لیے کہ سرزمینِ عرب کو سب مسلمان بہت مقدس مانتے ہیں۔ یہ امریکہ کی ایک بھیانک غلطی بلکہ جُرم تھا، کیونکہ اسی اقدام نے بن لادن کو امریکہ دشمنی پر آمادہ کیا اور القاعدہ کی بنیاد پڑی۔ 
گیارہ ستمبر2001ء کو نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے دونوں ٹاوروں پر ہوائی جہازوں کے ٹکرانے کے ذریعے خودکش حملہ کیا گیا۔ اسی دن امریکی وزارت دفاع کے واشنگٹن میں مرکزی بلڈنگ پینٹاگان پر بھی ایسا ہی خودکش حملہ کیا گیا، جب کہ خود کش حملے کے لیے استعمال کیا جانے والا ایک اور جہاز خودکش حملہ آوروں اور مسافروں کے درمیان جھگڑے کے دوران میں زمین پر گر کر تباہ ہوگیا۔ ان حملوں، جن کو اب مختصراً نائن الیون کا نام دیا جاتا ہے، موجودہ حالات کا پورا دھارا بدل دیا۔ امریکہ نے فوراً کہا کہ ہمارا سب بڑا شک بن لادن اور اس کے ساتھیوں پر ہے، چنانچہ اس نے افغا نستان کی طالبان حکومت کو الٹی میٹم دیا کہ وہ ان لوگوں کو تحقیقات اور مقدمہ چلانے کے لیے امریکہ کے حوالے کردے۔ طالبان نے ایسا کرنے سے انکار کردیا، چنانچہ دومہینے بعد یعنی نومبر2001ء میں امریکہ نے افغانستان پر بمباری شروع کردی اور طالبان حکومت کو گرانے کے لیے شمالی اتحاد کی عملی مدد بھی شروع کردی۔ چار مہینے کے اندر اندر، امریکہ، غیر پختون شمالی اتحاد اور ان کے پختون ساتھی حامد کرزئی کی مدد سے طالبان حکومت کو ختم کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ 
طالبان حکومت تو ختم ہوگئی لیکن نہ بن لادن کو پکڑا جاسکا اور نہ اس کے کسی قریبی ساتھی کو پکڑا جاسکا۔ حتیٰ کہ ملاعمر بھی امریکیوں کے ہاتھ نہیں آسکے۔ گویا اس جنگ کے ذریعے امریکہ اس حد تک تو کامیاب رہا کہ اس نے القاعدہ کو وقتی طور پر نقصان پہنچا دیا، لیکن اس پہلو سے وہ ناکام رہا کہ نائن الیون کے ذمہ دار ابھی تک کٹہرے سے بہت دور ہیں۔ 
افغان کے اندر اپریل 1978ء سے جو غیر یقینی صورت حال پیدا ہوئی تھی، وہ اب تک باقی ہے۔ افراتفری اور خانہ جنگی موجود ہے۔ امریکی اور نیٹو کی افواج افغان سرزمین پر موجود ہیں ۔فی الوقت نہ وہ جاسکتی ہیں اور شاید جانا بھی نہیں چاہتیں۔ 
حامد کرزئی کی حکومت بننے کے فوراً بعدامریکہ نے افغانستان میں تعمیرِ نو کے لیے جو وعدے کیے تھے، ان کو پورا کرنے میں بھی وہ ناکام رہا۔ اس لیے کہ اس کے ایک سال چار مہینے بعد امریکہ نے، بغیر کسی حقیقی وجہ کے، عراق پر حملہ کردیا۔ اس حملے کے نتیجے میں وہ عراق میں بری طرح پھنس گیااب تک اُس کے عراق میں ایک ٹریلین یعنی ایک ہزار ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ چنانچہ اس وجہ سے افغانستان کی تعمیرِ نو سے اس کی توجہ ہٹ گئی۔ 
سوال یہ ہے کہ کیا نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملہ کرکے امریکہ نے اپنے حق میں اچھا کیا یا برا کیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حملہ امریکہ کے لیے مزید مصیبتیں پیدا کرنے کا باعث بن گیا ہے۔ چونکہ اس حملے کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ افغانی بھی ہوائی بمباری کا شکار ہوئے، اس لیے پشتو بولنے والے علاقوں میں خصوصاً، اور عالم اسلام میں عموماً غم وغصہ پیدا ہوگیا۔ اس غم وغصے کی وجہ سے بے شمار جگہوں میں علاقائی خودمختار القاعدہ جیسی تنظیموں نے جنم لیا۔ دوسری طرف عوام کے اندر بھی امریکہ کے خلاف ایک بڑی نفرت کی لہر دوڑ گئی۔ چونکہ افغانستان میں تعمیر نو کاکام بھی حسب توقع نہ ہوسکا، اس لیے افغان عوام کے اندر بھی مایوسی نے جنم لیا جس سے طالبان کو دوبارہ منظم ہونے میں مدد ملی۔ 
اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر نائن الیون کے بعد امریکہ افغانستان پر حملہ نہ کرتا اور غیر حربی طریقوں مثلاً اقتصادی ناکہ بندی کے ذریعے افغان حکومت پر دباؤ ڈالتا تو یہ طریقہ زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا تھا۔ 
مسئلہ افغانستان کا درج بالا تجزیہ خالصتاً امریکہ کے حوالے سے تھا۔ جہاں تک پاکستان اور افغانستا ن کے مفادات کا تعلق ہے، اس حوالے سے مفصل تجزیہ ایک علیحدہ باب میں کیا جائے گا۔ 


عراق میں امریکی مداخلت

ابھی افغانستان میں القاعدہ اور طالبان کا مسئلہ پورے عروج پر تھا کہ امریکہ نے یک دم عراق کی صدام حکومت کے خلاف ایک پروپیگنڈا مہم شروع کردی۔ کچھ شواہد یہ بتاتے ہیں کہ امریکہ کی ری پبلیکن حکومت نے نائن الیون سے پہلے ہی عراق پر حملہ کرکے صدام حکومت کے خاتمے کا فیصلہ کرلیا تھا، لیکن نائن الیون کی وجہ سے اس منصوبے کو موخر کرنا پڑا۔ 2002ء کے اواخر میں امریکہ نے دعویٰ کیا کہ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی کے ہتھیار Weapons of Mass Destruction موجود ہیں۔ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلئیر نے بھی صدر بش کی ہاں میں ہاں ملادی۔ اور یوں ان دونوں نے ایک نام نہاد مقدمہ تیار کرلیا۔ فرانس اور جرمنی سمیت اکثر مغربی ملکوں، روس، چین، عالم اسلام اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن کے ذمہ دار افراد سمیت سبھی ممالک اور اداروں نے امریکی دعوے کو غلط قرار دیا۔ تاہم چونکہ امریکہ اس حملے پر تلابیٹھا تھا اس لیے اس نے اپریل 2003ء میں ایک لاکھ سے زیادہ افواج کے ساتھ عراق پر حملہ کردیا اور یوں صدام حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ 
آخر امریکہ نے یہ حملہ کیوں کیا؟ ظاہر ہے کہ امریکہ کو خود بھی یہ معلوم تھا کہ (W.M.D,s) کا اس کا دعویٰ سراسر جھوٹ ہے، تو پھر اسے کیا ضرورت پڑی تھی کہ وہ عراق پر حملہ کرے۔ اس کے عموماً تین جواب دیے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس طریقے سے دراصل اسرائیل کو عراق کے متوقع حملے سے بچانا مقصود تھا۔ دوسرا یہ کہ امریکہ عراق کے تیل پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ اور تیسرا یہ کہ اس طریقے سے دراصل امریکہ کی خواہش یہ تھی کہ عالم عرب میں امریکی چھتری کے تحت ایک نام نہاد جمہوری دور شروع ہوجائے، کیونکہ اس کے خیال میں آمرانہ حکومتوں کے زیرِ اثر انتہا پسندانہ خیالات جنم لیتے ہیں اور القاعدہ جیسی تنظیموں کا جنم ہوتا ہے۔ اس راقم کے خیال میں یہی تیسری بات جزوی طور پر صحیح ہے۔ عراق میں اسرائیل کے مقابلے کا کوئی دم خم نہیں تھا۔ 1980ء میں اسرائیل نے عراق کے نیوکلئیر پلانٹ کو دو منٹ کی بمباری کے ذریعے ملیامیٹ کرکے اس کے نیوکلئیر پروگرام کو ختم کردیا تھا۔ رہی سہی کسر1991ء میں اُس وقت پوری ہوگئی تھی جب عراق نے کویت پر قبضہ کرلیا تھا اور اتحادی فوجوں کے حملے کے نتیجے میں عراق کی صدام حکومت بالکل بے دست وپا ہوکر رہ گئی تھی۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کو عراق سے فی الحال کوئی خطرہ نہیں تھا۔ جہاں تک دوسری وجہ یعنی تیل کا تعلق ہے، تو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ 1991ء کے بعد تیل کے کنوؤں پر عملاً صدام حکومت کا کوئی اختیار باقی نہیں رہا تھا۔ تیل کے اکثر کنوئیں شیعہ اکثریتی علاقوں میں تھے، جو 1991ء کے بعد عملاً خودمختار ہوچکے تھے۔ تیل کے بقیہ کنوئیں بھی، اقوام متحدہ کی ریزولیشن کے تحت صرف اور صرف ’تیل برائے خوارک‘ کے پروگرام کے تحت استعمال کیے جاسکتے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ عراقی تیل بہت عرصے سے عملاً امریکی قبضے میں تھا۔ تیل پیدا کرنے والے سارے بڑے ممالک مثلاً سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات وغیرہ پہلے سے ہی امریکہ کے پوری طرح زیرِ اثر تھے، اس لیے امریکہ کو تیل کی کمی کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا اور مستقلِ قریب میں بھی کوئی مسئلہ درپیش ہونے کا امکان نہیں تھا۔ 
چنانچہ اس راقم کے خیال میں امریکہ کا مقصد یہ تھا کہ عراق میں صدام حکومت کا تختہ الٹ کر امریکہ کے زیرِ اثر ایک نیم جمہوری حکومت قائم کردی جائے تاکہ اس طرح انتہا پسندی کو روکا جاسکے اور ممکن ہے کہ اس کے مابعد اثرات کے ذریعے عرب حکومتوں اور اسرائیل کے درمیان ایک ایسا معاہدہ امن بھی عمل میں آسکے جو سراسر اسرائیل کے مفاد میں ہو۔ 
عراق کے متعلق امریکی تجزیہ خامیوں سے بھرپور اور نہایت سطحی تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ منصوبہ خود فریبی کے سوا کچھ نہ تھا تو یہ مبالغہ نہیں ہوگا۔ امریکہ اس بات کو فراموش کر بیٹھا تھا کہ عراق کے اندر ساٹھ فیصد عرب اہل تشیع، بیس فیصد عرب اہل سنت اور بیس فیصد کرد اہل سنت موجود ہیں جن کے درمیان طاقت کا نہایت نازک توازن موجود رہے۔ اس تواز ن کے ٹوٹنے کے نتیجے میں ان تینوں طاقتوں کو متحد رکھنا ناممکن حد تک مشکل ہوگا۔ صدام حسین کے دور میں عراق پر عملاً سنی عرب برسراقتدار تھے۔ ان کے اقتدار کے خاتمے کے نتیجے میں وہ لازماً نئی سیٹ اپ کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے، کیونکہ آئندہ کسی بھی سیٹ اپ میں ان کی حیثیت ایک اقلیت کی ہوگی۔ تیل کے چشمے بھی زیادہ تر اہل تشیع کے علاقے موجود ہیں۔ دوسری طرف جب اہل تشیع کو آزادی ملے گی تو لازماً ان کا جھکاؤ ایران کی طرف ہوگا جو امریکہ کا دشمن ہے۔ تیسری طرف جب کردوں کو خودمختاری ملے گی تو اس کے نتیجے میں اردگرد کے ہمسایہ ممالک میں موجود کردوں، خصوصاً ترکی میں موجود کردگروہوں کی طرف سے بھی ایسا اقدام ہوسکتا ہے جس کے اثرات کی پیشن گوئی ناممکن ہے۔ 
چونکہ امریکہ نے یہ سارے عوامل مدِنظر نہیں رکھے تھے، اوردوسری طرف اس نے عراقی آرمی اور پولیس کو بھی تحلیل کردیا، چنانچہ اس کے نتیجے میں شیعہ اور سنی مسلح گروہوں کے درمیان ایک خونریز لڑائی چھڑ گئی جو تادم تحریر جاری ہے۔ دونوں گروہوں کے اندر، خصوصاً سنیوں کے اندر ایسے مسلح گروہ موجود ہیں جو امریکہ کے کٹر دشمن ہیں۔ چنانچہ امریکہ ایک ایسی گہری دلدل میں پھنس گیا ہے جس سے نکلنے کے لیے اسے بہت بڑے فیصلے کرنے ہوں گے اور شاید ان فیصلوں کے نتیجے میں اسے ایک بڑی سبکی بھی اٹھانی ہوگی۔ اس جنگ میں اب تک امریکہ کو کم ازکم ایک ہزار ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے، اور اس کے تین ہزار سے زیادہ سپاہی موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں۔ دوسری طرف ایک جائزے کے مطابق پچھلے چار برس میں تقریباً چھ لاکھ عراقی لقمہ اجل بن چکے ہیں، جن کی اکثریت عام نہتے شہریوں پر مشتمل ہے۔ اگر اس جائزے کو مبالغے پر بھی محمول کرلیا جائے، تو یہ بات تو یقینی ہے کہ کم ازکم چار لاکھ عراقی اب تک اس جنگ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ گویا اس جنگ میں اصل نقصان تو عراقی عوام کا ہوا لیکن دوسری طرف امریکہ کا نقصان بھی کچھ کم نہیں ہوا۔ 
اس پورے تنازعے کی ایک نمایاں بات یہ ہے کہ دنیا بھر کے امن پسند شہریوں نے اس کے خلاف اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کیا۔ امریکہ اور برطانیہ کے کئی شہروں میں لاکھوں افراد پر مشتمل ایسے تاریخی جلوس نکالے گئے جن کی مثال ملنی ناممکن ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی اکثریت، رنگ ونسل اور مذہب سے بالاتر ہوکر امن سے محبت رکھتی ہے اور جنگ سے نفرت کرتی ہے۔ 
اس تنازعے کا انجام کیا ہوگا؟ اس کا جواب آسان نہیں۔ اگر آئندہ انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی برسرِ اقتدار آگئی تو غالباً وہ امریکی فوجوں کو عراق سے جلد ازجلد نکالنے کی کوشش کرے گی۔ اس کے نتیجے میں ہوسکتا ہے کہ عراق کے اندر سنی اور شیعہ گروہوں کے درمیان تصادم مزید بڑھ جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں عراق عملاً تین حصوں میں تقسیم ہوجائے۔ اگر ایسا ہوگیا تو دنیا میں انتہا پسندی کی لہر مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے اور امریکہ کو بھی مزید ’’بن لادنوں‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری طرف اگر ری پبلکن پارٹی برسرِ اقتدار آگئی تو غالب گمان یہ ہے کہ امریکی فوجی عراق میں موجود رہیں گی۔ چنانچہ جو تضادات اور خونریزی جارہی ہے، یہی جاری رہے گی۔ گویا امریکہ کے لیے ’نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن‘ کی صورت حال پیدا ہوچکی ہے۔ 
ایک اور سوال یہ ہے کہ کیا عراق سے نکلنے کے نتیجے میں امریکہ کی سپر پاور ہونے کی حیثیت میں کوئی کمی آجائے گی؟ اس کا جواب نہیں میں ہے۔ عراق سے اپنی افواج نکالنے کی صورت میں بھی امریکہ ہی فی الحال سپر پاور رہے گا البتہ اس سے دو چیزیں واضح طور پر سامنے آجائیں گی۔ ایک یہ کہ امریکہ کے لیے آئندہ کسی بڑے ملک میں فوجی مداخلت ناممکن حد تک مشکل ہوجائے گی۔ دوسرا یہ کہ افغانستان اور عراق کے تجربے کے بعد یہ ممکن نہیں ہوگا کہ کوئی ملک یا کوئی حکمران امریکہ کی یقین دہانیوں یا اس کے وعدوں پر اعتبار کرے۔ 
درج بالا تجزیہ خالصتاً امریکہ کے حوالے سے تھا۔ جہاں تک عراق اور امتِ مسلمہ کے حوالے سے اس مسئلے کے تجزیے کا تعلق ہے، وہ آئندہ کے ایک باب میں تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔ 


امریکہ اوراسرائیل کا باہمی تعلق 

یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ اسرائیلی ریاست کی تخلیق برطانیہ کی مرہونِ منت تھی اور اب اس ریاست کی مسلسل تعمیر اور غیر متزلزل حمایت امریکہ کی طرف سے ہو رہی ہے۔ اگرچہ اسرائیل اب خود بھی درمیانے درجے کی ایک صنعتی طاقت بن چکا ہے، تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل امریکی امداد کے سہارے زندہ ہے۔ اس کے بجٹ کا دس پندرہ فیصد حصہ امریکی حکومت کی امداد اور دس پندرہ فیصد حصہ امریکی یہودیوں کی امداد پر مشتمل ہوتا ہے۔ امریکہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ امداد اسرائیل کو دیتا ہے اور یہ امداد ناقابل واپسی ہے۔ اس کے علاوہ بھی امریکہ نے یہ ذمہ داری اپنی سرلی ہوئی ہے کہ وہ اسرائیل کے ہر نقصان اور بجٹ کے خسارے کو پورا کرے گا۔ 
اگرچہ امریکہ اور کچھ دوسرے مغربی ممالک اسرائیل کو ایک جمہوری ملک قرار دیتے ہیں تاہم یہ بات حقیقت سے بہت دور ہے۔ اسرائیل اپنے ملک میں موجود گیارہ لاکھ عرب شہریوں سے عملاً دوسرے درجے کے شہریوں والا سلوک کرتا ہے۔ یہ واحد ملک ہے جہاں مذہب، کلچر اور نسل ایک ہے اور اسے ایک ہی رکھنے پر اصرار کیا جاتا ہے تاکہ یہ ملک ہمیشہ ایک خالص یہودی ملک رہے۔ ایسا ملک دکھاوے کے لیے تو جمہوریت کا ڈرامہ رچا سکتا ہے مگر حقیقت میں کبھی جمہوری ملک نہیں بن سکتا۔ اس کے باوجود امریکہ نے ہر معاملے میں اسرائیل کی اندھا دھند حمایت کی ہے۔ اسرائیل کے صریحاً ناجائز اقدامات پر بھی امریکہ نے اسے کچھ نہیں کہا۔ امریکہ نے سلامتی کونسل میں تیس مرتبہ سے زیادہ اپنا ویٹو استعمال کرکے اسرائیل کے خلاف قراردادوں کو مسترد کیا ہے۔ بے شمار دفعہ ایسا بھی ہوا ہے کہ اقوام متحدہ اور دوسرے بین الاقوامی فورموں پر امریکہ اور اسرائیل ایک طرف تھے اور باقی ساری دنیا دوسری طرف۔ یہ بات بھی ساری دنیا کے علم میں ہے کہ اسرائیل ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس کے پاس دوسو کے لگ بھگ نیوکلئیر وارہیڈز موجود ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ نے ایٹمی میدان میں بھی ہمیشہ اسرائیل کی پشت پناہی کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ آخر امریکہ کیوں ہر معاملے میں اسرائیل کی بے جا اور ظالمانہ حمایت کررہا ہے۔ اس راقم کے نزدیک اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ امریکہ اسرائیل کو اپنی اکیاون ویں(51st)ریاست سمجھتا ہے اور اسرائیل نے بھی امریکہ کو یہ باور کرایا ہوا ہے کہ وہ عملاً امریکہ کا ایک حصہ ہے اور مشرق وسطیٰ میں اس کے مفادات کا مکمل رکھوالا ہے۔ 
اس تعلق کی بنیاد اکتوبر1956ء کے بعد پوری طرح استوار ہوئی۔ یہ وہ وقت تھا جب اسرائیل نے صحرائے سینا اور غزہ کی پٹی پر حملہ کرکے انہیں دودن کے اندر فتح کرلیا۔ اس حملے میں برطانیہ اور فرانس کے ساتھ اسرائیل کا منصوبہ پہلے سے طے شدہ تھا۔ چنانچہ دودن بعد برطانیہ اور فرانس کی فوجیں اس طے شدہ منصوبے کے تحت نہرسویز میں اتر گئیں اور اس پر قبضہ کرلیا۔ اس مداخلت پر امریکہ نے سخت ردعمل کا اظہار کیا اور صدر روز ویلٹ کے الٹی میٹم پر برطانیہ، فرانس اور اسرائیل کی افواج یہ جگہیں خالی کرنے پر مجبور ہوگئیں۔ اس واقعے سے اسرائیل کو یہ سبق ملا کہ اگر اس کو زندہ رہنا ہے اور اپنی توسیع کرنی ہے تو اسے مکمل طورپر امریکہ کا آلۂ کار بن کر رہنا پڑے گا۔ چنانچہ اسرائیل نے ایسا ہی کیا ۔اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اسرائیل نے بہت کچھ داؤ پر لگادیا۔ مثلاً یہودی مذہب اپنے معاشرتی قوانین میں اسلام سے بہت زیادہ سخت ہے، اس کے باوجود اسرائیل کے اندر شراب وکباب، نائٹ کلب، ڈسکو، Gay Clubs،Lesbian Clubs، اور ہر طرح کی دوسری بے حیائیاں امریکہ سے بھی زیادہ ہیں۔ اسرائیل کے ساحلی مقامات اپنی رنگا رنگی اور تفریحات میں کسی امریکی ساحل سے کم نہیں۔ کسی بھی انسان کو امریکہ سے اسرائیل یا اسرائیل سے امریکہ جانے کے لیے چند رسمی کاروائیوں سے بڑھ کر اور کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ اسرائیل اور امریکہ درمیان ٹیلی فون کال کا خرچ لوکل کال کے برابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک امریکی سیاح اسرائیل جاتا ہے تو اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے اور اسے کہیں بھی کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہوتی۔ وہ اسرائیل کو گویا اپنے وطن ہی کا ایک ایسا حصہ سمجھتا ہے جس کی آب وہوا کچھ مختلف ہے اور جو سیاحت کے لیے بہت موزوں ہے۔ 
یہ بھی اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہے کہ اسرائیلی جمہوریت (عربوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک سے قطع نظر)، مغربی معیار پر پوری اترتی ہے۔ امریکی یہودیوں نے امریکہ کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں کئی کئی ادارے قائم کررکھے ہیں، جن میں سب سے بڑا ادارہ ہالو کاسٹ میوزیمز(Halocaust Musiums)کا سلسلہ ہے۔ ان میوزیمز کے ذریعے یہ دکھا جاتا ہے کہ ہٹلر نے کس طرح ساٹھ لاکھ یہودیوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ سارے امریکی طالب علموں کو اپنے ہائی سکول کے دوران میں ان میوزیمز کا دورہ کرایا جاتا ہے۔ امریکی سیاست کے اندر سب سے طاقتور ترین لابی امریکاً اسرائیل کمیٹی(American-Israel Committe)ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسی، نوے ممبر ہمیشہ اس کے رکن ہوتے ہیں۔ امریکہ کے اندر موجود یہودی کمیونٹی کی تعداد باون لاکھ (5.2 Million)ہے۔ گویا امریکہ کے اندر اسرائیل سے زیادہ یہودی بستے ہیں۔ اسرائیل کی حمایت میں یہ کمیونٹی مکمل متحد ہے۔ امریکی میڈیا، وکالت، میڈیکل پروفیشن اور ہیروں کی تجارت پر یہودی چھائے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ انتہائی منظم، مالدار اور باصلاحیت ہیں۔ ویسے تو امریکی یہودیوں کی نوے فیصد تعداد ڈیموکریٹک پارٹی کو ووٹ دیتی ہے اور صرف دس فیصد یہودی ری پبلکن پارٹی کوووٹ دیتے ہیں۔ لیکن مالدار یہودی تنظیموں اور افراد نے اپنے آپ کو دونوں پارٹیوں کے درمیان یوں تقسیم کیا ہوا ہے کہ دونوں پارٹیوں کے فنڈز کا ایک بڑا حصہ انہی یہودیوں کی طرف سے آتا ہے۔ چنانچہ دونوں پارٹیاں یہودی سرمائے کی محتاج ہوتی ہیں۔ 
درج بالا تجزئے سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ سیاسی مفادات کے اعتبار سے امریکہ اور اسرائیل ایک ہیں۔ چنانچہ عالم اسلام کو اسرائیل کے متعلق کوئی بھی حکمت عملی بناتے وقت اس اہم ترین نکتے کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔