پانچواں باب 

آج دنیا میں امریکہ بلاشرکتِ غیرے عظیم ترین طاقت ہے۔ یہ وسیع و عریض ملک، جس میں بیک وقت چار مختلف ٹائم زون ہیں، آج دنیا کا سب سے ترقی یافتہ دولت مند اور طاقت ور ملک ہے۔ یہ حیثیت اُسے 1945ء سے حاصل ہے، اور اس حیثیت کی وجہ سے دنیا کے ہر معاملے میں اس کی سب سے بڑی اہمیت ہے۔ اسی لیے تو فرانس کے ایک سابق صدر ڈیگال نے کہا تھا کہ ’’امریکہ ہر ملک کا ہمسایہ ہے‘‘۔ دنیا کی پوری تاریخ میں کوئی ملک اتنا امیر اور اتنا طاقتور کبھی نہیں بنا تھا جتنا آج امریکہ ہے۔ دنیا کے چھ بڑے ممالک یعنی برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان، روس اور چین کی مجموعی ٹیکنالوجی کی طاقت اُ س سے کم ہے۔ دنیا بھر کی تجارت میں اُس کا بہت بڑا حصہ ہے۔ صنعت وحرفت میں یہ سب سے آگے ہے۔ سائنس میں اُس کا کوئی ثانی نہیں۔ اسلحہ سازی میں کوئی دوسرا ملک اُس کا پاسنگ بھی نہیں۔ دنیا بھر کے ہر معاملے میں وہ سرگرمی کے ساتھ دلچسپی لیتا ہے۔ اقوام متحدہ کے اندر اس کا موقف سب سے زیادہ وزن رکھتا ہے۔ چنانچہ ہم ہی پر کیا موقوف، ہر ملک کے لیے امریکہ سے تعلق اہم ترین ایشوز میں سے ایک بن گیا ہے۔ 
امریکی موقف، اقدام اور کردار کو سمجھنے، اس کا تجزیہ کرنے اور اس کے مطابق اپنی حکمت عملی بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہمیں امریکہ سے بھرپور واقفیت ہو۔ اس کی تاریخ، اُس کے جمہوری نظام، اس کی اقدار، اُس کے کلچر، اس کے طرز زندگی، اس کے اداروں اور اس کی سوچ کے مختلف زوایوں پر ہماری پوری گرفت ہو۔ ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جب ہم کوئی حکمت عملی بنائیں گے تو وہ ہمارے مفادات، امنِ عالم اور انصاف سے قریب تر ہوگی۔ 
امریکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سپر پاور بنا۔ دراصل دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کے اندر ایک نئی مساوات نے جنم لیا۔ اس جنگ میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور روس کو سخت نقصان پہنچا، جب کہ اس جنگ میں امریکہ کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ بھی امریکہ کی طرف سے جاپان پر ایٹم بموں کے گرانے کی و جہ سے ہوا۔ چونکہ روس کے پاس اب بھی بہت بڑا علاقہ، زمین اور وسائل موجود تھے اور کاروبارِ حکومت چلانے کے لیے لاکھوں افراد پر مشتمل کمیونسٹ پارٹی کے جانبازوں اور مخلص ترین افراد کی ٹیم اور نظریہ حیات کے طورپر ایک توانا، پرعزم اور کروڑوں لوگوں کے دلوں کو گرمانے اور متحد رکھنے والا نظریہ موجود تھا، اس لیے جب چند سال بعد روس نے بھی ایٹم بم بنالیا تو وہ بھی امریکہ کے مقابلے میں سپر پاور بن گیا۔ 
یہ دونوں ممالک ایک دوسرے سے بالکل متضاد معاشی نظریے کے حامل ملک تھے، اس لیے دونوں کے درمیان آویزش قدرتی تھی۔ تاہم اس آویزش کو جس چیز نے مہمیز دی، وہ روس کی توسیع پسندانہ پالیسی تھی، جس کے مطابق یہ اس کی نظریاتی ذمہ داری تھی کہ وہ اس انقلاب کو پوری دنیا میں برپا کرے اور اس کا قاید بنے۔ اس پالیسی نے امریکہ کو یہ اخلاقی جواز فراہم کیا کہ چونکہ روس کی اس پالیسی کی وجہ سے پوری آزاد دنیا کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ امریکہ اُسے لگام دے اور اس کے بین الاقوامی عزائم کے مقابلے میں رکاوٹ بنے۔ چنانچہ اگلے چالیس برس یہ مقابلہ جاری رہا جس میں امریکہ کو 1991ء میں اُس وقت فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی جب کمیونسٹ سویت یونین کے حصے بخرے ہوگئے۔ اس راقم کے نزدیک اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ کمیونسٹ نظریے کی وجہ سے لوگوں کے اندر ذاتی محنت کا جذبہ مفقود ہوچکا تھا۔ چنانچہ جلد یابدیر اس نظام کو ختم ہونا ہی تھا۔ 


تعلیم اور جمہوریت

ہسپانوی ملاح کولمبس نے 1500ء کے لگ بھگ امریکی سرزمین دریافت کرلی تھی۔ اس وسیع وعریض سرزمین کے دریافت ہونے کے تقریباً سو سال بعد یورپی لوگوں میں امریکہ جانے اور وہاں آباد ہونے کا شوق شروع ہوا۔ امریکہ جانے والے لوگوں کی بہت بڑی اکثریت ان مہم جووؤں پر مشتمل تھی جو یورپ میں معاشی یا مذہبی تنازعات کی وجہ سے بہت تنگ تھے۔ یہ سارے کے سارے لوگ تعلیم یافتہ تھے۔ان آباد کاروں کی اکثریت انگریزوں پر مشتمل تھی، تاہم دوسرے ملکوں سے بھی لوگ امریکہ جانا شروع ہوگئے۔اُس وقت امریکہ کے اندر مقامی باشندے موجود تھے، جن کو ریڈ انڈینز کہا جاتا تھا۔ چنانچہ زمین اور قدرتی وسائل پر قبضے کے لیے نئے آبادکاروں اور ریڈانڈینز کے درمیان تنازعات اور جنگیں شروع ہوگئیں۔ چونکہ ریڈانڈینز کے پاس کوئی جدید اسلحہ نہیں تھا، اس لیے ہر جنگ میں انہیں شکست ہوتی رہی۔ یہ آبادکار اپنے ساتھ یورپ سے مختلف بیماریوں کے جراثیم بھی لے کر گئے۔ ریڈانڈینز کے جسموں میں ان جراثیم کے خلاف کوئی قوتِ مدافعت موجود نہیں تھی۔ چنانچہ اندازاً ایک کروڑ کے قریب ریڈانڈینز ان بیماریوں سے ہلاک ہوگئے، جب کہ اندازاً دس لاکھ افراد جنگوں کی نذر ہوگئے۔ (اِس وقت بھی امریکہ میں تقریباً تیس لاکھ ریڈانڈینز موجود ہیں۔ یورپیوں اور ریڈانڈینز کے درمیان آپس کی شادیوں کی وجہ سے مخلوط نسل والے بے شمار لوگ بھی موجود ہیں)۔ 
جب امریکہ کے اندر مختلف آبادیاں بن گئیں تو لوگوں کے سامنے یہ سوال پیدا ہوا کہ وہ اپنی تنظیم کس طرح کریں۔ چنانچہ ہر جگہ خودبخود ایک بلدیاتی جمہوریت نے جنم لیا۔ درحقیقت اس کے بغیر اُن کے پاس زندہ رہنے کا اور کوئی راستہ ہی نہیں تھا۔گویا امریکہ کے اندر یورپی آبادکاروں کی زندگی کی ابتدا ہی اپنے لئے جمہوریت اور ریڈ انڈینز کے لئے موت سے ہوئی۔ چونکہ 
یہ لوگ جانتے تھے کہ ایک نئے ملک میں زندہ رہنے کے لیے تعلیم بھی ازحد ضروری ہے، اس لیے ان لوگوں نے پہلے دن سے ہی تعلیم کی طرف بے انتہا توجہ دی۔ مثلاً ہارورڈ کالج کی بنیاد  1636ء میں میسا چوسٹس میں رکھی گئی۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ 1647ء میں انگریز آبادکاروں نے اپنی آبادیوں میں ابتدائی تعلیم لازمی قرار دے دی۔(تاریخی تقابل کے لیے یہ بات یاد رہے کہ یہ وہ وقت تھا جب برصغیر میں مغل بادشاہ شاہ جہاں حکمران تھا)۔ اسی صدی کے آخر میں امریکہ میں کئی کالج اور یورنی ورسٹیاں بنائی گئیں۔ چونکہ اس وقت کوئی مرکزی حکومت وجود میں نہیں آئی تھی، اس لیے یہ سب کچھ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کررہے تھے۔ اُس وقت یہ سسٹم بھی بنایا گیا کہ عام طالب علموں سے فیس لی جاتی تھی لیکن غریبوں کے لیے مفت تعلیم کی سہولت مہیا کی گئی۔ بہت جلد بڑی بڑی لائبریریاں وجود میں آنے لگیں۔ 1704ء میں بوسٹن میں پہلا اخبار شروع ہوا، اور اس کے بعد ہر شہر سے اخباروں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ (اُس وقت برصغیر میں اورنگزیب کی حکومت تھی)۔ 
یورپی ممالک خصوصاً برطانیہ یہ چاہتا تھا کہ امریکہ اس کی کالونی بنارہے، چنانچہ برطانوی حکومت نے امریکیوں پر کچھ ٹیکس عائد کرنے چاہے۔ اگرچہ امریکہ جانے والوں کی اکثریت انگریزی بولنے والوں پر مشتمل تھی، لیکن چونکہ ان کی اکثریت سلطنت برطانیہ کی باغی تھی، اس لیے انہوں نے مزاحمت کا فیصلہ کرلیا۔ اس مخالفت کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ مختلف امریکی ریاستیں ایک دوسرے کے قریب آگئیں۔ واضح رہے کہ یہ ریاستیں بھی بس ایک قدرتی انداز میں ہی وجود میں آگئی تھیں۔ چنانچہ 1765ء میں سب لوگوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کانگریس منعقد کی گئی، جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ نمائندہ اسمبلیوں کے سوا کسی اور حکومت کو ان پر ٹیکس عائد کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں۔ یہ اختلاف چلتا رہا۔ اپریل 1775ء میں برطانوی حکومت اور امریکیوں کے درمیان جنگ شروع ہوگئی۔یہ جنگ اگلے آٹھ برس تک جاری رہی، حتیٰ کہ اس جنگ میں برطانیہ کو شکست ہوئی اور 1783ء میں برطانیہ نے امریکہ کو ایک آزاد ملک تسلیم کرلیا۔ اس جنگ میں دونوں طرف سے ہزارہا لوگ ہلاک ہوئے۔ اس جنگ میں امریکی افواج کی کمان جارج واشنگٹن کے ہاتھ میں تھی۔ 1787ء میں ایک نمائندہ وفاقی کنونشن میں جارج واشنگٹن کو صدر منتخب کرلیا گیا۔ پہلے دن سے ہی یہ فیصلہ کیا گیا کہ امریکہ ایک جمہوری آئین کے تحت زندہ رہے گا اور اس میں تعلیم اور انصاف کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے گی۔ اگرچہ جارج واشنگٹن خود بھی ایک سپہ سالار تھا، لیکن اسے بھی باقاعدہ جمہوری طریقے سے منتخب کیا گیا۔ صدارت کی دومدت یعنی آٹھ برس گزارنے کے بعد اُس نے یہ فیصلہ کرلیا کہ وہ اب دوسرے رہنماوؤں کے لیے کرسی خالی کردے گا۔ یہ وہ وقت تھا جب سارے امریکی یہ چاہتے تھے کہ جارج واشنگٹن ہی صدارت کی کرسی پر فائز رہے، لیکن اُس نے کہا کہ جمہوریت کی ترقی کے لیے یہ ضروری ہے کہ میں اقتدار سے علیحدہ ہوجاؤں۔ چنانچہ اقتدار سے علیحدگی کے بعد وہ واشنگٹن سے ڈیڑھ سو میل کے فاصلے پر اپنی جاگیر ماونٹ ورنن چلاگیا، جہاں وہ زندگی کے آخری لمحے تک اپنی زراعت کو ترقی دیتا رہا اوراس کے لیے تجربات کرتا رہا۔ 
1812ء میں ایک دفعہ پھر برطانیہ اور امریکہ کے درمیان کینیڈا کے مسئلے پر جنگ چھڑ گئی۔ یہ جنگ تین برس تک جاری رہی اور اس میں بھی دونوں طرف سے ایک لاکھ کے قریب افرادقتل ہوئے۔ اس جنگ میں نہ کوئی جیتا اور نہ ہارا۔ بالآخر دونوں طاقتوں کو آپس میں صلح کرنی پڑی۔ 
امریکہ کی جنوبی ریاستوں کے پاس بہت بڑی زرعی زمین تھی۔ان زمینوں کی کاشت کے لیے صرف سفید فام لوگ کافی نہیں تھے۔ چنانچہ جنوبی ریاستوں نے اپنی زمینوں کو آباد کرنے کے لیے ایک انتہائی ظالمانہ اور سفاکانہ فیصلہ کیا۔ وہ یہ کہ انہوں نے بحری جہازوں کے ذریعے افریقہ پہنچ کر وہاں سے لاکھوں لوگوں کو اغوا کیا اور انہیں بطورِ غلام لاکر اپنی زمینوں کو ان کے ذریعے آباد کیا۔ ان غلاموں کو انتہائی ناگفتہ بہہ حالات میں افریقہ سے امریکہ لایا جاتا تھا، چنانچہ بے شمار افریقی راستے ہی میں مرجاتے تھے۔ واضح رہے کہ امریکہ کی تیرہ شمالی ریاستوں نے اس میں کوئی حصہ نہیں لیا۔ گویا اُس وقت امریکہ دو حصوں میں تقسیم ہوگیا، ایک شمالی آزاد پسند حصہ، اور دوسرا جنوب کا غلامی پسند علاقہ۔ (ان غلاموں کی اولاد آج بھی امریکہ کی آبادی کا گیارہ فیصد ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اُس زمانے میں کتنے بڑے پیمانے پر غلاموں کی تجارت ہوئی ہوگی) ۔رفتہ رفتہ یہ مسئلہ امریکہ کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا اور شمالی ریاستوں نے اعلان کردیا کہ وہ غلامی کو مٹاکر رہیں گے۔ اس تحریک کو 1830ء میں اُس وقت پہلی کامیابی حاصل ہوئی جب کانگریس میں یہ فیصلہ ہوا کہ آئندہ افریقہ سے غلاموں کو لانا اور غلاموں کی تجارت جرم ہوگا۔ اس وقت شمالی علاقوں میں دوہزار سے بھی زیادہ ایسی تنظیمیں بنیں جو غلاموں کو فرار ہونے میں مدد دیتی تھیں او ر پھر ان کو بحیثیت آزاد انسان جائے پناہ مہیا کرتیں۔ شاعروں، قانون سازوں، اخباروں اور افسانہ نگاروں نے اس میں بھرپور حصہ ادا کیا۔ مثلاً ایک کتاب ’’انکل ٹام نامی ایک غلام کی موت‘‘ نامی کتاب 1852ء میں شائع ہوئی اور ایک سال کے اندر اندر اُ س کی تیس لاکھ سے زیادہ کاپیاں چھپ کر فروخت ہوگئیں۔ 1860ء میں ری پبلکن پارٹی نے ابراہیم لنکن کو عہدہ صدارت کے لیے نامزد کرتے وقت اعلان کردیا کہ اب وہ ہر صورت میں امریکہ سے غلامی کی لعنت ختم کرکے دم لے گی۔ چنانچہ لنکن کی کامیابی کے فوراً بعد شمالی اور جنوبی ریاستوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ میں شمالی ریاستوں کی طرف سے بیس لاکھ سے زیادہ افراد نے شرکت کی۔ ان میں وہ پچاس ہزار سفید فام اور ایک لاکھ افریقی بھی شامل تھے جو اگرچہ جنوبی ریاستوں سے تعلق رکھتے تھے، لیکن غلامی کے خلاف ہونے کی وجہ سے انہوں نے شمالی ریاستوں کی فوج میں شامل ہوکر جنگ لڑی۔ اس لڑائی میں جنوب کی طرف سے بھی تقریباً آٹھ لاکھ سپاہی موجود تھے۔ اُس وقت شمالی ریاستوں کی تعداد تیس تھی اور اُن کی مجموعی آبادی دوکروڑ بیس لاکھ تھی۔ اس کے مقابلے میں غلامی پسند جنوبی ریاستوں کی تعداد گیارہ تھی اور ان کی آبادی نوے لاکھ تھی۔ یہ جنگ اگلے چار برس تک جاری رہی۔ اس میں دونوں طرف سے لاکھوں سپاہی ہلاک ہوئے، جن کی بہت بڑی اکثریت سفید فاموں پر مشتمل تھی۔اس جنگ میں شمالی ریاستوں کو لنکن کی سرکردگی میں فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی اور اس کے نتیجے میں غلامی کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا۔ 
اس جنگ کے نتیجے میں امریکہ حقیقی معنوں میں ایک ملک بن گیا۔ اور اس کے بعد سب لوگوں نے تعمیرِ نو کی طرف توجہ دی۔ خصوصاً سائنسی علم کی طرف اتنی بڑی توجہ دی گئی کہ اگلے چالیس برس میں چھ لاکھ سے بھی زیادہ نئی ایجادات کو پیٹنٹ کرایا گیا۔ اب یہ ایڈیسن، مورس اور گراہم بیل جیسے سائنس دانوں کا دور تھا۔ یہ ترقی مسلسل جاری رہی، حتیٰ کہ پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی۔ اس جنگ کی ابتدا میں امریکہ شریک نہیں تھا۔ تاہم جرمنی نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ برطانیہ اور فرانس سے ہر طرح کے تجارتی تعلقات ختم کردے۔ امریکہ نے اس سے انکار کیا۔ چنانچہ جرمن آبدوز کشتیوں نے امریکی تجارتی جہازوں پر حملے شروع کردیے۔ جنگ کے آخری سال میں امریکہ نے بھی جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کیا اور اپنے بیس لاکھ سے زیادہ سپاہی فرانس اور بر طانیہ کے دفاع کے لیے بھیجے۔ اس کی وجہ سے جرمنی کو فیصلہ کن شکست ہوگئی۔ 
دوسری جنگ عظیم کی ابتدا میں بھی امریکہ نے حصہ نہیں لیا۔ تاہم جنگ شروع ہونے کے تین سال بعد، جب جاپان نے امریکی بندرگاہ پرل ہاربر پر ایک زبردست حملہ کرکے ہزاروں امریکی فوجیوں اور سینکڑوں امریکی بحری جہازوں کو تباہ کرلیا، تو امریکہ نے جاپان کے خلاف اعلان جنگ کرلیا۔ اس جنگ میں ساڑھے چھ لاکھ امریکی سپاہیوں نے حصہ لیا۔ اس جنگ کا خاتمہ امریکہ کی طرف سے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم کے حملے سے ہوا۔ اس حملے میں ان دونوں شہروں کے تقریباً دولاکھ عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔ ظاہر ہے کہ امریکہ کی طرف سے یہ ایک کھلی دہشت گردی تھی، کیونکہ اس حملے کے بغیر بھی جاپان کو شکست دی جاسکتی تھی۔ 


امریکی جمہوریت 

جیسا کہ ہم نے دیکھا، امریکہ کی زندگی میں کئی اندرونی لڑائیاں ہوئی ہیں۔ تاہم اس کے باوجود پہلے دن سے ہی امریکی جمہوریت پختہ بنیادوں پر قائم ہے۔ پچھلے سو برس سے ہر چار سال بعد نومبر کے مہینے کے پہلے ہفتے میں صدارتی انتخاب ہوتا ہے۔ کانگریس کا انتخاب ہر چھ برس بعد ہوتا ہے۔ یہ انتخاب آبادی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ سینٹ کا انتخاب ہر دوبرس بعد ہوتا ہے اور ہر ریاست سے دو سینیٹرز منتخب ہوتے ہیں۔ دونوں بڑی پارٹیوں کے اندر بھی کامل جمہوریت ہے۔ شروع سے ہی دھاندلی کا تصور نہیں ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہاں سب کچھ پہلے دن سے ہی ٹھیک ہے۔ وہاں کے منتخب ارکانِ پارلیمنٹ اور دوسرے ذمہ دار افراد کی ایک بڑی تعداد بہت عرصے تک کرپٹ رہی ہے، اور اس خامی پر ایک لمبی جدوجہد کے بعد ہی جاکر قابو پایا جاسکا ہے۔ ایک زمانے میں منتخب امریکی حکمران اپنے ذاتی مفادات کے لیے وہ سب کچھ کرتے تھے، جو آج پاکستان کے منتخب حکمران کرتے ہیں۔ 
امریکی جمہوریت کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس کی بنیاد سرمائے پر ہے۔ ہر انتخاب میں اربوں ڈالر لگتے ہیں۔ یورپی ممالک کے برعکس یہاں پیسے کے بغیر کوئی سیاست دان ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اگرچہ اس سارے سسٹم کو قانون کے دائرے میں لایا گیا ہے اور چندے کے ہر ڈالر کا حساب رکھا جاتا ہے۔ تاہم اپنی بنیاد میں یہ ایک کامل سرمایہ دارانہ جمہوریت ہے۔ ظاہر ہے کہ کانگریس اور سینٹ کا ہر ممبر اُن تمام اداروں کے مفادات کا پورا پورا خیال رکھتا ہے جنہوں نے اُسے انتخاب کے لیے چندہ دیا ہوتا ہے۔ 


امریکہ اور ویت نام کی جنگ 

دوسری جنگ عظیم میں ویت نام جاپانی قبضے میں آگیا تھا۔ جاپان کی شکست کے بعد جنوبی حصے کو فرانس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ جب کہ شمالی حصے میں چین کے زیرِ اثر ایک آزاد کمیونسٹ حکومت قائم ہوگئی۔ جنوبی حصے کے اکثر لوگ بھی کمیونزم کو پسند کرتے تھے اور شمالی ویت نام کے ساتھ ملنا چاہتے تھے۔ فرانس اور امریکہ دونوں ہی اس کے مخالف تھے۔ اگرچہ درمیان میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کئی بین الاقوامی کانفرنسیں ہوئیں، تاہم ان میں سے اکثر معاہدوں کی فرانس اور امریکہ نے پابندی نہیں کی۔ بالآخر امریکہ نے اپریل 1965ء میں جنوبی ویت نام کی حکومت کو بچانے کے لیے اپنی افواج بھیجیں۔ دوسری طرف روس اور چین نے شمالی ویت نام کی حمایت شروع کردی۔ اُس وقت جنوبی ویت نام کے اندر ایک بہت بڑی گوریلا تحریک ’’ویت کانگ‘‘ کے نام سے شروع ہوئی۔ یہ لڑائی کم وبیش آٹھ برس تک جاری رہی اور اس میں امریکہ کے لاکھوں فوجیوں نے حصہ لیا۔ ایک وقت میں وہاں امریکی فوجیوں کی تعداد پانچ لاکھ چھتیس ہزار تک بھی پہنچ گئی تھی۔ اس لڑائی میں امریکہ کو شکست فاش ہوئی اور 1973ء میں امریکہ کو وہاں سے نکلنا پڑا۔ اس لڑائی میں امریکہ کے اڑسٹھ ہزار (68000) فوجی ہلاک ہوئے۔ اس سے زخمی فوجیوں اور دوسرے نقصان کا بخوبی اندازہ لیا جاسکتا ہے۔ اپنی پوری تاریخ میں یہ امریکہ کی سب سے بڑی شکست تھی۔ تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ پر اہم ہے کہ اس شکست سے امریکہ کو نہ تو معاشی طور پر کوئی نقصان پہنچا اور نہ اس کے سپر پاورہونے میں کوئی مسئلہ پیدا ہوا۔