اٹھائیس واں باب 

اکثر اوقات مختلف اقوام اپنے کسی جذباتی اقدام کے لیے یہ جواز پیش کرتی ہیں کہ یہ اقدام دراصل دشمن کے فلاں اقدام کا ردعمل ہے۔ ردعمل کے اس جواز کے ذریعے وہ اپنے لوگوں کو ابھارنے کی کوشش بھی کرتی ہیں اور ایک غلط کام کے لیے وجہ فراہم کرنے کی بھی سعی کرتی ہیں۔ دنیا کی پچھلی تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ردِعمل کے تحت کیا گیا ہر فوری اقدام اُس قوم کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ 
یہ یادرکھنا چاہیے کہ عمل کے مقابلے میں فوری ردعمل ایک طبعی قانون (Physical Law)ہے۔ اس کے مقابلے میں انسان کے لیے روحانی قانون (Spiritual Law) یہ ہے کہ عمل کے مقابلے میں صبر اور ٹھنڈے دل ودماغ سے کام لیا جائے، پھر بالکل غیر جذباتی انداز میں سارے حالات کا تجزیہ کیا جائے، اور وہی قدم اٹھایا جائے جو دستیاب حالات میں قوم کی زندگی کے لیے مناسب ہو۔ دشمن کے کسی اقدام کے نتیجے میں غصہ، جذباتیت اور فوری اشتعال کے تحت ردعمل ظاہر کرنا کسی قوم کے طویل المیعاد مفادات کے بالکل خلاف ہوتا ہے اور قوم کو اُس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ 
مسلمان قوم اس ردعمل کی نفسیات میں بُری طرح گرفتار ہے۔ دشمن کے ہر اقدام کے جواب میں ہم ایک فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ چونکہ ہمارے اقدام کے پیچھے پوری تیاری نہیں ہوتی، اور ہم نے یہ تجزیہ بھی نہیں کیا ہوتا کہ ہمارے اقدامات کی کامیابی یا ناکامی کے نتیجے میں کیا ہوگا، اس لیے یہ اقدامات اُلٹ نتائج پیدا کرتے ہیں، یعنی Counter Productive ہوتے ہیں۔ اس کی ایک مثال خودکُش حملے ہیں۔ ان خودکُش حملوں نے اسرائیل، امریکہ اور بھارت کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچایا، البتہ ان حملوں کو جواز بناکر ان ملکوں نے مسلمانوں کے خلاف بہت سے طویل المیعاد اقدامات کر ڈالے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان ملکوں نے اپنی پروپیگنڈا مشینری کے ذریعے دنیا کے عام انسانوں کو اپنے حق میں کرلیا۔ چنانچہ ظالم اور مظلوم کا فرق ختم ہوگیا۔ مثلاً دنیا کے بے شمار لوگ اسرائیل کو ظالم سمجھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ان خودکُش حملوں کو بھی غلط سمجھتے ہیں۔ چنانچہ اس سے فلسطینیوں کی جدوجہد کے اخلاقی اور عسکری پہلوؤں کو بڑا نقصان پہنچا۔ 
ہمارے اکثر رہنما ردعمل کی نفسیات کے تحت عوام کے جذبات کو گرم کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ان تقاریر اور نعروں کی وجہ سے مسلمانوں میں ایک وقتی اشتعال، ہیجان اور غیض وغضب پیدا ہوجاتا ہے، وہ سوچتے ہیں کہ ہمیں بدلہ لینے کے لیے فوری طور پر کچھ کرنا چاہیے۔ جب بدلہ لینے کے لیے ان کو دشمن نہیں ملتا تو اسی اشتعال کی تسکین وہ بے معنی توڑ پھوڑ کی شکل میں کرتے ہیں، جیسا کہ توہین آمیز کارٹونوں کے خلاف مظاہروں میں پشاور ،کراچی اور لاہور میں ہوا ،جہاں اپنے ہی لوگوں کی اربوں روپے کی مالیت کے سامان کو تباہ و برباد کیا گیا۔ 
اس کے بجائے اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان قوم کو فوری ردعمل کی نفسیات سے نکال کر ایک مسلسل ’احساسِ زیاں‘ یعنی اپنے نقصان کا شعور دیا جائے اور اسے بتایا جائے کہ ہر مسئلے کا حل صبرواستقامت میں پوشیدہ ہے۔ جب تک ہم دشمن کے مقابلے کے لیے پوری طرح تیار نہیں ہوں گے، تب تک ہر فوری ردعمل ہمارے لیے مزید بڑی نقصان کا باعث ہوگا۔ اقبال نے کیا خوب کہا تھا: 
تونے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے 
حق تجھے میری طرح صاحبِ اسرار کرے
ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق 
جو تجھے حاضروموجود سے بیزار کرے 
دے کے احساسِ زیاں تیرے لہو گرما دے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے
 
حضورؐ کی ساری زندگی ہمیں فوری ردعمل کے کسی شائبے سے بھی خالی لگتی ہے۔ بارہا ایسا ہوتا تھا کہ مسلمان اشتعال میں آجاتے تھے، مگر حضورؐ ہمیشہ صبر کی تلقین کرتے تھے۔ جب مکی دور میں حضرت یاسرؓ اور ان کی اہلیہ کو ابوجہل نے انتہائی ظالمانہ طریقے سے شہید کرلیا، تو حضورؐ اُن کے اہل خانہ کے پاس تشریف لے گئے اور اُن سے ارشاد فرمایا’’اے آلِ یاسر، اس ظلم کے بدلے میں تمہیں جنت کی بشارت دیتا ہوں‘‘۔ اُس وقت اگر حضورؐ چاہتے تو فوری ردعمل کی نفسیات کے تحت ایک خفیہ مسلح گروہ تشکیل دے کر ابوجہل سے بدلہ لے سکتے تھے، لیکن چونکہ ایسا اقدام مسلمانوں کے مجموعی مفاد کے خلاف ہوتا، اس لیے حضورؐ نے سب کو صبر کی تلقین کی، حتیٰ کہ کئی برس بعد وہ وقت آگیا جب ابوجہل کو اپنے کیفرکردار کو پہنچا دیا گیا۔ 
جنگ احزاب بھی اس کی ایک مثال ہے۔ فوری ردعمل کی نفسیات کے تحت تو سب سے اچھا طرزعمل یہ ہوتا کہ دشمن سے دوبدو لڑائی کی جاتی۔ اگر فتح نصیب ہوجاتی تو کیا کہنے، اور اگر سب مسلمانوں کو شہادت نصیب ہوجاتی تو جنت میں جانے کے لیے سب کو شارٹ کٹ مل جاتا۔ لیکن چونکہ اُس وقت دشمن سے لڑائی مول لینا مسلمانوں کے مفاد میں نہیں تھااس لیے حضورؐ اور صحابہ کرامؓ نے خندق کھود کر مدینہ کو قلعہ بند کرلیا۔ اُس موقعے پر دشمن مسلمانوں کو یہ طعنے دیتے کہ تم خندق کے پیچھے چھپ گئے ہو، پھر اُن کو غیرت دلاتے کہ آؤ میدان میں آکر ہمارا مقابلہ کرو۔ لیکن مسلمان ان کی چال میں نہ آئے۔ اس کے بعد جب دشمن اپنے دلوں کی جلن لیے واپس لوٹ گیا تو یہی موقع تھا بنی قریضہ کو اُس کی غداری کی سزا دینے کا۔ چنانچہ اس یہودی قبیلے کو اس کی غداری کو قرار واقعی سزادی گئی۔ 
فوری ردعمل سے بچنے کی ایک اور مثال صلح حدیبیہ ہے۔ اس موقعے پر سب اہل ایمان نے حضورؐ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اور اگراُس وقت لڑائی کی نوبت آجاتی تو یقیناًمسلمانوں کو فتح نصیب ہوتی۔ لیکن اس فتح کا ایک بڑا نقصان یہ ہوتا کہ مسلمانوں پر یہ الزام لگتا کہ ان لوگوں نے حرم میں خون خرابہ کیا ہے، یوں سرزمینِ عرب کے باقی لوگ اسلام قبول کرنے سے رُک جاتے۔ چنانچہ جوں ہی یہ محسوس ہوا کہ دشمن صلح پر آمادہ ہے تو حضورؐ نے اللہ کے حکم کے تحت، صلح پر آمادگی ظاہر فرمائی۔صلح نامے کی شرائط بظاہر مسلمانوں کے خلاف تھیں اور ان سے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے مسلمان دب کر صلح کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ کی بہت بڑی اکثریت ان شرائط پر دل ہی دل میں بہت ناراض اور غمگین تھی۔ لیکن حضورؐ جانتے تھے کہ اس صلح کے نتیجے میں مسلمانوں کو یہ موقع ملے گا کہ وہ سرزمینِ عرب کے ہر گوشے میں بلا خوف وخطر جاکر اسلام کی دعوت لوگوں کو پیش کرسکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بظاہر دب کر کی جانے والی صلح کو قرآن مجید نے ’فتح مبین‘ یعنی ایک واضح کامیابی قرار دیا۔ بعد کے واقعات نے یہ ثابت کردیا کہ ایسا ہی ہوا۔ جب مسلمانوں کو صلح وامن کا ایک وقفہ میسر آیا تو اگلے دوبرس کے اندر اتنے زیادہ لوگوں نے اسلام قبول کرلیا جتنا اس سے پہلے سولہ سترہ برس میں نہیں ہوسکاتھا۔ گویا اس طریقے سے حضورؐ نے فوری ردعمل سے بچتے ہوئے دشمن سے اُس کی من مانی شرائط پر امن کا وقفہ خرید لیا۔ حضورؐ کا یہ اسوہ حسنہ ہر وقت ہمارے سامنے رہنا چاہیے۔ 
ہمارے لیے اصل راستہ صبر اور غیر جذباتی روش کا ہے۔ مقابل قوتوں کے ہر جارحانہ اقدام کے جواب میں ہمیں مزید جاں فشانی کے ساتھ جمہوریت انصاف اور سائنس وٹیکنالوجی کے حصول پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ جب ان میدانوں میں ہم ایک خاص معیار تک پہنچ جائیں گے تو مقابل طاقتوں کو ہمارے خلاف کسی جارحانہ اقدام کا حوصلہ ہی نہیں رہے گا۔