۴-علامہ ابن قیم رحمہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں اعتراض وجواب کا طریقہ اختیار نہیں کیا ہے کہ پہلے شبہات وارد کریں اور پھر ان کے جواب دیں ۔ انہوں نے قسم کی حکمت سے بحث کی ہے کہ اور اس سلسلہ میں ایسی باتیں بیان فرمائی ہیں جن سے شبہات کا ازالہ ہوتا ہے اور اعتراضات کی جڑ کٹتی ہے۔ جہاں تک ان کے اصلی جواب کا تعلق ہے میں اس کو ٹھیک سمجھتا ہوں، لیکن امام رازیؒ کی طرح وہ بھی اس جواب پر پوری طرح مطمئن نہیں ہیں بلکہ مذبذب اور مردو ہیں ۔ وہ اپنی کتاب میں جہاں قسم والی سورتوں کی تفسیر  شروع کرتے ہیں کسی ایک اصول کو مضبوطی سے نہیں پکڑتے، کبھی کچھ کہہ دیتے ہیں کبھی کچھ میں چاہتا ہوں کہ ان کے جواب کا خلاصہ اس کتاب کو پڑھنے والوں کے سامنے پیش کردوں اور اپنے طریقے کے مطابق اس میں جو کمزوریاں ہیں ان کی طرف بھی اشارہ کردوں۔

علامہ ابن قیمؒ کے متعلق پہلی بات یہ یاد رکھنی چاہیے کہ انہوں نے استقراء کا طریقہ اختیارکیا ہے یعنی پہلے اس امر کو ثابت کیا ہے کہ قرآن میں جتنی قسمیں ہیں سب اللہ کی ،اس کی صفات کی اور اس کی آیات کی قسمیں ہیں چنانچہ فرماتے ہیں۔

’’اللہ تعالیٰ بعض چیزوں کی بعض چیزوں پر قسمیں کھاتا ہے اور اس کی قسمیں اپنی ذات کی ہوا کرتی ہیں جو خاص صفات سے متصف ہے ۔ یا ان نشانیوں کی جو اس کی ذات وصفات کو مستلزم  ہیں  اور جو کہیں کہیں بعض مخلوقات کی قسم کھائی ہے تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ وہ مخلوقات اللہ تعالیٰ کی بڑی نشانیوں میں سے ہے۔"

 چند مثالیں ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

’’اس امر کو سمجھنے کے بعد یہ جاننا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ایمان کی ان اصولی باتوں پر قسم کھاتا ہے جن کی معرفت خلق پر واجب ہے، چنانچہ کبھی توحید پر قسم کھاتا ہے ،کبھی قرآن کے جن ہونے پر ،کبھی رسول کی صداقت پر کبھی جزا اور وعدہ وعید کے وقوع اور کبھی انسان کے حال ومآل پر‘‘۔

اس سے معلوم ہوا کہ علامہ ابن قیمؒ کے نزدیک تمام قسمیں تین چیزوں پر منحصر ہیں اور ان تین کا محور بھی، جیسا کہ ابھی خود ان کے بیان سے واضح ہو جائے گا۔ ایک ہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات۔

اس تمہید کے بعد علامہ ابن قیمؒ کو جواب قسم کے بارے میں کھوج کرید کی کچھ ایسی ضرورت باقی نہیں رہی کیونکہ ان کے نزدیک مقسم علیہ معلوم ومتعین ہے یعنی توحید ،نبوت قیامت، اورقسم خود بخود ان پر دلالت کرتی ہے۔ چنانچہ وہ سورہ عادیات اور سورہ والعصر کی قسم کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’یہاں جواب قسم حذف کردیا گیا کیونکہ یہ معلوم ہے کہ انہیں تین امور(توحید، نبوت،قیامت )پر قسم کھائی جاتی ہے اور یہ تینوں باہم دگر،لازم وملزم ہیں ۔ جب یہ ثابت  ہو گیا کہ رسول حق ہے تو قرآن اور معاد بھی ثابت ہوگیا اور جب یہ ثابت ہو گیا کہ قرآن حق ہے تو اس رسول کی صداقت اور اس کتاب کی صداقت بھی ثابت ہوگئی جس میں وعدہ و وعید کا حق ہونا ثابت ہو گیا تو رسول کی صداقت اس کی کتاب کیصداقت بھی ثابت ہوگئی جس میں وہ وعدہ وعید وارد ہے اور جواب کبھی حذف کردیا جاتا ہے اور اس کا ذکر مقصود نہیں ہوتا۔ بلکہ وہاں محض مقسم بہ کی تعظیم مقصود ہوتی ہے اور یہ ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے کہ یہ قسم کھانے کے لائق چیزوں میں سے ہے‘‘۔

پس یہ تمام قسمیں علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی صفات پر دلیل ہیں ۔ چنانچہ وہ سورہ بروج کی قسم کی نسبت فرماتے ہیں۔

’’یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں اور اس کی وحدانیت کے دلائل ہیں‘‘

پھر فرماتے ہیں:

’’اور اولیٰ یہی ہے کہ یہ قسم جواب سے مستغنی ہو کیونکہ یہاں مقصود  مقسم بہ پر متنبہ کرنا اور یہ بتانا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان نشانیوں میں سے ہے‘‘

یہی بات سورہ طارق کی قسم کی بابت فرماتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ نے آسمان اور اس کے روشن ستاروں کی قسم کھائی اور ان میں سے  ہر ایک اس کی توحید کی نشانیوں میں سے ہے‘‘۔

اس سورہ کے وسط کی قسم کی بابت فرماتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ نے بارش والے آسمان اور نباتات سے معمور زمین کی قسم کھائی اور ان میں سے ہر ایک اس کی نشانیوں سے ایک نشانی ہے جو اس کی پروردگاری پر دلیل ہے‘‘۔

سورہ انشقاق کے اخیر کی قسم کی بابت فرماتے ہیں:

’’یہ(یعنی شفق،لیل اورقمر) اور اس طرح کی تمام چیزیں نشانیاں ہیں جو خدا کی ربوبیت پر دلیل ہیں اور اس کے صفات کمال کے علم کو   مستلزم  ہیں‘‘۔

اس قسم کے جواب کی نسبت فرماتے ہیں:

’’جائز ہے کہ یہ اس قسم میں سے ہو جس کا جواب مخدوف ہوا کرتاہے‘‘۔

ہم اوپر لکھ آئے ہیں کہ علامہ ابن قیمؒ کو جواب قسم کے لیے کچھ ایسی کریدنہیں ہے کیونکہ مقسم علیہ ان کے نزدیک بالکل معلوم ومتعین ہے۔ اس تفصیل کے بعد امام رازیؒ اور علامہ ابن قیمؒ کے نقطہ نظر کا فرق بالکل واضح ہو گیا۔ امام رازیؒ مختلف جوابات کی طرف اشارے کرتے ہیں اور بعض اوقات یہ جواب باہمد گرمتناقض ہوتے ہیں، لیکن علامہ ابن قیمؒ نے ایک متعین راہ اختیار کی ہے اور وہ تمام قسموں کی تاویل میں اسی ایک راہ پر چلتے ہیں ہمارے نزدیک یہ طریقہ بہتر ہے۔

اب ہم علامہ ابن قیمؒ کے طریق جواب کا لب لباب سامنے رکھے دہتے ہیں ان کے پیش نظر دو بنیادی اصول ہیں ۔

۱- اللہ تعالیٰ نے قسمیں اپنی ذات اور اپنی نشانیوں کی کھائی ہیں جہاںکہیں مخلوقات میں سے کسی چیز کی قسم کھائی ہے تو وہ بھی اصلاً اس کی ذات ہی کی قسم ہے کیونکہ وہ چیز بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے۔

اس سے انہوں نے اس تیسرے شبہے کا ازالہ کرنا چاہا ہے جو کسی مخلوق کی اس کے رتبے سے زیادہ تعظیم کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے لیکن یہ شبہ اس کے بعد بھی علی حالہ قائم رہتا ہے کیونکہ قسم کا تعلق تو بہر حال ایک مخلوق شے سے ہے اور اس کا اللہ تعالیٰ کی آیات اور اسی کی صفات کے دلائل میں سے ہونا اس مقسم بہ ہونے سے خارج نہیں کر سکتا۔

علاوہ ازیں ان کا یہ فرمانا کہ:

’’جواب قسم کبھی حذف کر دیا جاتا ہے اور اس کا ذکر مقصود نہیں ہوتا بلکہ مقسم بہ کی تعظیم اور یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ یہ قسم کھانے کی چیزوں میں سے ہے‘‘

اس امر کی صاف تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات برتر کے علاوہ اور چیزوں کی بھی قسم کھائی ہے اور اس سے اس کامقصود اپنی بعض مخلوقات کی تعظیم ہے۔ اس کا خلاصہ یقینا یہی نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بعض چیزوں کی قسم کھانا ان کی عزت وشرف کے پہلو سے ہے۔

اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ وہ اپنی بعض مخلوقات کو عزت وشرف سے نوازے ۔ اس پر بھی کوئی اعتراض یا شبہ نہیں ہے کہ بعض چیزیں اشرف برتر کیوں ہیں۔ اعتبارات کے تغیر و تبدل سے کتنی حقیر چیزیں اشرف واعلیٰ اور کتنی اشرف چیزیں حقیر وادنیٰ ہو سکتی ہیں ۔ شبہ اس امر میں ہے کہ کسی شے کو عزت وبلندی کو وہ مقام حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ بھی اس کی قسم کھائے۔

۲- دوسرا اصول جس پر علامہ ابن قیمؒ نے اعتماد کیا ہے یہ ہے کہ تمام قسمیں مقسم علیہ پر دلیل ہیں ۔ اس سے انہوں نے تیسرے شبے کا ازالہ کرنا چاہا ہے یہ اصول امام رازی رحمہ اللہ علیہ کے سامنے بھی ہے، لیکن یہ ان کے ترکش کے بہت سے تیروں میں سے ایک ہے۔ جس کو استعمال کرنے سے وہ جھجکتے بھی ہیں ۔ لیکن علامہ ابن قیمؒ کا یہ حال نہیں ہے کہ وہ اسی اصول پر پورا اعتماد رکھتے ہیں اوراکثر آیات قسم کی انہوں نے ایسے طریق پر تاویل وتفسیر کی ہے جس سے مقسم بہ کی دلالت مقسم علیہ پر واضح ہو جاتی ہے البتہ جہاں کہیں ان کو اشکال پیش آیا ہے وہاں انہوں نے مقسم علیہ کو مخدوف قرار دے کر قسم کو صفات الٰہی پر دلیل قرار دے دیا ہے۔

باوجود اس ضعف کے جوان کے جواب میں موجود ہے اور باوجود ان کی اس تصریح کے کہ کبھی کبھی قسم مقسم بہ کی تعظیم کے لیے ہوتی ہے، اس کا عتراف کرنا چاہیے کہ انہوں نے اس باب میں جو کچھ لکھا ہے قابل قدر لکھا ہے اور ان کی کتاب میں ایک سے زیادہ مقامات ایسے ہیں جن میں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تیر نشانے پر پہنچا ہے۔