انسانی زندگی متنوع امور کا مجموعہ ہے۔اہل علم بالخصوص اہل فلسفہ میں یہ مسئلہ ہمیشہ زیربحث رہا ہے کہ اس کا ئنات کے ساتھ اس کا تعلق کیا ہے،وہ اپنے خالق سے کس طرح متعلق ہوتاہے،اس کی سیاسی اور سماجی زندگی کی اساسات کیا ہیں اور پھر یہ کہ اس کا مقصد زندگی کیا ہے؟اس کارگاہ حیات میں اسے کیوں بھیجا گیا؟ ان سب سوالات سے وابستہ ایک سوال یہ بھی ہے کہ یہ سب امور کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ باہم وابستہ ہو تے ہیں؟ 

مسلمان اہل علم کے ہاں جب یہ سوالات زیر بحث آ ئے تو دین کی بنیاد پربعض افراد اور گروہوں نے ان کے جوابا ت دیے۔انھوں نے اسلام کی ایک ایسی تعبیر بیان کی جس کے تحت یہ امور با ہم وابستہ ہو جا تے ہیں اور یوں اس سے انسان کا مقصد زندگی بھی متعین ہوجا تا ہے۔اس حوالے سے پہلی تعبیر اہل تصوف کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسان کا مقصد حیات اللہ کی معرفت حاصل کرنا ہے۔اس کی ساری سعی و جہد اس کے لیے ہونی چاہیے۔وہ انسان، کائنات اور اللہ تعالیٰ کو اس طرح مربوط کرتے ہیں کہ اس کا ئنات میں اصل حقیقت،حقیقت مطلقہ، یعنی ذات باری تعالیٰ ہے۔اس نے اپنے اظہار کے لیے مختلف تنزلات اختیا ر کیے جس کے نتیجے میں یہ کا ئنات وجود میں آئی اور انسان بھی۔انسان کی چونکہ کوئی انفرادی حیثیت نہیں ہے،اس لیے اس کی تگ و دو اس کے لیے ہونی چاہیے کہ وہ حقیقت مطلقہ کی معرفت کے ذریعے سے اس کے ساتھ اتصال پیدا کرے۔ اس کے دوراستے ہیں:ایک یہ کہ انبیا کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق قرب الٰہی کی کوشش کی جائے، تاہم اس سے صرف ابتدائی مراحل طے ہوتے ہیں۔منزل تک پہنچنے کے لیے اضافی مجاہدے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح یہ عام آدمی کا دین ہے۔ اس کے لیے دوسر ا راستہ وہ ہے جس میں کسی درمیانی واسطے کی ضرورت نہیں ہوتی اور انسان اللہ تعالیٰ سے براہ راست فیض یاب ہوتا ہے اور یوں مقرب الی اللہ ہو کر اس کی معرفت کو پا لیتا اور مقام اتصال کو پہنچ جا تا ہے۔یہ خواص کا دین ہے۔

اکابر صوفیا نے یہ باتیں جزوی تفصیلات کے ساتھ اپنی کتا بوں میں بیان کی ہیں اور اس باب میں کوئی ابہام باقی نہیں رہنے دیا۔جنوبی ایشیا کے تناظر میں شاہ ولی اللہ بطور خاص اہم ہیں جنھوں نے ان امور کو فلسفہ، عقل عام اور شریعت، تینوں سطحوں پر بیان کیا۔انھوں نے ان دونوں طریقوں کو جمع کیا جنھیں بالعموم شریعت اور طریقت کا نا م دیا جاتا ہے۔شریعت کی عملی صورت کے لیے انھوں نے فقہ حنفی کو ترجیح دی اوراہل راے اور اہل حدیث میں تطبیق پیدا کی۔طریقت کے لیے انھوں نے اسی صوفیانہ تعبیر کو اختیا رکیا جو اس سے پہلے وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے عنوانات سے پیش کی جا تی رہی ہے۔شاہ صاحب نے ان دونوں اصطلاحات کے ابہام کو دور کرتے ہوئے واضح کیا کہ اصل میں دونوں ایک ہیں،فرق صرف اسلوب بیا ن کا ہے۔ شاہ صاحب نے یہ تمام امور اپنی کتابوں بالخصوص ’’فیوض الحرمین‘‘،’’انفاس العارفین‘‘،’’لمعات‘‘ اور’’الطاف القدس‘‘ وغیرہ میں بیان کیے ہیں۔انھوں نے براہ راست رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے یہ بتا یا ہے کہ ایک مکاشفے کے ذریعے سے رسول اللہ نے صوفیا کے تمام سلاسل کو درست قرار دیا ہے اور اہل سنت کے چاروں فقہی مسالک کوبھی۔مثال کے طور پر’’فیوض الحرمین‘‘ میں شاہ صاحب اپنے اکیسویں مشاہدے میں بیان کرتے ہیں:

’’قرب الٰہی کے دو طریقے ہیں:ایک طریقہ تو یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس عالم میں آئے تو قرب الٰہی کا یہ طریقہ بھی بندوں کی طرف منتقل ہو گیا۔ قرب الٰہی کے اس طریقے میں واسطوں کی ضرورت پڑتی ہے اور اس کے پیش نظر طاعات و عبادات کے ذریعے اعضاوجوارح کی اور ذکر و تزکیہ اور اللہ اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے ذریعہ قواے نفس کی تہذیب و اصلاح ہوتی ہے۔چنانچہ عام لوگوں کی تہذیب و اصلاح کے لیے علوم کی نشر و اشاعت،نیک کاموں کا حکم دینا،برائیوں سے روکنا اور ایسے کاموں میں کوشاں ہونا جن سے سب انسانوں کو عام طور پر فائدہ پہنچے اور اسی قبیل کے دوسرے کام جو اوپر کے کاموں سے ملتے جلتے ہیں، یہ سب کے سب قرب الٰہی کے اس طریقے میں داخل ہیں۔ قرب الٰہی کا دوسرا طریقہ اللہ اور بندے کے براہ راست اتصال کا ہے۔اور اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک بندہ کہیں بھی پیدا ہو،وہ اس طریقے کو پا لیتا ہے اور جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ اس پر فیضان کرے، وہ اس سے مستفید ہوتا ہے۔قرب الٰہی کے اس طریقے میں واسطہ سرے سے ہوتا ہی نہیں۔چنانچہ جو شخص اس طریقے پر چلتاہے،اس کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے ’’انا‘‘ کی حقیقت کو بیدار کرتا اور اپنے ’’انا‘‘ ہی کی بیداری کے ضمن میں اس کو ذات حق کا تنبہ اور شعور حاصل ہو تا ہے۔اور اس سلسلے کے یہ’’فنا و بقا‘‘ اور’’ جذب‘‘ اور’’توحید‘‘ وغیرہ مقامات تصوف ہیں۔‘‘(شا ہ ولی اللہ،فیوض الحرمین، ترجمہ: پروفیسر محمد سرور ۱۸۰) 

قر ب الٰہی کے اس دوسرے طریقے کے بارے میں اگرچہ شا ہ صاحب اس راے کا اظہار کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک یہ طریقہ عالی منزلت ہے اور نہ ہی پسندیدہ اور یہ کہ آپ کی ذات سے قرب الٰہی کے پہلے طریقے کا فیض عام طور پرپھیلا، لیکن اس کے باوجود وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ دونوں طریقوں میں برتری کس کو حاصل ہے؟اس کا جواب ان کے نزدیک یہ ہے کہ اس کا فیصلہ مشکل ہے۔

اس ساری تعبیر کو سامنے رکھیں تو قرآن و سنت کا مطلوب انسان مومن ہے، جبکہ تصوف کا عارف۔ ’’کتاب اللمع فی التصوف‘‘ تصوف کی امہات کتب میں سے ہے جس میں ابو نصر سراج طوسی (م ۹۸۷ھ) اس فرق کو اس طرح بیان کرتے ہیں:

’’مو من اور عارف میں فرق یہ ہے کہ مومن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے اور عارف خود اللہ کے ذریعے سے دیکھتا ہے۔مومن کا دل ہوتا ہے اور عارف کا دل نہیں ہوتا۔مومن کا دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہو جاتا ہے، مگر عارف اللہ کے سوا کسی سے مطمئن نہیں ہوتا۔‘‘(ابو نصر سراج طوسی،کتاب اللمع فی التصوف، ترجمہ: ڈاکٹر پیر محمدحسن ۷۹)  

دین کی اس تعبیر پر اگر غور کیجیے تو وہ سب مسائل حل ہو جاتے ہیں جن کی طرف ہم نے ابتدا میں اشارہ کیا ہے۔ یہ تعبیر اگر سامنے رہے تو ہر بات اپنی جگہ دکھائی دیتی ہے۔ اگر ہم انسانوں کو اس طرح دو گروہوں میں بانٹ دیں تو وہ تضاد یا تفاوت جو بظاہر دکھائی دیتا ہے، وہ ختم ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر توحید کا مسئلہ ہے۔ قرآن مجید سے توحید کا جو عقیدہ سامنے آتا ہے، وہ یہی ہے کہ اس کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے جو واحد ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ انسان کا وہی معبود ہے اور اسے اسی کی عبادت کرنی ہے۔ یہ وہ توحید ہے جس کا مخاطب عامۃ الناس ہیں۔ توحید کی دوسری قسم وہ ہے جس میں انسان اللہ تعالیٰ کی معرفت تلاش کرتا ہے اور ظاہر ہے اس کا ماخذ قرآن و سنت نہیں کشف و الہام ہے۔اسی کے بارے میں شاہ ولی اللہ فرما تے ہیں کہ انسان کسی درمیا نے واسطے سے بے نیا زہو جا تا ہے۔ تصوف کی ایک اہم کتاب ’’منازل السائرین‘‘ میں لکھا ہے:

’’توحید کے تین درجے ہیں: پہلا درجہ عوام کی توحید کا ہے۔ وہ توحید جس کی صحت دلائل پر مبنی ہے۔ دوسرا درجہ خواص کی توحید کا ہے، یہ حقائق سے ثابت ہوتی ہے۔ توحید کا تیسرا درجہ وہ ہے جس میں وہ ذات قدیم ہی کے ساتھ قائم ہے۔ ‘‘(ابو اسماعیل عبداللہ بن محمد بن علی الانصاری، منازل السائرین۴۷بحوالہ،جاوید احمد غامدی، برہان۱۸۴)

دین کی دوسری تعبیر وہ ہے جو مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودی نے پیش کی۔ انھوں نے بھی دین کے سب احکامات اور تعلیمات کو باہم مربوط کرنے کی کوشش کی۔ انسان کا ایک مقصد حیات متعین کیا، اللہ تعالیٰ اور کائنات کے ساتھ اس کا تعلق واضح کیا اور پھر ان سب باتوں کو ایک دوسرے سے مربوط کردیا۔ ان کے نزدیک’’ قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘‘۱؂ دین کی حقیقت کو پوری طرح واضح کرتی ہیں اور انھی کے فہم پر فہم دین منحصر ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’الٰہ، رب، دین اور عبادت، یہ چار لفظ قرآن مجید کی اصطلاحی زبان میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ قرآن کی ساری دعوت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا رب اور الٰہ ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی الٰہ ہے اور نہ رب اور نہ الوہیت و ربوبیت میں کوئی اس کے ساتھ شریک ہے۔ لہٰذا، اسی کو اپنا الٰہ اور رب تسلیم کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی الوہیت ا ورربوبیت سے انکار کردو۔ اسی کی عبادت اختیار کرو اور اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اس کے لیے اپنے دین کو خالص کرلو اور ہر دوسرے دین کو رد کردو۔‘‘(سید ابو الاعلیٰ مودودی، قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں۷ )

مولانا مودودی کا کہنا یہ ہے کہ یہ اصطلاحیں اپنے حقیقی مفہوم میں‘ اسلام کے دور اول میں موجود رہیں، لیکن بعد میں بوجوہ یہ اپنے اصل مفہوم سے ہٹتی چلی گئیں اور امت میں ان کے جو مطالب رائج ہوئے، وہ اصل مفاہیم سے مختلف تھے۔۲؂ لہٰذا دین کو اپنی اصل حالت میں اس وقت تک زندہ نہیں کیا جاسکتا، جب تک یہ الفاظ اپنے حقیقی مفہوم میں ایک مرتبہ پھر رائج نہ ہوجائیں۔ مولانا مودودی کے نزدیک الوہیت اور اقتدار کو الگ نہیں کیا جاسکتا۔اللہ تعالیٰ کو الٰہ ماننے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اسے اقتدار کا مالک بھی مانا جائے۔ اسی طرح ربوبیت اور اقتدار کو بھی ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔۳؂ اس تعبیر کے تحت انسان کا تصور دین اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا ،جب تک وہ اللہ تعالیٰ کو عبادت کے لائق، رازق اور اقتدار کا اصل مستحق نہ مانے۔ انبیا کرام چونکہ توحید کے اسی جامع تصور کی دعوت دیتے تھے، اس لیے اس سیاسی اقتدار کا قیام مقاصد نبوت میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ کی حا کمیت کو انسانی معاملات میں بھی بالفعل قائم کردے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’تمام انبیا نے سیاسی انقلاب برپا کرنے کی کوشش کی۔ بعض کی مساعی صرف زمین تیار کرنے کی حد تک رہیں، جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور بعض نے انقلابی تحریک عملاً شروع کردی، مگر حکومت الیہ قائم کرنے سے پہلے ہی ان کا کام ختم ہوگیا، جیسے حضرت مسیح علیہ السلام اور بعض نے اس تحریک کو کامیابی کی منزل تک پہنچادیا، جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘

اس تعبیر کے تحت مولانا فرائض دین میں ایک چھٹے فرض، فریضۂ اقامت دین کا ذکر کرتے ہیں اور اسلام کے سیاسی اقتدار کو قائم کرنے کی جدوجہد کو لازم قرار دیتے ہیں۔ چونکہ یہ کام تنظیم کے بغیر نہیں ہوسکتا، اس لیے وہ قیام جماعت کوبھی ضروری سمجھتے ہیں اور مسلمان کے لیے لازم قرار دیتے ہیں کہ وہ ایسی کسی جماعت میں شامل ہو جو غلبۂ دین کے لیے برپا ہوئی ہو۔ اگر کوئی ایسی کسی جماعت میں شامل نہیں ہوتا جو غلبۂ دین کے لیے اٹھی ہے تو اس کی زندگی کو صحیح اسلامی زندگی قرار نہیں دیا جاسکتا۔۴؂

دین کی تیسری تعبیر وہ ہے جو مولانا وحید الدین خان پیش کرتے ہیں۔ یہ مولانا مودودی کے تصور دین کا رد عمل ہے۔ ان کے نزدیک اصل چیز جو اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے مطلوب ہے، وہ عبادت ہے(الذّٰریٰت۵۱:۵۶)، عبادت کا مطلب اللہ تعالیٰ کے سامنے پستی اور عاجزی اختیار کرنا ہے۔ عبادت اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک حسیاتی واقعہ ہے، نہ کہ خارجی۔ ’’عبادت اپنے خارجی ظہور کے اعتبار سے متقیانہ زندگی کا نام ہے اور اپنی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے خدا کے اس گہرے ادراک اور اس سے شدید تعلق کا نام ہے، جبکہ بندہ اپنے رب میں اتنا محو ہوجائے کہ اس پر حضوری کی کیفیت طاری ہونے لگے۔‘‘ اس عبادت کے کچھ تقاضے ہیں، جن میں سے پہلا تقاضا اطاعت کا ہے۔ اطاعت کی ایک صورت انفرادی ہے اور دوسری اجتماعی۔ اطاعت کی انفرادی صورت تو ہر وقت نافذ رہے گی، لیکن اجتماعی اطاعت اسی وقت ہوگی جب خارج میں اس کے امکانات پیدا ہوں گے۔ مثلاً، اگر مسلمانوں کو کہیں اقتدار حاصل ہے توپھر دین کے ان احکامات کی اطاعت ان پرفرض ہوگی جو حدود وتعزیرات یادیگر ریاستی امور سے متعلق ہیں۔ اگر اقتدار ان کے پاس نہیں ہے تو ایسے احکامات کی اطاعت ان پر فرض نہیں۔ اگر مسلمان اس حیثیت میں نہیں ہیں کہ وہ اسلام کے احکامات کو نافذ کریں تو پھر اسلام ان کو خارجی زندگی کے لیے جو پروگرام دیتا ہے، وہ نصب امامت نہیں، بلکہ انذار وتبشیرہے۔ اقتدار مسلمانوں کے لیے انعام ہے، نہ کہ مقصد حیات۔۵؂ 

 

بیسویں صدی کا دینی مزاج 

فقہی مسالک کے علاوہ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کے عہد میں، ان تینوں تعبیرات کا غلغلہ تھا۔ برصغیر میں فکری طور پر شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ کے گہرے اثرات ہیں اور بالعموم لوگ’’حنفیت وتصوف‘‘ کو دین کی صحیح تعبیر کے طور پر اختیار کرچکے ہیں۔ ہم اگر بیسویں صدی کو دینی نقطۂ نظر کے اعتبار سے سامنے رکھیں تو ہمارے سامنے جو مکاتب فکر آتے ہیں، اس کی صورت کچھ یوں ہے:

  • ۱۔حنفیت وتصوف: اس میں وہ گروہ شامل ہیں جو ہندوستان میں دیوبندی اور بریلوی مکاتب فکر کے حوالے سے معروف ہیں۔
  • ۲۔جماعت اسلامی جو مولانا مودودی کے تصور دین کی علم بردار ہے۔
  • ۳۔ الرسالہ مشن جس کے بانی وداعی مولانا وحید الدین خان ہیں۔
  • ۴۔ اہل تشیع
  • ۵۔ اہل حدیث

ہندوستان میں ایک گروہ اگرچہ ایسا بھی تھا جو آزاد فکر رکھتا تھا اور مذکورہ بالا گروہوں میں سے کسی ایک مکتبۂ فکر کے ساتھ وابستہ نہیں تھا، لیکن عملاً فہم دین یا تصور دین کے اعتبار سے انھیں ان سے الگ کرنا ممکن نہیں۔ مثلاً، ایک تو خود ندوۃ العلما اور جامعہ ملیہ جیسے ادارے ہیں۔ ندوۃ العلما کا قیام اگرچہ اس لیے ہوا تھا کہ قدیم وجدید تعلیم کا امتزاج وجود میں آئے اور اس کے علاوہ دیوبند اور علی گڑھ کے مابین ایک نقطۂ اعتدال پیدا ہو، لیکن اس ضمن میں کوئی قابل لحاظ پیش رفت نہ ہوسکی اور ندوہ بھی بڑی حد تک روایتی علم کا ایک ادارہ بن گیا جسے ہم دارالعلوم دیوبند کی توسیع قرار دے سکتے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں، لیکن سب سے بڑی وجہ وہی ہے جو شیخ محمد اکرام نے بیان کی کہ ندوہ کو شبلی کی سطح کی کوئی دوسری شخصیت نہیں مل سکی۔۶؂ جامعہ ملیہ کو مولانا محمد علی، مولانا محمود حسن اور گاندھی جیسے لوگوں کا تعاون میسر رہا، لیکن وہ بھی فکر ونظر کے نئے چراغ روشن نہ کرسکا۔ اہل حدیث مسلک کے لوگ اگرچہ موجود رہے، لیکن انھوں نے ہندوستان کی اجتماعی فضا میں شاہ اسماعیل شہید اور سید احمد بریلوی کے ساتھ اپنی نسبت کو قائم رکھتے ہوئے عملاً ولی الٰہی تحریک سے رابطہ استوار رکھا۔ اہل تشیع، البتہ ایک الگ شناخت کے ساتھ موجود رہے۔ سیاسی تحریکوں میں اگرچہ شیعہ سنی کا جوہری فرق باقی نہیں رہا ،لیکن ہم یہاں جس تناظر میں مذہبی گروہوں کا ذکر کر رہے ہیں، اس حوالے سے وہ ایک الگ مذہبی تشخص کے ساتھ موجود ہیں۔

 

مولانا علی میاں کا تصور دین

سوال یہ ہے کہ مولانا علی میاں کا تصور دین کیا تھا؟ کیا وہ ان موجود تصورات دین یا مسالک میں سے کسی ایک کے ساتھ وابستہ تھے یا انھوں نے اپنا تصور دین دیا؟ اس سوال کے جواب کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ ان موجود مکاتب فکر میں سے ہر ایک کے بارے میں کیا راے رکھتے تھے۔

۱۔مولانا مودودی کے تصور دین سے انھیں اتفاق نہیں تھا۔ وہ اگرچہ جواں عمری میں اس فکر سے متاثر ہوئے اور جماعت اسلامی میں شامل بھی رہے، لیکن بہت جلد اس سے علیحدہ ہوگئے۔ جماعت سے علیحدگی کے کچھ عرصہ بعد انھوں نے ’’عہد حاضر میں دین کی تفہیم وتشریح‘‘ کے نام سے ایک کتابچہ لکھا، جس میں انھوں نے بتایا کہ قرآن کی چار بنیادی اصطلاحوں کے حوالے سے مولانا مودودی کی نتائج فکر ان کے نزدیک درست نہیں۔ ان کامقدمہ جن بنیادوں پر کھڑا ہے، ان کو ہم مختصراً بیان کررہے ہیں:

۱۔یہ بات خلاف واقعہ ہے اور خلاف حکمت بھی کہ دین کی اصل روح ایک طویل عرصہ تک لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رہے۔ یہ روایت اگرچہ لفظاً وسنداً ثابت نہیں ہے کہ ’’میری امت کبھی گمراہی اور ضلالت پر جمع نہیں ہوگی‘‘، لیکن اپنے مفہوم کے اعتبار سے درست ہے۔

۲۔ اس تعبیر سے عالم اسلام اور تاریخ اسلام کی ایک تاریک تصویر سامنے آتی ہے۔ جو شخص اسلامی تاریخ کا وسیع مطالعہ نہیں رکھتا، وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوسکتا ہے کہ اس کشت ویران کی مٹی کبھی زرخیز نہیں رہی۔ یہ بات اس لیے بھی غلط ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بشارتوں میں بتایا کہ:

’’میری امت کے کچھ لوگ برابر غالب اور سربلند رہیں گے اور اللہ کے حکم(قیامت) کے آنے تک ان کی فتح یابی اور سربلندی قائم رہے گی۔‘‘(بخاری ومسلم)

۳۔ خدا کی حاکمیت اور اقتدار اعلیٰ کو تسلیم کرانا، اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور اس کی اپنی مخلوقات سے تعلق کا ایک نہایت محدود جز ہے، کل اور عظیم کل نہیں۔ اللہ اور بندے کا تعلق، بادشاہ اور رعیت سے زیادہ وسیع اور کہیں زیادہ عمیق ولطیف ہے۔ 

۴۔یہ راے درست نہیں کہ کسی کو قابل عبادت، مستحق دعا ونذر وقربانی سمجھنا اور کسی کے سیاسی اقتدار کو تسلیم کرنا، دونوں ایک طرح کے شرک ہیں۔ انبیا جس توحید کی تبلیغ کرتے ہیں، اس کا سب سے بڑا اور اہم نکتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی نفع ونقصان کا مالک ہے۔ وہی عبادت، دعا اور توجہ کا مستحق ہے۔ اس حوالے سے جو شرک وجود میں آتا ہے، اصلاً اس کا استیصال مقصود ہوتا ہے۔

۵۔ربوبیت کی اصل روح اقتدار کو قرار دینا اور الوہیت واقتدار کو ہم معنی سمجھنے کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ عبادات کی وہ اہمیت خود بخود کم ہوگئی جو شریعت میں مشروع، دین میں مطلوب اور آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب تھی۔

۶۔اس تعبیر کے مطابق اصل چیز تو اسلام کا سیاسی غلبہ ہے اور عبادات(نماز، روزہ وغیرہ) محض ٹریننگ کورس ہیں، جبکہ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت وجہاد، اقامت صلوٰۃ کا وسیلہ ہیں۔

۷۔ اہل تصوف کے بارے میں یہ راے صحیح نہیں ہے کہ ان کے تذکرے ’’اقامت دین کی جدوجہد‘‘ سے خالی ہیں، بلکہ ایسی جدوجہد کرنے والے اکثر اسی میدان کے لوگ تھے۔

۸۔ ’’اقامت دین‘‘ کو محض حکومت الٰہیہ کے قیام کی کوشش کے مترادف قرار نہیں دیا جاسکتا، یہ اس سے زیادہ جامع اور وسیع مفہوم رکھتا ہے۔۷؂

مولانا وحید الدین خان کے برخلاف مولانا علی میاں نے مولانا مودودی کے تصور دین پر تنقید کو سلبی پہلو تک محدود رکھا اور جواباً کوئی تصور دین پیش نہیں کیا۔

ب۔روایتی نقطہ ہاے نظر میں سے بریلوی مکتب فکر سے انھوں نے زیادہ تعرض نہیں کیا اور عملاً ایک لاتعلقی کا تاثر قائم رہا، جبکہ اہل حدیث مسلک کے لوگوں سے ان کے تعلقات اچھے رہے۔ چونکہ عرب ممالک میں انھیں غیر معمولی عزت واحترام حاصل تھا اور سرکاری سطح پر ان کی پذیرائی کی جاتی رہی، اسی وجہ سے برصغیر میں بھی اہل حدیث مکتب فکر کے لوگوں سے ان کے تعلقات میں محبت کا عنصر غالب رہا اور وہ انھیں ذہنی اور فکری طور پر خود سے دور تصور نہیں کرتے تھے۔

ج۔اہل تشیع کے بارے میں ان کی راے منفی تھی۔ سادہ الفاظ میں انھیں اہل تشیع کو مسلمان امت کا حصہ سمجھنے میں تامل تھا۔ ’’دومتضاد تصویریں‘‘ کے عنوان سے انھوں نے ایک کتابچہ لکھا جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ اہل سنت والجماعت اور اثنا عشریہ مختلف عقائد کے مالک دو گروہ ہیں۔ ایرانی انقلاب کے بعد جس طرح اسلامی حکومت کے قیام کے بعض علم برداروں نے روح اللہ خمینی صاحب کا خیر مقدم کیا ہے، اس سے یہ تشویش ناک صورت حال سامنے آئی ہے کہ مسلمانوں میں عقیدے کی اہمیت کم ہوکر رہ گئی ہے۔۸؂

د۔مولانا وحید الدین خان ایک عرصہ میں مولانا علی میاں سے بہت قریب رہے اور ان سے متاثر بھی جس کا اظہار انھوں نے تحریراً کیا۔۹؂ لیکن بعد میں، جب انھوں نے اپنے تصور دین کی تبلیغ کی تو مولانا علی میاں ان کی شدید تنقید کی زد میں رہے۔۱۰؂ اگرچہ مولانا علی میاں کی طرف سے کوئی ایسی چیز سامنے نہیں آئی جو اس تصور دین کے خلاف ہو، لیکن ان کا طرز عمل اسی بات کی گواہی دیتا ہے کہ انھیں اس انداز فکر سے بھی اتفاق نہیں تھا۔

ھ۔ہم اگر مولانا کے علمی کام کو حنفیت وتصوف کے امتزاجی فکر کے حوالے سے دیکھیں، جسے ہم ولی الٰہی فکر قرار دے سکتے ہیں، تو وہ ہمیں اس فکر کے قریب تر دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ وہ اپنا مسلک دوٹوک لفظوں میں کہیں بیان نہیں کرتے، لیکن ان کی تحریروں کی گواہی یہی ہے کہ ان کے ممدوح وہی لوگ ہیں جو صاحبان تصوف وسلوک تھے یا اس فکر کے بانیوں میں سے تھے۔ ہماری اس راے کی بنیاد جن دلائل پر ہے، ان میں سے بعض ہم یہاں بیان کررہے ہیں:

۱۔’’تاریخ دعوت وعزیمت‘‘ جومولانا علی میاں کی معروف تصنیف ہے، اس میں جن شخصیات کا تذکرہ ملتا ہے، ایک آدھ کے استثنا کے ساتھ ،وہ سب ہی میدان تصوف کے لوگ ہیں۔ امام ابن تیمیہ کے تذکرے پر اگرچہ اس کتاب کی ایک پوری جلد ہے، لیکن ان کے بارے میں بھی مولانا کی راے یہ ہے کہ وہ بھی اصلاً اسی دنیا کے آدمی تھے۔۱۱؂

۲۔ وہ جن صوفیا کا تذکرہ کرتے ہیں، ان میں کئی وحدت الوجود کے قائل ہیں،بلکہ اگر وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے حوالے سے شاہ ولی اللہ کی اس راے سے اتفاق کیا جائے کہ یہ محض لفظی نزاع ہے یا شیخ احمد سرہندی کے اس موقف کی تائید کی جائے کہ وحدت الشہود، منازل سلوک میں وحدت الوجود کی ایک منزل ہے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ مولانا علی میاں کا تعلق بھی اسی مسلک سے تھا۔

۳۔ جیسا کہ شاہ ولی اللہ کے حوالے سے ہم بیان کرچکے ہیں کہ ان کے نزدیک قرب الٰہی کے دو طریقے ہیں: ایک بالواسطہ اور دوسرا بلا واسطہ، اسی طرح صوفیا کے نزدیک توحید کے بھی مدارج ہیں: ایک عامۃ الناس کی توحید اور ایک خواص کی۔ لہٰذا، صوفیا حضرات جب عامۃ الناس کے لیے دین بیان کرتے ہیں تو وہ وہی سادہ دین ہے جو قرآن وسنت میں بیان ہوا ہے اور اس میں وہ نہایت واضح لفظوں میں دین کے عقائد پر کلام کرتے ہیں، لیکن جب وہ خواص کے لیے لکھتے ہیں تو اس سے ایک بالکل دوسری دنیا وجود میں آتی ہے۔ اس کی مثال خود شاہ صاحب کے ہاں موجود ہے۔ ایک طرف’’ حجۃ اللہ البالغہ ‘‘ہے جس میں بقول مولانا علی میاں’’دین ونظام شریعت کا ایک ایسا مربوط جامع اور مدلل نقشہ پیش کیا گیا ہے، جس میں ایمانیات، عبادات، معاملات، اخلاق، علم الاجتماع والتمدن، سیاست واحسان کو ایک ایسے ربط وتعلق اور صحیح تناسب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے کہ وہ ایک ہار کے موتی اور ایک زنجیر کی کڑیاں معلوم ہوتی ہیں۔‘‘۱۲ ؂ اور دوسری طرف’’ تفہیمات الٰہیہ‘‘، ’’فیوض الحرمین‘‘ اور’’ سطحات‘‘ جیسی کتابیں ہیں، جن کا ماخذ کشف والہام ہے اور وہ اپنے والد محترم اور عم محترم کے ایسے الہامات بھی نقل کرتے ہیں جن کے مطابق راہ سلوک کے راہیوں کو ایک مرحلے پر شریعت کی پابندی سے آزاد کردیا جاتا ہے۔۱۳؂ مولانا علی میاں نے چونکہ ’’تاریخ دعوت و عزیمت‘‘ عامۃ الناس کے لیے لکھی، اس لیے ان لوگوں کے تذکرے میں ایسی ہر بات سے صرف نظر کیا، جو خواص کے لیے ہوسکتی تھی۔ مثال کے طور پر جلال الدین رومی وحدت الوجود کے ماننے والے تھے۔۱۴؂ لیکن ’’تاریخ دعوت وعزیمت‘‘ میں ان کے ذکر میں یہ بات بیان نہیں ہوئی۔ اسی طرح شاہ ولی اللہ کی تصوف کے بارے میں معرکۃ الآرا کتابوں پر انھوں نے محض چند سطری تبصرہ کیا۔ شاہ ولی اللہ کے تذکرے میں انھوں نے ’’الفوز الکبیر‘‘ پر تفصیلاً لکھا’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ اور ’’ازالۃ الخفا‘‘ پر مستقل ابواب باندھے، لیکن ان کی دیگر تمام تصانیف کا ذکر محض اٹھارہ صفحات میں کیا۔ ’’فیوض الحرمین‘‘ کے بارے میں محض یہی لکھا:

’’کتاب زیادہ تر قیام حجاز کے زمانہ کے مشاہدات، حقائق باطنی، مسائل کلامی اور مسائل تصوف سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ کتاب بھی خواص کے مطالعے کی ہے، ان لوگوں کی دسترس سے بالاتر ہے جو فلسفہ اور تصوف میں پورا ادراک نہیں رکھتے۔‘‘(سید ابوالحسن علی ندوی،تاریخ دعوت و عزیمت، جلد۴) 

اسی طرح ’’سطعات‘‘ کے بارے میں لکھا:

’’کتاب کو فلسفۂ الٰہیہ میں سمجھنا چاہیے جس میں فلسفیانہ اور متصوفانہ (اصطلاحات) اور فلسفۂ وحدۃ الوجود کی تعبیرات استعمال کی گئی ہیں اور جس میں حقیقتاً ’’ربط الحادث بالقدیم‘‘ کے معما کو حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کتاب ان اخص الخواص کے مطالعے کے قابل ہے جو فلسفۂ قدیم کے پورے رمز شناس اور وحدۃ الوجود کی تائیدی وتردیدی بحثوں کے کوچے سے آشنا ہوں، عام اشاعت اور دعوت کی چیز نہیں ہے۔‘‘(سید ابوالحسن علی ندوی،تاریخ دعوت و عزیمت،جلد۴) 

یہ آرا اس پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ بھی دیگر تمام صوفیا کی طرح اس بات کے قائل تھے کہ دین کا ایک حصہ وہ ہے جس کا ماخذ کشف والہام ہے۔ یہ خواص کی چیز ہے جسے عامۃ الناس کے سامنے بیان نہیں کیا جانا چاہیے۔

۴۔’’تاریخ دعوت وعزیمت‘‘ کی تیسری جلد شیخ احمد سرہندی کے تذکرے پر مشتمل ہے۔ اس میں انھوں نے ’’ وحدت الوجود‘‘ اور ’’وحدت الشہود‘‘ پر تفصیلاً لکھا اور اس میں شیخ کا کارنامہ بیان کیا کہ انھوں نے وحدت الوجود کے تصور سے پیدا ہونے والی کج فکری کا استیصال کیا۔اس تناظر میں یہ بات بہت اہم تھی کہ وہ شاہ ولی اللہ کے تذکرے میں اس تطبیق پر بھی لکھتے جو شاہ صاحب نے ان دونوں تعبیرات میں تلاش کرنے کی کوشش کی، لیکن شاہ ولی اللہ پر لکھی جانے والی پوری جلد اس بحث سے خالی ہے۔

۵۔ مولانا’’تاریخ دعوت وعزیمت‘‘کی پہلی جلد کے مقدمے میں اس کتاب کے موضوعات کا تذکرہ کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ یہ ان لوگوں کا ذکرجمیل ہے جنھوں نے اسلام کی میراث کو ہم تک منتقل کیا اوراس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنھوں نے ’’حدیث و فقہ کی تدوین کا کام انجام دیا، اجتہادکا دروازہ کھولا اور امت کو تشریع کا خزانہ عامرہ اور زندگی و معاشرے کا منظم قانون عطاکیا‘‘۱۵؂ لیکن اس کتاب کے مطالعے سے یہ حیرت انگیز بات سامنے آتی ہے کہ چھ جلدوں پر مشتمل اس کتاب میں ’’تدوین حدیث و فقہ‘‘پر محض سولہ صفحات لکھے گئے ہیں اورامام ابوحنیفہ اور امام مالک جیسی عظیم الشان شخصیات کے لیے محض دو صفحے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے برخلاف شیخ عبدالقادر جیلانی پر۳۴اور مولانا جلال الدین رومی پر ۲۷صفحات لکھے گئے ہیں۔ یہ بات بھی مصنف کے تصوف کی جانب میلان کا مظہرہے۔

۶۔مولانا علی میاں کامسلک یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ صوفیا کی طرح فضائل کے باب میں بیان کی جانے والی روایات کے لیے یہ ضروری نہیں سمجھتے کہ انھیں جرح و تعدیل کے اصولوں پر پرکھا جائے۔ چنانچہ مولانا محمد زکریا کے تذکرے میں انھوں نے مرحوم کے ان رسائل کی تعریف کی ہے جو ’’تبلیغی نصاب‘‘ یا ’’فضائل اعمال‘‘ کے عنوان سے ایک وسیع حلقے میں پڑھے جاتے ہیں۔ مولانا زکریا خود اس بات کی تصریح کرتے ہیں کہ ڈاکٹر نے جب انھیں دماغی کام سے روک دیا تو انھوں نے یہ رسائل لکھے۔۱۶؂مولانا علی میاں بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔۱۷؂لیکن وہ اس پرکسی نقد کی ضرورت نہیں سمجھتے۔مولانا مودودی پر ان کی تنقید سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس باب میں بہت حساس تھے کہ دین میں کوئی ایسی چیز داخل نہ ہوجائے جو اس کی اصل ہیئت کو بدل دے، لیکن جب دوسری طرف وہ وحدت الوجود اور ضعیف و موضوع روایات سے استدلال میں کوئی مضایقہ نہیں سمجھتے تو اس کی یہی تعبیر کی جاسکتی ہے کہ یہ باتیں ان کے نزدیک دین کی غلط تعبیر کا باعث نہیں ہیں۔

۷۔ ’’تاریخ دعوت و عزیمت‘‘کے علاوہ مولانا کی تصنیفات کا ایک بڑا حصہ شخصیات کے تذکرے پر مشتمل ہے۔ یہ شخصیات، قریباًسب کی سب، تصوف کی دنیاسے تعلق رکھتی ہیں۔

ان دلائل کی بنیاد پر، جو بظاہر تصوف کی طرف ان کے میلان کی تصریح کرتے ہیں، کیا یہ راے قائم کی جاسکتی ہے کہ وہ اصلاًاسی دینی روایت کے آدمی تھے، برصغیر کے صوفیا جس کے علم بردار تھے؟ہمارے نزدیک اس باب میں کوئی حتمی راے قائم کرنے سے پہلے ان کی زندگی کے بعض دوسرے گوشے بھی سامنے رہنے چاہییں، جن سے ان کے بعض دوسرے فکری میلانات سامنے آتے ہیں۔

بیسویں صدی میں مسلمانوں کے احیا اورتجدید دین کے لیے جو تحریکات اٹھیں، وہ بحیثیت مجموعی ان کے بارے میں ایک مثبت راے رکھتی ہیں۔ مصر کی تحریک’’الاخوان المسلمون‘‘ سے انھیں بے پناہ لگاؤ تھا۔ اس کے بانی شیخ حسن البناء شہید کے وہ مداح ہیں اور ان کا تذکرہ غیر معمولی توصیفی کلمات کے ساتھ کرتے ہیں۔ اخوان کے لوگوں سے ان کے ذاتی تعلقات تھے اور وہ ان مظالم پر بہت غم زدہ رہے جو مصرمیں اخوان پر ڈھائے گئے۔ اسی طرح جماعت اسلامی پاکستان کے بارے میں بھی ان کی راے مثبت تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ تبلیغی جماعت کے کام کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔۱۸؂یہ سب وہ لوگ ہیں جو تصوف کی روایت سے تعلق نہیں رکھتے، بلکہ مولانا مودودی کی فکر کے زیر اثر جماعت اسلامی کو اس روایت سے بیزار بھی قرار دیا جاسکتا ہے، لیکن مولانا علی میاں ان سب کی تعریف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان دونوں باتوں میں کوئی تطبیق قائم کی جاسکتی ہے ؟ہمارے نزدیک اس کا جواب اثبات میں ہے۔ 

تصوف کا اطلاق بالعموم دو چیزوں کے مجموعے پر کیا جاتا ہے: ایک فلسفہ اور دوسراطرز عمل۔ ایک فلسفے کے طور پر تصوف ایک تعبیر دین پیش کرتا ہے جس کو اس مضمون کے ابتدائی حصے میں ہم نے قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ مولانا علی میاں نے جن شخصیات کا تذکرہ اورسوانح لکھے، وہ اسی دین کو ماننے والی تھیں۔ تصوف دوسری طرف ایک طرز عمل کانام ہے۔ صوفی ہماری دینی روایت میں ایک ایسے فرد کے طور پر سامنے آتاہے جو انسان کے مادی وجود سے زیادہ اس کے روحانی وجود سے دلچسپی رکھتاہے۔ وہ انسان کے باطنی تزکیے کا علم بردارہے۔ وہ دنیاوی آسایشوں اور لذتوں سے خود کو آلودہ نہیں کرتا اوردوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتا ہے۔ وہ انسانوں سے محبت کرتا ہے۔ اسے فقیہ کی طرح لوگوں پرفتویٰ لگانے کی جلدی نہیں ہوتی، بلکہ وہ انھیں انسانی کمزوریوں کی رعایت دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی اس صفت کو نمایاں کرتا دکھائی دیتا ہے جن کے تحت وہ درگذراور معاف کرنے والا ہے۔اہل تصوف کے تذکرے اس طرح کے واقعات سے معمور ہیں جن میں دنیا سے بے رغبتی اور تعلق باللہ کی تلقین کا درس ملتا ہے۔

مولانا علی میاں اپنی افتاد طبع کے اعتبار سے اسی دنیا کے آدمی تھے جسے ہم محض تفہیم کلام کے لیے روحانی دنیا کہہ سکتے ہیں یا دین کی اصطلاح میں جس کا تعلق تزکیۂ نفس سے ہے۔ اسی وجہ سے انھیں ایسے لوگوں کی زندگی میں زیادہ کشش محسوس ہوتی ہے جو صوفیا ہیں۔ ان کی دنیاسے بے تعلقی انھیں اپنی جانب زیادہ متوجہ کرتی ہے اور وہ ان کی وادی میں اتر کر خود کو زیادہ آسودہ خاطر سمجھتے ہیں۔ صوفیا کے ساتھ ان کے بے پناہ لگاؤ کا اصل سبب یہی ہے۔ جہاں تک فلسفۂ تصوف کا تعلق ہے تو انھیں اس طرح کے مباحث سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اگر وہ وحدت الوجود پر کوئی تنقید نہیں کرتے یا تصوف کی دینی روایت کو ناقدانہ انداز میں پرکھنے کے لیے آمادہ نہیں تو اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ وہ اسے درست سمجھتے ہیں،بلکہ اس کی وجہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ وہ کبھی اس دنیا سے متعلق نہیں رہے اور انھوں نے اس پہلو سے تصوف کو سمجھنے کی شعوری کوشش نہیں کی کہ وہ کسی مختلف تصور دین کو پیش کرتا ہے۔ اس بات کی تائید مولانا علی میاں کی اپنی ایک تحریر سے ہوتی ہے۔ ایک ادبی جریدے ’’سیارہ‘‘لاہور نے ایک مرتبہ اہل علم کے ادبی اور علمی ذوق اور تصنیف و تالیف کے باب میں ان کی پسند و ناپسند جاننے کے لیے ایک سوال نامہ مرتب کر کے مختلف علمی شخصیات کو بھیجا جن میں ایک مولانا ابوالحسن علی ندوی بھی تھے۔ اس سوال نامے میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ مطالعے میں آپ کی ناپسند کیا ہے؟کن چیزوں کے مطالعہ سے آپ کی طبیعت ابا کرتی ہے؟مولانا علی میاں نے اس کے جواب میں لکھا ہے :

’’وہ کتا بیں جن کا پڑھنا بڑا مجاہدہ ہے اور شدید ضرورت کے بغیر ان کے چند صفحات کا پڑھنا بھی میرے لیے دشوار ہے، وہ تین طرح کی چیزیں ہیں:ایک مناظرہ اور تردید کی کتابیں، دوسرے خشک فلسفیانہ مباحث یاوحدۃالوجود وغیرہ اورفلسفۂ اخلاق کی متصوفانہ کتابیں، تیسرے قادیانی لٹریچر جو حسن انشا، حلاوت تحریر اورعمیق فکر سے یکسر خالی ہے۔‘‘(سہ ماہی سیارہ،۱۹۶۵ء)

اسی سوال نامے کے جواب میں انھوں نے اپنے پسندیدہ موضوعات کا ذکربھی کیا ہے جو تذکرہ، ترجمہ اور سوانح حیات ہیں۔اس بات سے بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر ان کے تحریری ورثے کا زیادہ حصہ سوانح اور صوفیاکے تذکرے پر مشتمل ہے تو اس کا اصل سبب ان کی افتاد طبع ہے نہ کہ تصوف سے بطور تعبیر دین وابستگی۔ 

صوفیا کی طرف میلان اور مولانا علی میاں کی دیگر علمی دلچسپیوں اور تحریکات و افراد سے تعلق کو پیش نظر رکھا جائے تو انھیں کسی ایک تصوردین کے ساتھ کلیتاً وابستہ قراردینا آسان نہیں جو ان کے عہد میں برصغیر میں مروج تھے اور جن کا ہم نے اس مضمون کے آغاز میں تذکرہ کیا ہے۔ اپنے علمی و فکری کام کی روشنی میں وہ ایک ایسے صاحب علم کے طورپر سامنے آتے ہیں جو اس فکری روایت سے متعلق ہیں جو امت کی علمی تاریخ میں’’اہل السنت والجماعت‘‘کے عنوان سے پروان چڑھی۔ ان کے ہاں بھی اتنی ہی وسعت ہے، جتنی اس روایت میں ہے۔ اگر ہم اس روایت کو ایک گلستان کا عنوان دیں تو وہ شہد کی اس مکھی کی مثل ہیں جو ہر پھول اور پھل پر بیٹھتی اور وہاں سے خوشبو اور ذائقہ کشید کرتی ہے۔ یہ بات کہ بعض پھولوں کے ساتھ خار بھی ہیں، انھیں زیادہ متوجہ نہیں کرتی۔ ان کی تحریروں کے مطالعے سے اس علمی روایت اور اسلاف کے بارے میں ایک حسن ظن پیدا ہوتا ہے اور اس تاثر کی نفی ہوتی ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ فکری بانجھ پن کی تاریخ ہے۔ نئی نسل میں اپنے اسلاف اورماضی کے بارے میں ایک اعتماد پیدا کرنا اگر مولانا علی میاں کا سب سے بڑا کارنامہ شمار کیا جائے تو یہ بات شاید کچھ ایسی غلط نہ ہو۔ اپنے ماضی پراعتماد اوراس سے تعلق ہی ہمارے شاندار مستقبل کی خشت اول ہے اور تعمیر نو کے لیے بنیادی اثاثہ۔

]مارچ۲۰۰۰[

 

 


۱؂ مولا نا مو دو دی کے فکر کی تفہیم میں اس کتاب کی اہمیت اسا سی ہے۔

۲؂ سید ابو الاعلیٰ مودودی، قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں ۱۱۔

۳؂ سید ابو الاعلیٰ مودودی، قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں۹۷۔

۴؂ رسائل و مسائل۔

۵؂ وحید الدین خان،تعبیر کی غلطی۱۸۷۔۱۸۹۔

۶؂ شیخ محمد اکرام،موج کوثر ۱۸۹۔

۷؂ سید ابو الحسن علی ندوی، عصر حاضر میں دین کی تفہیم و تشریح۔

۸؂ سید ابو الحسن علی ندوی، دو متضاد تصویریں۹۴۔

۹؂ دیکھیے: وحید الدین خان کی کتاب ’’علم جدید کا چیلنج ‘‘ کا مقدمہ۔

۱۰؂ تفصیلات کے لیے دیکھیے: محمد اشفاق حسین، مولانا وحید الدین خان کی فکری قلابازیاں،جلد ۴۔

۱۱؂ تصوف اور احسان۔

۱۲؂ تاریخ دعوت و عزیمت،جلد۴ ۔

۱۳؂ شاہ ولی اللہ، فیوض الحرمین، ترجمہ: پروفیسر محمد سرور، ۱۵۵۔

۱۴؂ اس کی تفصیل کسی بھی سوانحی تصنیف میں دیکھی جا سکتی ہے، مثال کے طور پر دیکھیے: شبلی نعمانی، سوانح مولانا روم ۔

۱۵؂ سید ابوالحسن علی ندوی،تاریخ دعوت و عزیمت۱/۳۹۔

۱۶؂ محمد زکریا، تبلیغی نصاب، پیش لفظ۔

۱۷؂ سید ابو الحسن علی ندوی، سوانح شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا ۱۵۰۔

۱۸؂ سید ابو الحسن علی ندوی،ایک اہم دینی تحریک۔