مولانا گوہر رحمن صاحب نے چوتھی بات یہ فرمائی ہے کہ قرآن و سنت سے منحرف حکومت ’الطاغوت‘ ہے، اس وجہ سے ایسی حکومت کو ’’الجماعۃ‘‘ نہیں کہا جا سکتا۔ مزید یہ کہ قرآن مجید میں طاغوت کے التزام کا نہیں،بلکہ اس سے اجتناب کا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ التزام جماعت سے مراد کسی ایسی حکومت کا التزام نہیں ہو سکتا جو قرآن و سنت سے منحرف ہو۔
مولانا محترم ’الطاغوت‘ کے معنی واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’جو حکومت بھی اللہ و رسول کے احکام سے انحراف اور بغاوت اختیار کر لے، وہ طاغوت کی تعریف میں شامل ہو جاتی ہے۔‘‘ (ماہنامہ فاران، جون ۱۹۹۵ء، ۲۹)

مولانا محترم کی یہ بات بہت حد تک صحیح ہے۔ قرآن مجید میں لفظ ’الطاغوت‘ اصلاً شیطان کے لیے اور اس کے ساتھ ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں قائم ہونے والی عدالتوں کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں اپنی عدالت قائم کرنے اور ایسی عدالتوں کو جانتے بوجھتے اپنا حکم بنانے کے معنی ہی یہ ہیں کہ اللہ اور رسول کا فیصلہ ماننے سے انکار کیا جا رہا ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ قرآن مجید یا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ماننے سے انکار کرنے کے معنی دراصل آپ کی نبوت اور آپ کے مامور من اللہ ہونے کا انکار کرنے کے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ اس انکار پر مبنی جو عدالتیں اور جو حکومتیں بھی قائم ہوں گی، وہ شیطانی ہی ہوں گی، لیکن دیکھنے کی بات یہ ہے کہ مسلمان ممالک میں سے کتنے ایسے ہیں جنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں اپنی عدالت قائم کر رکھی ہے۔ مسلمان حکمرانوں میں ایسے کون ہیں جنھوں نے صریح الفاظ میں اللہ اور رسول کا فیصلہ ماننے سے انکارکر دیا ہے ؟ قرآن مجیدمیں ’الطاغوت‘ کسی ایک یا ایک سے زیادہ معاملے میں اللہ اور رسول کے فیصلوں سے انحراف کے لیے نہیں، بلکہ ان کے مقابل میں اپنا نظام، اپنے فیصلے اور اپنی عدالتیں کھڑی کرنے کے لیے آیا ہے۔ ایسے لوگوں کو اس کا مصداق قرار دینا، جو کسی کمزوری یا کوتاہی کے باعث کسی ایک یا ایک سے زیادہ معاملے میں اللہ اور رسول کے احکام سے منحرف ہو گئے ہیں، درست معلوم نہیں ہوتا۔
لیکن اگر تھوڑی دیر کے لیے یہ مان بھی لیا جائے کہ تمام ایسی حکومتیں جو کسی بھی معاملے میں اللہ اور اللہ کے رسول کے احکام سے منحرف ہیں، وہ ’الطاغوت‘ میں شامل ہیں، تب بھی سورۂ نساء میں منافقین پر جو تنقید ہوئی ہے، وہ یہ ہے کہ رسول کی عدالت کی موجودگی میں یہ لوگ شیطانی عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں۔ اس سے زیادہ سے زیادہ جو بات نکلتی ہے، وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے پاس اگر یہ اختیار ہو کہ وہ اپنے معاملات کا فیصلہ خدا کے قانون کے تحت کرا لیں یا اس سے منحرف کسی شیطانی قانون کے تحت، تو ان سے جو رویہ مطلوب ہے، وہ یہ ہے کہ وہ رحمانی عدالتوں ہی کو ہر حال میں ترجیح دیں۔ ان آیات سے یہ بات کہاں سے نکلتی ہے کہ جہاں رحمانی عدالتیں موجود نہ ہوں، وہاں ان کو قائم کرنا اور شیطانی نظام کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا مسلمانوں پر لازم ہے ؟
اس میں تو شبہ نہیں ہے کہ قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی رو سے خدا اور رسول کا فیصلہ ماننے سے انکار کرنا صریح کفر ہے۔ چنانچہ جو حکمران یا جو حکومت خدا اور رسول کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دے، وہ اپنا حق اطاعت کھو دیتی ہے۔ بہ الفاظ دیگر، حکمران کی طرف سے کفر صریح یا کفر بواح کے بعد دین و شریعت کی رو سے مسلمان رعایا پر اس کی اطاعت لازم نہیں رہتی ۔ اس صورت حال میں مسلمان رعایا اگر اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرنے سے انکار کر دے تو امید ہے کہ عند اللہ ان سے اس بات کا مواخذہ نہیں ہو گا، مگر اس سے یہ نتیجہ کسی طرح بھی نہیں نکالا جا سکتا کہ کفر بواح کے بعد حکمرانوں کی اطاعت سے انکار کرنا دین کا کوئی تقاضا، دینی لحاظ سے لازم یا مستحب ہی ہے۔ جو لوگ ایسی صورت حال میں حکومت کے خلاف کارروائی، اس کے ساتھ عدم تعاون اور اسے تبدیل کرنے کی جدوجہد کو ’’فرض‘‘ اور’’ واجب‘‘ ٹھہراتے ہیں، یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اس راے کے حق میں قرآن و سنت کے واضح دلائل پیش کریں۔
مولانا محترم فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی بعض آیات میں صراحت کے ساتھ اس بات سے روکا گیا ہے کہ نافرمان اور حدود سے تجاوز کرنے والے کی بات نہ مانی جائے۔ اس ضمن میں انھوں نے الدہر ۷۶: ۲۸، الکہف۱۸ : ۲۸ اورالشعراء ۲۶: ۱۵۱۔ ۱۵۲ کا حوالہ دیا ہے۔ ہم تھوڑی دیر کے لیے یہ بھی مان لیتے ہیں کہ ان آیات میں لفظ ’’اطاعت‘‘ اسی معنی میں ہے جو مولانا نے بیان فرمائے ہیں۔ اس کے باوجود مولانا کی اس راے کے بارے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسی شخص کے متعلق یہ فیصلہ کون کرے گا اور کس بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ وہ ان آیات میں بیان ہونے والے کردار کا مصداق ہے؟ اگر ایک یا بعض لوگوں کی راے یہ ہو کہ ہمارے موجودہ حکمران آثم و کفور یا مسرف اور مفسد ہیں، لیکن پوری قوم انھیں ایسا نہ سمجھتی ہو تو کیا ان بعض لوگوں کو مسلمانوں کے نظم میں خلل ڈالنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ قرآن مجید کی مذکورہ آیتوں میں یہ الفاظ جن لوگوں کے لیے آئے ہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین ہیں۔ ان آیات میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت دی گئی ہے کہ ان حقوق تلف کرنے والوں، ناشکروں، حدود سے تجاوز کرنے والوں اور زمین میں فساد پیدا کرنے والوں کی مخالفت کی پروا کیے بغیر آپ اپنا کام کرتے رہیں۔ ظاہر ہے کہ رسولوں کے مخالفین کا آثم و کفور یا مسرف و مفسد ہونا تو ہر شک و شبہ سے بالا ہوتا ہے، مگر جونہی ہم مسلمانوں کے حکمرانوں کو اس حکم کا مصداق بناتے ہیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دین و شریعت کی رو سے ہم ایسا کرنے کا اختیار رکھتے بھی ہیں یا نہیں اور یہ اختیار اگر ہمیں حاصل ہے تو قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں یہ فیصلہ کرنے کی بنیاد کیا ہونی چاہیے؟
مزید براں ہم مولانا محترم سے یہ بھی پوچھنا چاہیں گے کہ ماضی اور حال میں پاکستان کی کون سی حکومت نے اللہ اور رسول کے احکام سے انحراف اور بغاوت اختیار کی ہے ؟ یہاں یہ واضح رہے کہ ’’بغاوت کرنا‘‘ اور ’’انحراف اختیار کرنا‘‘ کے معنی خدا اور رسول کے احکام ماننے سے انکار کرنے کے ہیں۔ ایسی ہی عدالتوں کو قرآن مجید میں ’الطاغوت‘ کہا گیا ہے۔ چنانچہ اگر مولانا کے لیے ممکن ہو تو ہم جیسے طالب علموں کو یہ بات سمجھانے کے لیے وہ اس ’’بغاوت‘‘ اور ’’انحراف اختیار کرنے‘‘ کی دوچار مثالیں بھی ضرور دے دیں۔ اس میں تو شبہ نہیں کہ ہماری حکومتوں میں دین و شریعت کی تعلیمات سے بہت کچھ انحراف موجود ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ان میں سے کس حکومت نے دین و شریعت کی تعلیمات کو ماننے سے صریح انکار کیا ہے ؟
اس ضمن میں ہم مولانا محترم سے یہ بھی پوچھنا چاہتے ہیں کہ قرآن و سنت کی وہ کون سی نصوص ہیں جن کی بنیاد پر ان کے نزدیک دین و شریعت سے منحرف حکمرانوں کے ساتھ وابستہ نہ رہنا دین کا تقاضا ہے؟ یہ بات تو ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے جو بات معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ جب تک حکمران کفر بواح یا صریح کفر اختیار نہ کر لے، اس وقت تک اس کی اطاعت کا لزوم دین و شریعت کا ایک واضح حکم ہے، جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں، ہمارے نزدیک اس سے زیادہ سے زیادہ جو بات نکلتی ہے، وہ یہ ہے کہ حکمران اگر صریح کفر اختیار کر لے تو اس کی اطاعت لازم نہیں ہے۔ ان روایات کی بنیاد پر آخر یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ کفر بواح کے بعد حکمران کی اطاعت سے انکار کرنا یا حکمرانوں کو تبدیل کرنے کی جدوجہد کرنا دین کا کوئی تقاضا ہے۔ ہماری یہ بات اگر درست نہیں ہے تو مولانا محترم سے ہماری گزارش ہے کہ وہ قرآن و حدیث کی ان نصوص کی طرف ہماری رہنمائی فرما دیں جن کی رو سے وہ حکمرانوں کی طرف سے کفر بواح کے بعد، ان کی اطاعت سے انکار کر دینے یا انھیں تبدیل کرنے کی جدوجہد کرنے کو لازم قرار دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ ایسی صورت حال میں دین اگر اس قسم کی کسی جدوجہد کو عام مسلمانوں پر لازم ٹھہراتا ہے تو اس نے یقیناً اس کا کوئی طریقہ بھی بتایا ہو گا، مولانا محترم سے ہماری گزارش ہے کہ وہ نصوص شریعت کی روشنی میں اس طریق کار کی وضاحت بھی فرما دیں۔
اس ضمن میں مولانا محترم نے قرآن مجید کی آیات ’مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ‘، ’...ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ‘ اور ’...ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ ‘ کا حوالہ دے کر یہ فرمایاہے:

’’ان آیات میں ’ومن لم یؤمن‘ کا لفظ نہیں آیا بلکہ ’ومن لم یحکم‘ کا لفظ آیا ہے۔ یعنی یہ نہیں فرمایا کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے، بلکہ یوں فرمایا ہے کہ جو لوگ فیصلہ نہیں کرتے۔ تو معلوم ہوا کہ عقیدہ جو بھی ہو مگر جب عملاً قرآن و سنت پر فیصلے نہیں کرتے اور حکومت کے نظام میں قرآن و سنت کا التزام نہیں کرتے تو وہ کافر، ظالم اور فاسق ہیں...‘‘(ماہنامہ فاران، جون ۱۹۹۵ء، ۲۹)

قرآن مجید کی ان آیات پرغورکرنے سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں:
ایک یہ کہ ان میں حرف’لَمْ‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ بات عربی جاننے والا ہر شخص جانتا ہے کہ حرف ’لَمْ‘ نفی جحد کے لیے آتا ہے۔ گویا آیت سے مراد یہ ہو گی کہ جو شخص اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ کرنے سے انکار کر دے، پوری آزادی، پورا اختیار اور پورا فہم رکھنے کے باوجود انکار کر دے، اصل کافر، ظالم اور فاسق وہی ہے۔ چنانچہ اس آیت میں بھی غور کیجیے تو شریعت سے انحراف کے کسی ایک یا ایک سے زیادہ واقعے پر کافر، ظالم اور فاسق نہیں کہا گیا، بلکہ شریعت کو ماننے اور اس کے لحاظ سے فیصلہ کرنے سے انکار کرنے پر کہا گیا ہے۔ دوسری بات ان آیات پر تدبر کرنے سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان میں حقیقی کفر، ظلم اور فسق کا ذکر ہوا ہے۔ بہ الفاظ دیگر، آیات میں جو بات بیان ہوئی ہے، وہ یہ ہے کہ آخرت کے روز ایسے ہی لوگ کافر، ظالم اور فاسق ٹھہریں گے۔ چنانچہ یہی بات واضح کرتے ہوئے مولانا امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’...گویا جو لوگ جانتے بوجھتے اور آزادی و اختیار رکھتے ہوئے اللہ کے احکام و قوانین کے خلاف فیصلے کرتے اور کراتے ہیں وہ کافر، ظالم اور فاسق ٹھہریں گے۔‘‘ (تدبر قرآن ۲/۵۳۲)

مگر اس سب کچھ کے باوجود، مولانا گوہر ر حمن صاحب کی یہ بات اگر مان بھی لی جائے کہ اس شریعت کے خلاف فیصلہ کرنے والے قرآن کی رو سے ظالم، فاسق اور کافر ہیں، تب بھی سوال یہ ہے کہ قرآن مجید یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں ایسے ظالم، فاسق اور کافر حکمرانوں کی اطاعت سے انکار کرنے اور ان کی تبدیلی کی جدوجہد کرنے کو کہاں لازم ٹھہرایا ہے ؟ مولانا نے اپنے مضمون میں اس حوالے سے جو آیات نقل فرمائی ہیں، ہمارے نزدیک ان کا کوئی تعلق نظم اجتماعی اور مسلمانوں کے منتخب حکمران کی اطاعت سے نہیں ہے، اس وجہ سے ان کی بنیاد پر بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان میں قرآن مجید نے ایسے ’’ظالم، فاسق اور کافر‘‘ حکمرانوں کی اطاعت سے انکار کرنے کا حکم دیا ہے۔
بعض روایات میں، البتہ یہ بات ضرور نقل ہوئی ہے کہ حکمران اگر کسی ایسی بات کا حکم دے جس سے خدا کی نافرمانی لازم آتی ہو تو اس معاملے میں خدا کی فرماں برداری پر قائم رہا جائے اور حکمران کی بات ماننے سے انکار کر دیا جائے، مگر ظاہر ہے کہ اس روایت سے مراد بھی یہ نہیں ہے کہ ایسے کسی واقعے کے بعد حکمران کی ہر معاملے میں اطاعت سے انکار کر دیا جائے۔ روایت میں جو بات بیان ہوئی ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی خدا کی معصیت کا حکم نہ مانے، یہ نہیں ہے کہ اسے اگر خدا کی معصیت کا حکم دیا جائے تو اس کے بعد وہ ہر معاملے میں حکمران کی اطاعت سے انکار کر دے۔ چنانچہ تاریخ کے اوراق میں امت مسلمہ کے علما و صلحا کا یہی طرز عمل ہمارے سامنے رہا ہے۔ انھوں نے حکمران کے جس حکم کے بارے میں یہ سمجھا کہ اس کو ماننے سے خدا کی نافرمانی لازم آتی ہے، اس کی اطاعت سے پوری شان سے خود بھی انکار کر دیا اور دوسروں کو بھی اسی بات کی تعلیم دی، مگر اسی حکمران کے باقی تمام احکام کے آگے انھوں نے خود سر جھکائے رکھا اور اپنے شاگردوں کو بھی ایسا ہی کرنے کی تعلیم دی۔
اس ضمن میں مولانا نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’سیکولر جمہوریت کا اصول تو یہ ہے کہ جب تک عوام کا اعتماد کسی حکومت کو حاصل ہو، اس وقت تک اس کو حکومت کرنے کا حق حاصل رہتا ہے لیکن اسلام کے شورائی نظام کا اصول تو یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کی معتمد حکومت اگر اللہ اور رسول کے احکام سے باغی ہو جائے پھر بھی وہ اسلامی حکومت ہو گی اور اس کے ساتھ چمٹے رہنا دین و ایمان کا تقاضا ہو گا۔‘‘ (ماہنامہ فاران، جون ۱۹۹۵ء، ۲۹)

مولانا محترم کی اس بات کا جواب ہمارے اس مضمون میں پہلے ہی گزر چکا ہے۔ ہم نے ’’الجماعۃ‘‘ کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر بیان کرتے ہوئے یہ واضح کیا تھا کہ اجتماعی معاملات سے متعلق قرآن مجید کے اصول ’اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ‘ کے پیش نظر التزام جماعت کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ اجتماعی معاملات میں جہاں اختلاف ہو جائے، وہاں اکثریت کی راے کی عملاً پابندی کی جائے۔ چنانچہ یہی بات واضح کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

ید اللّٰہ علی الجماعۃ. فاتبعوا السواد الأعظم. فإنہ من شذ شذ فی النار.(المستدرک،رقم ۳۹۱)

’’الجماعۃ پر اللہ کی رحمت کا ہاتھ ہے، تو (عملی طور پر) اکثریتی گروہ کی پیروی کرو، کیونکہ جو الجماعۃ سے الگ ہوا، اسے الگ کر کے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔‘‘

اپنے مضمون کے پہلے حصے میں اس روایت کے تحت ہم نے لکھا ہے:

’’اکثریتی گروہ کی راے کی عملاً پابندی کرنے کا یہ حکم، قرآن مجید کے حکم ’اَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ‘ پر مبنی ہے۔ قرآن مجید کے اس حکم سے اجتماعی معاملات کے بارے میں جو رہنمائی ملتی ہے، اس کی وضاحت میں مولانا مودودی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر ’’تفہیم القرآن‘‘ میں پانچ باتوں کو اس کا لازمی تقاضا قرار دیا ہے۔ ایک یہ کہ اجتماعی معاملات میں افراد کو اظہار راے کی آزادی حاصل ہو، انھیں یہ بات معلوم ہو کہ ان کے معاملات کس طرح چلائے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ انھیں یہ حق بھی حاصل ہو کہ وہ اگر اپنے معاملات کی سربراہی میں کوئی غلطی دیکھیں، تو اس پر ٹوک سکیں اور اگر اصلاح ہوتی نہ دیکھیں تو اپنے سربراہوں کو بدل سکیں۔ دوسرے یہ کہ اجتماعی معاملات کو چلانے کی ذمہ داری جس شخص پر بھی ڈالنی ہو، اسے لوگوں کی آزادانہ رضامندی سے مقرر کیا جائے۔ تیسرے یہ کہ شوریٰ کے لیے ایسے لوگ مقرر کیے جائیں، جن کو لوگوں کا حقیقی اعتماد حاصل ہو اور جنھیں فی الواقع، لوگوں کا نمائندہ کہا جا سکے۔ چوتھے یہ کہ مشورہ دینے والے اپنے علم اور ایمان اور ضمیر کے مطابق راے دیں، اور اس طرح کے اظہار راے کی انھیں پوری آزادی حاصل ہو۔ اور پانچویں یہ کہ اہل شوریٰ کی اکثریت کی راے کو اجتماعیت کے فیصلے کی حیثیت سے تسلیم کیا جائے۔ کسی ایک شخص یا گروہ کو ہرگز یہ اختیار نہ دیا جائے کہ وہ سب کی سننے کے بعد اپنی من مانی کر سکے۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ اکثریتی راے کی عملاً پابندی کا یہ حکم اصلاً فصل نزاعات کا ایک طریقہ ہے۔ اس کے معنی یہ ہرگز نہیں ہیں کہ قرآن مجید کی نظر میں اکثریتی راے ہمیشہ حق پر ہوتی ہے۔‘‘

اسی مضمون کی ایک اور روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إذا رأیتم إختلافًا فعلیکم بالسواد الأعظم. (ابن ماجہ،رقم۳۹۴۰)
’’جب تم اختلاف دیکھو تو اکثریت کی پیروی کرو۔‘‘

اس روایت کے تحت ہم نے لکھا ہے:

’’ظاہر ہے کہ اختلافات کو رفع کرنے کا عملاً، اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں ہو سکتا۔ دنیا بھی ہزاروں سال کے تجربات کے بعد اب اسی نتیجے پر پہنچی ہے کہ ایسے تمام اجتماعی معاملات میں، جہاں اتفاق راے نہ پایا جاتا ہو، وہاں اکثریت ہی کی راے کو نافذ العمل ہونا چاہیے۔ یہی بات قرآن مجید نے اپنے لافانی اسلوب میں ’اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ‘ کا اصول دے کر واضح کر دی تھی۔ اور اسی بات کو ان روایتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی واضح فرما دیا ہے۔
چنانچہ معاملہ خواہ دین کی تعبیر کا ہو یا سیاست، معیشت، معاشرت اور حدود و تعزیرات کا، جس معاملے میں بھی اختلاف ہو گا، اس میں ریاستی سطح پر اکثریت کی راے کو نافذ کیا جائے گا۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ کسی شخص یا گروہ کو اس راے سے اختلاف ہو اور وہ اس راے کو اسلام کے اصولوں کے منافی بھی سمجھتا ہو، ایک اسلامی ریاست میں اسے اپنے اس اختلاف کے اظہار اور لوگوں کو اپنی بات کا قائل کرنے کا حق بھی حاصل ہو گا، مگر جب تک اکثریت کی راے اس کے حق میں نہیں ہو جاتی، اس وقت تک اسے عملاً اسی راے کی پابندی کرنی ہو گی جسے مسلمانوں کی اکثریت نافذ العمل قرار دے گی۔
قرآن مجید کی مذکورہ آیت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصریحات سے واضح ہے کہ یہ معاملہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے گریز اجتماعیت سے متعلق اسلامی اصولوں سے گریز کے مترادف ہے۔ مزید براں، جب ایک اسلامی ریاست میں یہ اصول مان لیا جائے اور اس کے بعد کوئی شخص اجتماعی راے سے صرف نظر کرکے اپنی من مانی کرنے کی کوشش کرے تو یہ نظم اجتماعی سے بغاوت کے مترادف ہے۔‘‘

چنانچہ اسی اصول پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر کہا:

من بایع رجلاً عن غیر مشورۃ من المسلمین فلا یبایع ہو ولا الذی بایعہ تغرۃ أن یقتلا. (بخاری،رقم ۶۸۳۰)
’’جو شخص مسلمانوں کے مشورے کے بغیر کسی کی بیعت کرے تو ان دونوں کی بیعت نہ کی جائے، کیونکہ یہ دونوں اپنے عمل کے نتیجے میں قتل کیے جا سکتے ہیں۔‘‘

____________