سب سے پہلی بات مولانا محترم نے یہ فرمائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی حدیثوں میں جس چیز کو ’الجماعۃ‘ کہا گیا ہے، اس سے مراد صرف وہی جماعت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا اور اس کے التزام کے احکام بھی اسی وقت تک کے لیے ہیں، جب تک وہ جماعت قائم ہے۔ جب یہ قائم ہی نہ رہے تو پھر مولانا محترم کے نزدیک اس کے التزام کے احکام کے بھی کوئی معنی نہیں ہوں گے۔ مولانا محترم اپنی بات کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’دراصل یہ سارے احکام (یعنی الجماعت کے التزام، امیر کی اطاعت اور خروج کی ممانعت کے احکام) اور یہ تمام ہدایات اس وقت دی تھیں، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سربراہی میں مدینہ منورہ کے اندر مسلمانوں کی ایک بااقتدار ’الجماعت‘ قائم ہو گئی تھی۔ لفظ ’جماعت‘ جو نکرہ (Indefinite) ہونے کی صورت میں ہر جماعت کے لیے بولا جا سکتا ہے، اس پر ’ال‘ داخل ہونے کے بعد اس کا اطلاق صرف اس جماعت پر ہو گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سربراہی میں قائم ہوئی تھی۔ اور اس جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے کے جتنے احکام ہیں، وہ سب اس وقت تک کے لیے ہیں جب تک یہ جماعت قائم رہے۔ لیکن جب یہ قائم نہ رہے جیسا کہ اس وقت ہے تو التزام جماعت کے یہ سارے احکام نافذالعمل نہ سمجھے جائیں گے۔ جس طرح ہر نماز اس وقت فرض ہوتی ہے، جب اس کا وقت داخل ہو، اس سے قبل نماز کا حکم توموجود رہتا مگر نافذالعمل نہیں ہوتا، یا جس طرح حدود اور تعزیرات کے احکام اس وقت نافذ العمل ہیں جب وہ اجتماعی نظام موجود ہو جو ان کے نفاذ پر قائم ہو، لیکن اس نظام کی عدم موجودگی میں عام مسلمان ان احکام کے مخاطب نہیں نہ ان کے مکلف ہیں۔‘‘ ( ۳۴)

ہمیں مولانا محترم کی اس بات سے اتفاق ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی روایات میں ’الجماعۃ‘ کا لفظ اصلاً اسی نظم اجتماعی کے لیے استعمال ہوا ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں قائم فرمایا اور پھر فتح مکہ کے بعد جس کا اقتدار پورے جزیرہ نماے عرب پر پھیل گیا، لیکن ہمارے نزدیک اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ’الجماعۃ‘ کے لفظ کا اطلاق عملاً اسی نظم پر ہو سکتا تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس نفیس جزیرہ نماے عرب میں قائم فرمایا تھا۔
التزام جماعت کے حکم کی وجہ محض یہ نہیں ہے کہ یہ نظم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا تھا، بلکہ، جیسا کہ اپنے اس مضمون کے پہلے حصوں میں ہم واضح کر چکے ہیں، اس کی وجہ مسلمانوں کو بد نظمی، تفرقے اور خوں ریزی سے بچانا اور اتحاد اور اتفاق کی راہ دکھانا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ خرابی جس طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم کردہ نظم سے بغاوت کرنے کے نتیجے میں پیدا ہو سکتی تھی، اسی طرح کسی بھی نظم سے بغاوت کرنے کے نتیجے میں پیدا ہو سکتی ہے۔ پھر مزید یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی کسی بھی روایت میں یہ بات نقل نہیں ہوئی کہ ’تم پر الجماعت سے وابستہ رہنا اس لیے ضروری ہے، کیونکہ یہ الجماعت تمھارے پیغمبر نے قائم کی ہے‘۔ اس کے برعکس جو بات آپ سے مختلف روایتوں میں نقل ہوئی ہے، وہ یہ ہے کہ حکمران خواہ پسندیدہ ہو یا ناپسندیدہ، وہ خواہ عادل ہو یا غیر عادل، وہ اللہ کا فرماں بردار ہو یا فاجر و فاسق ہو، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلنے والا ہو یا اس طریقے سے گریز کرنے والا ہو، تم ہر حال میں اس کی اطاعت و فرماں برداری پر جمے رہنا، الاّ یہ کہ وہ تمھیں کوئی ایسا حکم دے جس کی اطاعت سے اللہ کی نافرمانی لازم آتی ہو یا وہ کھلے اور واضح الفاظ میں اپنے کفر کا اعلان کر دے۔ ہمیں یقین ہے کہ مولانا محترم اس بات سے اتفاق کریں گے کہ جس حکمران میں یہ تمام خرابیاں موجود ہوں، اس حکمران کے قائم کردہ نظم کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم کردہ نظم کسی طرح بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
چنانچہ اس میں تو اگرچہ شبہ نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی روایات میں جس چیز کو ’الجماعت‘ کہا گیا ہے، وہ مسلمانوں کا وہی اجتماعی نظم ہے جس کی بنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس نفیس ریاست مدینہ کا نظم قائم کر کے ڈالی، لیکن ان روایتوں میں مروی التزام جماعت کی ہدایت اپنی علت کے اعتبار سے صرف اسی ’الجماعت‘ کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ مولانا محترم نے بھی اپنے مضمون میں آگے چل کر اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ آج کے دور میں کسی نظم کو اگر ’الجماعت‘ کہا جا سکتا ہے تو اس کے لیے اس نظم میں کون کون سی خصوصیات کا ہونا ان کے نزدیک ضروری ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر التزام جماعت کا حکم فی الواقع محض اسی جماعت کے لیے ہوتا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمائی تھی تو مولانا ان خصوصیات میں ایک یہ درج فرماتے کہ ’اس نظم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا ہو‘۔ مزید یہ کہ ’الجماعت‘ سے متعلق روایات میں نقل ہونے والے تمام احکام اگر فی الواقع صرف اور صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم کردہ نظم ہی سے متعلق ہوتے تو پھر مولانا محترم کا یہ سوال بالکل بے معنی ہو جاتا کہ ’کیا ہم اس جماعت کو قائم کرنے کے مکلف ہیں؟ اور اگر جماعت قائم کرنے کے مکلف ہیں تو پھر اس کا طریق کار کیا ہو گا؟‘، کیونکہ ظاہر ہے کہ اس صورت میں مسلمانوں کو اس جماعت کو قائم کرنے کا ذمہ دار ٹھہرانا انھیں تکلیف ما لایطاق دینے کے مترادف ہوتا۔

____________