عرفجہ بن شریح اشجعی کہتے ہیں کہ ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

أنہ سیکون بعدی ہنات و ہنات فمن رأیتموہ فارق الجماعۃ أو یرید یفرق أمر أمۃ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کائنًا من کان فاقتلوہ فإن ید اللّٰہ علی الجماعۃ فإن الشیطان مع من فارق الجماعۃ.(نسائی،رقم ۳۹۵۴)
’’میرے بعد بڑے خراب حالات پیدا ہوں گے۔ چنانچہ جسے تم الجماعۃ سے الگ ہوتے یا امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں تفرقہ ڈالتے دیکھو، وہ کوئی بھی ہو، اسے بہرحال قتل کر دو، کیونکہ الجماعۃ پر اللہ (کی رحمت) کا ہاتھ ہے اور شیطان الجماعۃ سے الگ ہونے والے کا ساتھی بن جاتا ہے۔‘‘

جیسا کہ ہم اوپر بھی واضح کر چکے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ان تمام روایات کو سامنے رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ التزام جماعت کی اس ہدایت کی حکمت امت کو انارکی، خوں ریزی اور بد نظمی سے روکنا اور فتنے اور تفرقے میں پڑنے سے بچانا ہے۔ چنانچہ اس روایت میں بھی ’فمن رأیتموہ فارق الجماعۃ أو یرید یفرق أمر أمۃ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۸؂ ‘ کے الفاظ سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر امت مسلمہ کو افتراق اور باہمی جھگڑوں سے بچانا ہی ہے۔ مزید براں اس روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ جو شخص امت کو وحدت کے بجاے افتراق اور تفرقے کی راہ سجھانے کی کوشش کرے، اسے ہرگز اس کا موقع نہ دیا جائے اور اس کے جرم کی پاداش میں اسے قتل کر دیا جائے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم قرآن مجید کی آیت حرابہ پر مبنی ہے۔ ارشاد ہے:
 

اِنَّمَا جَزآؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ. (المائدہ ۵: ۳۳)

’’جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اعلان جنگ کریں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کریں، ان کی سزا تو بس یہی ہے کہ درد ناک طریقے سے قتل کیے جائیں یا صلیب دے دیے جائیں یا ان کے ہاتھ پیر بے ترتیب کاٹ ڈالے جائیں یا جلا وطن کر دیے جائیں۔‘‘

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی حکم دوسری روایتوں میں اس طرح بھی نقل ہوا ہے:

من أتاکم و أمرکم جمیع علی رجل واحد یرید أن یشق عصاکم أو یفرق جماعتکم فاقتلوہ.(مسلم،رقم ۳۴۴۳)
’’تم لوگ جب (امیر کے طور پر) ایک آدمی پر متفق ہو اور ان حالات میں کوئی شخص تمھاری وحدت کو توڑنے کی کوشش کرے اور (اس طرح) تمھاری جماعت میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کرے تو اسے قتل کر دینا۔‘‘

ظاہر ہے کہ نظم امارت قائم ہو جانے کے بعد کسی شخص کا آگے بڑھ کر اس میں رخنہ ڈالنا، نظم کی وحدت کو پارہ پارہ کر دینے کے مترادف ہے۔ جو شخص بھی یہ رویہ اختیار کرے، اسے ایک زہریلے ناسور کی طرح مسلمانوں کے جسم سے کاٹ کر پھینک دینا ہی مناسب ہے۔ یہی بات ایک اور روایت میں ان الفاظ میں بھی بیان ہوئی ہے:

إذا بویع لخلیفتین فاقتلوا الاخر منہما. (مسلم، رقم ۳۴۴۴)
’’جب دولوگوں کو امیر بنایا جائے تو بعد میں امیر بننے والے شخص کو قتل کر دو۔‘‘

_______

۸؂ ’’چنانچہ جسے تم الجماعۃ سے الگ ہوتے یا امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں تفرقہ ڈالتے دیکھو۔‘‘

____________