مولانا محترم نے تیسری بات یہ فرمائی ہے کہ ’الجماعۃ‘ میں بگاڑ کی صورت میں مسلمانوں کو اس کی اصلاح کا حکم دیا گیا ہے اور حکمران اگر کفر بواح کے مرتکب ہوں تو بعض شرائط پورے ہونے کے بعد، ان کے خلاف جہاد کو مسلمانوں پر لازم ٹھہرایا گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’کفر بواح کے ارتکاب کے بعد، کوئی اقتدار ’الجماعت‘ باقی نہیں رہتا ایسے اقتدار کے ساتھ مومن کا اصل تعلق محاربہ کا ہوتا ہے۔ اگر عملاً محاربہ کرنے کے لیے اسلام نے چند اہم شرائط عائد کر دی ہیں جن کے بغیر نہ کفر بواح کے مرتکب نام نہاد مسلمانوں کے خلاف طاقت استعمال کی جا سکتی ہے، نہ کافر حکمرانوں کے خلاف۔ کافر حکمرانوں اور کفر بواح کے مرتکب نام نہاد مسلمانوں کے مابین کوئی فرق نہیں ہے۔ جب بھی کسی بااختیار امیر کی قیادت میں مسلمانوں کی کوئی جماعت وجود میں آجائے اور اس کے پاس اتنی مادی طاقت بھی فراہم ہو جائے کہ کافرانہ حکومت کو کامیابی کے ساتھ ہٹانے کے واضح امکانات نظر آ رہے ہوں تو ان کے خلاف محاربہ صرف جائز ہی نہیں بلکہ محاربہ واجب ہے۔ ’وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ‘ (اور ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور اطاعت (صرف) اللہ کے لیے ہو جائے)۔‘‘ (۳۴۔ ۳۵)

احکام دین کے استنباط کے حوالے سے ہماری راے یہ ہے کہ جب تک قرآن و سنت کی واضح نصوص موجود نہ ہوں، اس وقت تک معاملات میں سے کسی چیز کو واجب یا حرام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جب تک ایسی واضح نصوص موجود نہ ہوں جو کسی معاملے کو مسلمانوں پر لازم یا ان کے لیے ممنوع قرار دے رہی ہوں، اس وقت تک اس معاملے کو جائز یا نا پسندیدہ تو قرار دیا جا سکتا ہے، فرض و واجب یا حرام و ممنوع قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اپنی اسی راے کی وجہ سے ہم اپنے آپ کو یہ کہنے پر مجبور پاتے ہیں کہ کفر بواح کے ارتکاب کے باوجود حکمرانوں کے خلاف خروج و بغاوت یا کسی قسم کا کوئی اقدام، زیادہ سے زیادہ جائز ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس قسم کے اقدام کو فرض یا واجب قرار دینے کی واضح نصوص موجود ہی نہیں ہیں۔
مولانا محترم نے اپنی اس بات کے آخر میں قرآن مجید کے جن الفاظ کا حوالہ دیا ہے، وہ سورۂ بقرہ (۲: ۱۹۳) اور سورۂ انفال (۸: ۳۹) میں آئے ہیں۔ ان دونوں ہی مقامات پر غور کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہاں دراصل جن لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، وہ کفر بواح کے مرتکب ’نام نہاد مسلمان‘ حکمران نہیں، بلکہ قریش کے وہ کفار ہیں جن کے لیے رسولوں کے باب میں اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق اب ’فی الاذلین‘ (ذلیل و رسوا) ہونا مقدر ہو چکا ہوا تھا۔ اس سیاق میں دیکھیے تو اس آیت کا کوئی تعلق ’نام نہاد مسلمان‘ حکمرانوں کے خلاف کسی کارروائی سے نہیں ہے۔ سورۂ بقرہ میں یہ الفاظ جس سیاق و سباق میں آئے ہیں، پہلے انھیں ملاحظہ فرمایئے۔ ارشاد ہے:

وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ. وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْْثُ ثَقِفْتُمُوْہُمْ وَاَخْرِجُوْہُمْ مِّنْ حَیْْثُ اَخْرَجُوْکُمْ وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلاَ تُقٰتِلُوْہُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوْکُمْ فِیْہِ فَاِنْ قٰتَلُوْکُمْ فَاقْتُلُوْہُمْ کَذٰلِکَ جَزَآءُ الْکٰفِرِیْنَ. فَاِنِ انْتَہَوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ. وَقٰتِلُوْہُمْ حَتّٰی لاَ تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ.(۲: ۱۹۰۔ ۱۹۳)

’’اور تم لوگ اللہ کی راہ میں ان سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں، مگر حد سے بڑھنے والے نہ بنو۔ بے شک، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور انھیں جہاں کہیں پاؤ، قتل کرو اور جہاں سے انھوں نے تمھیں نکالا ہے، وہاں سے انھیں نکال باہر کرو۔ اور فتنہ قتل سے بڑھ کر ہے۔ اور تم ان سے مسجد حرام کے پاس مت لڑو، جب تک وہ خود تم سے اس (کے حدود) میں جنگ نہ چھیڑیں۔ چنانچہ وہ اگر تم سے (اس کے حدود میں) لڑیں تو تم بھی ان سے لڑو۔ یہی ان کافروں کا بدلہ ہے۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور ان سے لڑو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہ جائے اور دین اللہ کا ہو جائے۔‘‘

جہاں تک سورۂ انفال کا تعلق ہے، وہ تو پوری سورہ ہی قریش کے خلاف کارروائی کی تیاری کے احکام دے رہی ہے۔ اسی سیاق میں وہ عبارت بھی آئی ہے جس کا مولانا محترم نے حوالہ دیا ہے۔
مولانا محترم سے ہماری گزارش ہے کہ وہ ہمارے لیے ان نصوص کی نشان دہی فرما دیں جن کی بنیاد پر وہ کفر بواح کے مرتکب حکمرانوں کے خلاف جنگ و قتال کو ’واجب‘ قرار دیتے ہیں۔ مولانا محترم لکھتے ہیں:

’’... فرض کریں کہ
ا۔ حکومت کفر بواح کی مرتکب ہے۔
ب۔ مسلمان ایک بااختیار امیر کے تحت منظم ہیں۔
ج۔ مسلمان تعداد اور وسائل کے لحاظ سے کفر بواح کی مرتکب حکومت کو ہٹانے کی نظر بظاہر صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
تو کیا اس صورت میں یہ جائز ہو گا کہ وہ ’کفر بواح‘ کی مرتکب حکومت کو ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کے مصداق دیکھتے رہیں اور کچھ نہ کہیں؟‘‘ (۳۵)

ہم مولانا محترم کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ سوال یہ نہیں ہے کہ ایسی صورت حال میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا جائز ہے یا نہیں، سوال تو یہ ہے کہ ایسی صورت حال میں مسلمان حکمرانوں کے خلاف تلوار اٹھانا دین و شریعت نے لازم ٹھہرایا ہے یا نہیں۔ مولانا محترم یقیناًہم سے بہتر جانتے ہیں کہ جو شخص ایسی صورت حال میں ’نام نہاد مسلمان‘ حکمرانوں کے خلاف تلوار اٹھانے کو لازم، فرض یا واجب سمجھتا ہے، اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن و سنت کی وہ نصوص پیش کرے جن سے اس قسم کے اقدام کا لازم، فرض یا واجب ہونا ثابت ہوتا ہو۔ ایسی نصوص کی غیر موجودگی میں کسی چیز کو دین میں لازم، فرض یا واجب قرار دینا بیان شریعت نہیں ہے۔ اور یقیناًمولانا محترم ہم سے اتفاق کریں گے کہ اہل علم کا کام شریعت سازی نہیں، بیان شریعت ہی ہونا چاہیے۔
مولانا محترم لکھتے ہیں:

’’اس موقع پر یاد رکھنا چاہیے کہ ’اطاعت‘ کے مفہوم میں خوش دلی کے ساتھ حکم کی بجا آوری کا تصور پایا جاتا ہے او راحکام کی اس طرح سے بجا آوری اللہ تعالیٰ کے بعد رسول اور ان اولوالامر کے ساتھ مخصوص ہے جو مسلمانوں میں سے ہوں۔ کافر اور کفر بواح کے مرتکب حکمرانوں کے لیے اطاعت کا لفظ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ (۳۵)

مولانا محترم سے ہماری گزارش ہے کہ وہ زبان کے ان شواہد سے ہمیں مطلع فرمائیں جن کی بنیاد پر ان کے نزدیک خوش دلی اور دل کی آمادگی کے بغیر کسی کے حکم کو مان لینے پر عربی زبان میں لفظ ’اطاعت‘ نہیں بولا جاتا۔ اس حوالے سے مولانا محترم سے گزارش ہے کہ وہ روایات میں نقل ہونے والے ان حالات کو خاص طور پر سامنے رکھیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر کی ’اطاعت‘ کا حکم دیا ہے اور یہ بتائیں کہ ان کے اپنے بیان کردہ اصول کے مطابق ان حالات میں ’خوش دلی کے ساتھ حکم کی بجا آوری‘ کس طرح مراد لی جا سکتی ہے؟ مثال کے طور پر مسلم کی ایک روایت کے مطابق ایک صحابی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر حکمران اپنے حقوق تو ہم سے لے لیں، مگر ہمارے حقوق ادا نہ کریں (یعنی وہ ذمہ داریاں ادا نہ کریں جو دین و شریعت اور عقل و فطرت کی رو سے مسلمان عوام کے حوالے سے ان پر عائد ہوتی ہیں) تو اس صورت میں ہم کیا کریں؟ اس کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’إسمعوا وأطیعوا*‘ (ان کی بات سننا اور ان کی اطاعت کرنا)۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں حکمران کی اطاعت خوش دلی اور دل کی آمادگی کے ساتھ کسی طرح بھی نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح وہ روایت جس میں کفر بواح کے بعد حکمرانوں کے خلاف خروج کے جواز کا استنباط کیا جاتا ہے، خود اس کے الفاظ یہ بات واضح کر رہے ہیں کہ لفظ ’اطاعت‘ محض حکم کی بجا آوری کے لیے آتا ہے، اس میں خوش دلی اور دل کی آمادگی کی شرط کسی طرح نہیں لگائی جا سکتی۔ روایت کے الفاظ ملاحظہ ہوں:

فیما أخذ علینا أن بایعنا علی السمع والطاعۃ فی منشطنا ومکرہنا وعسرنا ویسرنا وأثرۃ علینا. (بخاری،رقم۶۵۳۲)

’’آپ نے ہم سے جن باتوں کا اقرار لیا، ان میں یہ بھی تھی کہ ہم سنیں گے اور اطاعت کریں گے، خواہ پسند ہو یا ناپسند، تنگی ہو یا کشادگی اور خواہ ہم پر دوسروں کو ترجیح ہی کیوں نہ دی جائے۔‘‘
 

_______

* مسلم، رقم ۳۴۳۳

____________