حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

کان الناس یسئلون رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن الخیر وکنت أسألہ عن الشر مخافۃ أن یدرکنی فقلت یا رسول اللّٰہ إنا کنا فی جاہلیۃ و شر فجاء نا اللّٰہ بھذا الخیر. فھل بعد ہذا الخیر من شر؟ قال: نعم. قلت: وھل بعد ذلک الشر من خیر. قال: نعم وفیہ دخن. قلت: وما دخنہ؟ قال قوم یھدون بغیر ھدیی تعرف وتنکر منھم. قلت: فھل بعد ذلک الخیر من شر؟ قال: نعم، دعاۃ علی أبواب جہنم. من أجابہم إلیہا قذفوہ فیہا. قلت: یا رسول اللّٰہ، صفہم لنا. قال: ہم من جلدتنا و یتکلمون بألسنتنا. قلت: فما تأمرنی إن أدرکنی ذلک؟ قال: تلزم جماعۃ المسلمین وإمامہم.قلت: فإن لم یکن لہم جماعۃ ولا إمام. قال فاعتزل تلک الفرق کلہا ولو أن تعض بأصل شجرۃ حتی یدرکک الموت وأنت علی ذلک.(بخاری،رقم ۶۵۵۷)
’’لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بالعموم اچھے حالات کے بارے میں پوچھتے تھے، مگر میں آپ سے بالعموم برے حالات کے بارے میں پوچھا کرتا تھا کہ کہیں میں ان میں پھنس نہ جاؤں۔ چنانچہ ایک مرتبہ میں نے آپ سے عرض کیا: یا رسول اللہ، ہم لوگ جاہلیت میں اور بدترین حالات میں گھرے ہوئے تھے کہ اللہ نے ہمارے لیے یہ بہترین حالات پیدا کر دیے۔ کیا اس اچھے زمانے کے بعد، پھر سے کوئی برا زمانہ آئے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، میں نے عرض کیا: کیا اس برے زمانے کے بعد پھر کوئی اچھا زمانہ بھی آئے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، مگر اس میں کچھ خرابیاں بھی ہوں گی۔ میں نے پوچھا: کیسی خرابیاں؟ آپ نے فرمایا: ایسے لوگ ہوں گے جو میری ہدایت سے ہٹ کر لوگوں کی رہنمائی کریں گے۔ ان میں خوبیاں بھی ہوں گی اور برائیاں بھی۔ میں نے عرض کیا: کیا اس اچھے زمانے کے بعد بھی کوئی برا زمانہ آئے گا؟ فرمایا: ہاں، جہنم کے دروازوں کی طرف پکارنے والوں کا زمانہ آئے گا۔ جو اُن کی بات مانے گا، وہ اسے جہنم میں لے جا اتاریں گے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ، یہ کون لوگ ہوں گے؟ فرمایا: وہ ہماری جیسی رنگت کے اور ہماری ہی زبان بولنے والے لوگ ہوں گے۔ میں نے عرض کیا: اگر میں یہ زمانہ دیکھوں تو (اس کے شر سے بچنے کے لیے) آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: مسلمانوں کی جماعت اور ان کے سربراہ کے ساتھ منسلک رہنا۔ میں نے پوچھا: اگر ان کی کوئی جماعت اور سربراہ نہ ہو تو پھر میں کیا کروں؟ فرمایا: پھر ان تمام گروہوں سے الگ رہنا، خواہ تمھیں اپنی موت تک کسی درخت کی کھوہ میں پناہ لینی پڑے، مگر (ان تمام گروہوں سے الگ) اسی حال میں رہنا۔‘‘

’الجماعۃ‘ کے نہ ہونے کے معنی، جیسا کہ پچھلی روایتوں میں بھی ذکر ہو چکا ہے، یہ ہیں کہ مسلمانوں کا کوئی مرکزی نظم موجود نہ ہو اور وہ متحارب گروہوں میں تقسیم ہو گئے ہوں۔ ایسی صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ مسلمان ہر گروہ سے الگ رہیں، خواہ ایسا کرنے کے لیے انھیں آبادی چھوڑ کر جنگل ہی میں کیوں نہ جا کر بسنا پڑے۔ یہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی بعض دوسری روایتوں سے بھی معلوم ہوتی ہے۔ ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

دخلت علی محمد بن مسلمۃ. فقال: إن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: إنھا ستکون فتنۃ وفرقۃ وإختلاف. فإذا کان کذلک فأت بسیفک أحدًا. فاضربہ حتی ینقطع. ثم اجلس فی بیتک حتی تأتیک ید خاطءۃ أو منیۃ قاضیۃ. فقد وقعت وفعلت ما قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم. (ابن ماجہ،رقم ۳۹۵۲)

’’میں محمد بن مسلمہ (رضی اللہ عنہ) کے پاس گیا تو انھوں نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: بہت جلد ایک فتنہ اٹھے گا، مسلمانوں میں پھوٹ پڑ جائے گی اور اختلافات پیدا ہو جائیں گے۔ جب وہ وقت آئے تو تم اپنی تلوار لے کر احد پہاڑ پر جانا اور اسے اس پر مار کر توڑ دینا۔ پھر واپس آ کر اپنے گھر میں بیٹھ رہنا، یہاں تک کہ کوئی باغی آ کر تمھیں مار ڈالے یا ویسے ہی تمھاری موت آ جائے۔ (محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ) ایسا وقت آیا اور میں نے وہی کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔‘‘

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:

بینما نحن حول رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إذ ذکروا الفتنۃ أو ذکرت عندہ. قال: إذا رأیت الناس قد مرجت عہودہم وخفت أمانتھم وکانوا ہکذا وشبک بین أصابعہ. قال فقمت إلیہ فقلت لہ: کیف أفعل عند ذلک، جعلنی اللّٰہ فداک. قال: الزم بیتک وأملک علیک لسانک وخذ ما تعرف ودع ما تنکر وعلیک بأمر خاصۃ نفسک ودع عنک أمر العامۃ. (احمد،رقم۶۶۹۲)

’’ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھے تھے کہ لوگوں نے فتنے کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا کہ تم دیکھو گے کہ لوگوں میں عہد کی پاس داری ختم ہو گئی ہے اور لوگ امانت کے بارے میں بے پروا ہو گئے ہیں۔ اور پھر آپ نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں گھساتے ہوئے فرمایا: وہ (لوگ) اس طرح گتھم گتھا ہو جائیں گے۔ (عبداللہ بن عمر) کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پوری طرح سے متوجہ ہو گیا اور میں نے پوچھا: آپ پر میری جان قربان، ایسے وقت میں، میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: اپنے آپ کو اپنے گھر میں بند کر لینا، اپنی زبان کو قابو میں رکھنا، اچھی بات کو اپنا لینا، بری بات سے دور رہنا، خاص اپنے ذاتی معاملات کے نگران رہنا اور دوسروں کے معاملے سے تعرض نہ کرنا۔‘‘

اس مضمون کی اور بھی بہت سی روایات حدیث کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں۔ ان سب روایتوں سے یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر مسلمانوں کا نظم اجتماعی موجود نہ رہے اور ان کے مختلف گروہ ایک دوسرے پر تلوار اٹھا لیں تو عام مسلمانوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت یہی ہے کہ وہ ہر قسم کے جھگڑے سے الگ رہیں، خواہ اس کے لیے انھیں اپنے آپ کو اپنے گھروں ہی میں کیوں نہ بند کرنا پڑ جائے۔ اس کی ایک وجہ ظاہر ہے کہ یہ بھی ہے کہ مسلمان کی تلوار کسی دوسرے مسلمان پر نہ اٹھ جائے، ایک مسلمان کا ہاتھ کسی مسلمان کے خون سے نہ رنگا جائے اور ایک مسلمان دنیا کے جھگڑے میں اپنی آخرت نہ گنوا بیٹھے۔
حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین جو صورت حال حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد پیدا ہو گئی اور عام آدمی کے لیے یہ مسئلہ پیدا ہو گیا کہ ’’الجماعۃ‘‘ کا اطلاق مسلمانوں کے کس گروہ پرکرے۔ چنانچہ ہرمسلمان نے اسی گروہ کا ساتھ دیا جسے وہ اپنے فہم کے مطابق ’’الجماعۃ‘‘ سمجھتا تھا، مگر اس نازک وقت میں بھی بعض لوگ ہر قسم کے جھگڑے سے الگ رہے۔ اس طرح کے واقعات بھی حدیث کی کتابوں میں نقل ہوئے ہیں۔ عدیسہ بنت اہبان رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں:

إنہا کانت مع أبیہا فی منزلہ. فمرض فأفاق من مرضہ ذلک. فقام علی بن ابی طالب بالبصرۃ فأتاہ فی منزلہ حتی قام علی باب حجرتہ. فسلم فرد علیہ الشیخ السلام. فقال لہ علی کیف أنت یا أبا مسلم. قال بخیر فقال علی ألا تخرج معی إلی ہؤلاء القوم فتعیننی. قال: بلی إن رضیت بما أعطیک. قال علی: وما ہو. فقال الشیخ: یا جاریۃ، ھات سیفی. فأخرجت إلیہ غمدًا. فوضعتہ فی حجرہ فاستل منہ طائفۃ. ثم رفع رأسہ إلی علی رضی اللّٰہ عنہ فقال: إن خلیلی علیہ السلام وابن عمک عہد إلی إذا کانت فتنۃ بین المسلمین أن اتخذ سیفًا من خشب فہذا سیفی فإن شئت خرجت بہ معک. فقال علی رضی اللّٰہ عنہ لا حاجۃ لنا فیک ولا فی سیفک فرجع من باب الحجرۃ ولم یدخل.(احمد،رقم ۱۹۷۴۹)

’’وہ اپنے والد کے ساتھ ان کے گھر میں تھیں۔ وہ بیمار ہو گئے۔ وہ جب اس بیماری سے صحت یاب ہوئے تو ان دنوں حضرت علی بن ابو طالب (رضی اللہ عنہ) بصرہ ہی میں تھے۔ انھی دنوں وہ ان کے گھر تشریف لائے۔ انھوں نے کمرے کے دروازے پر کھڑے ہو کر سلام کیا تو والد بزرگ نے ان کے سلام کا جواب دیا۔ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے کہا: ابو مسلم، آپ کیسے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا: اچھا ہوں، حضرت علی نے کہا: کیا آپ ان لوگوں سے مقابلے میں میرا ساتھ دیں گے؟ انھوں نے کہا: ہاں، کیوں نہیں، لیکن اگر آپ اس پر راضی ہوں جو میں آپ کی خدمت میں پیش کروں گا۔ حضرت علی نے پوچھا: وہ کیا؟ والد صاحب نے آواز دی اور کہا: لڑکی، ذرا میری تلوار لے کر آؤ۔ میں نے اسے لا کر ان کی گود میں رکھ دیا۔ وہ میان ہی میں تھی۔ انھو ں نے تھوڑی سی تلوار میان سے نکالی اور سر اٹھا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: میرے دوست اور آپ کے چچا زاد محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مجھ سے عہد لیا تھا کہ جب مسلمان آپس میں لڑ پڑیں تو میں لکڑی کی تلوار بنا لوں۔ تو اب یہ میری تلوار ہے۔ آپ چاہیں تو میں اسی کے ساتھ آپ کی مدد کے لیے نکل پڑتا ہوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں آپ کی اور آپ کی تلوار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کہہ کر وہ واپس لوٹ گئے اور پھر کبھی نہیں آئے۔‘‘

____________