حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إن الشیطان ذئب الإنسان کذئب الغنم یاخذ الشاۃ القاصیۃ والناحیۃ فإیاکم والشعاب وعلیکم بالجماعۃ والعامۃ و المسجد. (احمد،رقم ۲۱۲۰)
’’شیطان کا معاملہ انسان کے ساتھ ایسا ہی ہے جیسے بھیڑوں کے گلے کے ساتھ بھیڑیے کا۔ بھیڑیا ریوڑ سے الگ ہو جانے والی اور کنارے کنارے چلنے والی بھیڑوں ہی کو پکڑتا ہے، اس وجہ سے تم ہرگز گروہوں میں نہ بٹ جانا۔ اور (سیاسی لحاظ سے) الجماعۃ کے ساتھ، (معاشرتی لحاظ سے) عام مسلمانوں کے ساتھ اور (اپنے محلے کی) مسجد کے ساتھ منسلک رہنا۔‘‘

اس روایت سے بھی دو بڑی اہم باتیں معلوم ہوتی ہیں: ایک یہ کہ مسلمانوں کا ایک نظم کے بجاے متحارب گروہوں میں تقسیم ہو جانا ہی دراصل الجماعۃ کا نقیض ہے۔ چنانچہ یہی بات ایک دوسری روایت میں پوری وضاحت کے ساتھ اس طرح بھی بیان ہوئی ہے:

الجماعۃ رحمۃ والفرقۃ عذاب.(احمد،رقم ۱۷۷۲۱)
’’الجماعۃ (بن کر رہنا) رحمت اور تفرقہ عذاب ہے۔‘‘

دوسرے یہ کہ التزام جماعت کے حکم کی اصل علت مسلمانوں کو انارکی اور خوں ریزی سے روکنا اور فتنوں میں پڑنے سے محفوظ رکھنا ہے۔ یہ بات کسی دلیل کی محتاج نہیں ہے کہ کسی نظم اجتماعی میں اتحاد کے بجاے جب فرقہ بندی کی روح پیدا ہو جائے تو وہ نظم منتشر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اتحاد اور یک جہتی کسی نظم اجتماعی کے مضبوط اور طاقت ور ہونے پر اور انتشار اس کے کمزور پڑ جانے پر منتج ہوتا ہے۔ کسی نظم اجتماعی میں جب اتحاد اور یگانگی موجود ہو تو بیرونی طاقتوں کے لیے اس کے خلاف سازش کرنی آسان نہیں رہتی۔ چنانچہ دیکھیے، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ان الفاظ میں فرمائی:

إثنان خیر من واحد و ثلات خیر من إثنین وأربعۃ خیر من ثلاثۃ فعلیکم بالجماعۃ.(احمد،رقم ۲۰۳۳۱)
’’دو ایک سے بہتر ہیں۔ تین دو سے اور چار تین سے بہتر ہیں۔ چنانچہ تم پر لازم ہے کہ الجماعۃ کے ساتھ وابستہ رہو۔‘‘

اس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبے میں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:

علیکم بالجماعۃ وإیاکم والفرقۃ فإن الشیطان مع الواحد وہو من الإثنین أبعد من أراد بحبوحۃ الجنۃ فلیلزم الجماعۃ.(ترمذی،رقم ۲۰۹۱)
’’تم پر لازم ہے کہ الجماعۃ سے وابستہ رہو اور تفرقے سے بچو، کیونکہ شیطان اکیلے آدمی کا ساتھی بن جاتا ہے۔ دو آدمیوں سے وہ اکیلے کے مقابلے میں دور ہوتا ہے، اس لیے جو جنت کی نعمتیں پانا چاہتا ہے، وہ الجماعۃکے ساتھ وابستہ رہے۔‘‘

ان روایات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے التزام جماعت کی جو ہدایت دی ہے، اس کی اصل حکمت مسلمانوں کو انارکی اور خوں ریزی سے روکنا اور اس طرح کے فتنوں میں پڑنے سے محفوظ رکھنا ہی ہے۔

____________