حارث اشعری رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أنا آمرکم بخمس اللّٰہ أمرنی بہن: بالجماعۃ والسمع والطاعۃ والہجرۃ والجہاد فی سبیل اللّٰہ فإنہ من خرج من الجماعۃ قید شبر خلع ربقۃ الإسلام من عنقہ إلا أن یرجع.(احمد،رقم ۱۶۵۴۲)
’’میں تمھیں پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں، مجھے ان کا حکم اللہ نے دیا ہے: التزام جماعت، سمع و طاعت، ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ۔ یاد رکھو، جو شخص بالشت برابر بھی الجماعۃ سے الگ ہوا، اس نے اپنی گردن سے اسلام کا قلادہ اتار دیا، الاّ یہ کہ وہ دوبارہ الجماعۃ کے ساتھ منسلک ہو جائے۔‘‘

اس روایت سے اگرچہ ’’الجماعۃ‘‘ کے مفہوم کے بارے میں کوئی خاص رہنمائی نہیں ملتی، تاہم دو باتوں کی نشان دہی اس سے ضرور ہوتی ہے: ایک یہ کہ ’’الجماعۃ‘‘ کے معنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین پر بالکل واضح تھے۔ وہ لوگ جس طرح ’’سمع و طاعت‘‘، ’’ہجرت‘‘ یا ’’جہاد‘‘ کے مصداق سے پوری طرح واقف تھے، اسی طرح اس سے بھی واقف تھے۔ بہ الفاظ دیگر ’’الجماعۃ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین کے ہاں ایک معروف لفظ تھا، جس کے معنی کے بارے میں ان کے ذہنوں میں کوئی اشکال نہیں تھا۔ چنانچہ یہی بات ’’مسند احمد بن حنبل‘‘ کی ایک روایت سے بھی معلوم ہوتی ہے۔ اس روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے بارے میں قریش کا ایک تبصرہ نقل ہوا ہے۔ اس کے الفاظ اس طرح ہیں:

ما رأینا مثل ما صبرنا علیہ من ہذا الرجل قط سفہ أحلامنا وشتم آباء نا وعاب دیننا وفرق جماعتنا وسب آلہتنا لقد صبرنا منہ علی أمر عظیم.(رقم ۶۷۳۹)
’’ہم نے اس شخص کے معاملے میں جتنا صبر کیا ہے، شاید کسی اور معاملے میں کبھی نہیں کیا۔ اس نے ہمیں بے عقل ٹھہرایا، ہمارے آبا کو برا بھلا کہا، ہمارے دین میں عیب نکالے، ہماری ’’جماعت‘‘ میں تفرقہ ڈالا اور ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہا۔ بے شک، ہم نے ایک بہت بڑے معاملے کو صبر و تحمل سے برداشت کیا ہے۔‘‘

اس روایت میں بھی ’’جماعت‘‘ کا لفظ بالکل اسی طرح استعمال ہوا ہے، جس طرح اوپر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی روایت میں استعمال ہوا ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ عربوں کے لیے کوئی اجنبی لفظ نہیں تھا، بلکہ وہ اس سے بڑی اچھی طرح سے واقف تھے۔
دوسرے یہ کہ خود اس روایت کے مضمون ہی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت مدینہ کے بعد فرمائی۔ گویا سمع و طاعت، ہجرت اور جہاد کی طرح التزام جماعت کا حکم بھی مدینہ میں اسلامی ریاست کے قیام کے بعد ہی دیا گیا۔ چنانچہ باقی تین مذکورہ معاملات کی طرح التزام جماعت کا حکم بھی اصلاً اسلامی ریاست ہی سے متعلق ہے۔ یہ بات اسی روایت کے ایک دوسرے طریقے میں اور زیادہ وضاحت سے سامنے آتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

 إن اللّٰہ أمر یحیی بن زکریا بخمس کلمات أن یعمل بہا ویأمر بنی اسرائیل أن یعملوا بہا وأنہ کاد أن یبطئ بہا فقال عیسٰی: إن اللّٰہ أمرک بخمس کلمات لتعمل بہا و تأمر بنی اسرائیل أن یعملوا بہا فإما أن تأمرہم وإما أن آمرہم فقال یحیی أخشی إن سبقتنی بہا أن یخسف بی أو أعذب فجمع الناس فی بیت المقدس فامتلأ المسجد و تعدوا علی الشرف فقال إن اللّٰہ أمرنی بخمس کلمات أن أعمل بہن وآمرکم أن تعملوا بہن أولہن أن تعبدوا اللّٰہ ولا تشرکوا بہ شیءًا... وإن اللّٰہ أمرکم بالصلاۃ... و آمرکم بالصیام ... و آمرکم بالصدقۃ... و آمرکم أن تذکروا اللّٰہ... قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم و أنا آمرکم بخمس اللّٰہ أمرنی بہن السمع و الطاعۃ و الجہاد والہجرۃ والجماعۃ فإنہ من فارق الجماعۃ قید شبر فقد خلع ربقۃ الإسلام من عنقہ إلا أن یرجع.(ترمذی، رقم ۲۷۹۰)
’’اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ بن زکریا (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کو حکم دیا کہ وہ پانچ باتوں پر خود بھی عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل پیرا رہنے کی تلقین کریں۔ ان سے اس معاملے میں کچھ سستی ہو چلی تھی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام) نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ باتوں پر عمل کرنے اور بنی اسرائیل کو ان پر عمل کرنے کی تلقین کرنے کا حکم دیا ہے۔ اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے تو پھر میں یہ کام کرتا ہوں۔ حضرت یحییٰ نے فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ اگر اس معاملے میں آپ مجھ پر سبقت لے گئے تو مجھے زمین میں دھنسا دیا جائے یا میں اللہ کے عذاب کا مستحق ٹھہروں گا۔ چنانچہ انھوں نے بیت المقدس میں لوگوں کو جمع کیا۔ (ان کی پکار پر اتنے لوگ آئے کہ) مسجد بھر گئی اور آس پاس کے بلند ٹیلوں پر بھی لوگ جمع ہو گئے۔ انھوں نے کہا: اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں پانچ باتوں پر خود بھی عمل کروں اور تمھیں بھی اس کی تلقین کروں۔ پہلی یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ... اور اللہ تمھیں نماز کا حکم دیتا ہے... اور میں تمھیں روزہ رکھنے کی تلقین کرتا ہوں... اور میں تمھیں خیرات کرنے کی تلقین کرتا ہوں... اور میں تمھیں اللہ کو بہت یاد کرنے کی تلقین کرتا ہوں... اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمھیں پانچ (مزید) باتوں کا حکم دیتا ہوں، مجھے اللہ نے ان کا حکم دیا ہے: سمع و طاعت، جہاد، ہجرت اور التزام جماعت۔ یاد رکھو، جو شخص بالشت برابر بھی الجماعۃ سے الگ ہوا، اس نے اپنی گردن سے اسلام کا قلادہ اتار دیا، الاّ یہ کہ وہ دوبارہ ’’الجماعۃ‘‘ کے ساتھ منسلک ہو جائے۔‘‘

اس روایت پر غور کرنے سے یہ بات بالکل متعین ہو جاتی ہے کہ ہجرت، سمع و طاعت اور جہاد کی طرح التزام جماعت کا حکم بھی مسلمانوں کے اجتماعی نظم سے متعلق ہے۔ اس روایت میں آپ نے گویا حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما الصلوٰۃ والسلام پر نازل ہونے والے احکام کے مقابلے میں اپنے اوپر نازل ہونے والی شریعت کی وسعت کو واضح فرمایا ہے۔ ظاہر ہے کہ حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما الصلوٰۃ والسلام پرنازل ہونے والے احکام کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی آخری شریعت میں یہ وسعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں ایک اسلامی ریاست اورمسلمانوں کے اجتماعی نظم کے قیام ہی سے پیدا ہوئی تھی۔

____________