حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:

عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال من رای من أمیرہ شیءًا یکرھہ فلیصبر علیہ فإنہ من فارق الجماعۃ شبرًا فمات إلامات میتۃ جاھلیۃ. (بخاری،رقم ۶۵۳۱)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: جس نے اپنے امیر کی طرف سے کوئی نا پسندیدہ چیز دیکھی، اسے چاہیے کہ صبر کرے، کیونکہ جو بالشت برابر بھی الجماعۃ سے الگ ہوا اور اسی حالت میں مر گیا، اس کی موت جاہلیت پر ہوئی۔‘‘

یہی بات الفاظ کے تھوڑے سے تغیر کے ساتھ حضرت ابن عباس نے اس طرح بھی نقل کی ہے:

عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال من کرہ من أمیرہ شیءًا فلیصبر فإنہ من خرج من السلطان شبرًا مات میتۃ جاھلیۃ.(بخاری،رقم ۶۵۳۰)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: جس نے اپنے امیر کی طرف سے کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھی، اسے چاہیے کہ صبر کرے، کیونکہ جو بالشت برابر بھی اقتدار کی اطاعت سے نکلا تواس کی موت جاہلیت پر ہوئی۔‘‘

ان دونوں روایتوں سے دو باتیں بالکل واضح طور پر معلوم ہوتی ہیں: ایک یہ کہ ’’الجماعۃ‘‘ کے ساتھ منسلک رہنے کا ایک تقاضا حکمران کی اطاعت کرنا ہے۔ بہ الفاظ دیگر ان روایتوں کے مطابق، امیر کی اطاعت کا انکار کرنا ’’الجماعۃ‘‘ سے الگ ہو جانا ہے۔
دوسری بات ان روایتوں سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ ’’الجماعۃ‘‘ اور ’’السلطان‘‘ مترادف اصطلاحات ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ ’’الجماعۃ‘‘ درحقیقت ’’السلطان‘‘ یعنی سیاسی اقتدار ہی ہے۔ اسی بات کو واضح کرتے ہوئے استاذ گرامی لکھتے ہیں:

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کا اطلاق مسلمانوں کی کسی ایسی جماعت ہی پر کیا جا سکتا ہے جو کسی خطۂ ارض میں سیاسی خود مختاری رکھتی، اور جس کے اندر نظام امارت قائم ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی کے التزام کی ہدایت فرمائی اور اس سے نکلنے کو اسلام سے نکلنے کے مترادف قرار دیا۔ سیاسی اقتدار سے محروم کسی دینی جماعت یاتنظیم کے ساتھ اس حکم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘ (قانون دعوت ۲۶)

____________