حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ید اللّٰہ علی الجماعۃ فاتبعوا السواد الأعظم فإنہ من شذ شذ فی النار. (المستدرک،رقم۳۹۱)
’’الجماعۃپر اللہ کا ہاتھ ہے۔تو (عمل کے معاملے میں) اکثریتی گروہ کی پیروی کرو، کیونکہ جو الجماعۃ سے الگ ہوا، اسے الگ کر کے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔‘‘

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اس روایت کی رو سے ریاستی معاملات میں اختلاف کی صورت میں، اکثریتی گروہ کی راے کی عملاً پابندی کرنا بھی التزام جماعت کے حکم کا ایک تقاضا ہے۔
اکثریتی گروہ کی راے کی عملاً پابندی کرنے کا یہ حکم، قرآن مجید کے حکم ’اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ‘، ’’ان کا نظام باہمی مشورے پر مبنی ہے‘‘(الشوریٰ۴۲: ۳۸) قرآن مجید کے اس حکم سے اجتماعی معاملات کے بارے میں جو رہنمائی ملتی ہے، اس کی وضاحت میں مولانا مودودی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر ’’تفہیم القرآن‘‘ میں پانچ باتوں کو اس کا لازمی تقاضا قرار دیا ہے:’’ ایک یہ کہ اجتماعی معاملات میں افراد کو اظہار راے کی آزادی حاصل ہو انھیں یہ بات معلوم ہو کہ ان کے معاملات کس طرح چلائے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ انھیں یہ حق بھی حاصل ہو کہ وہ اگر اپنے معاملات کی سربراہی میں کوئی غلطی دیکھیں تو اس پر ٹوک سکیں اور اگر اصلاح ہوتی نہ دیکھیں تو اپنے سربراہوں کو بدل سکیں۔ دوسرے یہ کہ اجتماعی معاملات کو چلانے کی ذمہ داری جس شخص پر بھی ڈالنی ہو، اسے لوگوں کی آزادانہ رضا مندی سے مقرر کیا جائے۔ تیسرے یہ کہ شوریٰ کے لیے ایسے لوگ مقرر کیے جائیں جن کو لوگوں کا حقیقی اعتماد حاصل ہو اور جنھیں فی الواقع لوگوں کا نمائندہ کہا جا سکے۔ چوتھے یہ کہ مشورہ دینے والے اپنے علم، ایمان اور ضمیر کے مطابق راے دیں اوراس طرح کے اظہار راے کی انھیں پوری آزادی حاصل ہو۔ اور پانچویں یہ کہ اہل شوریٰ کی اکثریت کی راے کو اجتماعیت کے فیصلے کی حیثیت سے تسلیم کیا جائے۔ کسی ایک شخص یا گروہ کو ہرگز یہ اختیار نہ دیا جائے کہ وہ سب کی سننے کے بعد اپنی من مانی کر سکے۔‘‘ ۷؂
یہاں یہ بات واضح رہے کہ اکثریتی راے کی عملاً پابندی کا یہ حکم اصلاً فصل نزاعات کا ایک طریقہ ہے۔ اس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہیں کہ قرآن مجید کی نظر میں اکثریتی راے ہمیشہ حق پر ہوتی ہے۔
اسی مضمون کی ایک اور روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

فإذا رأیتم إختلافًا فعلیکم بالسواد الأعظم. (ابن ماجہ،رقم ۳۹۴۰)
’’جب تم اختلافات دیکھو تو اکثریت کی راے کی پیروی کرو۔‘‘

ظاہر ہے کہ اختلافات کو رفع کرنے کا اس سے بہتر کوئی عملی طریقہ نہیں ہو سکتا۔ دنیا بھی ہزاروں سال کے تجربات کے بعد اب اسی نتیجے پر پہنچی ہے کہ ایسے تمام اجتماعی معاملات میں، جہاں اتفاق راے نہ پایا جاتا ہو، وہاں اکثریت ہی کی راے کو نافذ العمل ہونا چاہیے۔ یہی بات قرآن مجید نے اپنے لافانی اسلوب میں ’اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ‘ کا اصول دے کر واضح کر دی تھی۔ اور اسی بات کو ان روایتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی واضح فرما دیا ہے۔
چنانچہ معاملہ، خواہ دین کی تعبیر کا ہو یا سیاست ، معیشت، معاشرت اور حدود و تعزیرات کا جس معاملے میں بھی اختلاف ہو گا، اس میں ریاستی سطح پر اکثریت کی راے کو نافذ کیا جائے گا۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ کسی شخص یا گروہ کو اس راے سے اختلاف ہو اور وہ اس راے کو اسلام کے اصولوں کے منافی بھی سمجھتا ہو، ایک اسلامی ریاست میں اسے اپنے اس اختلاف کے اظہار اور لوگوں کو اپنی بات کا قائل کرنے کا حق بھی حاصل ہو گا، مگر جب تک اکثریت کی راے اس کے حق میں نہیں ہو جاتی، اس وقت تک اسے عملاً اسی راے کی پابندی کرنی ہو گی جسے مسلمانوں کی اکثریت نافذ العمل قرار دے گی۔
قرآن مجید کی مذکورہ آیت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے گریز اجتماعیت سے متعلق اسلامی اصولوں سے گریز کے مترادف ہے۔ مزید براں جب ایک اسلامی ریاست میں یہ اصول مان لیا جائے اور اس کے بعد کوئی شخص اجتماعی راے سے صرف نظر کر کے اپنی من مانی کرنے کی کوشش کرے تو یہ نظم اجتماعی سے بغاوت کے مترادف ہے۔ اسی اصول پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر کہا:

من بایع رجلًا عن غیر مشورۃ من المسلمین فلا یبایع ہو ولا الذی بایعہ تغرۃ أن یقتلا. (بخاری،رقم ۶۸۳۰)
’’جو شخص مسلمانوں کے مشورے کے بغیر کسی کی بیعت کرے تو ان دونوں کی بیعت نہ لی جائے، کیونکہ یہ دونوں قتل کیے جا سکتے ہیں۔‘‘

_______

۷؂ تفصیل کے لیے دیکھیے:تفہیم القرآن ۴/ ۵۰۹۔۵۱۰۔

____________