کتاب کے پہلے باب میں ہم نے قوموں کے عروج و زوال کے محرکات کے ضمن میں اخلاقی اقدار کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کو جانوروں سے ممتاز کرنے والی اصل چیز اخلاقی رویہ ہے۔انسان کی عقلی قوت جب تک اس اخلاقی رویہ کے تحت استعمال ہوتی ہے ، تمام معاملات ٹھیک رہتے ہیں اور جب اس کے سفلی جذبے اس پر غلبہ پالیں تو نہ صرف اخلاقی وجود سے ملنے والی روحانی توانائی سے اسے محروم کردیتے ہیں ، بلکہ اس کی عقلی استعداد کو بھی آخر کار کند کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں معاشرہ زوال پذیر ہوجاتا ہے۔
اصل میں انسان ایک معاشرتی وجود ہے۔معاشرتی زندگی کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر گزرتی ہے۔انسان کا حیوانی وجود دینا نہیں جانتا، صرف لینا جانتا ہے۔چاہے اس کا لینا دوسروں کی موت کی قیمت پر ہو۔ یہ اصلاً انسان کی اخلاقی حس ہے جو اپنے حقوق کے ساتھ اپنے فرائض سے بھی انسان کو آگاہ کرتی ہے۔ اجتماعی زندگی کا اصل حسن احسان، ایثار اور قربانی سے جنم لیتا ہے۔جب تک اخلاقی حس لوگوں میں باقی رہتی ہے ، اپنے فرائض کو ذمہ داری اور خوش دلی سے ادا کرنے والے اور ایثارو قربانی کرنے والے لوگ اکثریت میں رہتے ہیں۔جب اخلاقی حس مردہ ہونے لگے تو ایسے لوگوں کی کمی کے نتیجہ میں خود معاشرہ مردنی کا شکار ہونے لگتا ہے۔ بدقسمتی سے ٹھیک یہی وہ صورت حال ہے، آج جس کا ہم شکار ہوچکے ہیں۔
ہم نہیں سمجھتے کہ اس معاملہ کی کوئی تفصیل بیان کرنے کی ضرورت ہے۔اس افسوس ناک صورت حال کا مشاہدہ خاندان کے ادارے سے لے کر قومی اداروں تک ہر جگہ کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اب جنگل کا قانون رائج ہے جس میں طاقت ور ہر حال میں جیتتا ہے اور کمزور کا مقدر شکست خوردگی کے سوا کچھ نہیں۔طاقت ور لوگ اپنی طاقت کے بل بوتے پر کمزوروں پر ہر طرح کا ظلم ڈھاتے ہیں۔ طاقت خواہ مال کی ہو، اختیار کی ہو، علم کی ہو ، صلاحیت کی ہو یا کسی اور قسم کی، ہمیں بلاجھجک ہر اخلاقی قدر پامال کرنے پر آمادہ کردیتی ہے۔بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ طاقت کے باوجود اخلاقی معیارات کی پابندی کرنے والے لوگ اب استثنائی حیثیت رکھتے ہیں۔یہ صورت حال صرف امرا اور مقتدر طبقات تک محدود نہیں ہے ، بلکہ اب خاص وعام، سب اس معاملے میں یکساں ہیں۔ ان حالات میں ہم پرفرض کے درجہ میں یہ چیز لازم ہوچکی ہے کہ ہم اس صورت حال کو بدلنے کے لیے جدوجہد شروع کریں۔ ان عوامل کو تلاش کریں جن کی بنا پر یہ صورت حال پیدا ہوئی ہے،اور اس معاملے میں اپنے لوگوں کی تربیت کریں۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو یقیناًہمیں بدترین تباہی کا سامنا کرنا ہوگا۔
انسانی معاشرے میں اخلاقی بگاڑ بلاوجہ نہیں پھیلتا ۔ انسان خیر وشر کا اتنا گہرا شعور اپنے اندر لے کر آیا ہے کہ جب تک کچھ غیر معمولی عوامل اس کے اس شعور کو پوری طرح کچل نہ دیں ، وہ اخلاقی جرائم سے باز رہتا ہے۔ہمارے نزدیک ہمارے ہاں اخلاقی بگاڑ کے اس رویے کے پیدا ہونے کے متعددعوامل ہیں۔اس کا سب سے بنیادی عامل دنیا پرستی کی وہ لہر ہے جس میں لوگ وقتی مفاد کے آگے ہر چیز کو ہیچ سمجھتے ہیں۔دنیا جتنی حسین آج ہے ، اتنی کبھی نہیں تھی۔ خصوصاً جن سہولتوں تک ایک عام آدمی کی پہنچ آج ممکن ہے، وہ پہلے کبھی ممکن ہی نہیں رہی،تاہم یہ دنیا بلا قیمت دستیا ب نہیں، اس کے حصول کے لیے مال چاہیے۔چنانچہ مال کمانا اور اس سے دنیا حاصل کرنا اب ہر شخص کا نصب العین بن چکاہے۔ دوسری طرف یہ مال جائز و ناجائز کی اخلاقی حد میں رہ کر آسانی اور اس وسعت کے ساتھ نہیں ملتا جس سے دنیوی سامان تعیش بہ افراط حاصل کیا جاسکے۔نتیجہ یہ ہے کہ لوگ حصول زر کی دوڑ میں ہر اخلاقی حد کو پھلانگ جاتے ہیں۔آہستہ آہستہ یہ رویہ ہر معاملے میں انسان کو ظلم پر آمادہ کردیتا ہے اور پھر پورا معاشرہ فساد سے بھر جاتا ہے۔اس صورت حال میں وہ نوجوان بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں جو بلند تر آدرشوں کے لیے روپے پیسے کو پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتے ، مگر بدقسمتی سے ہمارے ساتھ یہ سانحہ بھی ہورہا ہے کہ قوم کے نوجوان کی منزل صرف مادی منفعتوں کا حصول بن کر رہ گیا ہے۔
اخلاقی انحطاط کی دوسری وجہ اس منفی سوچ کا فروغ ہے جو ہمارے بعض طبقات نے عام کردی ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے نزدیک صاحبان اقتداراور اشرافیہ غیر ملکی ایجنٹ ہیں۔ انھیں ہر مسئلہ کے پیچھے یہود و ہنود اور امریکا و روس کی سازشیں نظر آتیں ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ اشرافیہ، مقتدر طبقات اور بیرونی طاقتیں کیا کررہی ہیں۔ جب یہ روش اختیار کی گئی تو عوام کی تربیت یہ ہوئی کہ ہر خرابی کی جڑ صرف دوسروں میں ہے۔جب دوسرے ٹھیک ہوجائیں گے تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ اپنی ذمہ داریاں فراموش کرنے لگے۔ ان کی توجہ اپنے دائرے میں عائد ذمہ داریوں سے زیادہ دوسروں کے اس دائرے پر تھی جس میں ان کا کچھ اختیار نہیں۔ چنانچہ نہ بیرونی طاقتوں کی سازشیں ختم ہوئیں، نہ اشرافیہ اور مقتدر طبقات کی اصلاح ہوئی۔ صرف یہ ہوا کہ عوام الناس اپنے اپنے اوپر عائد اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں کوتاہی کرنے لگے۔ دوسروں کا ہر عیب اپنی غلطی کا ایک عذر بنتا چلا گیا۔سسٹم کی وہ خرابی جو پہلے بالادست طبقات تک محدود تھی ، اب گھر گھر پھیل گئی۔
اخلاقی انحطاط کا تیسرا بنیادی سبب ظاہر پرستی کا غلبہ تھا۔ فکری طبقات نے عوام کی اصلاح کے بجاے ان کا رخ خارجی بگاڑ پر احتجاج کی جانب موڑا تو ہماری مذہبی قیادت نے دین کے نام پر ظاہر پرستی کے فروغ کو اپنا نصب العین قرار دے دیا۔ خداپرستی اور اتباع شریعت کا معیار کچھ ظاہری اعمال بن گئے۔ علامتی چیزوں کو حق و باطل کا معیار قرار دے دیا گیا۔دین کے ظاہری ڈھانچے کو جو اصلاً دین داری کا نقطۂ آغاز ہوتا ہے، دین کا آخری مطلوب قرار دے دیا گیا۔اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ شریعت کے احکامات سے وابستہ مقاصد جن کا ظہور اخلاقی سطح پر مطلوب تھا ، وہ معاشرے کا موضوع ہی نہیں رہے اور نہ کسی کو ان کے پیدا کرنے کی فکر رہی۔نتیجتاً لوگوں کی اخلاقی حس مردہ ہونے لگی۔مثلاً نماز سے پیدا ہونے والی خدا کی یاد فواحش و منکرات سے انسان کو روکتی ہے *، مگر جب نماز میں خدا کی یاد مطلوب ہی نہیں تو کون بے حیائی اور منکرسے رکے گا؟چنانچہ ڈاڑھی ، ٹوپی ، نماز،روزے اور حج و عمرے والا مسلمان بھی آج اسی اخلاقی پستی کا شکار ہے جس کا گلہ ایک دنیا دار شخص سے کیا جاسکتا ہے۔
اخلاقی انحطاط کا چوتھا سبب قومی زندگی میں کسی اجتماعی نصب العین کی عدم موجودگی ہے۔ اخلاقی زندگی صرف اس وقت پروان چڑھتی ہے، جب فرد کسی خارجی دباؤ کے بغیر خود اپنے اوپر کچھ پابندیاں عائد کرلے۔انسان ایسا اس وقت کرتا ہے، جب اس کے سامنے کوئی بلند مقصد اور نصب العین ہوتا ہے۔ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر کوئی ایسا مقصد ہمارے سامنے نہیں۔ دوسری اقوام اس مسئلہ کو قوم پرستی اور حب الوطنی کے جذبے سے حل کرتی ہیں،مگر ہم ابھی تک اپنی قومی بنیادوں ہی کو متعین نہیں کرسکے۔ فی الوقت ہماری اجتماعیت مغربی، ہندوستانی اور زوال یافتہ مسلم تہذیب اور مقامی ثقافت کاایک ایسا ملغوبا ہے جس کی کوئی واضح اور متعین شکل پچاس سال میں سامنے نہیں آسکی۔من حیث القوم ہماری کوئی منز ل نہیں اور ہماری قوم پرستی اپنی علاقائی قومیت تک محدود ہے۔جب یہاں کوئی متفقہ قومی شعور اور کلچر ہی نہیں تو فرد کس قوم کے لیے انفرادی مفاد کی قربانی دے۔
یہ وہ بنیادی اسباب ہیں جو ہمارے اخلاقی انحطاط کے پیچھے کارفرما ہیں۔جب تک ہم ان وجوہات کو دور نہیں کریں گے، اس وقت تک اخلاقی انحطاط کا یہ کینسر ہمیں اندر ہی اندر کھاتا رہے گا اور ایک روز ہمیں کسی بڑی تباہی سے دوچار کردے گا۔ ہمارے نزدیک اس صورت حال کا حل اس بات میں مضمر ہے جسے ہم نے پچھلے باب میں بیان کیا تھا،یعنی امت مسلمہ کی اخلاقی اقدار کی بنیاد صرف فطرت نہیں رہتی ، بلکہ خدا کی براہ راست رہنمائی حاصل ہونے کے بعد یہی رہنمائی ان کی اخلاقی اقدار کی بنیاد بن جاتی ہے۔وہ رہنمائی، جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں، یہی ہے کہ توحید کے فروغ کو قوم کا مقصد ہوناچاہیے اوراس کے لیے قوم شریعت پر اس کی صحیح اسپرٹ میں عمل کرے۔
اس رہنمائی کو قبول کرکے مذکورہ بالا چاروں منفی اسباب ختم ہوجاتے ہیں۔ توحید پرست فرد دنیا پرست نہیں ہو سکتا۔ شریعت کی صحیح اسپرٹ ظاہر پرستی کا مرض ختم کردیتی ہے۔ جنھیں توحید دنیا میں پھیلانی ہو، وہ دوسروں کی ’’سازشوں‘‘ کے پرچار کے بجاے ان تک حق پہنچانے میں دل چسپی لیتے ہیں۔ وہ دوسروں کے فرائض انھیں یاد دلانے کے بجاے اپنی ذمہ داریاں یاد رکھتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر توحید کی شکل میں قوم کو وہ اجتماعی نصب العین حاصل ہوجاتا ہے جس کے فروغ کا ارفع مقصد قوم کوایک لڑی میں پرودیتا ہے۔توحید و شریعت سے سچی وابستگی نہ صرف ہمارے اخلاقی مسائل کا حل ہے ، بلکہ مغربی الحاد کو دنیا میں جو فروغ حاصل ہورہا ہے ، اس کے بعد ہم پر آخری درجہ میں فرض ہوچکا ہے کہ ہم خالص توحید اور آخرت کا مشن لے کر میدان عمل میں اتر آئیں۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو،بلاشہ ہم بارگاہ احدیت کے مجرم قرار پائیں گے۔

_______

* العنکبوت۲۹: ۴۵۔

____________