قوموں کی زندگی میں اخلاقیات کی کیا اہمیت ہے؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے انسان کا تجزیہ کرنا ضروری ہے۔انسان کو اس دنیا میں ایک حیوانی قالب دے کر بھیجا گیا ہے۔بھوک ،پیاس ، شہوت اور کسی پناہ گاہ کا حصول اسی حیوانی قالب کی ضروریات ہیں۔ان کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے پیش آنے والے خطرات سے مقابلہ کرنا اور انھیں ختم کرنے کے لیے جنگ و جدل کرنا، اس کے حیوانی وجود کی بقا کا ناگزیر تقاضا ہے۔ان معاملات میں انسان جانور جیسا ہے،تاہم انسان کو قدرت کی طرف سے ایک فطرت صالحہ بھی عطا کی گئی ہے جو تمام اعلیٰ اخلاقیات کی ماخذ ہے۔ یہ فطرت انسانیت کی اساس ہے جس کی بنا پر انسان ہمیشہ خود کو کچھ ایسے حدود کا پابند محسوس کرتا ہے جن کی بنا پر وہ جانوروں سے بلند تر ایک مخلوق قرارپاتا ہے۔ممکن ہے کہ کوئی فرد اپنے حیوانی تقاضوں سے مغلوب ہوکر ا خلاقی اصولوں کی خلاف ورزی کربیٹھے ، مگر انسان کے اجتماعی وجود میں ان کا تصور اتنا راسخ ہے کہ ایسا کوئی عمل ، عام حالات میں انسانوں کے لیے کبھی نمونہ نہیں بن سکتا۔
حیوانی قالب اور فطرت صالحہ کے ساتھ ایک تیسری چیز جسے لے کر انسان اس دنیا میں آتا ہے ، وہ عقل و بصیرت کی صلاحیت ہے۔یہ صلاحیت انسان کی کمزوریوں کے باجود اسے طاقت ور بناتی ہے۔ انسان محض اپنے حیوانی وجود کی توانائیوں کے سہارے قدرت کی طاقتوں، دیگر انواع یا خود اپنے جیسے انسانوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔یہ کام عقل و فہم کی ان صلاحیتوں کا ہے جو خداوند نے دنیا میں بھیجتے وقت زاد راہ کے طور پر اس کے ہم رکاب کی ہیں۔ اسی عقل کے سہارے انسان اس دنیا میں اپنی بقا کی جنگ لڑتا ہے اور ایک کمزور حیوانی وجود رکھنے کے باوجود ان تمام مخالفین کو شکست دے دیتا ہے جو اس سے کہیں زیادہ طاقت ور ہوتے ہیں۔
عقل و فہم کی یہ صلاحیتیں جو خارجی دنیا میں اس کی معاون ہوتی ہیں ، اس کے داخل میں بھی حیوانی اور اخلاقی تقاضوں میں ایک توازن قائم رکھتی ہیں۔انسان کے حیوانی جذبے بہت سرکش اور شدید ہوتے ہیں اور ہر رکاوٹ کو پھلانگ کر اپنی فوری تسکین کا مطالبہ کرتے ہیں۔یہ عقل و بصیرت ہے جو نہ صرف انسان کے حیوانی جذبوں کو لگام ڈالتی ہے ، بلکہ فطرت کی نسبتاً کمزور اور دبی ہوئی آواز پر لبیک کہتی ہے، تاہم جب انسان کے حیوانی تقاضے اس پر غالب آنے لگتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب معاملات کی باگ ڈور عقل کے ہاتھوں سے نکل کر حیوانیت کے ہاتھوں میں جارہی ہے۔اب اس کے وجود میں حکمران عقل نہیں ، بلکہ حیوانی جذبات ہیں اور عقل ان کی خادم ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ حیوانیت کی اقلیم میں اخلاقیات کی دنیا کے فرمان جاری نہیں ہوا کرتے ۔ حیوانیت اپنے اخلاقیات خود تشکیل دیتی ہے جس کی اساس عیش کوشی اور مفادپرستی پررکھی جاتی ہے۔
عقل جب فطرت و اخلاق کو حیوانیت پر غالب کرنے میں ناکام رہتی ہے تو عین اس وقت وہ خارج میں انسان کی حفاظت کے معاملے میں بھی غیر مؤثر ہونے لگتی ہے۔ اول تو جذبات کی نازبرداریاں خارج کے خطرات کی طرف اسے متوجہ ہی نہیں ہونے دیتیں اور اگر کبھی ایسا ہو بھی توعقل فطرت کے ان صالح عناصر کی مدد سے محروم ہوتی ہے جو اکثر اخلاقیات کی شکست کے ساتھ ہی موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ مثلاً شجاعت اور استقامت وغیرہ ۔ جیسے ہی یہ معاملہ ہوتا ہے تو انسان اصلاً ایک کمزور جسم والے حیوان کے مقام پر آکر کھڑا ہوجاتا ہے۔ایسا فرد زندگی کی جدوجہد میں زیادہ دیر تک شریک نہیں رہ پاتا۔
جب یہ رویہ پوری قوم یا اس کی اکثریت اختیار کرلیتی ہے تو ایسا معاشرہ اس قابل نہیں رہتا کہ خارج کے ان خطرات کا مقابلہ کرسکے جن کا پیش آنا اس دنیا میں ناگزیر ہے۔ نتیجہ صاف ظاہر ہے، ایسی قوم کے سامنے جیسے ہی کوئی چیلنج آتا ہے ، وہ ریت کی دیوار کی طرح اس کے سامنے ڈھیر ہوجاتی ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ ساز و آواز پر رقص کرنے والے موت کے رقص کے وقت بہت کمزور ثابت ہوتے ہیں۔ نازک کلائیاں اور شراب کے جام تھامنے والے ہاتھ تلوار کا بوجھ نہیں اٹھا پاتے۔ پسے ہوئے طبقات پر ظلم کرنے والے خارجی طاقتوں کے لیے تر نوالہ بنا کرتے ہیں۔اس کے برعکس اخلاقی طور پر طاقت ور قوم کی عقلی صلاحیتیں کہیں زیادہ متحرک اور فعال ہوتی ہیں۔ اس کے افراد اپنے داخل میں ہم آہنگی پیدا کرتے کرتے خارجی ہم آہنگی کے فن میں بھی طاق ہوجاتے ہیں۔ ہر خطرے کے وقت ا ن کے دل اور دماغ یک سو ہوکر مقابلے پر آتے ہیں۔
عقل و اخلاقیات کے اس باہمی تعلق کے علاوہ اخلاقیات کی ایک دوسری حیثیت یہ ہے کہ اصلاً یہ اس توانائی کا منبع ہے جس کا ذکرہم شروع میں کرآئے ہیں۔ جس طرح ایک ورزش کرنے والا شخص تندرست و توانا رہتا ہے ، اسی طرح اخلاقی زندگی گزارنے والے لوگوں میں وہ خصوصیات ہمیشہ زندہ رہتی ہیں جو خطرات کے پیش آنے پر ان سے مقابلہ کے لیے ضروری ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اخلاقی زندگی اصل میں قربانی کی زندگی ہوتی ہے۔ جو گروہ روزمرہ کی زندگی میں اخلاقی اصولوں کے لیے قربانی نہیں دے سکتا ، اس کے افراد اجتماعی ضرورت کے مواقع پر بھی اس درجہ کی قربانی پیش نہیں کرسکتے جو خطرات کو دفع کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے ، بلکہ اخلاق سے محرومی کے بعد ان میں وہ کمزوریاں پیدا ہوجاتی ہیں جو انھیں دوسروں کے لیے تر نوالہ بنادیتی ہیں۔ مزیدبراں یہ اخلاقی داعیات ہیں جوذاتی مفادات سے بلند ہوکر قومی خدمت کے لیے اٹھنے والے بلند کردار لوگ پیدا کرتے ہیں۔قومیں ایسے ہی لوگوں سے زندگی، طاقت اور توانائی کا خزانہ حاصل کرتی ہیں۔ جب یہ لوگ کم رہ جاتے ہیں، بالخصوص طبقۂ اشرافیہ میں، تو قوم انتہائی تیزی سے زوال کی طرف گامزن ہوجاتی ہے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ اخلاقی خوبیوں کا فروغ ہی وہ چیز ہے جو معاشرے کے مختلف طبقات میں باہمی الفت و محبت پیدا کرتا ہے۔ اور ان کی توانائیاں اندرونی کشمکش میں ضائع ہونے کے بجائے قومی تعمیر کے کام میں خرچ ہوتی ہیں۔ صور ت حال اگر برعکس ہو تو باہمی آویزش قومی اتحاد کو پارہ پارہ کردیتی ہے جو آخر کار تباہی و بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔
فلسفۂ تاریخ کا بانی ابن خلدون اخلاقیات کی اسی اہمیت کی بناپراسے غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔ وہ غلبہ و اقتدار والی قوموں کی زندگی میں اخلاق حمیدہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے:


’’عادات پسندیدہ و اخلاق حمیدہ اس قوم کے تمام افراد میں موجود ہیں۔ کرم و عفو ان کا شیوہ ہے۔مظلوم و بیکسوں کی باتوں کی برداشت اور آئے گئے مہمانوں کی میزبانی کرتے ہیں۔محنت ومشقت اور جدوجہد سے جی نہیں چراتے۔مکروہات پر صبر کرتے اور ایفائے عہد کو واجب جانتے ہیں۔عزت کی حفاظت میں مال خرچ کرنے سے انھیں دریغ نہیں ہوتا ... جو کوئی حق بات کہے اسے بغیر رعونت سنتے اور اس کی پیروی کرتے ہیں۔ضعیف الحال لوگوں سے باانصاف و شفقت پیش آتے ہیں۔ بذل وسخا سے کام لیتے ہیں۔ مسکینوں سے بتواضع ملتے اور داد خواہوں کی فریاد سنتے ہیں۔ دینی احکام و عبادات سے کبھی غافل نہیں ہوتے۔مکر وغداری اور عہد شکنی سے پرہیز کرتے ہیں۔یہی وہ اخلاق حمیدہ ہیں جن سے انھیں سلطنت و سیاست کا بلند مرتبہ ملتا ہے اور مخلوق پر حکمرانی کرتے ہیں۔‘‘ (مقدمہ: باب دوم فصل بیس(


آگے چل کر لکھتا ہے:


’’پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ملک و سلطنت دینا چاہتا ہے تو پہلے اس کے اخلاق و اطوار کی تہذیب کرتا ہے اور بخلاف اس کے جب کسی قوم سے دولت و سلطنت سلب کرنا چاہتا ہے تو پہلے وہ قوم مرتکب مذام ہوتی ہے اور فضائل پسندیدہ اس سے مفقود ہوجاتے ہیں۔ اور برائیاں بڑھنے سے ملک اس کے ہاتھوں سے نکل کر دوسروں کے قبضہ میں آجاتا ہے۔‘‘ (ایضاً(


خاتمۂ بحث میں لکھتا ہے:


’’پس جب یہ باتیں کسی قوم کی عصبیت والوں میں پائی جائیں توسمجھنا چاہیے کہ یہ قوم بہت جلد سیاست عام اور مملکت کے مرتبے پر پہنچنے والی ہے ۔ کیونکہ یہی باتیں خداکی مقرر کردہ اقبال مندی اور سلطنت کی علامتیں ہیں اور یہی عادتیں خدا اس قوم سے سلب کرلیتا ہے جس سے ملک و سلطنت چھیننا چاہتا ہے۔ اس لیے جب دیکھو کہ کسی قوم سے یہ باتیں مٹ چلی ہیں تو سمجھ لو کہ فضائل قومی روبہ زوال ہیں او ر ملک عنقریب اس قوم کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔‘‘ (ایضاً(

____________