قرآن مجید میں بعض ایسے لوگوں کا ذکر بھی ہوا ہے جن کا جرم اتنا شدید ہے کہ پروردگار رحمان و رحیم کے دربار میں بھی ان کی کوئی شنوائی نہ ہو گی۔ اس قسم کے لوگوں میں سے ایک کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ قرآن مجید کے مطابق جو لوگ ساری زندگی اپنے رب کو بھول کراس کی پسند اور ناپسند سے بے اعتنائی کرتے ہوئے گناہوں میں پڑے رہے اور پھر موت کے آثار ظاہر ہونے کے بعدجنھیں توبہ و استغفار کا خیال آیا، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ فیصلہ سنا دیا ہے کہ وہ ان کی توبہ ہرگز قبول نہ فرمائے گا۔ اسی طرح جو لوگ کفر ہی کی حالت میں مر گئے ، ان کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ آخرت کے دن ان کی توبہ و استغفار کو ہرگز قبول نہ کرے گا۔ ان کے ساتھ ساتھ قرآن مجید میں ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہی فیصلہ بیان ہوا ہے کہ وہ ان کی توبہ کو شرف قبولیت نہ بخشے گا جنھوں نے ایمان کی روشنی کو پا لینے کے بعد، پھر کفر کے اندھیروں کو نہ صرف یہ کہ ترجیح دی، بلکہ اس میں آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔ ارشاد ہے:

 

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِھِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا کُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُھُمْ وَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الضَّآلُّوْنَ.(آل عمران۳ : ۹۰ ) 

’’جن لوگوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا اور پھر اپنے کفر میں آگے بڑھتے چلے گئے، ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں ہو گی۔ یہی لوگ اصلی گمراہ ہیں۔‘‘

 

بعض روایتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات ان الفاظ میں نقل ہوئی ہے:

 

ان اللّٰہ تبارک و تعالٰی لا یقبل توبۃ عبدکفر بعد اسلامہ.(مسند احمد،رقم ۱۹۱۶۷) 

’’اللہ تبارک و تعالیٰ کسی ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں کرتا جو اسلام لانے کے بعد پھر سے اپنے آپ کو کفر کے حوالے کر دے۔‘‘

 

قرآن مجید ہی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کے جرم کی توبہ کا واحد راستہ یہ ہے کہ اس میں پڑنے والا شخص نہ صرف یہ کہ اپنے کیے کی توبہ اور اپنے عمل کی اصلاح کرے، بلکہ سچے دل سے اپنے ایمان کی تجدید کرے ۔ چنانچہ اسی اصول پر جب یہود فرعون سے آزادی حاصل کرنے کے بعد شرک اور گوسالہ پرستی میں ملوث ہوئے تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا:

 

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُھُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَ ذِلَّۃٌ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ وَالَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْ بَعْدِھَا وَاٰمَنُوْٓا اِنَّ رَبَّکَ مِنْ بَعْدِھَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.(الاعراف ۷ : ۱۵۲۔ ۱۵۳) 

’’بے شک، جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا، ان کو ان کے رب کی طرف سے غضب لاحق ہو گااور اس دنیا کی زندگی میں ذلت لاحق ہو گی۔اور ہم بہتان طرازی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ اور جنھوں نے برے کام کیے، پھر اس کے بعد انھوں نے توبہ کرلی اور ایمان لائے، تو اس کے بعد تیرا رب بخشنے والا (اور) مہربان ہے ۔‘‘