کچھ لوگوں کی راے یہ ہے کہ اسلام نے ایک مسلمان کو ایک ہی وقت میں چار بیویاں رکھنے کی اجازت دی ہے، کیونکہ ایک سے زیادہ بیویاں مرد کی جسمانی اور نفسیاتی ضرورت ہیں، یہ راے ٹھیک نہیں ہے۔عام حالات میں خاندان ایک مرد اور ایک عورت کے آپس میں نکاح کے بندھن کے ساتھ وجود میں آتا ہے۔ اس کا ذکر قرآن مجید میں اس طرح ہے:

یٰٓاََیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَاوَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالاً کَثِیْرًا وَّنِسَآءً.(النساء ۴: ۱)
’’اے لوگو، اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا۔‘‘

اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب آدم کو بنایا تو ان کے لیے صرف ایک بیوی، یعنی حواکو بنایا۔اگر مرد کو فطرتاً جسمانی طور پر ایک سے زیادہ بیویوں کی ضرورت ہوتی تو اللہ تعالیٰ آدم کے لیے ایک کے بجاے زیادہ بیویاں بناتے۔
اس سلسلے میں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن نے تعددازواج کے بارے میں پہلی مرتبہ کوئی حکم صادر نہیں کیا، بلکہ عرب معاشرے میں یہ رواج پہلے ہی سے موجود تھا۔ چنانچہ قرآن مجید نے اس رواج کوایک ایسے مسئلہ کے حل کرنے کے لیے تجویز کیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مدینہ میں پیدا ہوا۔ بہت سے مرد مختلف جنگوں میں مارے گئے تھے اور اپنے پیچھے انھوں نے یتیم بچے چھوڑے تھے۔ قرآن مجید نے معاشرے کے مردوں سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھیں اور یتیموں کی ماؤں سے شادی کرکے ان یتیم بچوں کی سرپرستی کریں۔ ان بیواؤں کو اگر سہارا مل جاتا تو وہ اپنے بچوں کی اچھی پرورش کرسکتیں۔ دوسرے لفظوں میں قرآن مجید کے نزدیک لوگ مختلف وجوہات کی بنا پرایک سے زیادہ شادیاں کرہی رہے تھے۔ چنانچہ قرآن نے اس موجود رسم سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی، نہ کہ تعدد ازواج کا کوئی نیا حکم نازل کیا۔ قرآن نے کہا ہے کہ اگر وہ یتیم بچوں کو سہارا دینے کی غرض سے ان کی ماؤں سے شادیاں کرلیں تو یہ معاشرے کی بہترین خدمت ہوگی:

وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ذٰلِکَ اَدْنآی اَلاَّ تَعُوْلُوْا وَاٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِہِنَّ نِحْلَۃً فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْہُ نَفْسًا فَکُلُوْہُ ہَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا.(النساء ۴: ۳۔۴)
’’اور اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کرسکو گے تو ان کی ماؤں سے دو دو، تین تین، چار چار تک شادی کرلو۔ اور اگر تمھیں ڈر ہو کہ تم ان کے مابین انصاف نہ کرسکو گے تو ایک ہی کافی ہے یا وہ جو تمھاری ملک یمین میں ہوں۔ یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ تم انصاف کرو گے اوران عورتوں کو ان کا مہر خوشی خوشی ادا کرو۔ اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ چھوڑ دیں تو اسے ہنسی خوشی استعمال کرو۔‘‘

اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بعض معاشرتی، نفسیاتی، سیاسی اور ثقافتی ضروریات تھیں جن کی وجہ سے زیادہ شادیوں کی ضرورت پیدا ہوئی۔ اس طرح کی ضروریات مختلف معاشروں میں مختلف صورتوں میں موجود ہوتی ہیں۔ معاشرے کی ان ضروریات کوپورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے تعدد ازواج کو کبھی بھی اپنی مختلف اوقات میں نازل کردہ شریعتوں میں ممنوع نہیں قرار دیا۔ درج بالا آیات میں مسلمانوں کو تعدد ازواج کے رواج سے فائدہ اٹھا کر ایک ایسے سماجی مسئلے کو حل کرنے کی ہدایت کی گئی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیدا ہوا۔
ایک اہم بات جو بہرطور واضح رہنی چاہیے، وہ یہ ہے کہ قرآن مجید کے نزدیک اگر کوئی شخص اپنی بیویوں کے درمیان انصاف نہ کرسکے تو کسی نیک مقصد کے لیے چاہے وہ یتیموں کی سرپرستی ہی کیوں نہ ہو، اسے ایک سے زیادہ شادیاں نہیں کرنی چاہییں۔ کسی کو اپنی بیویوں میں سے کسی ایک سے زیادہ لگاؤ ہوسکتا ہے اور یہ بات بالکل فطری بات ہے، لیکن دلی لگاؤ میں انصاف کا تقاضا کرنا خودنا انصافی ہے۔ سورۂ نساء کی مذکورہ بالا آیات میں خاوند سے اسلام جس چیز کا مطالبہ کرتا ہے، وہ یہ ہے کہ جہاں تک بیویوں کے حقوق کا تعلق ہے تو اسے سب بیویوں کے درمیان عدل وانصاف سے معاملہ کرنا چاہیے۔ قرآن مجید اس معاملے کو ان الفاظ میں واضح کرتا ہے:

وَلَنْ تَسْتَطِیْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَاتَمِیْلُوْا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْہَا کَالْمُعَلَّقَۃِ.(النساء ۴: ۱۲۹)
’’تم اس بات کی استطاعت نہیں رکھتے کہ (دلی تعلق کے معاملے میں) بیویوں کے درمیان انصاف کرسکو، چاہے تم کتنا ہی چاہو۔ (پس اتنا تو ہونا چاہیے کہ )تم ایک کی طرف اتنا نہ جھک جاؤ کہ دوسری لٹکتی رہ جائے۔‘‘

یہاں ایک اور مسئلے کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ عام طور پر خواتین یہ سوال پوچھتی ہیں کہ اگر مرد ایک سے زیادہ شادیاں کرسکتا ہے تو انھیں ایک سے زیادہ مردوں سے شادی کرنے کی اجازت کیوں نہیں؟ اس ضمن میں اس بات کو بہت اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ صرف یہی بات نہیں کہ ایک خاندان کا ایک سربراہ ہونا چاہیے، بلکہ ایک شخص بہ یک وقت بہت سارے سربراہوں کے تحت بھی نہیں رہ سکتا، بصورت دیگر گھر میں بہت زیادہ انتشار پھیل جائے گا۔ لہٰذا جس طرح ایک ریاست کے ایک سے زیادہ سربراہ نہیں ہوسکتے، اسی طرح خاندان کا جو تصور اسلام دیتا ہے، اس کے بھی ایک سے زیادہ سربراہ نہیں ہوسکتے۔ اگر ایک بیوی کے ایک سے زیادہ شوہر ہوں گے تو اسے ایک ہی وقت میں کئی شوہروں کے تابع رہنا پڑے گا جو کہ ایک ناممکن بات ہے، اس لیے یہ سوال بالکل غیر منطقی ہے۔ مزید برآں اولادکی نسبت اس کے اصل باپ سے اس صورت حال میں غیر یقینی، بلکہ ناممکن ہو سکتی ہے۔

____________