شانِ نزول میں تو تمام مفسرین اور محدثین متفق ہیں البتہ بعض اہلِ تاویل نے یہ عتاب کفار پر قرار دیا جبکہ اکثریت نے کہا ہے کہ یہ عتاب بھی حضوؐر پر ہے جنھوں نے بے رخی برتی تھی۔ جو مفسرین اس عتاب کو حضوؐر سے متعلق قرار نہیں دے رہے ہیں اُن کو ایک لمحے کے لیے نظرانداز بھی کر دیا جائے تو موضوع زیربحث کی تردید پھر بھی نہیں ہوتی۔ مثلاً سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ فرماتے ہیں کہ’’پوری سورہ پر مجموعی حیثیت سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دراصل عتاب کفارِ قریش کے ان سرداروں پر کیا گیا ہے جو اپنے تکبر اور ہٹ دھرمی اور صداقت سے بے نیازی کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ حق کو حقارت کے ساتھ رد کر رہے تھے اور حضوؐر کو تبلیغ کا صحیح طریقہ بتانے کے ساتھ ساتھ اس طریقے کی غلطی سمجھائی گئی ہے جو اپنی رسالت کے کام کی ابتدا میں آپؐ اختیار فرما رہے تھے۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو سمجھایا کہ اسلامی دعوت کا صحیح طریقہ یہ نہیں ہے‘ بلکہ اس دعوت کے نقطۂ نظر سے ہر وہ انسان اہمیت رکھتا ہے جو طالبِ حق ہو چاہے وہ کیسا ہی کمزور‘ بے اثر‘ یا معذور ہو‘ اور ہر وہ شخص غیراہم ہے جو حق سے بے نیازی برتے خواہ وہ معاشرے میں کتنا ہی بڑا مقام رکھتا ہو۔۱۰؂
لفظ عَبس کے تحت مولانا مرحوم لکھتے ہیں:

پہلے فقرے کا اندازِ بیان عجیب لطف اپنے اندر رکھتا ہے۔ اگرچہ بعد کے فقروں میں براہِ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب فرمایا گیا ہے جس سے یہ بات خود ظاہر ہوجاتی ہے کہ تُرش روئی اور بے رُخی برتنے کا فعل حضوؐر ہی سے صادر ہوا تھا‘ لیکن کلام کی ابتدا اس طرح کی گئی ہے گویا حضوؐر نہیں بلکہ کوئی اور شخص ہے جس سے اس فعل کا صدور ہوا ہے۔ اس طرزِ بیان سے ایک نہایت لطیف طریقے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احساس دلایا گیا ہے کہ یہ ایسا کام تھا جو آپؐ کے کرنے کا نہ تھا۔

آگے چل کر حاشیہ نمبر۲ میں مزید لکھتے ہیں:

یہی ہے وہ اصل نکتہ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ دین کے معاملہ میں اس موقع پر نظرانداز کر دیا تھا اور اسی کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے ابن مکتومؓ کے ساتھ آپؐ کے طرزِعمل پر گرفت فرمائی۔ پھر آپؐ کو بتایا کہ داعی حق کی نگاہ میں حقیقی اہمیت کس چیز کی ہونی چاہیے اور کس کو نہ ہونی چاہیے۔۱۱؂

مولانا امین احسن اصلاحیؒ بھی ان آیات کو براہ راست حضوؐر پر عتاب نہیں سمجھتے لیکن وہ بھی یہی مفہوم لیتے ہیں کہ حضوؐر سے ایک طرح کی چوک ہوگئی تھی۔ ان نکات کو سمیٹا جائے تو ان محتاط مفکرین کے مطابق:
۱۔ تُرش روئی اور بے رُخی برتنے کا فعل حضوؐر سے صادر ہوا تھا۔
۲۔ ابن مکتومؓ کی مجلس میں آمد اور مداخلت حضوؐر کو ناگوار گزری۔
۳۔ ان آیات کے ذریعے سے حضوؐر کو غلط طریقۂ تبلیغ سے منع فرمایا گیا۔
۴۔ حضوؐر کو احساس دلایا گیا کہ آپؐ نے وہ کام کر ڈالا جو آپؐ کے کرنے کا نہ تھا۔
۵۔ حضوؐر کے اس طرزِعمل پر گرفت فرمائی گئی اور آپؐ کو یہ بتایا گیا کہ داعی حق کی نگاہ میں حقیقی اہمیت ان لوگوں کو ملنی چاہیے جو دین کے طلب گار ہوں نہ کہ دین کے بدخواہ۔
یہ نکات تو اُن محتاط مفکرین و محققین نے اخذ کیے ہیں جو مندرجہ بالا آیات کا مخاطب براہِ راست حضوؐر کو نہیں سمجھتے۔ رہے وہ مفسرین جو اِن آیات کو حضوؐر پر عتاب سمجھتے ہیں تو ان پر ہمارے اعتراض کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔
عقلِ سلیم یہ سمجھنے سے قاصر رہتی ہے کہ جب حضوؐر کا ہر قول اور فعل وحی ہوتا تھا تو آپؐ نے غیرمطلوب یا ناموزوں طریق تبلیغ کیسے اختیار کرلیا؟ جب آپؐ ہر کام اللہ کی وحی کے مطابق کرتے تھے تو وہ ایسا کام کس طرح کر بیٹھے جو آپؐ سے کروانا مقصود ہی نہ تھا؟ وحی پر عمل کرنے کے باوجود آپؐ یہ کیسے بھول سکتے تھے کہ داعی حق کی نگاہ میں اصل اہمیت کس کو حاصل ہونا چاہیے؟ چنانچہ حضوؐر کے مبنی بر وحی طرزِ عمل پر گرفت کا کوئی عقلی اور علمی جواز نہیں پیش کیا جا سکتا۔کیا یہ ممکن ہے کہ حضوؐر کا طرزعمل جو وحی پر مبنی ہو ‘ وہ غلط ہو اور اس قدر غلط ہو کہ اللہ تعالیٰ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرزِ عمل پر گرفت فرمانی پڑے؟
ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ چونکہ حضوؐر کے اقوال و افعال مبنی بر وحی نہیں تھے اسی لیے ان میں بعض اوقات بھول چوک یا اجتہادی لغزشیں ہوجایا کرتی تھیں۔ اس کے علاوہ دوسری کوئی اور توجیہہ ممکن ہی نہیں۔
(ر) پانچویں مثال قرآن مجید میں سورہ التحریم کے اندر بیان فرمائی گئی ہے۔

یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ ج تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ o (التحریم:۱)
اے نبیؐ، تم کیوں اس چیز کو حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمھارے لیے حلال کی ہے (کیا اس لیے کہ) تم اپنی بیویوں کی خوشنودی چاہتے ہو؟ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

اس آیت پر بحث کرتے ہوئے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ’’موضوع اور مباحث‘‘ کے عنوان کے تحت ذکر کرتے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء علیہم السلام کی زندگی پر ایسی کڑی نگرانی رکھی گئی ہے کہ ان کا کوئی ادنیٰ اقدام بھی منشاء الٰہی سے ہٹا ہوا نہ ہو۔ ایسا کوئی فعل بھی اگر نبی سے صادر ہوا ہے تو اس کی فوراً اصلاح کر دی گئی ہے‘‘۔
آگے چل کر اس کی مزید تشریح کرتے ہیں کہ ’’اب قرآن میں یہ ذکر لانے کی مصلحت اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو اپنے بزرگوں کے احترام کی صحیح حدوں سے آشنا کرنا چاہتا ہے۔ نبی، نبی ہے خدا نہیں ہے کہ اس سے کوئی لغزش نہ ہو۔ نبی کا احترام اس بنا پر نہیں ہے کہ اس سے لغزش کا صدور ناممکن ہے بلکہ اس بنا پر ہے کہ وہ مرضی الٰہی کا مکمل نمایندہ ہے اور اس کی ادنیٰ سی لغزش کو بھی اللہ نے اصلاح کیے بغیر نہیں چھوڑا ہے‘‘۔۱۲؂
اسی آیت کی تشریح و تفسیر کرتے ہوئے مولانا مرحوم رقم طراز ہیں:

یہ دراصل استفہام نہیں ہے بلکہ ناپسندیدگی کا اظہار ہے یعنی مقصود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دریافت کرنا نہیں ہے کہ آپؐ نے یہ کام کیوں کیا ہے‘ بلکہ آپؐ کو اس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ اللہ کی حلال کی ہوئی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا جو فعل آپؐ سے صادر ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔۱۳؂

مولانا امین احسن اصلاحیؒ بھی یہی مفہوم لیتے ہیں۔ (ملاحظہ کیجیے‘ تدبر قرآن‘ جلد۸‘ تفسیر سورہ التحریم‘ ص ۴۵۱۔۴۵۷)
اس تفسیر و تشریح سے معلوم ہوا کہ:
۱۔ نبی چونکہ خدا نہیں‘ اس لیے اس سے لغزش صادر ہوسکتی ہے۔
۲۔ اس آیت میں حضوؐر کی جانب سے ایک حلال چیز کو اپنے اوپر حرام قرار دینے کے عمل کو اللہ نے ناپسند کیا ہے۔
۳۔ اللہ نے نبی کی کوئی لغزش یا غلطی بھی‘ اصلاح کیے بغیر نہیں چھوڑی۔
اس مثال *سے بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ نبی اگر وحی کی زبان ہی بولا کرتا‘ وحی کے علاوہ کچھ بھی عمل نہ کرتا تو اس سے لغزش صادر ہونے کا احتمال ہوتا اور نہ اللہ اس کے کسی فعل کو ناپسند کرتا۔ ظاہر ہے کہ ایک طرف وحی کے ذریعے سے نبی سے ایک عمل کروایا جائے اور پھر اس پر ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا جائے‘ یہ طرز عمل کسی معقول آدمی سے بھی متوقع نہیں ہوسکتا کجا کہ اسے اللہ کا طرزِ عمل قرار دیا جائے۔
ہاں یہ درست ہے کہ اللہ نے نبی کی کوئی لغزش یا غلطی اصلاح کیے بغیر نہیں چھوڑی لیکن جب ہم یہ کہتے ہیں تو غور کیجیے اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟ یہی نا کہ اصلاح سے پہلے غلطی یا لغزش سرزد ہوچکی تھی‘ تبھی تو اصلاح کی ضرورت پیش آ سکتی تھی۔ اب یہ ناممکنات میں سے ہے کہ لغزش پر مبنی عمل کو وحی قرار دیا جائے۔ کیونکہ وحی الٰہی ہمیشہ لغزشوں سے پاک ہوتی ہے۔ بحث یہاں یہ نہیں کہ اگر باقتضائے بشریت ان سے کبھی کوئی لغزش ہوتی ہے یا وحی خفی کے لطیف اشارے کو سمجھنے میں وہ کبھی غلطی کرتے ہیں یا اپنے اجتہاد سے کوئی ایسی روش اختیار کرجاتے ہیں جو مرضاتِ الٰہی سے یک سرمو بھی ہٹی ہوئی ہو تو اللہ تعالیٰ فوراً ان کی اصلاح کرتا ہے اور تنبیہہ کر کے سیدھے رستے پر لے آتا ہے(تفہیمات‘ حصہ اول‘ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ، ص ۳۱۰)۔بلکہ بحث اس امر میں ہے کہ جب انبیاء علیہم السلام کا ہر فعل و قول وحی ہی ہوتا ہے تو سرے سے کوئی لغزش یا اجتہادی غلطی سرزد ہی کیسے ہو سکتی ہے؟ کیا وحی بھی غلط ہو سکتی ہے؟ یا یہ ممکن ہے کہ خدا خود وحی کے ذریعے نبی سے غلطی کروا کر اس کے عمل کو ناپسند بھی کرے اور اس پر گرفت بھی؟
چنانچہ یہ توجیہہ اتنی کمزور تھی کہ خود مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کو اسے رد کرنا پڑا کہ وحی کے ہوتے ہوئے نبی سے غلطی کا عمل سرزد ہو ہی نہیں سکتا۔ وہ اپنی مشہور کتاب‘ تفہیمات حصہ دوم میں فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں کے نزدیک:*
انبیاء ؑ کی طرف اس قسم کی لغزشوں کا انتساب ‘ عصمتِ انبیاء ؑ کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ لیکن ان حضرات نے شاید اس امر پر غور نہیں کیا کہ عصمت دراصل انبیاء ؑ کے لوازمِ ذات سے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو منصبِ نبوت کی ذمہ داریاں صحیح طور پر ادا کرنے کے لیے مصلحتاً خطاؤں اور لغزشوں سے محفوظ فرمایا ہے۔ ورنہ اگر اللہ کی حفاظت تھوڑی دیر کے لیے بھی ان سے منفک ہوجائے تو جس طرح عام انسانوں سے بھول چوک اور غلطی ہوتی ہے‘ اسی طرح انبیاء سے بھی ہوسکتی ہے۔ اور یہ ایک لطیف نکتہ ہے کہ اللہ نے بالارادہ ہر نبی سے کسی نہ کسی وقت اپنی حفاظت اٹھا کر ایک دو لغزشیں سرزد ہوجانے دی ہیں تاکہ لوگ انبیاء ؑ کو خدا نہ سمجھیں اور جان لیں کہ یہ بشر ہیں‘ خدا نہیں۔۱۴؂
یہاں پر عصمتِ انبیاء ؑ ہمارا موضوع نہیں ہے‘ البتہ اس اقتباس سے مولانا مرحوم نے یہ تسلیم کیا ہے کہ:
۱۔ انبیاء ؑ سے بھول چوک اور غلطی صرف اسی وقت ہو سکتی ہے جب اللہ تعالیٰ کی حفاظت ان سے منفک ہوتی ہے۔
۲۔ اللہ تعالیٰ نے بالارادہ ہر نبی سے یہ حفاظت اٹھا کر ایک دو لغزشیں سرزد ہوجانے دی ہیں۔
ہم دراصل یہی نکتہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وحی کے ہوتے ہوئے (یعنی جب نبی کا ہر قول یا فعل۔۔۔ یا دوسرے الفاظ میں احادیث وحی ہوں‘ تو) کسی نبی سے بھی غلطی یا بھول چوک کا امکان نہیں۔ اب چونکہ یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ انبیاء علیہم السلام سے اور بالخصوص حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لغزشوں کا صدور ہوا ہے تو یہی نتیجہ نکلتاہے کہ احادیث وحی نہیں ہوسکتیں۔*
r اب ہم دوسرے سوال کو لیتے ہیں کہ اگر احادیث بھی قرآن کی طرح وحی کا درجہ رکھتی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کا ذمہ کیوں نہیں لیا؟
پہلے تو یہ امر طے کرلیں کہ آیا بالعموم احادیث کو قرآن کی طرح ہی وحی کا مجموعہ سمجھا جاتا ہے یا اس میں کوئی اختلاف ہے۔ مشکوٰۃ شریف‘ جلد اول میں ایک حدیث ملاحظہ کیجیے:

وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْن مَعْدِیْکَرِبَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلَا اِنِّیْ اُوْتِیْتُ الْقُرْاٰنَ وَمِثْلَہٗ مَعَہٗ اَلَا یُوْشِکُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلٰی اَرِیْکیہِ یَعُوْلُ عَلَیْکُمْ بِہٰذَا الْقُرْاٰنِ فَمَا وَجَدْتُّمْ فِیْہِ مِنْ حَلَالٍ فَاَحِلُّوْہُ وَمَا وَجَدْتُّمْ فِیْہِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوْہُ وَاِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ کَمَا حَرَّمَ اللّٰہُ ۔
حضرت مقدامؓ بن معدیکرب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار ہو کہ مجھے قرآن اور اس کے مثل اس کے ساتھ دیا گیا ہے۔ خبردار ہو کہ عنقریب ایک پیٹ بھرا شخص اپنے چھپرکٹ پر پڑا ہوا کہے گا کہ بس اُس قرآن کو لازم جانو۔ پس جو چیز تم قرآن میں حلال پاؤ اُسے حلال سمجھو اور جسے حرام پاؤ اُسے حرام سمجھو۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ حرام کیا وہ اسی کی مانند ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا۔۔۔ (ابوداؤد‘ دارمی نے بھی ایسی روایت بیان کی ہے اور اسی طرح ابن ماجہ نے یہ روایت ’’جس طرح اللہ نے حرام کیا‘‘ تک بیان کیا ہے۔۱۵؂

محمد عاصم الحدّاد ’’سنت رسولؐ کیا ہے اور کیا نہیں ہے‘‘ میں لکھتے ہیں:

اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جو وحی نازل ہوتی تھی وہ دو طرح کی تھی: (۱) متلو (جس کی تلاوت کی جائے یعنی قرآن حکیم۔ (۲) غیرمتلو (جس کی تلاوت نہ کی جاتی ہو) اس سے مراد سنت یا حدیث ہے۔

اس کے بعد اسی اوپر دی گئی مشکوٰۃ شریف والی حدیث کا حوالہ دیا ہے اور اس پر اضافہ یہ کیا ہے کہ یہ روایت ترمذی میں بھی ہے۔ اس کے بعد لکھتے ہیں:

حسان بن عطیہؒ سے روایت ہے کہ جبریل ؑ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی طرح وحی لے کر آیا کرتے تھے جیسے قرآن لے کر آتے تھے۔ (ابوداؤد فی المراسیل)۱۶؂

پروفیسر عبدالصمد صارم الازہری اپنی کتاب ’’تاریخ القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:

جبریل ؑ حدیث بھی نازل کرتے تھے (کان جبریل ینزل علی النبی بالسنۃ کما ینزل علیہ بالقران ۔ بحوالہ سنن دارمی)۱۷؂

یہی بات مولانا محمد صادق سیالکوٹی لکھتے ہیں:

اس آیت میں (سورہ النجم‘ آیت۱) خدا نے حضوؐر کے بولنے کو وحی فرمایا ہے اور کہا ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش سے نہیں بولتے۔ ان کا بولنا وحی ہے جو ان کی طرف بھیجی جاتی ہے۔ معلوم ہوا کہ سرورعالمؐ کا نطق‘ بولنا یعنی حدیث وحی ہے اور قرآن کے سوا وحی ہے۔۱۸؂

آگے چل کر مزید ارشاد فرماتے ہیں:

حضوؐر نے فرمایا کہ میں قرآن کی مثل اس کے ساتھ اور چیز بھی دے گیا ہوں یعنی حدیث۔ جب قرآن بھی خدا نے دیا اور حدیث بھی خدا نے دی تو دونوں من جانب اللہ ہونے کے سبب مساوی اور برابر ہوئے۔

نیز یہ کہ:

حضوؐر کی حدیث اس لیے قرآن کے برابر ہے کہ وہ خدا کی وحی اور اس کا کلام اور حکم ہے۔ ایک ہی سرچشمہ کی دو نہریں ہیں۔۱۹؂

سید کرم شاہ صاحب‘ فاضل جامعہ الازہر اپنی کتاب ’’سنت خیرالانام‘‘ میں تقریباً اسی نتیجے پر پہنچے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

اگر ان حضرات کو لفظ سنت سے بیر ہے اور اتباع سنت نبویؐ سے چڑ ہے تو وہ حکمت اور اتباع حکمت نبویؐ کے الفاظ استعمال کرلیں۔ بہرحال انھیں قرآن پر عمل کرنے کے لیے حضوؐر کے اقوال و اعمال پر عمل کرنا ہی پڑے گا اور طوعاً و کرہاً یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ سنت یا حکمت قرآن بمطابق آیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور قرین قیاس یہی ہے کہ حکمت یعنی سنت منزل من اللہ ہو۔۲۰؂

شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی اپنی کتاب ’’حجیت حدیث‘‘ میں ارشاد فرماتے ہیں:

ہمارے نزدیک حدیث وحی ہے اور اس کا اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو علم دیا گیا‘ جیسے قرآن کا۔ آنحضرتؐ نے قرآن کے الفاظ ہم تک پہنچائے اور احادیث کا مفہوم۔ جبریل ؑ قرآن اور سنت دونوں کو لے کر نازل ہوتے۔ آنحضرتؐ کو سنت بھی قرآن کی طرح سکھاتے (صواعق‘ ج ۲‘ ص ۳۴۰۔ شاطبی‘ ج ۴۔ جامع بیان العلم‘ ابن عبدالبر)۔ اس لحاظ سے ہم وحی میں تفریق کے قائل نہیں۔ قرآن اور سنت دونوں مآخذ ہیں اور بیک وقت مآخذ ہیں۔ اسی لحاظ سے آنحضرتؐ نے فرمایا: اُوْتیتُ القراٰنُ ومِثلہ معہ۔۲۱؂

اسی کتاب میں اپنا نتیجۂ فکر و مطالعہ ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں:

تحقیق و تثبیت کے بعد حدیث کا ٹھیک وہی مقام ہے جو قرآن عزیز کا ہے اور فی الحقیقت اس کے انکار کا ایمان و دیانت پر بالکل وہی اثر ہے جو قرآن عزیز کا۔۲۲؂

ان اقتباسات سے معلوم ہوا کہ بعض علماء کے نزدیک:
۱۔ حدیث یا سنت بھی قرآن ہی کی طرح وحی ہے۔
۲۔ قرآن کی طرح حدیث بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی جاتی تھی۔
۳۔ حضوؐر کا نطق‘ بولنا یعنی حدیث قرآن کے مطابق وحی ہے۔
۴۔ حدیث قرآن کی مِثل ہے اور قرآن ہی کی طرح دی گئی۔
۵۔ حدیث قرآن کے برابر ہے کیونکہ یہ بھی کلام اللہ ہے۔ ایک ہی چشمہ کی دو نہریں۔
۶۔ حکم کے لحاظ سے بھی تحقیق کے بعد حدیث کا ٹھیک وہی مقام ہے جو قرآنِ عزیز کا۔
یہاں فطری طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب حدیث بھی قرآن ہی کی طرح وحی ہے‘ اس کو بھی قرآن کی طرح حضرت جبریل ؑ نازل فرماتے تھے۔ حکم کے لحاظ سے بھی حدیث کا ٹھیک وہی مقام ہے جو قرآن کا تو کیا اللہ تعالیٰ نے قرآن کی طرح احادیث کی حفاظت کا بھی ذمہ لیا؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو یقیناًاحادیث بھی قرآن ہی کی طرح محفوظ اور ہر قسم کے شک و شبہہ سے بالا ہوں گی۔ چنانچہ ہم ان ہی دو پہلوؤں سے حقیقی صورت حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ وما توفیقی الا باللّٰہ۔
قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے:

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (الحجر:۹)
ہم نے اس ذکر کو نازل کیا ہے اور ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔

مولانا امین احسن اصلاحیؒ اس آیت کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں:

یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت پرزور الفاظ میں تسکین و تسلی دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ (قریش) قرآن عظیم کی قدر نہیں کر رہے ہیں تو تم اس کا غم نہ کرو۔ یہ کتاب تمہاری طرف سے کسی تمنا و طلب کے بغیر‘ ہم ہی نے تم پر اتاری ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔۔۔ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا میں حصر در حصر کا جو مضمون پایا جاتا ہے‘ اس سے اس حقیقت کا اظہار مقصود ہے کہ یہ کتاب تم نے ہم سے مانگ کے تولی نہیں ہے کہ تم پر لوگوں سے اس کو قبول کروانے کی ذمہ داری ہو۔ تم پر ذمہ داری صرف دعوت و تبلیغ کی ہے‘ تم اس کو ادا کرو۔ رہا اس کتاب کی حفاظت اور اس کے قیام و بقا کا مسئلہ تو یہ ہم سے متعلق ہے‘ اس کی حفاظت اور اس کے قیام و بقا کا انتظام ہم کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کن کن شکلوں میں پورا فرمایا‘ تاریخ میں اس سوال کا پورا جواب موجود ہے۔۲۳؂

اس اقتباس سے ظاہر ہے کہ قرآن میں جس ’’ذکر‘‘ کی حفاظت کا وعدہ کیا گیا ہے وہ قرآن مجید ہے۔ ابن کثیر نے اس سے یہی مراد لیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

اس ذکر یعنی قرآن کو ہم نے ہی اتارا ہے اور اس کی حفاظت کے ذمہ دار بھی ہم ہی ہیں۔ یہ ہمیشہ تغیر و تبدل سے بچا رہے گا۔۲۴؂

مولانا ابوالکلام احمد آزادؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

بلاشبہ ہم نے الذکر (یعنی قرآن کہ سرتاپا نصیحت ہے) اتارا ہے اور بلاشبہہ خود ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔۲۵؂

مولانا محمد احمد رضا خان بریلوی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ فرما یا ہے اس لیے یہ خصوصیت صرف قرآن شریف ہی کی ہے۔ دوسری کسی کتاب کو یہ بات میسر نہیں۔۲۶؂

سید عبدالقدو س ہاشمی اپنے ایک مقالے میں‘ جو ڈاکٹر محمد میاں صدیقی کی تالیف علوم القرآن میں شائع ہوا ہے‘ فرماتے ہیں:

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی حفاظت کے لیے دونوں ذرائع حافظہ اور تحریر کو ایک ساتھ تحفظ قرآن کی خدمت پر لگا دیا تھا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کو بہرحال اپنا یہ وعدہ پورا کرنا تھا کہ ہم اس کی حفاظت کریں گے۔۲۷؂

علامہ خالد محمود اپنی کتاب آثار التنزیل میں‘ تفسیر مجمع البیان کے حوالے سے لکھتے ہیں:

تفسیر مجمع البیان میں ہے: بے شک ہم نے ہی ذکر نازل کیا‘ اس سے مراد قرآن ہی ہے اور ہم ہی اس کی ہر زیادتی اور کمی سے اور ہر تحریف و تغیر سے حفاظت کریں گے۔ یہی معنی حضرت قتادہ اور ابن عباسؓ سے منقول ہیں اور اس میں نہ آگے سے نہ پیچھے سے کسی طرح بھی باطل کا دخل نہیں ہو سکتا ہے۔۲۸؂

مولانا محمد حنیف ندوی ’’مطالعہ قرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:

ان اسباب و وسائل میں جن کو قرآن حکیم کی حفاظت و صیانت کے لیے اختیار کیا گیا‘ پہلی شے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس یقین دہانی کا اظہار تھا کہ جہاں تک اس کتاب کے محفوظ اور خاص ترتیب کے ساتھ مجتمع ہونے کا تعلق ہے‘ یہ ہمارا ذمہ ہے۔ اس میں کبھی بھی باطل کی آمیزش نہ ہوپائے گی۔۲۹؂

اس سے صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ قرآن مجید میں جس کلام کی حفاظت کا وعدہ کیا گیا ہے وہ صرف قرآن مجید ہے۔ لیکن اس امر کے باوجود بعض علماء نے احادیث کو بھی اس ’’وعدے‘ میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ ہم ان علماء کرام کے دلائل کا جائزہ لینا بھی ضروری سمجھتے ہیں۔
مولانا محمد صادق سیالکوٹی ’’ضربِ حدیث‘‘میں ارشاد فرماتے ہیں:

قرآن جو ذکر ہے اس کی بھی اور رسول جو ذکر ہے اس کی بھی ہم حفاظت کرنے والے ہیں۔ ثابت ہوگیا کہ قرآن کی طرح خدانے حدیث کی حفاظت کا بھی ذمہ لیا ہوا ہے۔

انھوں نے اپنے تئیں یہ بات لکھ کر کہ ’’رسول جو ذکر ہے اس کی بھی ہم حفاظت کرنے والے ہیں ’’فوراً ثابت‘‘ کر دیا کہ حدیث کا بھی اللہ نے قرآن ہی کی طرح حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے۔ اس کی دلیل جو دی وہ یہ ہے: ’’غور تو کریں کہ قرآن کی تو خدا حفاظت کرے اور رسول کی رسالت اور نبوت کو قیامت تک رکھے‘ اسے ماضی کی تاریکیوں میں کھودے‘ مٹا دے‘ ہرگز نہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا اور نہ ایسا ہوا ہے۔۳۰؂
اسی طرح کی دلیل مولانا محمد اسماعیل نے بھی ’’حجیت حدیث‘‘ میں دی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

اگر حدیث دین ہے تو اس کی حفاظت کا ذمہ دار حق تعالیٰ کو ہونا چاہیے۔۳۱؂

اسی طرح کا دعویٰ اور دلیل مولانا محمد ادریس میرٹھی نے بھی دی ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

قرآن پر عمل حدیث کے بغیر نہیں ہو سکتا تو ماننا پڑے گا کہ قرآن کی حفاظت بھی حدیث رسولؐ اللہ کی حفاظت کے بغیر نہیں ہو سکتی اور جس طرح تیرہ سو سال گزرجانے کے باوجود قرآن اُمت کے پاس محفوظ ہے اور قیامت تک رہے گا اسی طرح ذخیرۂ حدیث رسولؐ اللہ بھی محفوظ ہے اور رہے گا۔

چند صفحات کے بعد یہ دعویٰ بلادلیل پھر دہراتے ہیں کہ:
لہٰذااس آیت کریمہ میں جس طرح قرآن کی حفاظت کا وعدہ ہے اسی طرح سنت و حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا بھی وعدہ ہے۔۳۲؂
مولانا محترم نے دلیل یہ دی ہے کہ ’’قرآن پر عمل حدیث کے بغیر نہیں ہو سکتا تو ماننا پڑے گا کہ قرآن کی حفاظت بھی حدیث رسولؐ کی حفاظت کے بغیر نہیں ہو سکتی‘‘۔ ہم نے کہا ہے کہ حفاظت کا وعدہ صرف قرآن کے لیے ہے اور یہ بات تقریباً تمام علماء محققین اور مفسرین فرما رہے۔ مولانا میرٹھی نے بھی دلیل یہ دی کہ ماننا پڑے گا کہ۔۔۔ اس ’’ماننا پڑے گا‘‘ کے علاوہ کسی شخص نے بھی کوئی دلیل نہیں دی اور حیرت کا مقام تو یہ ہے کہ یہی مولانا محترم اسی کتاب میں صرف بیس صفحات بعد بڑے دھڑلے سے یہ بات لکھتے ہیں کہ:
یہی وہ اللہ کا کلام ہے (قرآن) جس کے خود اللہ تعالیٰ محافظ ہیں۔ ارشاد ہے: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ۔ ہم ہی نے اس نصیحت (کی کتاب) کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔۳۳؂
ہم اپنی طرف سے مزید کوئی بات کہے بغیر بعض جید علماء اور مفکرین کی آراء نقل کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ اس رائے میں محققین کس بات کے قائل ہیں یعنی کہ اللہ تعالیٰ نے صرف قرآن مجید کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے یا قرآن کے علاوہ کوئی اور کتاب بھی ایسی ہے؟
عصرِحاضر کے ایک عظیم مفسر مولانا امین احسن اصلاحیؒ اپنی کتاب ’’توضیحات‘‘ میں ارشاد فرماتے ہیں:

انسانوں کا کیا ہوا کوئی کام اگرچہ وہ بہتر سے بہتر لوگوں نے بہتر سے بہتر طریقہ پر کیا ہو‘ غلطی کے امکانات سے مبرا نہیں ہو سکتا۔ اور اسی بنا پر تنقید سے بالاتر بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہمارے ہاں یہ درجہ صرف قرآن حکیم کا ہے کہ وہ غلطی کے تمام امکانات سے مبرا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا خود بندوبست فرمایا۔۳۴؂

اس عقیدے پر پوری اُمت کا اجماع نقل کرتے ہیں:

پوری اُمت کا اس پر اجماع ہے کہ قرآن کے سوا کوئی کتاب بھی مبرا عن الخطا نہیں ہے۔۳۵؂

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے بھی بالکل یہی بات لکھی ہے:

یہ حفاظت کا غیر معمولی انتظام آج تک دنیا کی کسی دوسری کتاب کے لیے نہیں ہوسکا ہے۔۳۶؂

یہی مفکر اپنی دوسری کتاب میں لکھتے ہیں:

یہ خیال بالکل صحیح ہے کہ احادیث اس حد تک محفوظ نہیں ہیں جس حد تک قرآن مجید ہے۔۳۷؂

مولانا محمد تقی امینی‘ ناظمِ دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ‘ اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’حدیث کا درایتی معیار‘‘ میں ارشاد فرماتے ہیں:

یہی آخری کتاب ہر دور و زمانہ کے لیے کافی ہوتی ہے۔ صرف اس کی حفاظت کا سوال رہتا ہے جس کی ذمہ داری اللہ نے اپنے ذمہ لی ہے۔ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ ۔ ہم نے ہی قرآن اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

قرآن کی حفاظت کا جو انتظام ہے اور جس طرح وہ محفوظ ہے تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ یہ قدرتی انتظام و حفاظت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔۳۸؂

مندرجہ بالا اقتباسات سے معلوم ہوا کہ علمائے محققین کے نزدیک:
۱۔ انسانوں کا کیا ہوا کوئی بھی کام غلطی سے مبرا نہیں ہو سکتا۔ یہ درجہ صرف قرآن حکیم کا ہے کہ وہ غلطی کے تمام امکانات سے مبرا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا خود بندوبست فرمایا ہے۔
۲۔ پوری اُمت کا اس پر اجماع ہے کہ قرآن کے سوا کوئی کتاب بھی مبرا عن الخطا نہیں ہے۔
۳۔ یہ حفاظت کا انتظام اور غیرمعمولی انتظام آج تک دنیا کی کسی دوسری کتاب کے لیے نہیں ہو سکا ہے۔
۴۔ یہ خیال بالکل صحیح ہے کہ احادیث اس حد تک محفوظ نہیں ہیں جس حد تک قرآن مجید ہے۔
اب ہم فی الواقع یہ بتانے کی کوشش کریں گے کہ ہمارا دعویٰ تو یہی ہے کہ احادیث‘ قرآن کی طرح محفوظ نہیں‘ مگر عملی صورت حال بھی یہی ہے یا اس کے برعکس۔ ہم نے تمام اقتباسات علمائے اہلِ سنت کی کتابوں سے لیے ہیں تاکہ اس بارے میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے۔
شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی رقمطراز ہیں:

صحیح بخاری یا صحیح مسلم کا انتخاب مخصوص شرائط کے ماتحت ہوا ہے۔ اس کا مطلب نہ تو تمام صحیح احادیث کا استیعاب ہے اور نہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے سوا باقی سب احادیث غلط ہیں۔ بلکہ ائمہ حدیث تصنیف و تدوین کتب کے وقت بعض شرائط ذہن میں رکھتے تھے۔ ان شرائط کے تحت جو صحیح احادیث ان کے معیار پر ان کی نظر میں پوری اتریں انھیں جمع کر دیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان شرائط کے مطابق بھی کہیں ذہول ہوگیا ہو۔* ۳۹؂

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’سنت کی آئینی حیثیت‘‘ میں لکھتے ہیں:

ان کا (امام بخاریؒ ) اپنا قول یہ ہے کہ میں نے اس کتاب میں کوئی ایسی بات داخل نہیں کی ہے جو صحیح نہ ہو مگر بہت سی صحیح حدیثیں میں نے چھوڑ دی ہیں تاکہ طویل نہ ہوجائے (تاریخ بغداد‘ ج۲‘ ص ۸۔۹۔ تہذیب النووی‘ ج ۱‘ ص ۷۴۔ طبقات السبکی‘ ج ۲‘ ص ۷۰)۔ بلکہ ایک اور موقع پر وہ اس کی تصریح بھی کرتے ہیں کہ ’میں نے جو صحیح حدیثیں چھوڑ دی ہیں وہ میری منتخب کردہ حدیثوں سے زیادہ ہیں‘‘۔* اور یہ کہ ’’مجھے ایک لاکھ حدیثیں یاد ہیں‘‘ (شروط الائمہ الخمسہ‘ ص ۴۹)۴۰؂

شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی احادیث میں ’’صحیح اور ضعیف‘‘ کی پہچان کی عملی دشواریاں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

مستدرک حاکم‘ صحیح ابن حبان‘ صحیح ابن خزیمہ یہ سب کتابیں بشرطِ صحت تدوین تصنیف کی صورت میں آئیں۔ ان پر بعض اعتراضات کے باوجود کافی ذخیرہ محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔ البتہ اصولِ خمسہ بخاری‘ مسلم‘ ابوداؤد‘ ترمذی‘ نسائی میں صحاح کا کافی ذخیرہ آگیا ہے لیکن استیعاب کا دعویٰ یہاں بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے علاوہ حدیث کی کتابوں میں بھی صحیح احادیث کا ذخیرہ موجود ہے‘ البتہ بعض جگہ کچھ ایسی مشکلات سامنے آگئیں کہ وہاں صحیح اور ضعیف میں امتیاز کرنا کافی دقت طلب ہوگیا ہے۔۴۱؂

اب معلوم نہیں کہ ’’وحی‘‘ میں صحیح اور ضعیف کی جو ملاوٹ ہوگئی ہے ان کو کیسے دور کیا جائے گا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ فریضہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں ہی انجام دے جاتے!
اوپر جو اقتباس ہم نے ’’سنت کی آئینی حیثیت‘‘ سے نقل کیا ہے‘ اسی مفہوم کا ایک اور اہم اقتباس ہم مفتی امجد العلی کی ’’الدرایہ فی اصول الحدیث‘‘ سے نقل کرتے ہیں:

امام بخاریؒ و مسلمؒ نے اپنی ذات کے حق میں اس امر کا التزام نہیں کیا تھا کہ وہ اپنی مذکورہ دونوں کتابوں میں تمام احادیث صحاح کو جمع کردیں گے اس لیے یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ صحیح بخاری یا صحیح مسلم میں جتنی احادیث روایت کی گئی ہیں صرف یہی تعداد صحیح احادیث کی ہے۔ اس کے بعد صحیح احادیث کا دیگر مسندات یا سنن میں وجود نہیں۔ چنانچہ امام بخاریؒ سے خود ان کا قول منقول ہے کہ میں نے اپنی اس کتاب میں صحیح احادیث کو جمع کیا ہے لیکن ان کی طوالت کے خوف سے بہت سی صحیح حدیثوں کو چھوڑ بھی دیا ہے۔ امام مسلم نے فرمایا ہے کہ جو احادیث میں نے صحیح میں روایت کی ہیں اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ان کے علاوہ اور صحیح حدیثیں مجھے معلوم نہ تھیں یا موجود نہ تھیں۔۴۲؂

اب یہ بیچاری اُمت بھی کس مشکل سے دوچار ہو گئی ہے کہ اول تو قرآن کی طرح احادیث کی حفاظت کا وعدہ ہی نہیں فرمایا گیا‘ دوم وہ اس طرح محفوظ بھی نہ رہ سکیں اور سوم یہ کہ جتنی کچھ صحیح احادیث معلوم ہیں‘ ان سے زیادہ صحیح احادیث کو چھوڑ بھی دیا گیا تھا تو یہ اُمت باقی ماندہ ’’وحی‘‘ کو کہاں تلاش کرے؟ احادیث کا یہ حصہ جو چھوڑ دیا گیا تھا اس کے بارے میں امام بخاریؒ و مسلمؒ نے صحت کی تصریح تو کی نہیں تھی کہ فلاں فلاں احادیث صحیح ہیں بلکہ اجمالاً صرف یہ کہا تھا کہ صحیح احادیث کا زیادہ تر حصہ انھوں نے اپنی اپنی کتابوں میں نہیں لیا۔ اب کیا ہم اس حصے کو کہیں پاسکتے ہیں؟ اس کے متعلق یہی مصنف چند ہی صفحات بعد فرماتے ہیں:

باقی رہی صحیح حدیث کی وہ قسم کہ جس کے حق میں ائمہ سلف میں سے کسی نے صحت کی تصریح نہ کی ہو لیکن مابعد کا کوئی محدث حدیث کی سند کے رجال کو ایسے درجہ کا پاتا ہے جو کسی صحیح حدیث کے رجال کا درجہ رکھتے ہیں۔ اس قسم کے متعلق شیخ ابن صلاحؒ کی یہ رائے ہے کہ اس پر صحت کا حکم نہ لگایا جائے۔ کیونکہ اس زمانے میں محدث میں وہ اہلیت ہی موجود نہیں جو سلف میں تھی۔
امام نوویؒ نے اس سلسلے میں ابن صلاح ؒ کے مقابلے میں فرمایا ہے کہ میرے خیال میں زیادہ واضح تو یہی ہے کہ جس شخص میں احادیث پر تنقیدی قوت و معرفت علل پورے طور پر موجود ہو اس کے لیے جائز ہے۔ (تدریب الراوی للسیوطی‘ مطبوعہ مصر‘ ص ۴۶)۴۳؂

یعنی اول تو ابن صلاح کے نزدیک ’’وحی‘‘ کی پہچان کے لیے ایک خاص اہلیت کا ہونا لازمی ہے جو سلف میں تو تھی مگر اس کے بعد ناپید ہوگئی۔ مگر امام نوویؒ کافی فراخ دل واقع ہوئے ہیں ورنہ بہت سی ’’وحی‘‘ تو گم ہو جاتی۔ البتہ مسئلہ اب بھی بحث طلب یہ ہے کہ ’’وحی‘‘ جیسی اہم حقیقت کی دریافت و پہچان کے لیے ہم ابن صلاحؒ کو رہبر جانیں یا امام نوویؒ کو؟ ہمارا دوسرا سوال جو زیربحث تھا وہ یہی تو تھا کہ اگر احادیث بھی قرآن کی طرح وحی ہیں تو ان کی بھی اسی طرح حفاظت کا وعدہ ہونا چاہیے تھا اور فی الواقع وہ محفوظ بھی ہوتیں مگر صورت حال جیسی کچھ بھی ہے وہ آپ نے ملاحظہ فرما لی۔
 

حوالہ جات

۱۰۔ " ایضاً‘ ص ۲۵۱
۱۱۔ " ایضاً‘ حواشی ۱‘ ۲
۱۲۔ " ایضاً‘ سورہ التحریم‘ ص ۱۰‘ ۱۱
۱۳۔ " ایضاً‘ حاشیہ ۱

*ہم نے محض قرآن کی مثالوں پر ہی اکتفا کیا ہے اور احادیث میں مذکور درجنوں واقعات سے صرف اس لیے صرفِ نظر کیا ہے کہ ان کے بغیر بھی ہمارا مدعا ظاہر ہوجاتا ہے۔
* نیز ملاحظہ فرمایئے: استفسارات‘ حصہ اول‘ مرتب از اختر حجازی‘ ص ۱۲۰ تا ۱۲۳
۱۴۔ " تفھیمات‘ حصہ دوم‘ ص ۵۶۔۵۷

* اس سے قطعاً یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ ہم قرآن کے علاوہ ہر قسم کی وحیوں کا انکار کرتے ہیں جس طرح بعض فرقے سمجھتے ہیں۔ اجمالی طور پر ہم نے گذشتہ اوراق میں اس پر بحث کی ہے۔ مزید تفصیل آگے آتی ہے۔
۱۵۔ مشکوٰۃ شریف‘ جلد اول‘ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ‘ حدیث نمبر ۱۵۵‘ ص ۸۰
۱۶۔ محمد عاصم الحداد: سنت کیا ہے اور کیا نھیں‘ ص ۱۲۔۱۳
۱۷۔ پروفیسر عبدالصمد صارم الازھری: تاریخ القرآن‘ ص ۱۹۱
۱۸۔ مولانا محمد صادق سیالکوٹی: ضربِ حدیث‘ ص ۲۶۶
۱۹۔ ایضاً‘ ص ۳۲۸‘ ۳۳۰۔
۲۰۔ سید کرم شاہ: سنت خیرالانام‘ ص ۵۶
۲۱۔ شیخ الحدیث محمد اسماعیل سلفی: حجیتِ حدیث‘ ص ۱۲۳
۲۲۔ ایضاً‘ ص ۱۱۴۔۱۱۵
۲۳۔ مولانا امین احسن اصلاحیؒ : تدبر قرآن‘ جلد ۴‘ سورہ الحجر‘ آیت ۹
۲۴۔ امام ابن کثیرؒ : تفسیر ابن کثیر (اردو) جلد ۳‘ سورہ الحجر‘ آیت ۹
۲۵۔ مولانا ابوالکلام آزادؒ : ترجمان القرآن‘ جلد ۲‘ سورہ الحجر‘ آیت ۹
۲۶۔ مولانا احمد رضا خاں بریلویؒ : تفسیر قرآن‘ جلد ۲‘ سورہ الحجر‘ آیت ۹
۲۷۔ ڈاکٹر محمد میاں صدیقی: علومِ القرآن‘ ص ۳۳۱
۲۸۔ علامہ خالد محمود: آثارِ التنزیل‘ ص ۸۸
۲۹۔ مولانا محمد حنیف ندوی: مطالعہ قرآن‘ ص ۷۸
۳۰۔ مولانا محمد صادق سیالکوٹی: ضربِ حدیث‘ ص ۲۵۳
۳۱۔ شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی: حجیتِ حدیث‘ ص ۱۲۷
۳۲۔ مولانا محمد ادریس میرٹھی: سنت کا تشریعی مقام‘ ص ۱۹۸‘ ۲۰۲
۳۳۔ ایضاً‘ ص ۲۲۳
۳۴۔ مولانا امین احسن اصلاحیؒ : توضیحات‘ ص ۹۶
۳۵۔ ایضاً‘ ص ۹۶
۳۶۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ : سنت کی آئینی حیثیت‘ ص ۱۴۰
۳۷۔ " تفھیمات‘ حصہ اول‘ ص ۳۷۴
۳۸۔ مولانا محمد تقی امینی: حدیث کا درایتی معیار‘ ص ۶۶

* ان ’’ذہول شدہ‘‘ شرائط کے مطابق جو ’’وحی‘‘ہم تک پہنچی ہے اس کو اب ہم کیسے معلوم کریں؟
۳۹۔ شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی: حجیتِ حدیث‘ ص ۸۲

* اگر یہ ساری صحیح احادیث ہم تک نہیں پہنچ سکیں تو نہ معلوم ہم کتنی ’’وحی‘‘ سے محروم رہ چکے ہیں۔
۴۰۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ : سنت کی آئینی حیثیت‘ ص ۳۴۷
۴۱۔ شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی: حجیتِ حدیث‘ ص ۸۳
۴۲۔ مفتی امجد العلی: الدرایہ فی اصول الحدیث‘ ص ۶۱
۴۳۔ ایضاً‘ ص ۶۶

____________