اس کے علاوہ ضمنی طور پر ایک اور سوال کا جائزہ لیتے چلیں تو نفسِ مسئلہ کو سمجھنے میں زیادہ آسانی ہوگی۔ وہ یہ کہ قرآن کی وحی کی تو ایک ہی قسم ہے۔ اس کی کوئی خاص قسم یا اصطلاحات نہیں۔ لیکن حدیث کی سو سے زائد اقسام گنوائی جاتی ہیں مثلاً صحیح‘ ضعیف‘ شاذ‘ مرسل‘ مرفوع وغیرہ۔ مگر قرآن کی وحی کے بارے میں اس طرح کی کوئی اصطلاح رائج نہیں۔ قرآن کی ہر آیت ایک ہی قسم پر مشتمل ہے۔ وہ صحیح‘ ضعیف اور حسن وغیرہ پر مشتمل نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ یہ بھی نہیں ہے کہ ہر حدیث کے متعلق سب اہلِ فن کی ایک ہی رائے ہو۔ بسااوقات ایک حدیث کو کوئی صاحب صحیح کہتے ہیں‘ کوئی حسن اور کوئی ضعیف۔ ذیل میں ہم چند اصطلاحات پر گفتگو کریں گے:
۱۔ صحیح: ڈاکٹر صبحی صالح‘ ابن کثیر کی اختصار علوم الحدیث کے حوالے سے صحیح حدیث کی یہ تعریف کرتے ہیں: ’’صحیح وہ مسند حدیث ہے جسے صاحب عدالت اور ضابط راوی دوسرے عادل اور ضابط راوی سے روایت کرے‘ یہاں تک کہ وہ اسناد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابی و تابعی تک پہنچ جائے اور وہ شاذ یا معلل بھی نہ ہو۔۴۴؂
یہی مصنف آگے چل کر لکھتے ہیں:

ایک عجیب بات یہ ہے کہ بعض محدثین یہ شرط لگاتے ہیں کہ حدیث صحیح عزیز ہو۔ امام حاکم نے ’’علوم الحدیث‘‘ میں اس طرف اشارہ کیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ: صحیح حدیث کی تعریف یہ ہے کہ اسے روایت کرنے والا صحابی گمنام نہ ہو‘ اس کی صورت یہ ہے کہ دو تابعی اس سے روایت کریں‘ اس کے بعد رواۃِ حدیث عام طور پر اسے دورِحاضر تک روایت کرتے چلے جائیں‘ جیسے گواہ کے حق میں شہادت دینے سے اس کی مزید تائید ہوجاتی ہے۔۴۵؂

اہلِ علم سے یہ بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی کہ ’’اختصار علوم الحدیث‘‘ اور امام حاکم کی ’’علوم الحدیث‘‘ کی تعریف میں کافی فرق پایا جاتا ہے۔ چنانچہ اس بات کو ڈاکٹر صبحی صالح اسی صفحہ پر لکھتے ہیں کہ ’’ظاہر بات ہے کہ اس خاص اصطلاح (یعنی حدیث صحیح عزیز ہو) کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے پہلے ہم بیان کر آئے ہیں کہ راوی کی تعدیل اور گواہ کی صفائی پیش کرنے کے درمیان بہت تفاوت ہے۔۴۶؂
مقام اطمینان ہوتا اگر صحیح حدیث کی تعریف تو ایک ہوتی۔ اگر ایک نہیں تو کم از کم یہ تو ہوتا کہ ’’صحیح‘‘ حدیث میں کوئی فرق تونہ پایا جاتا۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ ڈاکٹر صبحی صالح اسی کتاب میں رقمطراز ہیں:

پھر جن احادیث کو صحیح کہا جاتا ہے خود ان کے مرتبہ و صحت میں بھی تفاوت پایا جاتا ہے‘ اس کے علاوہ جن کتابوں میں صحیح احادیث کو جمع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے اس سے بھی یہ مراد نہیں ہے کہ ان میں درج احادیث صحت کے لحاظ سے مساوی درجے کی ہیں۔ اس کے برعکس محدثین کے نزدیک بعض حدیثیں ’’صحیح‘‘ اور بعض ’’اصح‘‘ (زیادہ صحیح) ہوتی ہیں اور اسی طرح بعض احادیث ’’ضعیف‘‘ اور بعض ’اضعف‘‘ (زیادہ ضعیف) ہوتی ہیں۔ محدثین کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ جس طرح صحتِ حدیث کے لیے اوصاف میں قوت و ضعف کی درجہ بندی ہوتی ہے‘ اسی طرح صحیح حدیث کے درجوں میں بھی ان کے اوصاف کے لحاظ سے تفاوت ہوتا ہے۔
درجوں کے اسی فرق کے پیشِ نظر امام نوویؒ نے صحیح حدیث کی سات اقسام بیان کی ہیں: ۱۔ وہ متفق علیہ حدیث جو بخاری اور مسلم دونوں میں موجود ہو۔ ۲۔ وہ حدیث جو صرف صحیح بخاری میں ہو۔ ۳۔ وہ حدیث جو صرف صحیح مسلم میں ہو۔ ۴۔ وہ حدیث جو بخاری و مسلم میں نہ ہو لیکن کسی محدث نے اسے ان دونوں کی شرائط کے مطابق روایت کیا ہو۔ ۵۔ وہ حدیث جو صرف بخاری کی شرط پر روایت ہو‘ ۶۔ وہ حدیث جو صرف مسلم کی شرط کے مطابق ہو۔ ۷۔ وہ حدیث جسے بخاری و مسلم کے سوا دوسرے ائمۂ حدیث نے صحیح قرار دیا ہو۔
صحیح حدیث کے مراتب و درجات میں فرق کی ایک وجہ وہ شہر اور علاقے بھی ہیں جہاں کے راویوں نے وہ احادیث روایت کی ہیں۔ اکثر علماء نے بڑے وثوق سے کہا ہے کہ اہلِ مدینہ کی روایات سب سے بڑھ کر صحیح ہوتی ہیں۔ خطیب بغدادی لکھتے ہیں کہ صحیح ترین حدیثیں وہ ہیں جنھیں اہلِ حرمین (مکہ اور مدینہ والوں) نے روایت کیا ہے۔۔۔
کون سی سند اصح الاسانید ہے؟ اس بارے میں (بھی) محدثین کے ہاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ہر ایک نے اپنا الگ قول بیان کیا ہے۔۴۷؂

صحیح حدیث پر اثر حدیث کی دوسری اصطلاحات کی وجہ سے کس طرح پڑ سکتا ہے۔ اس کی ہم ایک مثال بیان کرنے پر اکتفا کریں گے۔ مثلاً ’’شاذ‘‘ کی تعریف کے سلسلے میں ’’محققین نے اس ضمن میں ابویعلٰی خلیلی کی بیان کردہ تعریف کا ذکر بھی کیا ہے جو انھوں نے دوسرے حفاظ حدیث سے نقل کی ہے۔ ان کی رائے میں ’’شاذ حدیث وہ ہے جس کی ایک ہی سند ہو۔ اس کو روایت کرنے والا ثقہ ہو یا غیرثقہ۔ ثقہ راوی اگر شاذ حدیث کو بیان کرے گا تو اس میں توقف کریں گے اور اس سے احتجاج نہیں کریں گے اور غیرثقہ راوی کی شاذ حدیث کو ردّ کر دیں گے۔ (اختصار علوم الحدیث‘ ص ۶۱)
اس تعریف پر ڈاکٹر صبحی صالح تبصرہ کرتے ہیں کہ:

مناسب تھا کہ جس طرح ابن الصلاحؒ نے امام حاکمؒ کی رائے کو کمزور قرار دیا تھا‘ اسی طرح وہ خلیلیؒ کی رائے کو بھی کمزور قرار دیتے۔ لیکن خلیلیؒ اور امام حاکمؒ کی آراء میں بڑا فرق ہے۔ اور وہ یہ کہ امام حاکمؒ کی رائے جمہور کی رائے کے مطابق کہی جا سکتی ہے جب کہ خلیلی کی رائے کو کسی طرح بھی جمہور کی رائے سے ہم آہنگ قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ خلیلی صرف تفرد کو ہی حدیث کے شاذ ہونے کے لیے کافی سمجھتے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ کسی اور حدیث کی مخالف بھی ہو (التدریب‘ ص ۸۱)۔ جبکہ جمہور کی رائے میں شاذ حدیث میں تفرد اور مخالفتِ ثقات کی دونوں شرائط موجود ہونی ضروری ہیں لیکن کہا جا سکتا ہے کہ خلیلی نے شاذ کی یہ تعریف خود نہیں کی ہے بلکہ حفاظِ حدیث کی طرف سے نقل کی ہے۔ لہٰذا اس تعریف کو خلیلی کے ساتھ مخصوص نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ شاذ کی یہ وہی تعریف ہے جسے امام شافعیؒ نے بیان کیا ہے اور جس کو جمہور نے اختیار کیا ہے (اختصار‘ علوم الحدیث‘ ص ۶۱)۔ اور خلیلی نے صرف اتنا کیا ہے کہ علماء کی رائے کو امانت و دیانت کے ساتھ نقل کیا ہے۔ (التوضیح‘ جلد۱‘ ص ۳۸۴)۴۸؂

اس کے اثرات ’’صحیح‘‘ حدیث پر کس طرح پڑ سکتے ہیں‘ اس کے متعلق ڈاکٹر موصوف اسی کتاب میں لکھتے ہیں:

یادرہے کہ اگر خلیلی کی بیان کردہ تعریف درست تسلیم کرلی جائے تو اس کے نتائج بڑے خطرناک ہو سکتے ہیں کیونکہ اس کے مطابق بعض اوقات ایسا ممکن ہے کہ صحیح حدیث بھی شاذ ہوجائے۔ جب کہ ہم نے صحیح حدیث کی تعریف میں یہ شرط درج کی تھی کہ صحیح حدیث وہ ہے جو ہر علّت سے پاک ہو اور شذوذ سے محفوظ ہو لیکن ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ محدث خلیلی نے حدیث صحیح کو بھی معلول کہا ہے اور وہ دائرۂ اصطلاح میں محدود نہیں۔

لیکن کیا یہ ’’خطرناک نتائج‘‘ والی تعریف جس کے تحت صحیح حدیث بھی معلول ہو کر شاذ ہو جاتی ہے سراسر قابلِ ردّ ہے؟ جی نہیں! اسی صفحے پر ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ:

اور وہ جب ثقہ راوی کسی روایت کے بیان کرنے میں شاذ یا منفرد ہو تو وہ اسے بھی عام اصطلاح کے خلاف صحیح و شاذ کہتے ہیں۔ الغرض خلیلی نے حدیث شاذ کی جو انوکھی تعریف کی ہے تو اس کے باوجود وہ جمہور کے خلاف نہیں ہیں بلکہ ان کی رائے بھی جمہور کے قریب قریب ہے اور ہم اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ خلیلی نے بھی جمہور ہی کی رائے کو نقل کیا ہے۔۴۹؂

خلاصہ کلام یہ نکلا کہ ’’صحیح حدیث‘‘ کی تعریف میں:
۱۔ اختصار علوم الحدیث اور امام حاکم کی علوم الحدیث کی تعریف میں فرق پایا جاتا ہے۔
۲۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ بعض محدثین یہ شرط بھی لگاتے ہیں کہ حدیث صحیح‘ عزیز ہو۔
۳۔ پھر جن احادیث کو صحیح کہا جاتا ہے خود ان کے مرتبہ و صحت میں بھی تفاوت پایا جاتا ہے۔
۴۔ چنانچہ درجوں کے اسی فرق کے پیشِ نظر امام نوویؒ صحیح حدیث کی سات اقسام بیان کرتے ہیں۔
۵۔ صحیح حدیث کے مراتب و درجات میں فرق کی ایک وجہ وہ شہر اور علاقے بھی ہیں جہاں کے راویوں نے وہ احادیث بیان کی ہیں۔
۶۔ محدثین کے ہاں اس امر میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے کہ کون سی سند اصح الاسانید ہے؟
۷۔ خلیلی نے شاذ کی جو تعریف کی ہے وہ انوکھی ہے اور اس کے خطرناک نتائج بھی نکل سکتے ہیں اور وہ یہ کہ صحیح حدیث بھی شاذ ہوجائے۔ مگر یہ رائے جمہور ہی کی رائے کے قریب ہے۔
یہ تھی بحث صرف حدیث ’’صحیح‘‘ کے متعلق۔ کیا باقی اقسام کی تعریف میں محدثین کا اتفاق ہے یا ان میں بھی اسی طرح کا عدمِ اتفاق ہے؟ ہم اجمالاً صرف چند اقسام کے متعلق ہی گفتگو کریں گے۔

حدیث متواتر:

۱۔ ڈاکٹر صبحی صالح متواتر حدیث کی یہ تعریف کرتے ہیں:

متواتر وہ حدیث ہے جسے ایک ایسی جماعت نے روایت کیا ہو جس کا جھوٹ پر متفق ہونا عقلاً و عادتاً محال ہو۔ اور جس دوسری جماعت سے روایت کی گئی ہو وہ بھی اسی طرح سے ہو اور یہ وصف سند کے آغاز میں‘ اس کے وسط میں اور آخر میں بھی برقرار رہے۔۵۰؂

۲۔ خطیب بغدادیؒ اپنی کتاب ’’الکفایہ فی علم الروایہ‘‘ میں خبر تواتر کی تعریف یوں کرتے ہیں:

وہ خبر جس کی روایت اتنے کثیر افراد کریں کہ عادتاًیہ محال معلوم ہو کہ اتنے افراد بیک وقت‘ ایک واضح امر میں‘ جب کہ کسی مجبوری اور دباؤ کا مظنّہ بھی نہیں ہے‘ ایک جھوٹی بات پر اتفاق کرلیں گے۔۵۱؂

۳۔ مولانا محمد حنیف ندوی‘ مطالعۂ حدیث میں لکھتے ہیں:

حدیث متواتر وہ حدیث صحیح ہے جسے اتنی بڑی جماعت روایت کرے کہ اس پر کذب اور جھوٹ کا گمان نہ کیا جاسکے‘ بشرطیکہ اوّل سند سے لے کر وسط اور آخر تک روات کی کثرت جوں کی توں رہے۔ روات کی تعداد کس قدر ہو جس سے تواتر ثابت ہوتا ہے‘ اس کی ٹھیک ٹھیک تحدید نہیں کی جاسکتی۔ بعض لوگوں نے تعداد متعین کی ہے مثلاً سورہ النور کی آیت ۱۳ سے اس نتیجہ پر پہنچے کہ تواتر کے لیے کم از کم چار روات کا ہونا ضروری ہے۔ آیت ملاعنہ میں پانچ کا ذکر ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ متواتر میں دس سے کم راوی نہیں ہونے چاہییں۔ بعض نے کہا کہ اصل تعداد بارہ ہے۔ بعض کے نزدیک بیس راوی ہونے چاہییں۔ اسی طرح بعض نے چالیس اور بعض نے ستر روات کا ہونا ضروری ٹھہرایا۔ لیکن جیسا کہ ابن حجر کا کہنا ہے کہ کوئی خاص تعداد متعین نہیں سب اندازے ہیں‘ جن کا کوئی ثبوت پایا نہیں جاتا۔۵۲؂

۴۔ پیر کرم شاہ سنت خیرالانام میں لکھتے ہیں:

ہر وہ حدیث جس کو ہر زمانہ میں ان گنت راویوں نے روایت کیا ہو اور ان کا جھوٹ پر متفق ہونا بوجہ ان کی کثرت تعداد کے‘ بوجہ ان کی دیانت اور راست باری کے اور بوجہ ان کے وطنوں کے مختلف ہونے کے ناممکن ہو۔۔۔ نیز یہ بھی فرماتے ہیں کہ ’’حدیث متواتر کے لیے راویوں کی کسی مخصوص تعداد کی شرط کی ضرورت نہیں۔ اگر راوی بہت راستباز‘ متدین اور خدا سے ڈرنے والے ہوں تو اگر ان کی تعداد نسبتاً کم بھی ہو تو ہمیں علم یقین ہو جاتا ہے کہ جو کچھ کہہ رہے ہیں درست ہے۔۵۳؂

۵۔ مفتی امجد العلی ’’الدرایہ فی اصول الحدیث‘‘ میں ایک اور تعریف لکھتے ہیں:

خبر متواتر وہ خبر ہے جس کے بیان کرنے والوں کی تعداد اتنی ہو کہ اس قدر تعداد کا عقل کے نزدیک جھوٹ بولنا محال ہو اور یہ تعداد ابتدا سے انتہا تک برابر باقی رہے‘ نیز جس امر کی خبر دی گئی ہے وہ محسوسات سے ہو معقولی امر نہ ہو۔ ایسے اسباب جو قہروغلبہ و کذب کے داعی ہوتے ہیں ان سے مامون ہوں۔۵۴؂

اگر آپ غور کریں تو ان سب تعریفات میں بہت حد تک اتفاق کے باوجود درج ذیل اختلافات نظر آئیں گے۔
۱۔ پیر کرم شاہ (تعریف نمبر۴) باقی تعریفات کے مقابلے میں دو تین باتوں سے اختلاف کرتے ہیں:

(الف) وہ راویوں کی دیانت اور راست بازی اور وطنوں کے مختلف ہونے کی شرط بھی لگاتے ہیں۔ اس تعریف کے مطابق اگر راویوں کے وطن میں اختلاف نہ پایا جائے یعنی کثیر تعداد ایک ہی وطن سے متعلق ہو تو وہ خبر متواتر نہیں کہلائی جاسکتی۔ یا پھر ان کی رائے میں راوی دیاندار نہ ہوں تو بھلے ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو‘روایت پھر بھی متواتر نہیں کہلائی جائے گی۔ مثال کے طور پر ہزاروں پاکستانیوں نے امریکہ کے کسی شہر کی مشہور عمارت کی گواہی دی تو اگر وہ دیاندار اور راست باز نہیں ہوں گے تو اس لیے یہ متواتر خبرنہیں ہوگی اور اس لیے بھی کہ ان کا تعلق صرف ایک وطن سے ہے۔
(ب) دوسرے اگر راوی‘ پیر صاحب کی رائے کے مطابق‘ راست بازی‘ متدین اور خدا سے ڈرنے والے ہوں تو ان کی کم تعداد بھی متواتر کے لیے کافی سمجھی جائے گی۔ اب ’’راست باز‘ متدین اور ڈرنے والے‘‘ ، بذات خود ایسی اصطلاحات ہیں جن کا بظاہر کوئی پیمانہ نہیں۔

۲۔ تعریف نمبر دو اور پانچ کے مطابق وہ خبر متواتر نہیں کہلائی جاسکتی جس میں مجبوری‘ دباؤ یا قہروغلبہ کے اسباب پائے جاتے ہیں باقی سب تعریفات ایسی کوئی شرط عائد نہیں کرتیں۔
۳۔ تعریف نمبر۵ میں ایک اضافی شرط یہ بھی پائی جاتی ہے کہ جس امر کی خبر دی گئی ہے وہ محسوسات سے ہو‘ معقولی امر نہ ہو۔
۴۔ تعریف نمبر۳ سے ظاہر ہے کہ راویوں کی تعداد میں ہی اختلاف ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعض علما ایک حدیث کو متواتر کہتے ہیں تو دوسرے نہیں۔ مثلاً:
(الف) پیر کرم شاہ ’’حدیث متواتر‘‘ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:

بعض لوگ بے سوچے سمجھے یہ کہہ دیتے ہیں کہ حضرت! ایسی حدیث جو ان اوصاف سے متصف ہو کوئی ایک آدھ مشکل سے ملے گی۔ لیکن ان کا خیال ان کے محدود مطالعہ کی غمازی کرتا ہے۔۵۵؂

(ب) مولانا محمد حنیف فرماتے ہیں:

’’کیا حدیث کے موجود ذخائر میں متواتر لفظی کا ثبوت ملتا ہے؟ اس کے جواب میں اختلاف رائے ہے۔ ابن الصلاح کا کہنا ہے کہ جہاں تک مطابقت لفظی کا تعلق ہے‘ مشکل ہی سے کوئی حدیث متواترکہی جاسکتی ہے۔۵۶؂

(ج)اسی طرح ڈاکٹر صبحی صالح نے بھی محدث ابن الصلاح کے متعلق لکھا ہے کہ محدث ابن الصلاح کہتے ہیں کہ متواتر لفظی نادرالوجود بلکہ معدوم ہے‘ اس کی مثال تلاش و جستجو کے بعد بھی نہیں مل سکتی۔۵۷؂
(د) مولانا امین احسن اصلاحیؒ ، مبادی تدبر حدیث میں رقمطراز ہیں:

یہ امر ملحوظ رہے کہ ’’خبر متواتر‘‘ کا اسم تو موجود ہے لیکن ہمارے علم کی حد تک‘ اس کا کوئی صحیح مسمّٰی موجود نہیں ہے۔ بسااوقات ایک حدیث کو ’’خبرمشہور‘‘ کا درجہ دے دیا جاتا ہے‘ لیکن تحقیق پر معلوم ہوتا ہے کہ تین ادوار تک اس کے راوی ایک ایک‘ دو دو ہیں‘ جب کہ تیسرے یا چوتھے دور میں اس کے راوی زیادہ ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے نزدیک وہ احادیث جنھیں خبرمتواتر کہا گیا ہے تحقیق طلب ہیں۔۵۸؂

اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ مولانا محمد حنیف ندوی‘ امین احسن اصلاحیؒ اور محدث ابن الصلاح فی الواقع اپنے ’’محدود مطالعے‘‘ کی بنا پر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں یا ’’بلاسوچے سمجھے‘‘ یہ کہہ رہے ہیں کہ متواتر احادیث یا تو نادر الوجود ہیں یا ایک آدھ ہی حدیث مشکل سے ملے گی۔

۳۔ حدیث حسن:

مولانا محمد حنیف ندوی اپنی کتاب ’’مطالعہ حدیث‘‘ میں لکھتے ہیں:

حسن کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ حدیث صحیح کی قسم ہے یا حدیثِ ضعیف کی۔ ذہبی نے امام بخاریؒ اور مسلمؒ سے یہ تصریح نقل کی ہے کہ حدیث حسن‘ صحیح کی قسم ہے اور امام احمد بن حنبلؒ کا کہنا ہے کہ حسن اگرچہ ضعیف کی قسم ہے لیکن متروک العمل نہیں۔ حسن کے متعلق تیسری رائے یہ ہے کہ یہ مستقل بالذات شے ہے جو اگرچہ صحیح کے مرتبے پر تو فائز نہیں لیکن ضعیف سے قدرے فائق اور اعلیٰ ہے۔ اِن اقسامِ ثلاثہ کے علاوہ اور بہت سی اقسام و انواع ہیں جو کسی نہ کسی طرح انھی سے متعلق ہے‘ ان سب کا استیعاب مشکل ہے۔ حازمی (ابوبکر محمد بن موسیٰ بن حازم الہمدانی) نے ان کی تعداد سو کے قریب بتائی ہے اور ابن الصلاح نے اپنی کتاب علوم الحدیث میں ان میں سے صرف پینسٹھ (۶۵) کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ تقسیم کا یہ انداز حرفِ آخر نہیں۔۵۹؂

’’حسن‘‘ کی تعریف میں یہ بات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ جامع ترمذی سے قبل اس اصطلاح کا ذکر بھی نہیں ملتا۔

۴۔ ضعیف حدیث:

اس کی بہترین تعریف یہ ہے کہ ضعیف حدیث وہ ہے جس میں صحیح اور حسن حدیث کی صفات موجود نہ ہوں۔ بعض محدثین کہتے ہیں کہ صحیح اور حسن حدیث کی صفات موجود نہ ہونے کی وجہ سے ضعیف حدیث کی صورتیں عقلی اعتبار سے ۳۸۱ ہوسکتی ہیں۔ محدث ابن الصلاح کی رائے میں ضعیف حدیث کی واقعی اقسام ۴۲ سے زیادہ نہیں ہیں۔۶۰؂

ہم ضعیف حدیث کی محض چند اقسام کا ذکر کریں گے تاکہ ہمارا مدعا ظاہر ہوجائے۔

۵۔ مرسل:

(ا) مرسل اس حدیث کو کہتے ہیں جس میں راوی متعین صحابی نام لیے بغیر یہ کہہ دے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یاآنحضرتؐ نے بات کی یا آپؐ کے سامنے یہ فعل ہوا اور آپؐ نے اس پر سکوت فرمایا۔
مثال کے طور پر نافع نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا یا اس طرح کیا یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایسا کیا گیا۔ اور معلوم ہوا کہ نافع صحابی نہیں بلکہ تابعی ہیں۔ اس طرح ایسی حدیث میں صحابی کا نام مذکور نہیں ہوتا۔۶۱؂

مندرجہ بالا تعریف ڈاکٹر صبحی صالح اور مولانا محمد حنیف ندوی نے تدریب وغیرہ کے حوالے سے کی ہے۔ لیکن مفتی امجد العلی‘ اس تعریف سے تھوڑا سا اختلاف کرتے ہیں۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:

(ب) مرسل وہ حدیث ہے کہ جس میں کوئی بڑے درجے کا تابعی‘ صحابی کو چھوڑ کر خود یہ کہہ دے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا‘ یا ایسا کیا جیسے عبداللہ ابن عدی ابن خیار اور قیس بن ابی حازم و سعید ابن مسیب اس طرح روایت کریں۔ لیکن اگر کوئی چھوٹے درجہ کا تابعی مذکور طریقہ پر روایت کرے مثلاً زہری یہ کہہ دیں کہ ’’قال رَسُوْلُ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یا فَعَلَ‘ اس میں محدثین کا اختلاف ہے۔ ایک جماعت اس کو مرسل کہتی ہے اور دوسری جماعت اس کو منقطع کہتی ہے‘‘۔ (تدریب الراوی محولہ بالا للسیوطی‘ مطبوعہ مصر‘ ص ۵۶۶)۶۲؂

ظاہر ہے اس تعریف میں تابعی کی درجہ بندی کی گئی ہے کہ کس کا درجہ بڑا ہے اور کس کا چھوٹا اور اس طرح جب درجہ بندی ممکن ہو جائے تو مرسل حدیث کا پتہ چل سکتا ہے۔ فرض کریں اگر ہم یہی نہ معلوم کر سکیں (اور فی الواقع ہمارے پاس اس امر کو جاننے کا کیا معقول ذریعہ ہے؟) کہ فلاں تابعی کا درجہ کیا ہے تو ہم مرسل اور غیرمرسل حدیث میں کبھی بھی فرق نہ کر سکیں گے۔
آیئے ذرا اس سوال پر غور کریں کہ مرسل حدیث حجت ہوتی ہے یا نہیں۔ اصول حدیث کی تقریباً تمام کتابیں اس بحث سے بھری پڑی ہیں۔
مفتی امجد العلی صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:

چونکہ مرسل ضعیف حدیث کی اقسام میں سے ہے جمہور محدثین کے نزدیک حجت نہیں ہوتی۔ خصوصاً امام شافعیؒ کے نزدیک جیسا کہ امام مسلمؒ نے صحیح مسلم کی ابتدا میں کہا ہے اور امام محمد کے مشہور قول و ابن قیم و ابن کثیر کے نزدیک مرسل قابلِ حجت ہے۔ امام نووی نے شرح مہذب میں یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ فقہا کی اکثریت یا جمہور فقہا اس کے حجت ہونے کے ہی قائل ہیں اور کہا ہے کہ امام غزالیؒ نے بھی اس کے حجت ہونے کو جمہور کا مذہب قرار دیا ہے۔
مرسل حدیث کے حجت ہونے یا نہ ہونے کے سلسلے میں دس قول منقول ہیں:
۱۔ مطلقاً حجت ہے۔
۲۔ مطلقاً حجت نہیں۔
۳۔ اگر اوّل تین قرن(زمانوں) کے افراد نے بصورت ارسال نقل کیا ہو تو قابلِ حجت ہے‘ ورنہ نہیں۔
۴۔ صرف اس راوی کی حجت ہوگی جو عادل ہو۔
۵۔ اگر سعید ابن مسیب رحمتہ اللہ علیہ کی مرسل ہو تو قابلِ حجت ہوگی بشرطیکہ اس کی تائید کسی دوسری روایت کے ذریعہ ہوگئی ہو۔
۶۔ اگر حضرت سعید کی مرسل کے علاوہ کسی معاملے میں اور کوئی حدیث نہ حاصل ہوسکے تو یہ حدیث واجب العمل ہوگی۔
۷۔ مرسل‘ مسند حدیث سے بھی زیادہ قوی ہوتی ہے۔
۸۔ مرسل حدیث سے حجت لانا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے۔
۹۔ اگر کسی صحابی کی مرسل ہو تو قابلِ قبول و حجت ہوگی۔
۱۰۔ تابعین کا اس پر اجماع ہو چکا ہے کہ مرسل قابلِ حجت ہے‘ جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے لیکن بیہقی نے کتاب مدخل میں اس قول کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ جو دور طرح طرح کے فتنوں‘ کذب و افتراء و اتباعِ نفس وغیرہ کا ہو‘ ایک عارف پر لازم ہے کہ وہ مراسیل کی حتی الامکان تحقیق کرلے۔۶۳؂

درج بالا دس اقوال کی موجودگی میں عام آدمی تو کجا‘ علمائے کرام کے لیے بھی مراسیل کو حجت قرار دینا یا مترک ٹھہرانا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

۶۔ حدیث منکر:

(ا) منکر حدیث کی دقیق تر تعریف یہ ہے کہ وہ حدیث جس میں ضعیف راوی‘ ثقہ راوی کی مخالفت کرے‘ منکر کہلاتی ہے۔۶۴؂

یہی تعریف مولانا محمد حنیف ندوی نے ’’مطالعہ حدیث‘‘ کے صفحہ ۱۱۶ پر کی ہے۔ لیکن مفتی امجد العلی صاحب کی تعریف ملاحظہ فرمائیں جو انھوں نے قواعد الحدیث مطبوعہ دمشق صفحہ ۱۱۲ کے حوالے سے کی ہے۔ آپ لکھتے ہیں:

(ب) منکر وہ ضعیف حدیث ہے جس کا راوی اس متن کے روایت کرنے میں بالکل تنہا ہو۔ کسی دوسرے راوی نے اس متن حدیث کو روایت نہ کیا ہو۔ اور یہ روایت کرنے والا راوی ضابط بھی نہ ہو۔ ابن الصلاح رحمۃ اللہ علیہ کے کلام سے صراحتاً معلوم ہوتا ہے کہ حدیث شاذ ومنکر ایک ہی چیز ہے۔ لیکن شیخ الاسلام نے فرمایا ہے کہ شاذ و منکر میں ایسی غیریت ہے کہ جس کے سبب افتراقی و اجتماعی دونوں صورتیں موجود ہیں۔ جن علماء نے ان دونوں قسموں کو مترادف المعنی خیال کیا ہے یہ ان کی غلط فہمی ہے۔۶۵؂

منکر کی ان تعریفات (ا) اور (ب) میں واضح فرق یہ ہے:
۱۔ پہلی تعریف میں منکر صرف وہ حدیث کہلائی جا سکتی ہے جس کا ضعیف راوی‘ ثقہ راوی کی مخالفت کرے ۔۔۔ اور بس!
۲۔ دوسری تعریف میں ضعیف راوی کی ثقہ راوی کی مخالفت کا ذکر ہی نہیں۔ بس شرط صرف یہ ہے کہ منکر کا راوی اس حدیث کی روایت میں بالکل تنہا ہو۔ کسی دوسرے راوی نے اس متن کو روایت نہ کیا ہو۔
۳۔ دوسری تعریف میں ایک اور شرط بھی بیان کی گئی ہے کہ منکر حدیث کا راوی ضابط نہ ہو۔ یہ شرط پہلی تعریف میں نہیں۔
غالباً اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ ابن الصلاح اور دوسرے علما نے شاذ اور منکر میں کوئی فرق نہیں کیا‘ جنھیں مفتی صاحب غلط فہمی کا شکار قرار دیتے ہیں۔ ظاہر ہے ہمارا مقصد و مدعا حدیث کی تمام قسموں کی تعریفوں کا احاطہ کرنا نہیں ہے‘ اور نہ یہ ہمارے موضوع سے متعلق ہے۔ اس کے لیے علوم الحدیث کی کتابوں کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔ ہمارا مقصد یہ بھی ہرگز نہیں کہ اس طرح کی مثالیں دے کر علوم الحدیث کی اہمیت کو کم کیا جائے۔ ہم نے چند ہی تعریفوں پر اکتفا کرنا کافی سمجھا جس سے ہم اپنا نقطۂ نظر واضح کرنے کی پوزیشن میں ہوسکیں۔
وہ نقطۂ نظر صرف یہ ہے کہ قرآن کی کسی بھی آیت کے متعلق ہم کبھی یہ نہیں کہتے کہ یہ صحیح ہے‘ ضعیف ہے‘ شاذ ہے یا منکر۔ قرآن کی ہر آیت وحی پر مشتمل ہے۔ اس لیے اس کی مختلف اقسام‘ مختلف تعریفیں اور تکنیکی نوعیت کے سوالات نہ تو اٹھے اور نہ ان کو تاریخ کے کسی دور میں بھی ضروری سمجھا گیا۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ قرآن مجید کی آیات کے بارے میں اس قسم کی موضوعی بحث چھڑ ہی نہیں سکتی تھی۔ یہ بحث وہیں اُٹھ سکتی ہے جہاں کوئی خارجی پیمانہ مقرر نہ ہو۔اسی لیے ہر محدث نے اپنی اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق احادیث کی مختلف قسمیں مقرر کیں اور پھر ہر قسم کی مختلف تعریف کرنی پڑی۔ قرآن کی کسی آیت کے بارے میں یہ سوال کبھی پیدا نہیں ہوا کہ آیا یہ اللہ نے کہا بھی ہے یا نہیں۔ اور اگر کہا ہے تو اس کی حیثیت کیا ہے‘ صحیح ہے‘ حسن ہے یا ضعیف۔ اس کے برعکس احادیث کی یہ حیثیت کبھی بھی نہیں رہی۔ حدیث کے متعلق تو سب سے پہلے یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ قول رسول ہے بھی یا نہیں۔ اس حقیقت کی وضاحت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ یوں کرتے ہیں:
اصل واقعہ یہ ہے کہ کوئی روایت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو‘ اس کی نسبت کا صحیح و معتبر ہونا بجائے خود زیربحث ہوتا ہے۔ آپ کے نزدیک (اہل حدیث حضرات مراد ہیں۔ مولف) ہر اس روایت کو حدیثِ رسولؐ مان لینا ضروری ہے جسے محدثین سند کے اعتبار سے صحیح قرار دیں۔ لیکن ہمارے نزدیک یہ ضروری نہیں ہے۔ ہم سند کی صحت کو حدیث کے صحیح ہونے کی لازمی دلیل نہیں سمجھتے۔۶۶؂
یہی وجہ ہے کہ محدثین کو احادیث کی جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ چنانچہ ابتدائی مرحلے میں احادیث کی‘ سند کے اعتبار سے‘ مختلف انواع کا تعین کرنے کی کوشش کی گئی۔ دوسرے مرحلے میں احادیث کی واضح درجہ بندی تو عمل میں آئی مگر بدقسمتی سے اس درجہ بندی پر بھی اتفاق رائے نہ ہوسکا۔ نتیجتاً ایک محدث نے کسی حدیث کو صحیح قرار دیا تو دوسرے نے ضعیف۔ چونکہ خارجی معیار کوئی نہ تھا اس لیے ذوقی و وجدانی معیارات سے کام لینا محدثین کی علمی وعملی مجبوری نظر آتی ہے۔ چونکہ ہر شخص کا ذوق‘ علم اور وجدان مختلف ہوتا ہے اس لیے احادیث کی درجہ بندی کرتے وقت اور پھر مختلف قسموں کی تعریف میں اختلافِ رائے پیدا ہونا قطعاً کوئی حیرت انگیز بات نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان نتائج پر پہنچنے سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ کیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ:
(ا) احادیث کا پورا ذخیرہ ناقابلِ اعتبار ہے؟
۔۔۔ یا
(ب) احادیث چونکہ وحی خداوندی نہیں ہیں اس لیے قرآن کی طرح محفوظ نہیں؟
پہلی بات اس لیے ثابت نہیں ہوتی کہ احادیث کو قابلِ اعتبار ٹھہرانے کے لیے ہی تو یہ سارے پاپڑ بیلنے پڑے۔اگر کسی محدث کو کسی حدیث کی روایت یا درایت پر ذرا سا بھی شک گزرا تو وہ حدیث کسی دوسرے درجے میں جا پہنچی۔ کسی راوی کے متعلق یہ شک بھی ہوا کہ وہ جس شخص سے روایت کر رہا ہے‘ اس سے اس راوی کی ملاقات ثابت نہیں تو وہ حدیث ’’ضعیف‘‘ بن گئی۔ لہٰذا ہم بلاشبہہ یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ احادیث کا یہ ذخیرہ دنیا کی ہر تاریخ کے مقابلے میں زیادہ صحیح‘ قابلِ اعتماد اور مستند ذخیرہ ہے۔ اس حقیقت کا اعتراف تو غیرمسلم مفکرین بھی کرتے ہیں۔ ہمیں اس پر بجاطور پر فخر ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کارنامۂ حیات احادیث کی صورت میں بڑی حد تک محفوظ و موجود ہے بلکہ آپؐ ہی کے طفیل دورِ صحابہؓ اور اس کے بعد کا بہت مستند ریکارڈ بھی موجود ہے۔ احادیث پر یہ کام انسانی تاریخ کا سب سے معتبر‘ شاندار اور انوکھا علمی کارنامہ ہے۔ اس بارے میں دو رائیں قطعاً نہیں ہو سکتیں۔
البتہ اس سے دوسری بات یقینی طور پر ثابت ہو جاتی ہے۔ ذخیرۂ احادیث قرآن ہی کی طرح محفوظ اور ہر شک و شبہ سے بالا نہیں۔ اگر احادیث قرآن ہی کی طرح محفوظ ہوتیں تو ان میں بھی قرآن کی ہر آیت کی طرح ہر حدیث کی ایک ہی سطح ہوتی۔ کوئی صحیح اور ضعیف اور ضعیف میں بھی سیکڑوں اقسام نہ ہوتیں اور نہ ہر قسم کی تعریف میں اہلِ علم کا اختلاف ہوتا۔ لیکن چونکہ یہ سارا کام انسانی کام ہے اس لیے اس میں غلطی کا امکان بھی ہے اور نہ صرف یہ کہ محض امکان ہے بلکہ فی الحقیقت ہر انسانی کام کی طرح اس علم میں بھی بے شمار غلطیاں نظرآتی ہیں۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ احادیث نہ تو وحی پر مبنی ہیں اور نہ کسی بھی حیثیت سے وحی کا درجہ رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قرآن کی طرح محفوظ نہ ہوسکیں۔
اس ضمن میں ہم ایک اور پہلو سے معاملے کی نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ احادیث کی درجہ بندی کرتے ہوئے جن ذرائع کو مدنظر رکھا جاتا ہے وہ سارے ذرائع انسانی ہیں۔ کوئی حدیث ’’صحیح‘‘ تب ہی قرار پاتی ہے جب اس میں خاص صفات پائی جائیں اور یہ ’’صفات‘‘ انسانوں نے ہی طے کی ہیں۔ ہم ان تمام صفات پر نہیں بلکہ صرف ایک صفت یعنی راوی کی ’’ثقاہت‘‘ پر بات کریں گے۔ باقی تمام صفات کو اسی پر گمان کیا جاسکتا ہے۔ اسماء الرجال کا فن اسلامی علوم میں ایک منفرد فن ہے جس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اسی کے ذریعے سے ہر حدیث کے ہر راوی کے متعلق یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ کس حد تک قابلِ اعتماد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بقول مفتی امجد العلی صاحب ’’صحیح حدیث کے درجات‘ راویانِ حدیث کے صفات کے اختلاف کے لحاظ سے مختلف ہوتے چلے جاتے ہیں۔ (اصول الحدیث‘ ص ۶۶)
اب ذرا اس پر غور کریں کہ کوئی فرد ’’ثقہ‘‘ کیسے قرار پاتا ہے اور ’’متروک الحدیث‘‘ کب بنتا ہے۔ جب افراد یہ فیصلہ کرنے کے مجاز ہوں کہ دوسروں کے بارے میں یہ طے کریں کہ وہ اچھے ہیں یا برے تو ذاتی رجحانات لازماً اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہم نہیں سمجھتے کہ کوئی معقول آدمی اس امر سے بھی اختلاف کر سکتا ہے کہ جب ایک انسان دوسرے انسان کے متعلق یہ فیصلہ کرنے بیٹھ جائے کہ وہ ثقہ تھا یا نہیں تو یہ فیصلہ کرنا کتنا ہی غیر جانبدار اور بے لاگ کیوں نہ ہو اس میں بالعموم قلبی رجحانات کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ اور یہ کسے معلوم نہیں کہ قلبی رجحانات کو متاثر کرنے میں عقائد کا کتنا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس کی تفصیل ہم کسی اور سے نہیں‘ اس دور کے ایک عظیم مفکر مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب تفہیمات حصہ اول سے نقل کرتے ہیں:

کسی روایت کے جانچنے میں سب سے پہلے جس چیز کی تحقیق کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ روایت جن لوگوں کے واسطے سے آئی ہے وہ کیسے لوگ ہیں۔ اس سلسلہ میں متعدد حیثیات سے ایک ایک راوی کی جانچ کی جاتی ہے۔ وہ جھوٹا تو نہیں؟ روایتیں بیان کرنے میں غیرمحتاط تو نہیں؟ فاسق اور بدعقیدہ تو نہیں۔* وہمی یا ضعیف الحفظ تو نہیں؟ مجہول الحال ہے یا معروف الحال؟ ان تمام حیثیات سے رواۃ کے احوال کی جانچ پڑتال کر کے محدثین کرام نے اسماء الرجال کا عظیم الشان ذخیرہ فراہم کیا جو بلاشبہہ نہایت بیش قیمت ہے۔ مگر ان میں کون سی چیز ہے جس میں غلطی کا احتمال نہ ہو؟ اوّل تو رواۃ کی سیرت اور ان کے حافظہ اور ان کی دوسری باطنی خصوصیات کے متعلق بالکل صحیح علم حاصل ہونا مشکل‘ دوسرے خود وہ لوگ جو ان کے متعلق اچھی یا بری رائے قائم کرنے والے تھے‘ انسانی کمزوریوں سے مبرا نہ تھے۔ نفس ہر ایک کے ساتھ لگا ہوا تھا۔

یہ اقتباس ہم نے پہلے بھی نقل کیا ہے۔ یہاں ذرا مختصر نقل کر کے ہم جو بات ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ بھی ہم مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے اپنے الفاظ میں ان کی اسی کتاب سے پیش کیے دیتے ہیں:

اس قسم کی مثالیں پیش کرنے سے ہمارا مقصد یہ نہیں ہے کہ اسماء الرجال کا سارا علم غلط ہے۔ بلکہ ہمارا مقصد صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ جن حضرات نے رجال کی جرح و تعدیل کی ہے وہ بھی آخر انسان تھے۔ بشری کمزوریاں ان کے ساتھ بھی لگی ہوئی تھیں۔ کیا ضرور ہے کہ جس کو انھوں نے ثقہ قرار دیا ہو وہ بالیقین ثقہ اور تمام روایتوں میں ثقہ ہو اور جس کو انھوں نے غیرثقہ ٹھیرایا ہو وہ بالیقین غیرثقہ ہو اور اس کی تمام روایتیں پایۂ اعتبار سے ساقط ہوں۔ پھر ایک ایک راوی کے حافظہ اور اس کی نیک نیتی اور صحتِ ضبط وغیرہ کا حال بالکل صحیح معلوم کرنا تو اور بھی مشکل ہے۔ اور ان سب سے زیادہ مشکل یہ تحقیق کرنا ہے کہ ہر راوی نے ہر روایت کے بیان میں ان تمام جزئیات متعلقہ کو ملحوظ بھی رکھا ہے یا نہیں جو فقیہانہ نقطۂ نظر سے استنباطِ مسائل میں اہمیت رکھتی ہیں۔۶۷؂

یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اس معاملے میں سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ منفرد ہیں۔ یہ تو ہر اصولِ حدیث کی کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ الفاظ اور اسلوب جدا ہو سکتے ہیں‘ مفہوم تقریباً یکساں ہی ملے گا۔ ہم صرف ڈاکٹر صبحی صالح کی کتاب ’’علوم الحدیث‘‘ سے ایک اقتباس نقل کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اسماء الرجال پر طویل بحث کے بعد اپنا نتیجۂ فکر ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

محدثین کی طرف سے اہلِ بدعت کی روایات کو قبول نہ کرنا ایک قابلِ فہم امر ہے* اور اس میں تعجب کا کوئی پہلو نہیں ہے‘ اور اسی طرح بدکردار اور بے دین لوگوں کی روایات بھی ناقابلِ قبول ہوتی ہیں‘ لیکن مشاہیر کی روایات بغیر کسی نقد و جرح کے قبول کی جاتی ہیں۔ محدثین میں سے جو شخص معروف ہو اور سب لوگوں کی پسندیدہ شخصیت ہو تو وہ تعدیل سے بالا ہوجاتا ہے۔
محدثین کا طرز جو وہ نقد و جرح کے بارے میں رکھتے ہیں وہ تعدیل سے زیادہ سخت ہے۔ صحیح اور مشہور مذہب یہ ہے کہ محدثین تعدیل کو (یعنی کہ وہ شخص ثقہ ہے) اس کا سبب بیان کیے بغیر قبول کرتے ہیں لیکن جرح بلاوجہ قبول نہیں کی جاتی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ساقط العدالت یا فاسق قرار دینے میں لوگوں کے درمیان بہت اختلاف ہوتا ہے۔ ویسے بھی نقد و جرح کا معاملہ بہت دشوار اور دقیق ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ محدثین کسی راوی میں کوئی معمولی عیب دیکھتے ہیں اور اس کی روایت نہیں لیتے حالانکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ عیب اس طرح کا نہیں ہوتا کہ اس سے راوی کی روایت کو ردّ کر دیا جائے یا اسے ساقط العدالت ٹھہرایا جائے۔
اس سلسلے میں یہ امر ملحوظ رہے کہ جو شخص مباحات کا مرتکب رہا ہو اس کی روایت کے بارے میں محدثین نے انتہا پسندی سے کام لیا ہے‘ جیسے سڑکوں پر سیروتفریح کرنا‘ بازاروں میں کھاتے پھرنا‘ زیادہ ہنسی مذاق کرنا (بحوالہ الکفایہ‘ ص ۱۱۱) شطرنج یا آلاتِ موسیقی سے تفریح کرنے کی بات اور بھی شدید ہے۔۶۸؂

ان قلبی و ذوقی رجحانات کی زد میں آکر فی الحقیقت کتنی ہی صحیح احادیث ہم تک نہ پہنچ سکی ہوں گی! اور معاملہ اگر ’’وحی‘‘ کا ہو تو کیا یہ کوئی معمولی بات ہے؟ اس کے عملی نتائج پر اگر ہم غور کریں تو انتہائی بھیانک تصویر نظر آئے گی۔ ان ہی ذوقی رجحانات کی وجہ سے ایک راوی‘ ایک محدث کی نظر میں ثقہ ٹھہرتا ہے تو دوسرے محدث کی نظر میں غیرثقہ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک ہی حدیث کو اہلِ علم کی ایک جماعت صحیح قرار دیتی ہے تو دوسری ضعیف۔ ان ذوقی رجحانات کی وجہ سے اختلافات میں جو شدت پیدا ہوجاتی ہے اس کی ایک سی جھلک مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ یوں دکھاتے ہیں:

کیا امام رازیؒ کی بھی تکفیر کی جائے گی کہ انھوں نے بخاری کی حدیث مذکور ہوتے ہوئے کیفیتِ کتابت (توراۃ) کی تفصیل کو غیرثابت سمجھا ہے؟ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظلم ہو سکتا ہے کہ اگر کسی شخص کے نزدیک کسی حدیث کے الفاظ یا اسناد مشتبہ ہوں اور اس بنا پر وہ اس کا قائل نہ ہو تو اسے قولِ رسول کا منکر ٹھہرایا جائے؟۶۹؂

راوی‘ عادل ہونے کے باوجود‘ کسی غلط فہمی کا شکار بھی تو ہو سکتا ہے اور یہ بھی کوئی دور کے زمانے کا نہیں بلکہ براہِ راست پہلا راوی بھی ہو سکتا ہے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ایک حدیث پر بحث کرتے ہوئے خاص اس نکتہ کی تشریح اس طرح کرتے ہیں:

لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کو سمجھنے میں حضرت ابوہریرہؓ سے کوئی غلطی ہوئی ہے‘ یا وہ پوری بات سن نہیں سکے ہوں۔۔۔ اس طرح کی غلط فہمیوں کی مثالیں متعدد روایات میں ملتی ہیں جن میں سے بعض کو دوسری روایتوں نے صاف کر دیا اور بعض صاف ہونے سے رہ گئیں۔۷۰؂

اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے پہلے راوی کو ہی غلط فہمی ہوسکتی ہے اور پہلا راوی بھی کوئی معمولی فرد نہ ہو بلکہ رسول کا صحابی ہو تو بعد میں آنے والے راویوں کو اس غلط فہمی سے بچانے والی چیز آخر کیا ہو سکتی ہے؟ اور اب جن روایات میں اس طرح کی غلط فہمیاں دُور ہونے سے رہ گئیں اور دوسری روایات نے ان کو صاف نہیں کر دیا تو ہم آخر کس نتیجہ پر پہنچیں گے؟ یہی نا کہ قرآن کی طرح احادیث محفوظ نہیں ہو سکی تھیں اور یہ اس لیے ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کا (قرآن کی طرح) وعدہ نہیں فرمایا تھا۔ اس کی واحد وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ احادیث سرے سے وحی خداوندی تھیں ہی نہیں کہ ان کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہوتا۔
اس لیے یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ جو محققین اور مفکرین یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے صرف قرآن مجید کی حفاظت کا وعدہ فرمایا تھا وہ بالکل صحیح اور درست بات کہتے ہیں اور دنیا کی کوئی دوسری کتاب اس وقت ایسی نہیں پائی جاتی جس کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہو یا وہ قرآن کی طرح بالکل محفوظ ہمارے ہاتھوں میں موجود ہو۔
رواۃ پر نقد و جرح کے سلسلے میں ڈاکٹر صبحی صالح فرماتے ہیں:

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ایسی احادیث موجود ہیں جن پر نقد و جرح کی گئی ہے۔ اسی طرح مسند احمد میں بھی ضعیف حدیثیں موجود ہیں (نوٹ میں لکھتے ہیں) صحیح بخاری کی ۱۱۰ حدیثوں پر تنقید کی گئی ہے۔ ان میں سے صحیح مسلم میں ۳۲ روایات موجود ہیں اور امام بخاری نے ۷۸ حدیثیں منفرد طور پر روایات کی ہیں۔۷۱؂

حوالہ جات

۴۴۔ ڈاکٹر صبحی صالح: علوم الحدیث‘ ص ۱۷۲
۴۵۔ ایضاً‘ ص ۱۸۰
۴۶۔ ایضاً‘ ص ۱۸۰

* اور ہم سب جانتے ہیں کہ ہر فرقہ دوسرے فرقہ کو فاسق اور بدعقیدہ تو ضرور ہی کہتا اور سمجھتا ہے۔
۴۷۔ ایضاً‘ ص ۱۸۱ تا ۱۸۳

* اب یہ ایک حقیقت ہے کہ مختلف فرقے ایک دوسرے کو اہلِ بدعت میں شمار کرتے ہیں۔ یہ کوئی آج کی بات نہیں‘ صدیوں پرانی بات ہے۔
۴۸۔ ایضاً‘ ص ۲۴۲ ‘ ۲۴۳
۴۹۔ ایضاً‘ ص ۲۴۳
۵۰۔ ایضاً‘ ص ۱۷۳
۵۱۔ مولانا امین احسن اصلاحیؒ : مبادی تدبر حدیث‘ ص ۲۰
۵۲۔ مولانا محمد حنیف ندوی: مطالعہ حدیث‘ ص ۹۱۔۹۲
۵۳۔ پیر کرم شاہ: سنت خیر الانام‘ ص ۱۸۹‘ ۱۹۰
۵۴۔ مفتی امجد العلی: الدرایہ فی اصول الحدیث‘ ص ۳۶
۵۵۔ پیر محمد کرم شاہ: سنت خیرالانام‘ ص ۱۹۰
۵۶۔ مولانا محمد حنیف ندوی: مطالعہ حدیث‘ ص ۹۶
۵۷۔ ڈاکٹر صبحی صالح: علوم الحدیث‘ ص ۱۷۵
۵۸۔ مولانا امین احسن اصلاحیؒ : مبادی تدبر حدیث‘ ص ۲۰‘ ۲۱
۵۹۔ مولانا محمد حنیف ندوی: مطالعہ حدیث‘ ص ۹۳
۶۰۔ ڈاکٹر صبحی صالح: علوم الحدیث‘ ص ۱۹۶‘ نیز مولانا محمدحنیف ندوی‘ مطالعہ حدیث‘ ص ۱۰۳
۶۱۔ ایضاً‘ ص ۱۹۷۔ نیز مولانا محمد حنیف ندوی: مطالعہ حدیث‘ ص ۱۰۳
۶۲۔ مفتی امجد العلی: الدرایہ فی اصول الحدیث‘ ص ۷۸
۶۳۔ ایضاً: تفہیمات‘ ح ۱‘ ص ۷۸‘ ۷۹‘ ۸۰
۶۴۔ ڈاکٹر صبحی صالح: علوم الحدیث‘ ص ۲۴۴
۶۵۔ مفتی امجد العلی: الدرایہ فی اصول الحدیث‘ ص ۸۵
۶۶۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ : تفھیمات‘ حصہ اول‘ ص ۳۶۸۔ رسائل و مسائل‘ ح۱‘ص ۲۳۳
۶۷۔ ایضاً‘ ص ۳۵۷‘ ۳۵۸
۶۸۔ ڈاکٹر صبحی صالح: علوم الحدیث‘ ص ۱۵۶‘ ۱۵۷‘ ۱۵۸
۶۹۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ : تفھیمات‘ حصہ دوم‘ ص ۱۷۰
۷۰۔ " : رسائل و مسائل‘ حصہ دوم‘ ص ۳۲۔۳۳
۷۱۔ ڈاکٹر صبحی صالح: علوم الحدیث‘ ص ۳۴۵

____________