جناب خالد علوی صاحب‘ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے اس عمل کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے پانچ سو احادیث کا مجموعہ لکھا گیا تھا۔۔۔ (مگر بعد میںآپؓ نے اسے جلوا دیا تھا)۔ اس بات کی شہادت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد اپنی کتاب ’’آخری پیغام‘‘ میں دیتے ہیں:

مندرجہ بالا حقائق و شواہد سے معلوم ہوا کہ عہدنبویؐ میں ایک نہیں بیسیوں کتابیں موجود تھیں۔ صحابہؓ خود لکھتے تھے اور دوسرے لوگ بھی لکھتے تھے گویا کاغذ و قلم کی کمی نہ تھی خواہ کاغذ کسی نوعیت کا بھی ہو۔۱۲۶؂

صحابہ کرامؓ کی تعداد کا مسئلہ‘ جہاد وغیرہ میں مشغولیت یا سامانِ کتابت کی کمی کسی حالت میں بھی حدیث کی کتابت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی تھی۔ اس پر بے شمار حوالہ جات دینے کے بجائے ہم صرف آخری حوالہ‘ مولانا مناظر احسن گیلانیؒ کی کتابت سے پیش کرنے کے بعد اس بحث کو ختم کرتے ہیں۔ مولانا مرحوم اپنی کتاب ’’تدوین حدیث‘‘ میں لکھتے ہیں:

سمجھنے والوں نے سمجھ لیا اور دوسروں کو بھی وہ یہی سمجھاتے ہیں کہ ابتدا میں حدیثوں کے مکتوب نہ ہونے کی وجہ سامانِ کتابت کی کمی تھی‘ حالانکہ یہ قطعاً غلط خیال ہے۔ اور میں تو جو کچھ کہہ رہا ہوں کہ اس حکومت کے امکانات کے متعلق کہہ رہا ہوں جو دین اسلامی کی پشت پناہی کے لیے ٹھیک اس دین کی ابتداء ظہور ہی کے دنوں میں قائم ہوچکی تھی۔ کیا ایسی حکومت جس کا اقتدار سارے عرب پر قائم تھا ‘ اگر چاہتی تو تیس چالیس ہزار حدیثوں کے مجموعے لکھوانے کا بندوبست نہیں کر سکتی تھی؟ اس حکومت کے زیراقتدار سارا عرب عہدِ نبوت ہی میں آگیا تھا۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو اتنا بھی نہیں کر سکتے تھے؟۱۲۷؂

ہم سمجھتے ہیں کہ پیغام بالکل واضح ہے۔ عہدنبوت میں احادیث کے نہ لکھوائے جانے کی یہ ساری وجوہات قطعی طور پر غلط ہیں۔ بقول مولانا مناظر احسن گیلانی ’’قرنِ اوّل میں حکومت کی طرف سے حفاظت و اشاعتِ حدیث کا اہتمام نہ ہونا کوئی امرِاتفاق نہیں بلکہ مبنی پر مصلحت ہے‘‘ (تدوین حدیث‘ ص ۲۰۹)۔ اور یہ مصلحت ان کے نزدیک یہ تھی کہ:

اگر نبوت ہی کے عہد میں اس کثرت سے ان کے مکتوبہ مجموعے تیار ہوجائیں گے تو بتدریج ان حدیثوں سے پیدا ہونے والے احکام و نتائج میں اور قرآنی آیات سے پیدا ہونے والے احکام و نتائج میں کوئی فرق باقی نہیں رہے گا۔۔۔ بہرحال میں سمجھتا ہوں کہ ان دو چیزوں میں یعنی عمومی اشاعت جن چیزوں کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے ان میں اور جن چیزوں کے متعلق اشاعتِ عام کا یہ طریقہ نہیں اختیار فرمایا جاتا تھا‘ ان دونوں کے نتائج و احکام میں فرق پیدا کرنے کی یہی صورت تھی۔۱۲۸؂

یہ تھی ہماری چوتھی وجہ کا تجزیہ کہ اگر احادیث وحی تھیں تو حضوؐر نے خود ہی ان کی کتابت کیوں نہ کروائی جس طرح قرآن کی کتابت کروائی تھی۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔
rہمارا پانچواں سوال: گو کہ فرض تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی تھا‘ تاہم صحابہ کرامؓ نے بھی اس کی حفاظت و اشاعت کا وہ اہتمام نہیں کیا جو قرآن کی حفاظت و اشاعت کے سلسلے میں کیا تھا۔ ’’وحی‘‘ کی اس دوسری قسم سے بے اعتنائی کی وجہ؟
یہ سوال ہمارے نزدیک اتنا اہم نہیں کیونکہ اگر احادیث وحی ہوتیں تو یہ فرض صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ہو سکتا تھا کہ اس کی حفاظت و کتابت کا اہتمام فرماتے۔ لیکن صحابہ کرامؓ بالخصوص خلفائے راشدین کے عہد میں احادیث کے معاملے میں چند واقعات کے رونما ہونے سے‘ ایک لحاظ سے‘ یہ سوال بھی اہم ہو جاتا ہے۔
مولانا سید مناظر احسن گیلانیؒ نے بہت ہی اہم اور نہایت معقول سوال اٹھایا کہ حضوؐر کے بعد اگر حضرت ابوبکرصدیقؓ کے ہاتھ کا لکھا ہوا مجموعہ احادیث اس وقت ہمارے پاس موجود ہوتا تو کیا اس میں بھی کوئی شک کرسکتا تھا؟ قطعاً نہیں۔ یہ سوال اس لیے پیدا ہوا کہ روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے فی الواقع پانچ سو احادیث کا ایک مجموعہ اپنے پاس لکھ کر رکھا تھا۔ مولانا فرماتے ہیں:

آنحضرتؐ کے سب سے پہلے دینی اور سیاسی جانشین کے براہِ راست قلم کا لکھا ہوا حدیثوں کا یہ نسخہ حکومت کی طرف سے مسلمانوں میں اگر شائع ہوجاتا تو خیال کیجیے کہ آج پیغمبرؐ کی اِن حدیثوں کے متعلق کیا کسی کو شک و شبہ کی گنجایش باقی رہ سکتی تھی؟‘‘۱۲۹؂

اس کا جواب مکمل نفی میں ہی ہو سکتا ہے۔ پھر حضرت ابوبکرؓ نے ان حدیثوں کے اس مجموعے کو اُمت میں پھیلایا‘ اس کی مزید اشاعت کی یا کیا کیا؟ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ ’’فَدَعَا بِنَارٍ فَحَرَّقَہَا۔۔۔یعنی پھر آگ منگوائی اور اس نسخہ کو جلا دیا‘‘۔۱۳۰؂
ایسا کیوں کیا؟ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جو وجہ خود بیان فرمائی وہ یہ ہے:

خَشَیْتُ اَنْ اَمُوْتَ وَہِیَ عِنْدِیْ فَیَکُوْنَ فِیْہَا اَحَادِیْثَ عَنْ رَجُلٍ قَدِاءْتَمَنْتُہٗ وَوَثَّقْتُہٗ وَلَمْ یَکُنْ کَمَا حَدَثْنِیْ فَاَکُوْنَ قَدْ ثَقَلْتُ ذَاکَ فَہٰذَا لَایَصِحُّ
یعنی مجھے یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ میں مر جاؤں اور حدیثوں کا یہ مجموعہ میرے پاس رہ جائے (بایں طور) کہ اس مجموعے میں کسی ایسے شخص کی بھی حدیثیں ہوں جس کی امانت پر میں نے بھروسہ کیا اور اس کے بیان پر اعتماد کیا مگر جو کچھ اس نے مجھ سے بیان کیا بات ویسی نہ ہو اور میں نے (اپنے مجموعہ میں) اسے نقل کر دیا ہو۔ چنانچہ ایسا کرنا درست نہ ہوگا‘‘۔۱۳۱؂

اور بقول مولانا گیلانی‘ اس طرح اپنے ذخیرہ احادیث کو جلاکر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے سنتِ نبوی اور مصلحتِ پیمبری کی تحدید کی‘‘(صفحہ ۲۷۹)۔ ہمارا سوال نہایت ہی آسان اور سادہ ہے۔ کیا وحی کی ایسی ہی کیفیت ہوتی ہے کہ اس میں وہ بات بھی شامل ہو جو کہی نہ گئی ہو؟ ہمارا حسنِ ظن تو یہی کہتا ہے کہ تمام اہلِ علم اس سوال کا جواب نفی میں ہی دیں گے۔
صحابہ کرامؓ کا طرزِ عمل صرف عملِ صدیقیؓ تک ہی محدود نہ تھا بلکہ حضرت عمرؓکے زمانۂ مبارک میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا (صحابہ کرامؓ سے قبل عہدنبویؐ میں تو یہ واقعہ رونما ہوہی چکا تھا)۔ مولانا مناظر احسن گیلانیؒ اس کے متعلق بیان کرتے ہیں:

بلاشبہ حضرت عمرؓ کا یہ فیصلہ الہامی فیصلہ تھا کہ اپنی خلافت و حکومت کی جانب سے حدیثوں کے قلم بند کرانے کا خیال جو ان کے اندر حالات نے پیدا کر دیا تھا‘ اس خیال کو آپ نے دماغ سے باہر نکال دیا بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس استشارہ و استخارہ نے مسئلہ کے تمام پہلوؤں کو اور جن خطرات کا اندیشہ تھاان کے تمام گوشوں کو نئے سرے سے تازہ کر کے آپ کے سامنے پیش کیا۔ بظاہر اسی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف حکومت ہی کی طرف سے ’’تدوین حدیث‘‘ کے کام کو اپنے زمانہ میں ایک خطرناک اقدام آپ نے قرار دیا‘ بلکہ آپ کے عہدِ خلافت تک تقریباً ایک قرن یا جگ (بارہ سال) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جو گزر چکا تھا‘ اس عرصہ میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انفرادی طور پر لوگ حدیثوں کو پھر قلم بند کرنے لگے تھے۔ ابن سعد نے قاسم بن محمد کے حوالہ سے جو روایت طبقات میں درج کی ہے اس کے ان الفاظ سے یعنی: اِنَّ الْاَحَادِیْثَ قَدْ کَثُرَتْ عَلٰی عَہْدِ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ فَاَنْشَدَ النَّاسَ اَنْ یَّاتَوْہُ بِہَا (عمر بن الخطابؓ کے زمانے میں حدیثوں کی پھر کثرت ہوگئی تب حضرت عمرؓ نے لوگوں کو قسمیں دے دے کر حکم دیا کہ اِن حدیثوں کو ان کے پاس پیش کریں)سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس بارہ سال کے عرصہ میں پھر حدیثوں کے کافی مجموعے لکھے جاچکے تھے۔ شاید اس عرصہ میں حضرت عمرؓ کی طرف سے کچھ ڈھیل بھی لوگوں کو مل گئی ہو کیونکہ جب خود ان ہی کے دل میں حدیثوں کے لکھوانے اور مدون کرانے کا خیال پیدا ہوچکا تھا‘ تو ایسے زمانے میں دوسروں کو روکنے کی کیا وجہ ہو سکتی تھی مگر استخارہ نے آپ کے اندر جس عزمِ راسخ کو پیدا کیا اس کے بعد خود تو خیر آپ اس ارادے سے ہٹ ہی گئے لیکن اسی کو کافی خیال نہ کیا۔ آپ کو محسوس ہوا ہوگا کہ حکومت کی طرف سے نہ سہی‘ لیکن عمر فاروقؓ کے زمانے کی مدون کی ہوئی حدیث کی کتاب بھی عہدفاروقی ہی کی تدوین یافتہ قرار پائے گی۔ بہرحال قاسم بن محمد کا بیان ہے: فَلَمَّا اَتَوْہُ بِہَا اَمَرَ بِتَحْرِیْقِہَا (طبقات‘ ج ۵‘ ص ۱۴۱)۔ حسب الحکم حضرت عمرؓ کے پاس اپنے اپنے مجموعہ کو لوگوں نے پیش کردیا۔ تب آپؓ نے ان کو جلانے کا حکم دیا۔ گویا سمجھنا چاہیے کہ حدیثوں کے نذرِ آتش کرنے کا یہ تیسرا تاریخی واقعہ ہے جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے تک پیش آتا رہا ہے۔
پہلی دفعہ تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابیوں سے لے کر اس کو ختم کیا۔ پھر ابوبکر صدیقؓ نے اپنے مدونہ مجموعہ کے ساتھ یہی کارروائی کی اور تیسرا واقعہ ’’تدوین حدیث‘‘ کی تاریخ میں یہ پیش آیا کہ بکثرت حدیثوں کے مجموعے تیار ہوئے لیکن سب کو قسمیں دے دے کر حضرت عمرؓ نے منگوا لیا پھر سب کو تیسری دفعہ آپ نے نذرِ آتش فرما دیا‘‘۔

اس کے بعد مولانا محترم جامع بیان العلم‘ ج ۱‘ ص ۶۵ کی ایک روایت نقل کر کے یہ تبصرہ کرتے ہیں:

اس روایت سے بھی حضرت عروہ کے اس بیان کی تائید ہوتی ہے کہ ارادہ کرنے کے بعد حدیثوں کے لکھوانے کے خیال سے حضرت عمرؓ دست بردار ہوگئے اور دوسرے مسلمانوں سے بھی آپؓ نے یہی مطالبہ کیا کہ قرآن کے سوا ان کے زمانے کا لکھا ہوا کوئی دوسرا نوشتہ پیدا ہونے والے مسلمانوں میں نہ پہنچنے پائے اس میں ان کی مدد کریں۔۱۳۲؂

چنانچہ ہم نے پانچویں سوال کے تجزیئے میں یہ دیکھا کہ عہدصحابہؓ میں بھی احادیث کی کتابت کے اہتمام کی بات تو رہی ایک طرف‘ بعض صحابہؓ کے انفرادی لکھے گئے مجموعوں کو بھی نذرآتش کر دیا گیا۔ اگر احادیث وحی ہوتیں تو کیا صحابہ کرامؓ وحی سے ایسا ہی سلوک کرتے؟
r ہمارا چھٹا سوال انتہائی اہم ہے لیکن یہ جتنا اہم ہے‘ اس کے جوابات اتنے ہی دلچسپ ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے اور تمام ہی علماءِ کرام اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن بہرحال ایک اصولی کتاب ہے اور اس میں بہت ہی کم جزئیات پائی جاتی ہیں اور قیامت تک آنے والے زمانے کے متعلق ساری تفصیلات کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ قرآن نے ہی ہر دور سے متعلق ساری جزئیات کا تعین کیوں نہ کر دیا؟
اس کا جواب علامہ راغب الطباخ نے تاریخ افکار و علوم اسلامی میں مختصراً یہ دیا کہ:

یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ کی کتاب میں بہت سی آیات مجمل ہیں‘ جیسے نماز‘ زکوٰۃ‘ روزہ اور حج وغیرہ۔۔۔ پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ اگر قرآن میں اس طرح کی مجمل آیات کی ساری تفصیلات ہوتیں تو یہ کتاب الٰہی کئی جلدوں پر مشتمل ایک طویل و ضخیم کتاب ہوجاتی اور اس کا حفظ و مذاکرہ عادتاً مشکل ترین ہوجاتا۔۱۳۳؂

اس پر فطری طور پر دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔ اوّل یہ کہ اگر تفصیلات و جزئیات اس لیے قرآن میں درج نہیں کی گئیں کہ اس کی ضخامت کے بڑھ جانے کا خدشہ تھا تو جو جزئیات اس وقت قرآن میں موجود ہیں‘ ان کو بھی خارج ہوجانا چاہیے تھا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ کچھ تفصیلات تو قرآن میں درج کی گئیں اور باقی اس خوف سے باہر رکھی گئیں کہ قرآن ایک طویل و ضخیم کتاب ہو جاتی؟
دوسری بات یہ ہے کہ نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ اور حج کے بارے میں کتنی تفصیلات ہیں جن کے درج کیے جانے سے قرآن کئی جلدوں پر مشتمل ہو جاتا۔ نماز اور زکوٰۃ کے لیے سیکڑوں مرتبہ قرآن میں زور دیا گیا مگر ایک دفعہ بھی یہ نہیں کہا گیا کہ نماز کی ہیئت کیا ہو یا نصابِ زکوٰۃ یا شرحِ زکوٰۃ کیا ہو۔ یہ احکامات چند ہی آیات یا زیادہ سے زیادہ چند رکوع پر مشتمل آیات میں سما سکتے ہیں۔ ان کے لیے کیا بہت سی جلدوں کی ضرورت ہے؟ قطعاً نہیں۔ مگر باعث تعجب ہے کہ یہی وجہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے زیادہ تفصیل اور قدرے لطیف طنز کے ساتھ ارشاد فرمائی ہے۔ آپ تفہیمات حصہ اول میں لکھتے ہیں:

آپ* چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں نماز کے اوقات کا نقشہ بناتا‘ رکعتوں کی تفصیل دیتا رکوع و سجود اور قیام و قعود کی صورتیں تفصیل کے ساتھ بیان کرتا۔ بلکہ نماز کی رائج الوقت کتابوں کی طرح ہر صورت کی تصویر بھی مقابل کے صفحات پر بنا دیتا۔ پھر تکبیرتحریمہ سے لے کر سلام تک جو کچھ نماز میں پڑھا جاتا ہے وہ بھی لکھتا اور اس کے بعد وہ مختلف جزئی مسائل تحریر کرتا جن کے معلوم کرنے کی ہر نمازی کو ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح قرآن کے کم از کم دو تین پارے صرف نماز کے لیے مخصوص ہوجاتے۔ پھر اسی طور پر دو دو تین تین پارے روزہ‘ حج اور زکوٰۃ کے تفصیلی مسائل پر بھی مشتمل ہوتے۔ اس کے ساتھ شریعت کے دوسرے معاملات بھی جو قریب قریب زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی ہیں‘ جزئیات کی پوری تفصیل کے ساتھ درج کتاب کیے جاتے۔ اگر ایسا ہوتا تو بلاشبہہ آپ کی یہ خواہش تو پوری ہو جاتی کہ شریعت کا کوئی مسئلہ ’’غیر از قرآن‘‘ نہ ہو‘‘، لیکن اس سے قرآن مجید کم از کم انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے برابر ضخیم ہوجاتا اور وہ تمام فوائد باطل ہو جاتے جو اس کتاب کو محض ایک مختصر سی اصولی کتاب رکھنے سے حاصل ہوئے ہیں۔۱۳۴؂

قارئین کرام اس اقتباس میں ہلکی سی طنز کی کاٹ محسوس کرسکتے ہیں‘ لیکن کیا اس سے نفسِ مسئلہ حل ہوگیا؟ تحقیق طلب امر یہ ہے کہ یا تو تمام جزئیات ہی نہ درج کی جاتیں یا سب جزئیات درج کی جاتیں۔ آخر اس فرق کی کوئی معقول وجہ تو ہونی چاہیے۔
مولانا محترم نے لکھا ہے کہ ایسی صورت میں ’’وہ تمام فوائد باطل ہو جاتے جو اس کتاب کو ایک مختصر سی اصولی کتاب رکھنے سے حاصل ہوئے ہیں‘‘۔افسوس ہے کہ مولانا محترم نے ان ’’فوائد‘‘ کی نشاندہی نہیں کی‘ تاہم ایک عام شخص بھی یہی کہے گا کہ ایسی صورت میں اس کتاب کو اور مختصر کیا جا سکتا تھا تاکہ اس کتاب کے ’’فوائد‘‘ باطل نہ ہونے پائیں۔ پھر وضو کے احکام‘ قرض اور تجارت میں لین دین کے احکام اور وراثت وغیرہ کے احکام کو خارج کر کے مزید ’’فوائد‘‘ کیوں حاصل نہیں کیے گئے؟
مولانا محترم اور دیگر بعض علماءِ کرام کا اصرار ہے کہ یہ تفصیلات اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر چھوڑ دی تھیں مثلاً مولانا محترم نے اسی کتاب میں لکھا ہے کہ:

قرآن مجید میں اوّل سے آخر تک اس قاعدہ کو ملحوظ رکھا گیا ہے کہ پورا زور بیان ایمانیات کی تعلیم ہی میں صرف کر دیا جائے‘ کیونکہ یہی دین کی بنیاد ہے۔ رہے عبادات اور معاملات کے احکام تو ان کے صرف اصول و اُمہات مسائل بیان کردیے جائیں اور تفصیلات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چھوڑ دیا جائے۔ ۱۳۵؂

ہم یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کیا مولانا محترم کا یہ فرمانا درست ہے کہ ’’رہے عبادات و معاملات کے احکام تو ان کے صرف اصول و امہات مسائل بیان کر دیے جائیں اور تفصیلات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چھوڑ دیا جائے؟‘‘ کیا قرآن مجید میں عبادات و معاملات کے صرف اصول ہی بیان ہوئے ہیں اور کسی قسم کی تفصیلات کا ذکر نہیں؟ کیا وراثت کے احکام کو ہم تفصیلات میں شمار نہیں کرتے؟ وضو کے پورے احکام قرآن میں بیان کر دیے گئے ہیں کیا یہ تفصیلات نہیں کہلاتیں؟ ہمارا خیال ہے کہ مولانا محترم اسی وجہ سے اپنے اس موقف سے اصولی طور پر ہٹ گئے جب انھوں نے اسی کتاب میں یہ لکھا کہ:

اب رہ گئے احکام تو قرآن مجید میں ان کے متعلق زیادہ تر کلی قوانین بیان کیے گئے ہیں اور بیشتر امور میں تفصیلات کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً اِن احکام کو زندگی کے معاملات میں جاری فرمایا اور اپنے عمل اور قول کی تفصیلات ظاہر فرمائیں۔۱۳۶؂

مولانا محترم کے پہلے ارشاد کے مطابق قرآن میں صرف اصول بیان ہوئے ہیں اور تفصیلات کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ بات خلافِ حقیقت ہے تاہم دوسرے بیان کے مطابق قرآن میں زیادہ تر کلی قوانین بیان ہوئے ہیں اور بیشتر امور میں تفصیلات کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر چھوڑا گیا ہے۔ اہلِ علم بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ ’’صرف‘‘ اور ’’زیادہ تر‘‘ میں کیا فرق ہے۔ ہمارے نزدیک دوسرا موقف صحیح صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم اس درست موقف کے بعد ہی تو یہ سوال پیدا ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ’’تمام تر‘‘ کُلی قوانین کے بجائے قرآن میں محض ’’زیادہ تر‘‘ کُلی قوانین کیوں بیان کیے ہیں؟ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر محض ’’بیش تر امور‘ ‘ میں ہی تفصیلات کیوں چھوڑی گئیں؟ کیوں نہ ساری تفصیلات بیان کرنے کی ذمہ داری آپؐ پر ڈالی گئی؟ ظاہر بات ہے کہ اس کی کوئی بنیادی وجہ ہوگی۔ یہ وجہ جاننے سے پہلے ہمیں یہی طے کر لینا ضروری ہے کہ آپؐ پر قیامت تک آنے والے سارے مسائل کی تفصیلات بیان کرنے کی ذمہ داری ڈالی گئی تھی یا نہیں۔
r یہ ہے ہمارا ساتواں سوال۔ اگر اللہ تعالیٰ نے تفصیلات طے کرنے کی ذمہ داری حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈالی تھی تو کیا یہ ذمہ داری آپؐ نے پوری کی؟ اس بارے میں دو رائیں نہیں ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے بعض مجمل احکام کی تشریح کی اور بعض ایسے احکام نافذ کیے جن کا قرآن میں کوئی ذکر ہی نہیں۔ لہٰذا یہ موقف تو یقیناًدرست نہیں کہ قرآن میں صرف اصول و امہات مسائل بیان ہوئے ہیں۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ قرآن میں زیادہ تر کلی قوانین اور اصول بیان ہوئے ہیں۔ جزئیات چند ہیں لہٰذا ہمارے ساتویں سوال کا جواب مختصراً یہی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ساری تفصیلات طے کرنے کی ذمہ داری ڈالی ہی نہیں گئی ‘ جیسا کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے دوسرے اقتباس سے ظاہر ہے۔
امرواقعہ تو یہی ہے کہ ہم دورِحاضر کے جدید معاشی مسائل کا حل کسی حدیث میں نہیں پاتے۔ مثلاً بیسویں صدی میں اسلامی معاشیات اور غیرسودی بنکاری کی صدا سنی جانے لگی مگر احادیث میں ’’اسلامی بنکنگ‘‘ کا کوئی ماڈل نہیں ملتا۔ کسی حدیث میں اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ملتا کہ ہُنڈی (Bill of Exchange) کو وقت سے پہلے کیش کرانے کے لیے کیا طریقِ کار وضع کیا گیا ہے۔ کسی حدیث میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کسی کو آنکھ کا عطیہ کرنا‘ خون کا عطیہ کرنا یا جسم کے کسی بھی عضو کا عطیہ کرنا جائز ہے یا نہیں۔ اسٹاک ایکسچینج‘ انشورنس کمپنی‘ بلڈبنک‘ پروایڈنٹ فنڈ وغیرہ کے متعلق ایک روایت بھی نہیں ملتی۔
ٹسٹ ٹیوب بچوں اور کلوننگ کے متعلق کوئی حدیث نہیں۔ فون کے ذریعے نکاح یا طلاق کے بارے میں کوئی روایت نہیں پائی جاتی۔ آخر اتنے اہم مسائل پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی حکم نہیں بیان کیا تو اس کی کوئی وجہ تو ہے۔
آج کے مسائل کو چھوڑیئے‘ صرف اس پر غور کیجیے کہ مکہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال رہے مگر مزارعت یا بٹائی کے بارے میں کوئی حکم بیان نہیں کیا۔ زراعت کے بارے میں احکام مدینے کے زراعتی ماحول میں سکونت اختیار کرنے کے بعد آپؐ نے بیان فرمائے۔ بٹائی کے بارے میں جتنی روایات آئی ہیں وہ مدنی دور سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس کی وجہ جاننے کے لیے کسی کا فلسفی ہونا ضروری نہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ مکی زندگی میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زرعی مسائل سے سابقہ ہی نہیں پڑا تو مسئلے کا حل کیسے تجویز کرتے؟ نبی کوئی عالم الغیب تو ہوتا نہیں کہ آنے والے مسائل کا حل پہلے سے تجویز کردے۔ نبی ایک عملی شخص ہوتا ہے۔ اسے لازماً اپنے دور کے سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی مسائل کا حل تلاش کرنا ہوتا ہے۔ وہ جب اصلاحی کوششیں کرتا ہے تو اس دور کے مخصوص حالات کو پیش نظر رکھ کر کرتا ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ آپؐ مکہ میں بیٹھ کر مدینہ میں پیش آنے والے مسائل کا حل تلاش کرتے‘ اب اگر یہ ممکن نہ تھا تو یہ کس طرح ممکن ہو سکتا ہے کہ قیامت تک آنے والے مسائل کا حل ہمیں احادیث سے مل سکے! غور طلب بات یہ ہے کہ اپنے زمانے کے مسائل کے حل کے لیے اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کا انتظار رہتا تھا اور بغیر وحی کے‘ وہ کوئی جزئیات متعین نہیں کرتے تھے تو اس دور جدید کے مسائل کے لیے اب وحی کہاں سے آئے گی کہ جزئیات متعین کی جائیں؟
چھٹے اور ساتویں سوال کے تجزیئے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ قرآن میں جزئیات کا مقرر نہ کرنا اس وجہ سے قطعاً نہیں ہو سکتا تھا کہ یہ کام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے لگایا گیا تھا۔ قرآن کا ہر اصول اور جزئیہ وحی ہے جو انسانی ہدایت عامہ کے لیے ضروری ہے۔ اگر احادیث میں بیان کی گئی جزئیات بھی وحی ہوتیں تو یہ بھی لازماً قرآن کا حصہ بنتیں مگر چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقصد ہی نہ تھا کہ یہ قرآن کا حصہ بنیں کیونکہ فی الحقیقت یہ وحی نہیں تھیں‘ اس لیے صرف وہی جزئیات قرآن کا حصہ بنیں جو حقیقتاً وحی تھیں۔ اس کی وجہ عالمِ اسلام کے ایک مشہور ماہرقانون و فقہ ڈاکٹر مصطفی احمد زرقا لکھتے ہیں:

اس کی (قرآن کی) وہی خصوصیت و صفت ہے جو ایک دستور کی ہوتی ہے‘ یعنی یہ کہ اس میں منصوص احکام کا بیان مجملاً ہے۔ جزئیات و تفاصیل سے اس میں بحث نہیں کی گئی ہے اور جو کچھ ہے بہت ہی کم ہے۔ معاملات‘ سیاسی تنظیم اور اجتماعی زندگی سے متعلق قرآنی نصوص کا اس طرح مجملاً احکام کے بیان میں بڑے فوائد اور عظیم مصلحتیں ہیں۔ اس لیے کہ قرآنی احکام و اوامر زمانے کے ہر دور کے لیے ہیں اور ارتقائے زمانہ کے ساتھ ساتھ اس کے اقتضاء ات و مصالح میں گوناگوں تغیرات و اختلاف ناگزیر ہیں۔ پس ضروری تھا کہ دائرہ کے نقطہ کی طرف قرآنی احکام و اوامر اپنی جگہ ثابت رہتے لیکن اس قیام و ثبات کے باوجود ان میں جمود و تعطل نہ ہوتا بلکہ زمانے کے اقتضاء ات و تغیرات کے ساتھ وہ حرکت پذیر رہتے اور یہ اسی صورت میں ممکن تھا جبکہ صرف ان اصول و کلیات پر اکتفا کیا جاتا جن کے دامن میں قیامت تک کی جزئیات سمٹی ہوئی ہیں اور یہی قرآن نے کیا ہے۔ لہٰذا ہر دور کے اقتضاء ات و مصالح پر قرآن کے اجمالی نص کے مختلف احتمالات منطبق ہوتے چلے جائیں گے اور فانوسِ زمانہ کی شمع کی گردش سے نت نئی صورتیں نظر آتی رہیں گی۔۱۳۷؂

دوسرے الفاظ میں جزئیات و تفاصیل اس لیے قرآن میں نہیں بیان کی گئیں کہ زمانے کے اقتضاء ات اور تغیرات کے باعث ان پر عمل ناممکن ہوجاتا۔ اب چونکہ وحی کو تو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا‘ اس لیے جو جزئیات قرآن میں بیان نہیں کی گئیں‘ ان کو وحی کا درجہ نہیں دیا گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی عملی مسائل کے حل پیش کیے جن کا تعلق آپؐ کے عہدمبارک سے تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مکہ میں رہتے ہوئے مدینے کے مسائل کا تلاش کرنا آپؐ کے پیشِ نظر تھا ہی نہیں۔ اسی لیے ہمیں عہدِجدید کے معاشی‘ معاشرتی اور سائنس کے پیدا کردہ پیچیدہ مسائل کا جواب احادیث میں نہیں ملتا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ بالکل ممکن تھا کہ ان جزئیات کو قرآن مجید میں بیان کر دیتا۔ مگر زندگی تو تغیرات کا نام ہے پھر کیسے ممکن تھا کہ تغیرشدہ حالات میں پہلے سے متعین کردہ جزئیات پر عمل ہوتا۔ علامہ اقبال اپنی مشہور کتاب تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ کے چھٹے خطبے ’’اسلام کی ترکیب میں حرکت کا اصول‘‘ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں:

اسلام کے نزدیک حیات کی یہ روحانی اساس ایک قائم و دائم وجود ہے جسے ہم اختلاف و تغیر میں جلوہ گر دیکھتے ہیں۔ اب اگر کوئی معاشرہ حقیقتِ مطلقہ کے اس تصور پر مبنی ہے تو پھر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ثبات و تغیر دونوں خصوصیات کا لحاظ رکھے۔ اس کے پاس کچھ تو اس قسم کے دوامی اصول ہونے چاہییں جو حیاتِ اجتماعیہ میں نظم و ضبط قائم رکھیں‘ کیونکہ مسلسل تغیر کی اس بدلتی ہوئی دنیا میں ہم اپنا قدم مضبوطی سے جما سکتے ہیں تو دوامی اصولوں ہی کی بدولت۔ لیکن دوامی اصولوں کا یہ مطلب تو ہے نہیں کہ اس سے تغیر اور تبدیلی کے جملہ امکانات کی نفی ہوجائے‘ اس لیے کہ تغیر وہ حقیقت ہے جسے قرآن پاک نے اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی آیت ٹھہرایا ہے۔ اس صورت میں تو ہم اس شے کو جس کی فطرت ہی حرکت ہے‘ حرکت سے عاری کر دیں گے۔ اصول اوّل کی تائید تو سیاسی اور اجتماعی علوم میں یورپ کی ناکامیوں سے ہوجاتی ہے اور اصولِ ثانی کی عالمِ اسلام کے پچھلے پانچ سو برس کے جمود سے۔

اصولِ ثبات و تغیر کو بیان کرنے کے بعد علامہ موصوف احادیث میں بیان کردہ جزئیات و قانون کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:

لیکن جہاں تک مسئلہ اجتہاد کا تعلق ہے ہمیں چاہیے ان احادیث کو جن کی حیثیت سرتاسر قانونی ہے‘ ان احادیث سے الگ رکھیں جن کا قانون سے کوئی تعلق نہیں۔ پھر اوّل الذکر (یعنی احکامی و قانونی احادیث) کی بحث میں بھی ایک بڑا اہم سوال یہ ہوگا کہ ان میں عرب قبل اسلام کے اس رسم و رواج کا‘ جسے جوں کا توں چھوڑ دیا گیا‘ یا جس میں حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی بہت ترمیم کر دی‘ کس قدر حصہ موجود ہے۔ لیکن یہ وہ حقیقت ہے جس کا اکتشاف مشکل ہی سے ہوسکے گا‘ کیونکہ علماءِ متقدمین شاذ ہی اس رسم و رواج کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ہمیں تو شاید یہ بھی معلوم نہیں کہ جس رسم و رواج کو جوں کا توں چھوڑ دیا گیا‘ خواہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بالصراحت منظوری دیا یا خاموشی اختیار فرمائی‘ اس پر کیا سچ مچ ہر کہیں اور ہر زمانے میں عمل کرنا مقصود تھا؟ شاہ ولی اللہؒ نے اس مسئلے میں بڑی سبق آموز بحث اٹھائی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انبیاء ؑ کا عام طریق تعلیم تو یہی ہے کہ وہ جس قوم میں مبعوث ہوتے ہیں ان پر اسی قوم کے رسم و رواج اور عادات و خصائص کے مطابق شریعت نازل کی جاتی ہے لیکن جس نبی کے سامنے ہمہ گیر اصول ہیں‘ اس پر نہ تو مختلف قوموں کے لیے مختلف اصول نازل کیے جائیں گے‘ نہ یہ ممکن ہے کہ وہ ہر قوم کو اپنی اپنی ضروریت کے لیے الگ الگ اصول متعین کرنے کی اجازت دے۔ وہ کسی ایک قوم کی تربیت کرتا اور پھر ایک عالم گیر شریعت کی تشکیل میں اس سے تمہید کا کام لیتا ہے۔ لیکن ایسا کرنے میں وہ اگرچہ ان ہی اصولوں کو حرکت دیتا ہے جو ساری نوع انسانی کی حیاتِ اجتماعیہ میں کارفرما ہیں۔ پھر بھی ہر معاملے اور ہر موقع پر عملاً اِن کا اطلاق اپنی قوم کی مخصوص عادات کے مطابق ہی کرتا ہے۔ لہٰذا اس طرح جو احکام وضع ہوتے ہیں (مثلاً تعزیرات) ایک لحاظ سے اسی قوم کے لیے مخصوص ہوں گے۔ پھر چونکہ احکام مقصود بالذات نہیں‘ اس لیے یہ بھی ضروری نہیں کہ ان کو آیندہ نسلوں کے لیے بھی واجب ٹھہرایا جائے۔*
شاید یہی وجہ تھی کہ امام ابوحنیفہؒ نے جو اسلام کی عالمگیر نوعیت کو خوب سمجھ گئے تھے احادیث سے اعتنا نہیں کیا۔ انھوں نے اصول ’’استحسان‘‘ یعنی فقہی ترجیح کا اصول قائم کیا جس کا تقاضا یہ ہے کہ قانونی غوروفکر میں ہم ان احوال و ظروف کا بھی جو واقعتاً موجود ہیں بااحتیاط مطالعہ کریں۔ اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ فقہ اسلامی کے مآخذ کے بارے میں ان کا رویہ کیا تھا۔ رہا یہ کہنا کہ امام موصوف نے احادیث سے اس لیے اعتنا نہیں کیا کہ ان کے زمانے میں کوئی مجموعہ احادیث موجود نہیں تھا‘ سو اس سلسلے میں اوّل تو یہ کہنا بھی غلط ہے کہ اس زمانے میں احادیث کی تدوین نہیں ہوئی تھی‘ کیونکہ امام مالکؒ اور زہریؒ کے مجموعے امام صاحب کی وفات سے کم از کم تیس برس پہلے مرتب ہوچکے تھے۔ ثانیاً اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ امام موصوف ان مجموعوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکے یا یہ کہ ان میں فقہی احادیث موجود نہیں تھیں‘ جب بھی وہ ضروری سمجھتے تو امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کی طرح خود اپنا مجموعۂ احادیث تیار کرسکتے تھے۔ لہٰذا بحیثیت مجموعی دیکھا جائے تو میری رائے میں امام موصوفؒ نے فقہی احادیث کے بارے میں جو روش اختیار کی سرتاسر جائز اور درست تھی۔۱۳۸؂

r ہمارا آٹھواں سوال یہ تھا کہ اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول و فعل (احادیث یا سنت) وحی ہے تو کیا آپؐ اُمت کے لیے نمونہ بن سکتے ہیں؟
ہم نے گذشتہ وراق میں یہ واضح کیا ہے کہ وحی چاہے جبّلی ہو یا شرعی‘ ہمیشہ خارجی ہوتی ہے۔ اس میں وہ فرد‘ جانور یا چیز جس پر وحی کی جا رہی ہو قطعاً بے اختیار اور مجبورمحض ہوتی ہے۔ اس کو یہ اختیار حاصل ہی نہیں ہوتا کہ وہ وحی کے خلاف بال برابر بھی قدم اٹھا سکے۔ اس حقیقت کو ہر مفسر‘ مفکر‘ عالم اور دانشور نے تسلیم کیا ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ حقیقت ہے جس کے خلاف ایک لفظ بھی تحریری ریکارڈ میں موجود نہیں۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک حقیقت اور بھی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے لیے مکمل نمونہ بنا کر بھیجا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ہستی میرے لیے کس طرح نمونہ بن سکتی ہے جو میری طرح عمل کا اختیار ہی نہیں رکھتی؟ وہ ہستی اگر سچ بولتی ہے تو اس لیے‘ کہ اسے جھوٹ بولنے کا اختیار ہی نہیں۔ ایک شخص کو وحی کے ذریعے سچ بولنے پر مجبور کیا جائے اور دوسرے شخص کو نفس اور شیطان کے اُکسانے پر جھوٹ بولنے کا اختیار دیا جائے تو وہ کہہ سکتا ہے کہ عام حالات میں سچ بولنا ممکن ہی نہیں۔ اگر اس پر وحی آتی تو وہ بھی سچ ہی بولتا۔ فضائلِ اخلاق کا معاملہ ہو یا اقامتِ دین اور جہاد کا‘ تعمیرسیرت اور تزکیۂ نفس کی بات ہو یا حکومت کی تشکیل کی‘ ہر کام آسان ہوگا‘ اگر وحی کے زیراثر کیا جائے۔ اور مشکل بلکہ ناممکن ہے اگر اسے اس کے برخلاف عمل کرنے کی استطاعت اور اختیار دیا جائے۔ بلکہ سچ پوچھیے تو اس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا اخلاقی برتری ثابت ہوتی ہے اگر ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ آپؐ کا ہر قول اور فعل وحی تھا۔ اگر آپؐ وحی کے باعث عدل کرتے‘ جھوٹ سے بچتے‘ نوافل کا اہتمام کرتے‘ جہاد میں سرگرم رہتے تو اس میں کیا خاص بات ہے؟ آپؐ کو یہ کچھ تو کرنا ہی تھا۔ اُمت مسلمہ کا کوئی دوسرا فرد تو یہ سب کچھ کرنے سے رہاکیونکہ اس پر تو وحی آتی نہیں۔ اور اگر کوئی یہ سب اعمال کرتا ہے تو غور کیجیے ہم کیا دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان میں سے کون اخلاق میں برتر ہے؟ آیا وہ جسے یہ سب کچھ کرنے کا ’’وحی‘‘ کے ذریعے پابند کیا گیا ہے؟ یا وہ جسے وحی کے ذریعے نفسِ امّارہ اور شیطان کی ترغیبات سے ’’محفوظ‘‘ نہیں کیا گیا مگر پھر بھی وہ یہ اعمال کرتا ہے؟ اگر نورانی شعاعوں کے ذریعے نبی کے بشری قویٰ اور خو اص ہی جلا دیے گئے ہوں تو یقیناًایسا نبی عام انسانوں کے لیے کسی قسم کا ’’نمونہ‘‘ نہیں رہ جاتا۔
محترم خرم مراد جو بیسویں صدی کے ایک عظیم اسلامی مفکر‘ دانشور اور تحریک اسلامی کے قائد تھے اس بارے میں بڑے ہی لطیف پیرائے میں رقمطراز ہیں:

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بحیثیت داعی‘ معلم‘ قائد یا یوں کہیے کہ بحیثیت رسولؐ آپؐ نے ہر کام جو کیا‘ ہر قدم جو اٹھایا‘ ہر پالیسی جو بنائی‘ ہر رویہ جو اختیار کیا‘ وہ اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی آپؐ کو پہلے سے بتا دیتا تھا۔ آپؐ کو پہلے سے ہی ہدایت کر دی جاتی کہ اب یہ کرو اور اب وہ کرو۔ فریضۂ رسالت کی ادایگی میں جہاں آپؐ کو عملی مسائل اور مراحل درپیش آتے‘ جہاں پالیسی سازی ہوتی‘ حکمت عملی وضع کرنا ہوتی‘ فیصلہ کرنا ہوتا‘ دو راہوں میں سے کسی ایک راہ کا انتخاب کرنا ہوتا‘ وہاں آپؐ کو پہلے سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ کیا کرنا ہے۔ نہ کوئی پریشانی ہوتی نہ تذبذب‘ نہ سوچنا پڑتا‘ نہ عقل سے کام لینا پڑتا۔
میرا خیال اس سے مختلف ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اور اگر میرا خیال غلط ہو تو وہ اسے معاف فرما دے اور کم سے کم اجتہاد کا ایک اجر میرے لیے محفوظ کر دے۔ میری رائے میں ایسا سمجھنا قرآنی شواہد اور تاریخی دلائل کے بھی خلاف ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم شخصیت کے ساتھ بے انصافی بھی ہے۔
آپؐ تو سب سے بہتر انسان‘ سب سے زیادہ حکمت و عقل کے مالک‘ سب سے بہتر اخلاق کے حامل‘ انسانیت کے گل سرسبد تھے۔ قرآن کے بارے میں یقیناًمیرا ایمان ہے کہ آپؐ نے لفظاً اور معناً اس کو وصول کیا اور ویسا کا ویسا ہی پہنچا دیا۔ لیکن جس قلب و شخصیت کو قرآن جیسی عظیم شے حاصل کرنے کے لیے منتخب کیا گیا‘ وہ قرآن جو پہاڑ پر بھی اترتا تو وہ پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا‘ وہ قلب و شخصیت خود کتنی عظیم ہوگی؟ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ قرآن کی تبلیغ‘ قرآن کا قیام‘ قرآن کی تفصیلات کا تعین‘ قیامِ دین کی تحریک کو چلانا‘ یہ سارے کام آپؐ نے اپنے اجتہاد‘ اپنی حکمت‘ اپنی کامل ترین عقل اور اپنے رفقاء کے مشورے سے کیے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ آپؐ مسلسل اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں تھے۔ اس کی حفاظت میں تھے۔ آپؐ کا سینہ مبارک علم و حکمت کے نور سے بھر دیا گیا۔ آپؐ کی رضا‘ رضائے الٰہی سے ہم آہنگ اور ہم رنگ ہوچکی تھی۔ ہم جیسے انسانوں کے برعکس آپؐ اس سے پاک تھے کہ کوئی فیصلہ اللہ کی مرضی کے خلاف کریں اور بعض معاملات میں آپؐ کو‘ پہلے یا بعد‘ وحی غیرمتلو سے بھی ہدایت ملتی تھی۔۔۔ لیکن ان سب باتوں کے ساتھ آپؐ انسان بھی تھے اور انسانوں کی طرح معاملات پر غوروفکر‘ فیصلہ سازی‘ پریشانی‘ غیریقینیت اور اسی نوعیت کے سارے مراحل سے گزرتے تھے۔ آپؐ نے پوری تحریک کی زندگی میں بڑے بڑے فیصلے‘ ہدایت قرآن اور اس حکمت الٰہی کی روشنی میں جو آپؐ کے قلب میں رکھ دی گئی تھی اپنے ساتھیوں کے مشورے سے کیے۔ تحریک کی راہیں متعین کیں‘ آگے بڑھے۔
یہ بات اہم اس لیے ہے کہ اس کو سمجھے بغیر آج کے عملی مسائل میں قرآن و سنت سے دو ٹوک فیصلے کرنے کی رومانوی خواہش کا علاج نہیں ہو سکتا۔ حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے لیکن ان دونوں کے درمیان بھی ایک وسیع میدان ہے اور حرام و حلال کو عملی جامہ پہنانے کی جدوجہد میں عملی اقدامات نورِرسالت کی روشنی میں اپنی فکروعقل ہی سے کرنا ہوں گے۔ میرے پاس اپنی اس رائے کے لیے دو بنیادیں ہیں:
اوّل یہ کہ آپؐ کی تحریکی زندگی کے بیشتر فیصلوں پر قرآن مجید میں مختلف انداز میں تبصرے کیے گئے ہیں اور بعد میں کیے گئے ہیں۔ یہ فیصلے بڑے اہم فیصلے تھے۔ انھوں نے انتہائی نازک مواقع پر تحریک کا رُخ متعین کیا۔ ظاہر ہے کہ اگر آپؐ ہر فیصلہ پہلے سے دی ہوئی واضح خدائی ہدایت (وحی) کے مطابق کر رہے ہوتے تو یہ بعد کے تبصرے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ یہ بالکل ممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ پہلے سے واضح ہدایت دیتا کہ بدر کے موقع پر کس کا رُخ کرو‘ قافلے کا یا لشکر کا‘ بدر کے قیدیوں کے ساتھ کیا معاملہ کرو۔ اُحد کے موقع پر شہر کے اندر رہویا باہر نکلو۔ منافقین کے عذرات قبول کرو یا نہ کرو۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ یہاں تک کہ اذان جیسا معاملہ بھی مشورہ سے طے پایا اور سب سے بڑھ کر آپؐ کے بعد خلافت کا معاملہ بھی مسلمانوں کی رائے پر چھوڑا گیا۔ ان کی عقل و فکر کے لیے اس سے کیا بڑی آزمائش ہو سکتی تھی اور ان کی ذمہ داری اور اختیارات کا اس سے بڑا کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔
مزید یہ کہ اگر بعض معاملات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی واضح ہدایت آئی تو یہ امر بیان کر دیا گیا۔ مثلاً غزوۂ احزاب کے بعد بنوقریظہ کی طرف پیش قدمی۔آپؐ نے بتایا کہ جبریل علیہ السلام تشریف لائے یا صلح حدیبیہ کا واقع جب بڑے بڑے صحابہ کرامؓ کو اطمینان نہ تھا تو آپؐ نے بتایا کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔
دوم ہمارے لیے ساری روشنی آپؐ کے اسوہ میں ہے۔ آپؐ کا اسوہ ہمارے لیے قابلِ اتباع ہے۔ اس لیے کہ آپؐ ایک انسان تھے اور آپؐ نے اپنی تحریک ایک انسان کی طرح چلائی۔ جب مخالفین نے اعتراض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی فرشتہ کو اپنا رسول بناکر کیوں نہیں بھیجا تو قرآن نے یہی جواب دیا کہ اگر زمین میں چلنے پھرنے والی مخلوق فرشتوں پر مشتمل ہوتی تو ان کے لیے فرشتہ آتا کیونکہ یہ انسان ہے اس لیے ان کے لیے وہی انسان آیا جو کھاتا پیتا ہے‘ بازاروں میں چلتا ہے۔ انسان اپنے جیسے انسان کا ہی اتباع کر سکتا ہے یا کرنے کی سوچ سکتا ہے اور اس جیسا بننے کا امکان بھی محسوس کرسکتا ہے۔ مافوق البشر کے کارنامہ کی صرف وہ تحسین کر سکتا ہے یا اس سے مرعوب ہو سکتا ہے۔
اگر ہم محسوس کریں کہ ساری تحریک چلانے میں آپؐ کی حیثیت ایک ایسی مشین کی طرح تھی جس کا اپنا کوئی اختیار اور دخل بالکل نہ تھا یا دراصل آپؐ کے پردہ میں خدا تھا جو خود تحریک چلا رہا تھا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم یہ بھی محسوس کریں گے کہ اب آئندہ کسی دور میں کوئی تحریک نہیں چل سکتی کیونکہ اب کوئی رسول نہیں آئے گا کہ وہ ہر معاملہ میں براہ راست اللہ تعالیٰ سے پوچھ کر سارے فیصلے کرتا رہے۔ لیکن اگر ہم یہ سمجھیں کہ آپؐ نے ساری تحریک بالعموم اجتہاد اور مشورہ سے چلائی تو اگرچہ ہم آپؐ کی گردِ پاک تک بھی پہنچنے کا نہیں سوچ سکتے۔ نہ آپؐ کے اصحابؓ کے مقام کا تصور کرسکتے ہیں لیکن۔۔۔ خدا کی بندگی اور تحریک کی حد تک۔۔۔ ہم آپؐ کے اتباع کی کوشش میں لگ تو سکتے ہیں۔ عشرِعشیر ہی سہی‘ ہزارواں لاکھواں حصہ ہی سہی‘ کسی حصہ کی تمنا تو کرسکتے ہیں۔ اس کا خواب تو دیکھ سکتے ہیں۔
یہی تمنا ہے جو ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے در تک لائی ہے تاکہ ہم آپؐ کے تعلیم و قیادت کے طرز و طریق سے اپنے لیے رہنمائی حاصل کرسکیں۔۱۳۹؂

اس طویل اقتباس سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہو جاتی ہے کہ چونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے اسوہ ہیں اس لیے ان کے فیصلے و احکامات‘ اقوال و افعال وحی نہیں ہوسکتے۔ ظاہر بات ہے کہ ہم مافوق البشر احکامات کی پابندی کرنے سے تو رہے۔ ہم ان آٹھوں سوالوں کے تجزیئے کے بعد یہ کہنے کی پوزیشن میں ہیں کہ احادیث مبارکہ قرآن کی طرح وحی نہیں جو انسانی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے۔ وحی اب صرف قرآن مجید میں محفوظ ہے جس میں کسی قسم کی کوئی تحریف ممکن نہیں۔ اور یہی وحی اب قیامت تک انسانوں کی ہدایت کے لیے باقی ہے۔

حوالہ جات

۱۲۶۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد: آخری پیغام‘ ص ۱۱۵
۱۲۷۔ مولانا سید مناظر احسن گیلانیؒ : تدوینِ حدیث‘ ص ۲۱۹۔۲۲۱
۱۲۸۔ ایضاً‘ ص ۲۴۲
۱۲۹۔ ایضاً‘ ص ۲۷۸
۱۳۰۔ ایضاً‘ ص ۲۸۰
۱۳۱۔ ایضاً‘ ص ۲۸۰۔۲۸۱
۱۳۲۔ ایضاً ‘ ص ۳۹۰۔۳۹۲
۱۳۳۔ علامہ راغب الطباخ: تاریخ افکار و علوم اسلامی ‘ حصہ اول (ترجمہ افتخار احمد بلخی) ‘ ص ۳۳

* ایک صاحب کے سوال کے جواب میں یہ تحریر لکھی گئی ہے۔
۱۳۴۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ : تفھیمات‘ حصہ اول‘ ص ۳۸۳۔۳۸۴
۱۳۵۔ ایضاً‘ ص ۳۸۵۔۳۸۶
۱۳۶۔ ایضاً‘ ص ۳۷۸
۱۳۷۔ استاذ ڈاکٹر مصطفی احمد زرقا: چراغِ راہ‘ اسلامی قانون نمبر‘ اسلامی فقہ کے مآخذ‘ ص ۲۶۱

* یہ ذہن میں رہے کہ اگر یہ احکام وحی پر مبنی ہوتے تو یہ بہرحال قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے واجب ہی ٹھہرتے۔
۱۳۸۔ علامہ اقبالؒ : تشکیلِ جدید الٰھیات اسلامیہ (ترجمہ سید نذیرنیازی)‘ ص ۲۲۷ تا ۲۲۸‘ ۲۶۴ تا ۲۶۶
۱۳۹۔ خرم مرادؒ : اسلامی قیادت‘ ص ۱۶ تا ۱۹

____________