فصل چہارم
 

وحی کی اقسام

ہم وحی کی اس خاص قسم کا ذکر کرچکے ہیں جو ہدایت انسانی کے لیے انبیاء علیہم السلام پر نازل کی جاتی تھی۔ اس کو ہم اصطلاحی وحی کہہ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وحی کی ایک اور قسم کا بھی ذکر قرآن مجید میں ملتا ہے۔ احادیث پر مفصل بحث کرنے اور ان کی صحیح حیثیت متعین کرنے سے قبل وحی کی اس دوسری قسم کا ذکر ناگزیر محسوس ہوتا ہے۔
جبلی یا طبیعی وحی‘ وحی کی وہ خاص قسم ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو اس کے کرنے کا کام سکھاتا ہے۔ یہ وحی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے الفاظ میں، ’’انسانوں سے بڑھ کر جانوروں پر اور شاید اُن سے بھی بڑھ کر نباتات و جمادات پر ہوتی ہے‘‘ (رسائل و مسائل‘ حصہ سوم‘ ص ۳۴۸)۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

وَاَوْحٰی اِلٰی النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا یَعْرِشُوْنَ o ثُمَّ کُلِیْ مِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُکِیْ سُبُلَ رَبِّکَ ذُلُلًاo(النحل: ۶۸۔۶۹)
اور تمھارے رب نے شہد کی مکی پر یہ بات وحی کر دی کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں اپنے چھتے بنا اور ہر طرح کے پھلوں کا رس چوس اور اپنے رب کی ہموار کی ہوئی راہوں پر چلتی رہ۔

اللہ تعالیٰ نے بطور مثال صرف شہد کی مکھی کا ذکر کیا ہے کہ وہ اس کی ہدایت کے مطابق پوری زندگی گزارتی ہے۔ ورنہ ہر جانور کو طبیعی طور پر جو ہدایت ملتی ہے وہ اسی نوع کی وحی کے ذریعے سے ملتی ہے۔ لیکن اس وحی کا اصطلاحی وحی سے کوئی تعلق نہیں جو ہدایتِ انسانی کے لیے نازل کی جاتی ہے۔ جس طرح شہد کی مکھی کو اس کا پورا کام وحی (یعنی فطری تعلیم) کے ذریعے سے سکھایا جاتا ہے بالکل اسی طرح زمین اور آسمان کو بھی فطری اور طبیعی تعلیم کے ذریعے سے قوانینِ قدرت کے تابع رکھا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے فرائضِ منصبی سے ذرّہ برابر بھی اِدھر اُدھر نہ ہٹ سکیں۔
سورہ حٰم السجدہ میں ارشاد ہوتا ہے: وَاَوْحٰی فِیْ کُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَہَا (آیت :۱۲) ’’اور ہر آسمان میں اس کا قانون وحی کر دیا‘‘۔ اسی طرح سورہ الزلزال‘ آیت ۵ میں فرمایا گیا: بِاَنَّ رَبَّکَ اَوْحٰی لَہَا، یعنی یہ اس لیے ہوگا کہ تیرے رب نے اسے (ایسا کرنے کا) حکم دیا ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں ہماری یہ زمین بھی‘ آسمان کی طرح‘ اسی وحی خداوندی میں جکڑی ہوئی ہے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ تفہیم القرآن میں لکھتے ہیں:

اور یہ وحی صرف شہد کی مکھی تک ہی محدود نہیں ہے۔ مچھلی کو تیرنا‘ پرندے کو اُڑنا اور نوزائیدہ بچے کو دودھ پینا بھی وحی خداوندی ہی سکھایا کرتی ہے۔ پھر ایک انسان کو غوروفکر اور تحقیق و تجسس کے بغیر جو صحیح تدبیر‘ یا صائب رائے‘ یا فکروعمل کی صحیح راہ سجھائی جاتی ہے وہ بھی وحی ہے (وَاَوْحَیْنَآ اِلٰی اُمِّ مُوْسٰٓی اَنْ اَرْضِعِیْہِ القصص:۷۔ اور ہم نے موسٰی ؑ کی ماں کو وحی کی کہ اسے دودھ پلاتی رہ)۔ اس وحی سے کوئی انسان بھی محروم نہیں ہے۔ دنیا میں جتنے اکتشافات ہوئے ہیں‘ جتنی مفید ایجادیں ہوئی ہیں‘ بڑے بڑے مدبرین‘ فاتحین‘ مفکرین اور مصنفین نے جو معرکے کے کام کیے ہیں‘ ان سب میں اس وحی کی کارفرمائی نظرآتی ہے بلکہ عام انسانوں کو آئے دن اس طرح کے تجربات ہوتے رہتے ہیں کہ بیٹھے بیٹھے دل میں ایک بات آئی‘ یا کوئی تدبیر سوجھ گئی‘ یا خواب میں کچھ دیکھ لیا اور بعد میں تجربے سے پتہ چلا کہ وہ ایک صحیح رہنمائی تھی جو غیب سے انھیں حاصل ہوئی تھی۔۱؂

اب یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ انسانی ہدایت و رہنمائی کے لیے جس وحی کی ضرورت ہے وہ اللہ تعالیٰ صرف اپنے پیغمبروں پر نازل فرماتا ہے۔ اس کے برعکس فطری‘ جبلی یا طبیعی رہنمائی کے لیے وحی کی دوسری قسم کے ذریعے براہِ راست عام انسانوں سمیت حیوانات‘ نباتات اور جمادات کو بھی نوازا جاتا ہے۔ پہلی قسم کی وحی صحیفوں اور کتابوں کی شکل میں انبیائے کرام ؑ پر نازل ہوتی تھی اور اب یہ صرف قرآن مجید کی صورت میں محفوظ ہے۔ دوسری قسم کی وحی کے لیے اس کا کتابی شکل میں ہونا ضروری نہیں‘ بلکہ جس کے لیے اس وحی کی ضرورت ہوتی ہے اسے ہی براہِ راست یہ وحی عطا کی جاتی ہے۔ دوسرا کوئی نہ اسے محسوس کر سکتا ہے نہ اسے اس کی ضرورت ہی پیش آتی ہے۔

وحی میں تبدیلی ممکن نہیں

وحی کی کوئی بھی قسم ہو‘ یعنی ہدایت انسانی کے لیے انبیا علیہم السلام کے ذریعے نازل کی گئی وحی ہو یا طبیعی یا جبلی وحی ہو اس میں تغیر و تبدل ممکن ہی نہیں۔ حیوانات ہوں یا نباتات و جمادات‘ ان کے لیے خالقِ کائنات نے جو بھی راہِ عمل تجویز کر دی ہے اس سے انھیں مفر ہی نہیں۔ سورج ہمیشہ ایک لگے بندھے قانون کے تحت طلوع اور مقررہ وقت پر غروب ہوتا ہے۔ چاند کا بڑھنا اور گھٹنا اسی فطری قانون کے تحت ہوتا ہے اور اس میں آج تک ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہیں آیا۔ چاند اور سورج اپنے لیے کوئی دوسرا راستہ مقرر کر سکتے ہیں نہ کوئی دوسرا ان کے لیے مختلف راستہ تجویز کر سکتا ہے۔ کائنات میں موجود تمام ستاروں اور سیاروں‘ رات اور دن کے ظاہر ہونے اور دیگر تمام موجودات کے معمولات میں کسی تبدیلی کا امکان ہی نہیں ہوتا۔ ہم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے کہ اس وحی یا قانون میں کسی دن اچانک کوئی تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ کسی دن سورج اپنے وقت پر طلوع ہونے سے انکار کر دے یا مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں بار بار ارشاد فرماتا ہے کہ: وَلَا تَجِدْ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا (بنی اسرائیل:۷۷) اور تم ہمارے طریق کار (یعنی قانون میں) کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا (الاحزاب:۶۲‘ فاطر:۴۳‘ الفتح:۲۳) ’’تم اللہ کی سنت (قانون‘ طریق کار) میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے‘‘۔ دوسرے الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ’’وحی‘‘ آگئی اس میں تبدیلی ممکن ہی نہیں۔ حیوانات‘ نباتات اور جمادات کے لیے ان کے خالق نے جو راستہ مقرر فرما دیا ہے اس سے سرمو انحراف کرنے کا اختیار ان کو نہیں دیا گیا۔ بے شک اللہ اس پر قادر ہے کہ وہ چاہے تو سورج کو مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع کر دے‘ دن کو رات اور رات کو دن میں تبدیل کر دے۔ حواسِ خمسہ کے وظائف سے لے کر کائنات کے جملہ مظاہر تک کو بدل ڈالے مگر آج تک اُس نے ایسا کبھی نہیں کیا اور نہ آئندہ ایسا ہونا قرین قیاس ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے اور تجربے سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ طبیعی امور سے متعلق وحی کے ذریعے بنائے گئے قوانین اٹل ہوتے ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی اور نہ کسی شخص کے اختیار میں ہے کہ وہ ان میں کوئی تبدیلی کرسکے۔ مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وحی کی پہلی قسم میں بھی‘ جو انبیائے کرام ؑ کے ذریعے ہدایت انسانی کے لیے نازل کی جاتی تھی‘ کوئی تبدیلی کی جا سکتی ہے؟ عقل کے نزدیک قرین قیاس تو یہی ہے کہ وحی کے ایک حصے یا قسم میں اگر تبدیلی ممکن نہیں تو وحی کے دوسرے حصے یا قسم میں بھی کسی قسم کی تبدیلی ناممکن ہو۔ چنانچہ اس بارے میں اصولی طور پر قرآنِ مجید میں صاف صاف اعلان فرما دیا گیا کہ:

 وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ط لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ ج وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (الانعام:۱۱۵)
اور تمھارے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے۔ کوئی اس کے فرامین کو تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔

  وَلَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ (الانعام:۳۴)
اور اللہ کی باتوں کو بدلنے کی طاقت کسی میں نہیں۔

  لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ۔ (یونس: ۶۴)
اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔
 وَاتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ ط لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ قف وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِہٖ مُلْتَحَدَا o (الکہف:۲۷)
اے نبیؐ! تمھارے رب کی کتاب میں سے جو کچھ تم پر وحی کیا گیا ہے اسے (جوں کا توں) سنا دو۔ کوئی اس کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے (اور تم اگر کسی کی خاطر اس میں ردّ و بدل کرو گے تو بھاگنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پاؤ گے۔

یہ آخری آیت تو کسی قسم کی گنجائش ہی نہیں چھوڑتی کہ اللہ تعالیٰ کے وحی کردہ فرمودات و قوانین کو کوئی تبدیل کر سکے۔ اس آیت کی تفسیر میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں:

اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذ اللہ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کفارِ مکہ کی خاطر قرآن میں کچھ ردّ و بدل کردینے اور سردارانِ قریش سے کچھ کم و بیش پر مصالحت کرلینے کی سوچ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ آپؐ کو اس سے منع فرما رہا تھا بلکہ دراصل اس میں روئے سخن کفارِ مکہ کی طرف ہے۔ اگرچہ خطاب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ مقصود کفار کو یہ بتانا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے کلام میں اپنی طرف سے کوئی کمی یا بیشی کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ ان کا کام تو بس یہ ہے کہ جو کچھ خدا نے نازل کیا ہے اسے بے کم و کاست پہنچا دیں۔۲؂

ظاہر بات ہے کہ خدا کے کلام یا وحی میں اگر (بالفرض محال) کوئی ہستی ترمیم کر سکتی تھی تو وہ خدا کے نبیؐ ہی ہو سکتے تھے۔ مگر قرآن نے تصریح کر دی کہ آپؐ کو بھی اس کا اختیار نہیں تھا۔ چنانچہ قریش نے آپؐ سے کئی بار اس بارے میں سودا بازی کرنے کی کوشش کی کہ اس وحی (قرآن) میں کچھ رد و بدل کر دو تاکہ ان کے لیے ایمان لانے کا کوئی جواز یا سہولت پیدا ہو جائے مگر اللہ تعالیٰ نے دوٹوک الفاظ میں آپؐ کو ایسا کرنے سے منع فرما دیا۔یہی بات زیادہ وضاحت کے ساتھ سورہ یونس میں ارشاد فرمائی گئی ہے:

وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَ نَا اءْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرَ ہٰذَآ اَوْ بَدِّلْہُ ط قُلْ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اُبَدِّ لَہ‘ مِنْ تِلْقَآیئ نَفْسِیْ اِنْ اَتَّبِعُ اِلاَّ مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ اِنِّیْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍo
اور جب انھیں ہماری صاف صاف آیتیں (باتیں) سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے‘ کہتے ہیں کہ ’’اس قرآن کے بجائے کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں کچھ ترمیم کر دو‘‘۔ اے محمدؐ! اِن سے کہو ’’میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر وتبدل کرلوں۔ میں تو بس اس وحی کا پیرو ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا ڈر ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں مولانا امین احسن اصلاحیؒ لکھتے ہیں:

یعنی توحید اور آخرت کی یہ باتیں‘ جو مذکور ہوئیں‘ نہایت واضح دلائل کے ساتھ ان کو سنائی جاتی ہیں تو یہ ان سے چڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یا تو اس قرآن کی جگہ کوئی اور قرآن لاؤ یا کم از کم اس میں ایسی ترمیم کرو کہ ہمارے لیے گوارا ہوسکے۔ گویا قرآن ان کے نزدیک خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصنیف ہے کہ آپؐ اس میں ان کے مطالبے کے مطابق ترمیم و تنسیخ کرسکتے ہیں۔ جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ کہلوایا گیا کہ یہ میری تصنیف تھوڑا ہی ہے کہ میں اس میں اپنی جانب سے کوئی ترمیم و تنسیخ کردوں۔ یہ کلام تو مجھ پر خدا کی طرف سے وحی ہوتا ہے اور میں بے چون و چرا اسی وحی کی پیروی کرتا ہوں۔ اگر میں اس میں اپنی طرف سے کوئی ردّ و بدل کر دوں تو کل کو خدا کے آگے کیا جواب دوں گا؟۳؂

یہی بات مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ فرماتے ہیں:

کہ میں اس کتاب (یعنی قرآن) کا مصنف نہیں ہوں‘ بلکہ یہ وحی کے ذریعے سے میرے پاس آئی ہے جس میں کسی ردّ و بدل کا مجھے اختیار نہیں۔۴؂

ان حوالہ جات سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ وحی میں تبدیلی ناممکن ہے‘ چاہے اس کا تعلق انسان کی خارجی دنیا سے ہو یا داخلی دنیا سے۔ قرآن کے الفاظ پر غور کرنے سے اس مسئلے کا دوسرا پہلو یہ سامنے آتا ہے کہ انسانی قوانین و فرمودات‘ انسانی سوچ و فکر اور انسانی کلام میں تبدیلی نہ صرف ممکن ہے بلکہ ناگزیر بھی۔ انسان نہ تو زمان و مکان سے ماورا ہوتا ہے اور نہ اس کے فکروعمل کے دائرے اپنے مخصوص ماحول سے متاثر ہوئے بغیر رہتے ہیں۔ گذشتہ ابواب میں ہم تفصیلاً یہ جائزہ پیش کرچکے ہیں کہ انسانی فکر کی بنیادی خامی ہی یہ ہے کہ یہ انسان کی محدود صلاحیتوں اور محدود عقل پر انحصار کرتی ہے۔ انسان اپنے مخصوص زمانے اور محدود خطے میں پیش آمدہ مسائل وہ بھی جزوی طور پر‘ سلجھانے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں انسانی مسائل کا ہمہ گیر ادراک اور ان کا مستقل حل صرف وحی خداوندی ہی پیش کر سکتی ہے جو قرآن کی صورت میں محفوظ ہے۔
یہاں پر یہ جائزہ لینا باقی ہے کہ یہ وحی قرآن کے علاوہ بھی کہیں موجود ہے یا نہیں اور اگر موجود ہے تو کہاں ہے اور اس کی نوعیت کیا ہے؟

مسئلے کی نوعیت اور اہمیت

بیسویں صدی کی آخری سات آٹھ دہائیوں میں سنت کی اہمیت و ضرورت اور حجیت پر بہت کام ہوا ہے۔ لیکن بادی النظر میں یہ سارا کام مخصوص مکاتبِ فکر کے طرزِ استدلال اور موقف کی تائید اور تردید کی شکل اختیار کرنے کے باعث محض عمل اور ردعمل کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ اس سے جہاں نئے فرقے مثلاً اہلِ قرآن یا منکرین حدیث سامنے آئے ہیں وہاں پہلے سے موجود مقلدین اور غیرمقلدین یا اہلِ حدیث حضرات پر مشتمل مکاتبِ فکر کی آرا میں تشدد اور فتویانہ انداز کا باعث بنا۔
اس دور میں احادیث پر ابتدائی تنقید محض تکنیکی نوعیت کی تھی اور اخبار احاد وغیرہ کی حجیت یا عدمِ حجیت کا مسئلہ زیادہ شدت سے زیربحث رہا۔ روایت و درایت کے ذیل میں موجود علمی مباحث اور اصطلاحات کی بھرمار اختلافات میں کمی کے بجائے اضافے کا ذریعہ بنتی چلی گئی۔ کسی معروضی (objective) معیار کی عدمِ موجودگی میں مفکرین میں موضوعی (subjective) اندازِ فکر کا پروان چڑھنا ایک لازمی امر تھا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ موضوعی طرزِ استدلال ہمیشہ اضافی اختلافات اور متشددانہ رویوں کو جنم دیتا ہے۔ اس صورت حال کی صحیح تصویرکشی کرتے ہوئے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ رقمطراز ہیں:

محدثین رحمہم اللہ کی خدمات مسلّم۔ یہ بھی مسلّم کہ نقدِحدیث کے لیے جو مواد انھوں نے فراہم کیا ہے وہ صدراول کے اخبار و آثار کی تحقیق میں بہت کارآمد ہے۔ کلام اس میں نہیں بلکہ صرف اس امر میں ہے کہ کلیتہً ان پر اعتماد کرنا کہاں تک درست ہے؟ وہ بہرحال تھے تو انسان ہی۔ انسانی علم کے لیے جو حدیں فطرتاً اللہ نے مقرر کر رکھی ہیں ان سے آگے تو وہ نہیں جاسکتے تھے۔ انسانی کاموں میں جو نقص فطری طور پر رہ جاتا ہے اس سے تو ان کے کام محفوظ نہ تھے پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ جس کو وہ صحیح قرار دیتے ہیں۔ وہ حقیقت میں بھی صحیح ہے۔۔۔ پس ان کے کمالات کا جائز اعتراف کرتے ہوئے یہ ماننا پڑے گا کہ احادیث کے متعلق جو کچھ بھی تحقیقات انھوں نے کی ہیں اس میں دو طرح کی کمزوریاں موجود ہیں ایک بلحاظ اسناد اور دوسرے بلحاظ تفقّہ۔
اس مطلب کی توضیح کے لیے ہم ان دونوں حیثیتوں کے نقائص پر تھوڑا سا کلام کریں گے۔
کسی روایت کے جانچنے میں سب سے پہلے جس چیز کی تحقیق کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ روایت جن لوگوں کے واسطے سے آئی ہے وہ کیسے لوگ ہیں۔ اس سلسلے میں متعدد حیثیات سے ایک ایک راوی کی جانچ کی جاتی ہے۔ وہ جھوٹا تو نہیں‘ روایتیں بیان کرنے میں غیرمحتاط تو نہیں؟ فاسق اور بدعقیدہ تو نہیں‘ وہمی یا ضعیف الحفظ تو نہیں‘ مجہوالحال ہے یا معروف الحال؟ ان تمام حیثیات سے رواۃ کے احوال کی جانچ پڑتال کر کے محدثین کرام نے اسماء الرجال کا عظیم الشان ذخیرہ فراہم کیا جو بلاشبہہ نہایت بیش قیمت ہے مگر ان میں کون سی ایسی چیز ہے جس میں غلطی کا احتمال نہ ہو؟ اول تو رواۃ کی سیرت اور ان کے حافظہ اور ان کی دوسری باطنی خصوصیات کے متعلق بالکل صحیح علم حاصل ہونا مشکل‘ دوسرے خود وہ لوگ جو ان کے متعلق رائے قائم کرنے والے تھے‘ انسانی کمزوریوں سے مبرا نہ تھے۔ نفس ہر ایک کے ساتھ لگا ہوا تھا اور اس بات کا قوی امکان تھا کہ اشخاص کے متعلق اچھی یا بری رائے قائم کرنے میں ان کے ذاتی رجحانات کا بھی کسی حد تک دخل ہوجائے۔ یہ امکان محض امکان عقلی نہیں ہے بلکہ اس امر کا ثبوت ہے کہ بارہا یہ امکان فعل میں آگیا ہے۔* حماد جیسے بزرگ تمام علمائے حجاز کے متعلق رائے ظاہر کرتے ہیں کہ ’’ان کے پاس علم نہیں‘ تمھارے بچے بھی ان سے زیادہ علم رکھتے ہیں‘‘۔ عطا اور طاؤس اور مجاہد جیسے فضلا کے حق میں ان کی یہی رائے ہے۔ یہ حماد کون ہیں؟ امام ابوحنیفہؒ کے استاد اور ابراہیم النخعیؒ کے جانشین۔ امام زہریؒ کو دیکھیے۔ اپنے زمانے کے اہلِ مکہ پر ریمارک کرتے ہیں‘ مَا رَأَیْتُ اَنْقَضَ لِعُرَ الْاِسْلَامِ مِنْ اَہْلِ مَکَّۃَ۔ حالانکہ مکہ اس وقت جلیل القدر علماء اور صلحاء سے خالی نہ تھا۔ شعبیؒ اور ابراہیم النخعیؒ دونوں بڑے درجہ کے لوگ ہیں مگر ایک دوسرے پر کس طرح چوٹ کرتے ہیں۔ شعبیؒ کہتے ہیں کہ ’’ابراہیم رات کو ہم سے مسائل پوچھتا ہے اور صبح لوگوں کے سامنے اپنی طرف سے بیان کرتا ہے‘‘۔ ابراہیم النخعیؒ کہتے ہیں کہ ’’وہ کذّاب ہے۔ مسروق سے روایت کرتا ہے حالانکہ وہ مسروق سے ملا تک نہیں‘‘۔

مولانا محترم نے اسی قسم کی اور بے شمار مثالیں تاریخ سے نقل کی ہیں لیکن ہمارا نکتہ اسی ایک طویل اقتباس سے پوری طرح واضح ہو جاتا ہے کہ معروضی معیار کی عدمِ موجودگی میں موضوعی اندازِ فکر کا در آنا ایک فطری امر ہے۔ اس صورت حال میں علماء کا اختلاف اور نتائج اخذ کرتے ہوئے ایک دوسرے سے متفق نہ ہو سکنا نہ تو کسی حیرت کا باعث بننا چاہیے اور نہ اسے عیب سمجھا جانا چاہیے۔ وحی کے علاوہ ہر انسانی علم میں یہ خصوصیات لازماً ہوں گی۔
فنِ رجال کے بعد اسناد کے باب میں مولانا محترم کی رائے ملاحظہ فرمایئے:

یہ تو فنِ رجال کا معاملہ ہے۔ اس کے بعد دوسری اہم چیز سلسلۂ اسناد ہے۔ محدثین نے ایک ایک حدیث کے متعلق یہ تحقیق کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہر راوی جس شخص سے روایت لیتا ہے آیا وہ اس کا ہم عصر تھا یا نہیں۔ ہم عصر تھا تو اس سے ملا بھی تھا یا نہیں‘ اور ملا تھا تو آیا اس نے یہ خاص حدیث خود اسی سے سنی یا کسی اور سے سن لی اور اس کا حوالہ نہیں دیا۔ ان سب چیزوں کی تحقیق انھوں نے اسی حد تک کی ہے جس حد تک انسان کر سکتے تھے‘ مگر لازم نہیں کہ ہر روایت کی تحقیق میں یہ سب امور ان کو ٹھیک ٹھیک ہی معلوم ہوگئے ہوں۔ بہت ممکن ہے کہ جس روایت کو وہ متصل السند قرار دے رہے ہیں وہ درحقیقت منقطع ہو اور انھیں یہ معلوم نہ ہوسکا ہو کہ بیچ میں کوئی ایسا مجہول الحال راوی چھوٹ گیا ہے جو ثقہ نہ تھا۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ جو روایتیں مرسل یا معضل یا منقطع ہیں‘ اور اس بنا پر پایۂ اعتبار سے گری ہوئی سمجھی جاتی ہیں‘ ان میں سے بعض ثقہ راویوں سے آئی ہوں اور بالکل صحیح ہوں۔ یہ اور ایسے ہی بہت سے امور ہیں جن کی بنا پر اسناد اور جرح و تعدیل کے علم کو کلیتہً صحیح نہیں سمجھا جاسکتا۔

چنانچہ حدیث کی صحت کے لیے مولانا مرحوم ایک اور معیار لازمی قرار دیتے ہیں۔ یہ معیار‘ جیسا کہ آپ دیکھیں گے‘ پہلے تمام معیارات سے بڑھ کر ذوقی‘ شخصی اور موضوعی ہے۔ مولانا مرحوم اسی مضمون میں اس دوسری کسوٹی کے بارے میں لکھتے ہیں:

یہ دوسری کسوٹی کون سی ہے؟ ہم اس سے پہلے بھی اشارۃً اس کا ذکر کئی مرتبہ کرچکے ہیں۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ تفقہ کی نعمت سے سرفراز فرماتا ہے اس کے اندر قرآن اور سیرتِ رسولؐ کے غائر مطالعہ سے ایک خاص ذوق پیدا ہوجاتا ہے جس کی کیفیت بالکل ایسی ہے جیسے ایک پرانے جوہری کی بصیرت کہ وہ جواہر کی نازک سے نازک خصوصیات تک کو پرکھ لیتی ہے۔ اس کی نظر بہ حیثیت مجموعی شریعت حقہ کے پورے سسٹم پر ہوتی ہے اور وہ اس سسٹم کی طبیعت کو پہچان جاتا ہے۔ اس کے بعد جب جزئیات اس کے سامنے آتے ہیں تو اس کا ذوق اسے بتا دیتا ہے کہ کون سی چیز اسلام کے مزاج اور اس کی طبیعت سے مناسبت رکھتی ہے اور کون سی نہیں رکھتی۔ روایات پر جب وہ نظر ڈالتا ہے تو ان میں بھی یہی کسوٹی رد و قبول کا معیار بن جاتی ہے۔ اسلام کا مزاج عین ذاتِ نبویؐ کا مزاج ہے۔ جو شخص اسلام کے مزاج کو سمجھتا ہے اور جس نے کثرت کے ساتھ کتاب اللہ و سنت رسولؐ اللہ کا گہرا مطالعہ کیا ہوتا ہے وہ نبی اکرمؐ کا ایسا مزاج شناس ہو جاتا ہے کہ روایات کو دیکھ کر خود بخود اس کی بصیرت اسے بتا دیتی ہے کہ ان میں سے کون سا فعل میرے سرکار کا ہو سکتا ہے‘ اور کون سی چیز سنت نبوی سے اقرب ہے۔ یہی نہیں بلکہ جن مسائل میں ان کو قرآن و سنت سے کوئی چیز نہیں ملتی۔ ان میں بھی وہ کہہ سکتا ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے فلاں مسئلہ پیش آتا تو آپؐ اس کا فیصلہ یوں فرماتے۔ یہ اس لیے کہ اس کی روح روحِ محمدی میں گم اور اس کی نظر بصیرتِ نبویؐ کے ساتھ متحد ہوجاتی ہے۔
یہ چیز چونکہ سراسر ذوقی ہے اور کسی ضابطہ کے تحت نہیں آتی‘ نہ آسکتی ہے‘ اس لیے اس میں اختلاف کی گنجائش پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔۵؂

مولانا مرحوم نے روایات کی جانچ پڑتال میں فنِ رجال اور سلسلۂ اسناد میں جو کمزوریاں گنوائی ہیں وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ ان کا انکار ممکن ہی نہیں۔ لیکن انسان کی فطری کمزوریوں کے علاوہ ذوقی و موضوعی معیارات کے نتیجے میں کیا یہ ممکن نہیں کہ صحیح حدیث چھوٹ گئی ہو اور غلط حدیث‘ صحیح سمجھی جانے لگی ہو؟
ماضی میں روایات کی جانچ پڑتال میں روایت و درایت کے جو بھی اصول وضع کیے گئے تھے‘ بلاشبہہ اُن میں‘ مولانا مرحوم کی بیان کردہ‘ سب ہی کمزوریاں اور خامیاں پائی جاتی ہیں‘ لیکن بہرحال ان میں معروضیت کا ایک نہایت ہی قلیل شائبہ تو پایا جاتا ہے۔ ایک روایت کے متعلق کم از کم کوئی شخص یہ تو کہہ سکتا ہے کہ یہ فلاں اصول کے تحت صحیح ہے یا ضعیف‘ لیکن جب معاملہ سراسر ذوقی اور شخصی ہو تو اس کو کس ضابطے اور اصول کے مطابق پرکھا جا سکتا ہے؟ اس نئی کسوٹی یا معیار میں تو معروضیت کے نام کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا۔ اگر روایت و درایت کے اصولوں میں ۵۰ فی صد نقائص بھی فرض کرلیں جن کی وجہ سے کسی روایت کے صحیح یا ضعیف ہونے میں اختلاف پایا جاسکتا ہو تو معیار کے سراسر ذوقی اور شخصی ہونے کی صورت میں روایت و درایت میں مذکور کمزوریاں تو اپنی جگہ رہیں گی ہی مگر بالکل غیر معروضیت کی بنا پر نقائص و کمزوریاں پچاس فی صد سے بڑھ کر سو فی صد ہوسکتی ہیں۔ مولانا مرحوم اسی مضمون میں برملا اس بات کا اظہار بھی کر دیتے کہ ’’چنانچہ اسی وجہ سے ائمۂ مجتہدین کے درمیان جزئیات میں بکثرت اختلافات ہوئے ہیں۔ پھر یہ (یعنی مزاج شناس رسول کی کسوٹی) کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ ایک شخص کا ذوق لامحالہ دوسرے شخص کے ذوق سے کلیتہً مطابق ہی ہو‘ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی مسلک کے ائمہ نے بہت سے مسائل میں ایک دوسرے سے اختلاف کیا ہے۔ امام ابوحنیفہؒ اور ان کے اصحاب کے اقوال میں جو اختلافات پائے جاتے ہیں وہ اس کی ایک روشن مثال ہیں۔۶؂
اصل میں مسئلے کی اہمیت اور نوعیت کو درست انداز میں لیا ہی نہیں گیا۔ ہر گروہ صدیوں سے صرف اسی مسئلے میں الجھا ہوا ہے کہ فلاں روایت‘ خبرِواحد ہے یا متواتر‘ صحیح ہے یا ضعیف‘ حسن ہے یا مشہور۔خبرِواحد حجت ہے یا نہیں‘ اگر ہے تو کن کن معاملات میں۔ روایت و درایت میں خامیاں موجود ہیں یا نہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بعض حضرات نے اس نوع کی کمزوریاں سامنے آنے پر احادیث کو مجموعی حیثیت سے مردود قرار دے دیا۔ اگر مسئلے کی نوعیت کو درست نہج پر رکھا جاتا تو اُمت میں انتشار و خلفشار کی یہ کیفیت پیدا نہ ہوتی بلکہ اختلاف ہوتا بھی تو محض علمی نوعیت کا ہوتا۔ اس کا ایک اور غلط نتیجہ یہ نکلا کہ بحث اس غلط رخ پر چل پڑی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہے کہ نہیں*۔ اور اگر ہے تو کس حیثیت سے جبکہ انسانی مسائل کے درست اور ہمہ گیر حل کی خاطر اصل حیثیت وحی کی دریافت اور پہچان کو ملنی چاہیے تھی نہ کہ ان دوسرے غیر اہم (immaterial) اور بے محل (irrelevant) مباحث کو۔ ان مباحث کو صرف ایک حد تک ہی اہمیت ملنی چاہیے کہ ان کو نمٹانے کے لیے نہ تو ہمارے پاس کوئی معروضی معیار ہے اور نہ صدیوں پر محیط کاوشیں ہی کوئی تسلی بخش حل فراہم کرسکی ہیں۔ یہ امر تو ثابت شدہ ہے کہ قرآن‘ وحی خداوندی پر مشتمل ہے جو‘ انسانی ہدایت کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا۔ یہاں پر ہم یہ جائزہ لیں گے کہ کیا احادیث بھی قرآن ہی کی طرح وحی خداوندی پر مشتمل ہیں؟

وحی غیرمتلو یا وحی خفی کی حقیقت

جیسا کہ اوپر ذکر ہوا‘ نہ تو وجوبِ اطاعت رسولؐ کی بحث بنیادی حیثیت کی حامل ہے اور نہ علمِ روایت و درایت پر تنقید اور جوابِ تنقید۔ اصل مسئلہ‘ جس کو ابھی تک صرف ضمنی حیثیت سے لیا گیا ہے‘ یہ ہے کہ آیا احادیث (یا سنت) وحی خداوندی ہیں یا نہیں۔ گذشتہ اوراق میں یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ وحی داخلی نہیں بلکہ ہمیشہ خارجی ہوتی ہے۔ وحی سے نوازے جانے والی اشیاء اور اشخاص اس میں قطعاً بے اختیار ہوتے ہیں۔ یہ وحی نہ تو اُن کی خواہشات کا نتیجہ ہوتی ہے اور نہ اس میں ترمیم و اضافے کا کوئی اختیار ہی ان کو دیا جاتا ہے۔ وحی کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا ہدف صرف وہی عمل کرسکے جو اس سے کروانا مقصود ہے۔ یہ بنیادی اصول ذہن نشین کر لینے کے بعد ہم اصل سوال کی طرف آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آیا احادیث (یا سنت*) وحی ہیں یا نہیں؟ اگر یہ وحی نہیں تو پھر ان کی کیا حیثیت ہے؟ اور اگر یہ وحی ہیں تو کئی اور منطقی سوالات پیدا ہوتے ہیں جن کو حل کیے بغیر اس دعوے کو قبول کرنا ممکن ہی نہیں۔ وہ سوالات یہ ہیں:
۱۔ اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اقوال و افعال‘ (احادیث) مبنی بر وحی تھے تو آپؐ سے بعض لغزشوں کا صدور کیسے ممکن ہوا؟
۲۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی طرح احادیث کی حفاظت کا ذمہ بھی کیوں نہیں لیا؟
۳۔ احادیث قرآن کا حصہ کیوں نہ بن سکیں؟
۴۔ آپؐ نے قرآن کی طرح احادیث کی کتابت کا حکم کیوں نہ دیا؟
۵۔ صحابہ کرامؓ نے ہی قرآن کی طرح احادیث کی حفاظت کا اہتمام کیوں نہ کیا؟
۶۔ قرآن نے قیامت تک آنے والے مسائل کی جزئیات کو خود کیوں نہیں متعین کر دیا؟
۷۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی یہ ساری جزئیات کیوں نہ متعین کر دیں؟
۸۔ جب آپؐ کا ہر قول و فعل وحی ہو تو آپؐ اُمت کے لیے نمونہ کس طرح بن سکتے ہیں؟
آیئے ہم ان سوالات اور ان کے جوابات پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔
r اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اقوال و افعال مبنی بروحی تھے تو آپؐ سے بعض لغزشوں کا صدور کیسے ممکن ہوا؟
قرآن مجید نے کئی انبیائے کرام ؑ سے سرزد ہونے والی بعض لغزشوں یا اجتہادی غلطیوں کا ذکر کیا ہے جس میں حضرت آدم علیہ السلام‘ حضرت یونس علیہ السلام اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات کا تفصیلی پتہ چلتا ہے۔ ضمناً یہ موضوع عصمت انبیاء سے بھی متعلق ہے تاہم اس کو چھوڑ کر یہاں پر اپنے خاص موضوع کے اعتبار سے ایک اجمالی جائزہ ہی پیش کرنا مناسب ہوگا۔ اختصار کی خاطر ہم باقی واقعات سے صرفِ نظر کریں گے اور صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ہی امور کی نشاندہی پر اکتفا کریں گے۔
ا: سورہ التوبہ میں ارشاد ربانی ہے:

عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ لِمَ اَذِنْتَ لَہُمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَتَعْلَمَ الْکٰذِبِیْنَ (التوبہ:۴۳)
اے نبیؐ، اللہ تمھیں معاف کرے‘ تم نے کیوں انھیں رخصت دے دی؟ (تمھیں چاہیے تھا کہ رخصت نہ دیتے) تاکہ تم پر کھل جاتا کہ کون لوگ سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی تم جان لیتے (ترجمہ از سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ )

اس آیت کی تفسیر میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ تفہیم القرآن میں لکھتے ہیں:

بعض منافقین نے بناوٹی عذرات پیش کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت مانگی تھی اور حضوؐر نے بھی اپنی طبعی حلم کی بنا پر یہ جاننے کے باوجودکہ وہ محض بہانے کر رہے ہیں ان کو رخصت عنایت فرما دی تھی۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا اور آپؐ کو تنبیہہ کی کہ ایسی نرمی مناسب نہیں۔ رخصت دے دینے کی وجہ سے ان منافقوں کو اپنے نفاق پر پردہ ڈالنے کا موقع مل گیا۔ اگر انھیں رخصت نہ دی جاتی اور پھر یہ گھر بیٹھے رہتے تو ان کا جھوٹا دعوؤ ایمان بے نقاب ہوجاتا۔۷؂

کم و بیش یہی مفہوم تمام مفسرین نے لیا ہے۔ قرآن مجید کے الفاظ صریحاً جو پیغام دینا چاہتے ہیں وہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ اس سے دو باتیں بالکل واضح ہو جاتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کو
 اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا
 چنانچہ آپؐ کو تنبیہہ کی گئی کہ ایسی نرمی مناسب نہیں۔
قابلِ غور بات یہ ہے جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منافقین کو رخصت عطا فرما رہے تھے تو عین اس لمحے آپؐ یہ فعل وحی کی ہدایت کے مطابق کر رہے تھے یا نہیں۔ اس کا ایک ہی معقول جواب ہو سکتا ہے کہ نہیں۔ آپؐ کا یہ فعل ہرگز ہرگز وحی پر مبنی نہیں ہو سکتا ورنہ یہ کیسے ممکن تھا اللہ تعالیٰ خود ہی اس مبنی بروحی فعل کو ناپسند کرتا! اور مزید یہ کہ اپنی ہی وحی کے نتیجے میں سرزد ہونے والے فعل پر تنبیہہ بھی کر ڈالتا۔ یعنی پہلے تو وحی کے ذریعے ایک کام کروایا اور پھر اس پر تنبیہہ بھی کر ڈالی کہ یہ کیوں کیا!!
ب: سورہ التوبہ میں ہی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ:

وَلَا تُصَلِّ عَلٰی اَحَدٍ مِّنْہُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ اِنَّہُمْ کَفَرُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَاتُوْا وَہُمْ فٰسِقُوْنَ (آیت ۸۴)
اور آیندہ ان میں سے جو کوئی مرے اس کی نماز جنازہ بھی تم ہرگز نہ پڑھنا اور نہ کبھی اس کی قبر پر کھڑے ہونا کیونکہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور وہ مرے ہیں اس حال میں کہ وہ فاسق تھے۔ (ترجمہ و تفسیر از سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ )

اس کی تفسیر میں مولانا مرحوم لکھتے ہیں:

تبوک سے واپسی پر کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ عبداللہ بن اُبی رئیس المنافقین مرگیا۔ اس کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ جو مخلص مسلمانوں میں سے تھے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کفن میں لگانے کے لیے آپؐ کا کرتہ مانگا۔ آپؐ نے کمال فراخ دلی کے ساتھ عطا کر دیا۔ پھر انھوں نے درخواست کی کہ آپؐ ہی اس کی نماز جنازہ پڑھائیں۔آپؐ اس کے لیے بھی تیار ہوگئے۔ حضرت عمرؓ نے باصرار عرض کیا کہ یارسولؐ اللہ! کیا آپؐ اس شخص پر نماز جنازہ پڑھیں گے جو یہ اور یہ کر چکا ہے۔ مگر حضوؐر ان کی یہ سب باتیں سن کر مسکراتے رہے اور اپنی اس رحمت کی بنا پر جو دوست دشمن سب کے لیے عام تھی‘ آپؐ نے اس بدترین دشمن کے حق میں بھی دعائے مغفرت کرنے میں تامل نہ کیا۔ آخر جب آپؐ نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہی ہوگئے تو یہ آیت نازل ہوئی اور براہِ راست حکمِ خداوندی سے روک دیا گیا۔۸؂

ذرا تصور تو کریں کہ حضوؐر اکرم کا یہ فعل مبنی بروحی ہو پھر بھی آپؐ بدترین دشمن کے لیے دعائے مغفرت کرنے میں تامل نہ کریں اور حضرت عمرؓ کے اصرار کرنے کے باوجود رئیس المنافقین کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے کھڑے ہوجائیں لیکن اللہ تعالیٰ آپؐ کو اس وحی پر مبنی فعل سے جبراً روک دے جو آپؐ اللہ ہی کی وحی غیرمتلو یا وحی خفی کی بنا پر کرنے جارہے تھے!
ج: سورہ الانفال میں ارشاد ہوتا ہے:

مَا کَانَ لِنَبِیِّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہ‘ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ o (آیت ۶۷)
کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے۔ تم لوگ دنیا کے فائدے چاہتے ہو‘ حالانکہ اللہ کے پیشِ نظر آخرت ہے‘ اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے ہاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ تاہم بقول سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اہلِ تاویل نے جو روایات بیان کی ہیں وہ یہ ہیں کہ جنگِ بدر میں لشکرِقریش کے جو لوگ گرفتار ہوئے تھے‘ ان کے متعلق بعد میں مشورہ ہوا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ حضرت ابوبکرؓ نے رائے دی کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اور حضرت عمرؓ نے کہا کہ قتل کر دیا جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرؓ کی رائے قبول کی اور فدیہ کا معاملہ طے کر لیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات بطور عتاب نازل فرمائیں۔ جو اہلِ تاویل اس آیت کا یہ مفہوم نہیں لیتے۔ ان سے ہمیں غرض نہیں‘ البتہ اس مفہوم پر جو اہلِ تاویل متفق ہیں ان سے ہمارا وہی سوال ہے کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول و فعل وحی ہے تو آپؐ نے قریشی قیدیوں سے فدیہ لے کر کون سا جرم کیا کہ ان پر عتاب کیا جا رہا ہے؟ ان کی تو یہ مجبوری تھی کہ وہ وحی پر من و عن عمل کرتے۔ وحی پر عمل کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب کا مستحق بننا کچھ ایسا معقول نظریہ تو معلوم نہیں ہوتا۔ اس سے بہتر نتیجہ تو یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال مبنی بروحی نہیں تھے‘ اسی لیے اجتہاد میں‘ نتائج اخذ کرنے میں بعض اوقات اندازوں کی غلطی ہوجایا کرتی تھی۔
(د) چوتھی مثال قرآن مجید میں سورہ عبس میں آئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

عَبَسَ وَتَولّٰی o اَنْ جَآءَ ہُ الْاَعْمٰی o وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّہٗ یَزَکّٰی o اَو یَذَکَّرُ فَتَنْفَعَہٗ الذِّکْرٰی o اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰی o فَاَنْتَ لَہٗ تَصَدّٰی o وَمَا عَلَیْکَ اَلَّا یَزَّکّٰی o وََاَمَّا مَنْ جَآءَ کَ یَسْعٰی o وَہُوَ یَخْشٰی o فَاَنْتَ عَنْہُ تَلَہّٰی o (عبس: ۱۔۱۰)
تُرش رو ہوا اور بے رُخی برتی اس بات پر کہ وہ اندھا اس کے پاس آگیا۔ تمھیں کیا خبر‘ شاید وہ سُدھر جائے یا نصیحت پر دھیان دے اور نصیحت کرنا اس کے لیے نافع ہو؟ جو شخص بے پروائی برتتا ہے اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو‘ حالانکہ اگر وہ نہ سُدھرے تو تم پر اس کی کیا ذمہ داری ہے؟ اور جو خود تمھارے پاس دوڑا آتا ہے اور وہ ڈر رہا ہوتا ہے اس سے تم بے رخی برتتے ہو۔ (ترجمہ از سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ )

ترجمے سے بات کافی حد تک واضح ہو جاتی ہے‘ تاہم مفسرین نے جو تشریح کی ہے اس کا بیان کرنا ضروری ہے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اس سورہ کے زمانۂ نزول میں لکھا ہے کہ:
مفسرین و محدثین نے بالاتفاق اس سورہ کا سببِ نزول یہ بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں مکہ معظمہ کے چند بڑے سردار بیٹھے ہوئے تھے اور حضوؐر اُن کو اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش فرما رہے تھے۔ اتنے میں ابن مکتوم نامی ایک نابینا حضوؐر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے آپؐ سے اسلام کے متعلق کچھ پوچھنا چاہا۔ حضوؐر کو اُن کی یہ مداخلت ناگوار ہوئی اور آپؐ نے اُن سے بے رُخی برتی۔ اِس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سورہ نازل ہوئی۔۹؂

حوالہ جات

۱۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ : تفھیم القرآن‘ جلد۲‘ سورہ النحل‘ حاشیہ ۵۶
۲۔ " " " جلد ۳‘ سورہ الکہف‘ حاشیہ ۲۷
۳۔ مولانا امین احسن اصلاحیؒ : تدبر قرآن‘ جلد ۴‘ سورہ یونس‘ آیت ۱۵
۴۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ : تفھیم القرآن‘ جلد۲‘ سورہ یونس ‘حاشیہ ۲۰

* مولانا محترم نے یہ ساری مثالیں علامہ ابن عبدالبر کی کتاب جامع بیان العلم سے لی ہیں۔
۵۔ " تفھیمات‘ حصہ اول‘ مسلک اعتدال‘ ص ۳۵۵ تا ۳۶۲
۶۔ " ایضاً ص ۳۶۲۔۳۶۳

* اُمت میں اطاعتِ رسول کبھی بھی متنازع نہیں رہی۔ یہاں اس کو بلاجواز ایشو بنالیاگیا جس کی وجہ سے فرقہ واریت کو مزید تقویت ملی۔
بعض علماء کے نزدیک احادیث اور سنت مترادف اصطلاحات ہیں مگر بعض مفکرین ان میں فرق کرتے ہیں۔ تاہم یہ ہمارے موضوع سے متعلق نہیں اور نہ اس سے ہماری بحث پر کچھ فرق پڑتا ہے۔
۷۔ " تفھیم القرآن‘ جلد۲‘ سورہ التوبہ‘ حاشیہ ۴۵
۸۔ " ایضاً‘ حاشیہ ۸۸۔
۹۔ " تفھیم القرآن‘ جلد ۶‘ سورہ عبس‘ ص ۲۵۰

____________