اب ہم صرف مثال کے طور پر چند صحیح احادیث پر مفکرین کی تنقید نقل کریں گے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ موجودہ صحیح ترین مجموعے کسی بھی لحاظ سے قرآن کی طرح ’’محفوظ‘‘ قرار نہیں دیئے جاسکتے۔
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ نے سورہ الانبیاء کی آیت نمبر۶۳ کی تفسیر میں صحیح بخاری کی اس حدیث پر تنقید کرتے ہوئے جس میں کہا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تین مرتبہ جھوٹ بولا تھا‘ لکھتے ہیں:

ایک گروہ روایت پرستی میں غلو کر کے اس حد تک جاتا ہے کہ اسے بخاری و مسلم کے چند راویوں کی صداقت زیادہ عزیز ہے اور اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ اس سے ایک نبی پر جھوٹ کا الزام عائد ہوتا ہے۔ دوسرا گروہ اس ایک روایت کو لے کر پورے ذخیرۂ حدیث پر حملہ آور ہوجاتا ہے اور کہتا ہے کہ ساری ہی حدیثوں کو اٹھا کر پھینک دو کیونکہ ان میں ایسی ایسی روایتیں پائی جاتی ہیں حالانکہ نہ ایک یا چند روایات میں کسی خرابی کے پائے جانے سے یہ لازم آتا ہے کہ ساری ہی روایات ناقابلِ اعتماد ہوں اور نہ فنِ حدیث کے نقطۂ نظر سے کسی روایت کی سند مضبوط ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ اس کا متن خواہ کتنا ہی قابلِ اعتراض ہو مگر اسے ضرور آنکھیں بند کرکے صحیح مان لیا جائے۔۷۲؂

ہم مولانا مرحوم کے ایک ایک لفظ سے اتفاق کرتے ہیں۔ اس طرح کی روایتوں سے باقی ساری حدیثیں ناقابلِ اعتماد نہیں ہوجاتیں لیکن اتنا تو ضرور ثابت ہوتا ہے کہ یہ کتب احادیث قرآن کی طرح محفوظ نہیں اور نہ قرآن کی طرح یقینی قرار دی جاسکتی ہیں۔
اس حدیث پر تنقید کے جواب میں جب روایت پرست طبقہ نے مولانا مرحوم کو شدید جوابی تنقید کا نشانہ بنایا‘ تو آپ نے لکھا:

آپ کے نزدیک حدیث کا مضمون اس لیے قابلِ قبول ہے کہ وہ قابلِ اعتماد سندوں سے نقل ہوئی ہے اور بخاری‘ مسلم‘ نسائی اور متعدد دوسرے محدثین نے اسے نقل کیا ہے۔ میرے نزدیک وہ اس لیے قابلِ قبول نہیں ہے کہ اس میں ایک نبی کی طرف جھوٹ کی نسبت ہوتی ہے اور یہ کوئی ایسی معمولی بات نہیں ہے کہ چند راویوں کی روایت پر اسے قبول کرلیا جائے۔ اس معاملہ میں مَیں اس حد تک نہیں جاتا جہاں تک امام رازیؒ گئے ہیں۔ وہ تو کہتے ہیں کہ ’’انبیاء کی طرف جھوٹ منسوب کرنے سے بدرجہا بہتر ہے کہ اس روایت کے راویوں کی طرف اسے منسوب کیا جائے (تفسیر کبیر‘ جلد ۶‘ ص ۱۱۳)۔ اور یہ کہ ’’جب نبی اور راوی سے کسی ایک کی طرف جھوٹ کو منسوب کرنا پڑے تو ضروری ہے کہ وہ نبی کے بجائے راوی کی طرف منسوب کیا جائے‘‘ (تفسیرکبیر‘ ج۷‘ ص ۱۴۵)۔ مگر میں اس روایت کے ثقہ راویوں میں سے کسی کے متعلق یہ نہیں کہتا کہ انھوں نے جھوٹی روایت نقل کی ہے‘ بلکہ صرف یہ کہتا ہوں کہ کسی نہ کسی مرحلے پر اس کو نقل کرنے میں کسی راوی سے بے احتیاطی ضرور ہوئی ہے۔ اس لیے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قرار دینا مناسب نہیں ہے۔ محض سند کے اعتماد پر ایک ایسے مضمون کی آنکھیں بند کر کے ہم کیسے مان لیں جس کی زد انبیاء علیہم السلام کے اعتماد پر پڑتی ہے۔*۷۳؂

ہم بالکل یہی نکتہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ صحیح سے صحیح حدیث کے راویوں سے بھی کسی نہ کسی مرحلے پر بے احتیاطی ہوسکتی ہے اور جب یہ امکان پایا جائے تو اس کا صرف ایک ہی مطلب ہو سکتا ہے کہ احادیث قرآن کی مانند محفوظ نہیں ہیں اور نہ انھیں قرآن کا سا درجہ حاصل ہے۔
اسی طرح ایک اور روایت پر تنقید کرتے ہوئے سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں:

جہاں تک موافقین کا تعلق ہے وہ تو اسے صحیح مان ہی بیٹھے ہیں‘ لیکن مخالفین نے بھی بالعموم اس پر تنقید کا حق ادا نہیں کیا ہے۔ ایک گروہ اسے اس لیے رد کرتا ہے کہ اس کی سند اس کے نزدیک صحیح نہیں (اس کا مطلب یہ ہے کہ جس گروہ کے نزدیک اس کی سند صحیح ہے وہ تو اسے صحیح ہی مانتا ہے۔ مولف) اس کے معنی یہ ہوئے کہ اگر سند قوی ہوتی تو یہ حضرات اس قصے کو مان لیتے۔۔۔ ہم اس سے پہلے بھی بارہا کہہ چکے ہیں‘ اور یہاں پھر اس کا اعادہ کرتے ہیں کہ کوئی روایت‘ خواہ اس کی سند آفتاب سے بھی زیادہ روشن ہو‘ ایسی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہوسکتی جبکہ اس کا متن اس کے غلط ہونے کی کھلی شہادت دے رہا ہو۔۔۔ خدا کی پناہ اس روایت پرستی سے جو محض سند کا اتصال یا راویوں کی ثقاہت یا طرقِ روایت کی کثرت دیکھ کر کسی مسلمان کو خدا کی کتاب اور اس کے رسول کے بارے میں ایسی سخت باتیں بھی تسلیم کرنے پر آمادہ کر دے۔۷۴؂

ایک اور صحیح حدیث جسے حضرت ابوہریرہؓ نے روایت کیا ہے اور اسے بخاری و مسلم اور دوسرے محدثین نے متعدد طریقوں سے نقل کیا ہے‘ قابلِ توجہ ہے۔ سورہ صٓ کی آیت ۳۵ کی تفسیر کرتے ہوئے مولانا مرحوم‘ اس حدیث کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:

جہاں تک اسناد کا تعلق ہے‘ ان میں سے اکثر روایات کی سند قوی ہے‘ اور باعتبار روایت اس کی صحت میں کلام نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن حدیث کا مضمون صریح عقل کے خلاف ہے اور پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح ہرگز نہ فرمائی ہوگی جس طرح وہ نقل ہوئی ہے بلکہ آپؐ نے غالباً یہود کی یاوہ گوئیوں کا ذکر کرتے ہوئے کسی موقع پر اسے بطور مثال بیان فرمایا ہوگا اور سامع کو غلط فہمی لاحق ہوگئی کہ اس بات کو حضوؐر خود بطور واقعہ بیان فرما رہے ہیں۔۷۵؂

اسی کی تشریح کرتے ہوئے‘ ایک سوال کے جواب میں آپ نے رسائل و مسائل میں لکھا:

یہ بات کچھ بعید از عقل و امکان نہیں ہے کہ ایک شخص نے ایک بات واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو مگر اس کو پوری طرح نہ سمجھا ہو‘ یا موقع و محل پر نگاہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کو غلط فہمی لاحق ہوگئی ہو۔ بخاری و مسلم ہی میں یہ واقعہ موجود ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ حضوؐر کا یہ ارشاد نقل فرماتے تھے کہ اِنَّ الْمیَّتَ یُعذّب ببکاء اھلہٖ ’’میت پر اس کے گھر والوں کے رونے پیٹنے سے عذاب ہوتا ہے‘‘۔ یہ بات حضرت عائشہؓ تک پہنچی تو انھوں نے فرمایا: ’’اللہ ابن عمرؓ کو معاف فرمائے‘ وہ جھوٹ نہیں بولتے مگر انھیں بھول ہوگئی یا وہ سمجھنے میں غلطی کرگئے۔۷۶؂

اب یہ بات تو بالکل طے ہے کہ جب پہلا راوی ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو صحیح طور سے نہ سمجھ سکا ہو یا موقع و محل پر نگاہ نہ ہونے کی وجہ سے اسے غلط فہمی ہوگئی ہو یا بقول حضرت عائشہؓ وہ اصل بات ہی بھول گیا ہو یا اصل بات سمجھ نہ سکا ہو اور اس طرح وہ غلطی کر گیا ہو تو کیا کوئی معقول شخص اس ایک نتیجہ کے علاوہ کسی اور نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ احادیث رسولؐ، قرآن کی طرح محفوظ نہیں ہیں اور اسی لیے قرآن کی طرح یقینی نہیں؟ جی نہیں یقیناًاس سے یہی ایک نتیجہ نکلتا ہے۔
ہم بلاخوفِ تردید یہ بات دہراتے ہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ یقینی ذریعے سے ہم تک صرف اللہ کی کتاب‘ قرآن مجید پہنچی ہے۔ اس کا مقابلہ دنیا کی کوئی دوسری کتاب نہیں کر سکتی۔ اور یہ صرف اس لیے ہے کہ اللہ کی وحی اسی کتاب کے اندر محفوظ ہے۔ اگر احادیث بھی وحی ہوتیں‘ تو یقیناًیہ بھی قرآن کی طرح محفوظ ہوتیں۔ ان کے کسی متن کے بارے میں ہمیں کسی طرح کا کوئی شک نہ گزرتا۔ ہم ان کے کسی راوی کے متعلق یہ نہ کہتے کہ اس نے شاید حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سنا بھی ہے یا نہیں‘ اور اگر سنا ہے تو پتہ نہیں اسے صحیح سمجھا ہے یا نہیں۔ اور اگر صحیح سنا بھی ہے‘ صحیح سمجھا بھی ہے تو صحیح سند ہونے کے باوجود یہ متن قابلِ اعتراض ہو سکتا ہے۔ یہ ساری باتیں تب ہی درست ہوسکتی ہیں جب ہم یہ تسلیم کریں کہ احادیث وحی خداوندی نہیں ہیں۔
دوسرے سوال کے تجزیئے کے آخر میں۔۔۔ اس نتیجہ پر پہنچتے ہوئے۔۔۔ ہم ایک بار پھر سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی تحریر تائیداً نقل کرتے ہیں۔ ایک صاحب نے بخاری و مسلم کی کئی احادیث نقل کر کے آپ سے بہت سے سوالات پوچھے تھے۔ آخری سوال یہ تھا:

مندرجہ بالا احادیث میں سے اکثر بخاری شریف سے لی گئی ہیں جو ہمارے عقیدے کے مطابق اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔ براہ کرم اس کی بھی وضاحت کر دیجیے کہ اصح الکتب کا مطلب آیا یہ ہے کہ بخاری بھی قرآن کی طرح حرفاً حرفاً صحیح اور غیرمحرّف ہے؟

اس کے جواب میں سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا:

آخری سوال جو آپ نے بخاری کے ’’اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ ہونے کے بارے میں کیا ہے اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ یقینی ذریعے سے تو ہم کو کتاب اللہ پہنچی ہے‘ کیونکہ اسے ہزارہا آدمیوں نے بتواتر نقل کیا ہے مگر اس کے بعد جس کتاب کے مندرجات ہم کو معتبر ترین سندوں سے پہنچے ہیں وہ بخاری ہے کیونکہ دوسری تمام کتابوں کی بہ نسبت اس کتاب کے مصنف نے سندوں کی جانچ پڑتال زیادہ کی ہے۔ یہ صحت کا حکم صرف اسناد سے متعلق ہے اور یقیناًبالکل صحیح ہے۔ رہی مضامین کی تنقید بلحاظ درایت تو اس کے متعلق میں اوپر اشارہ کر چکا ہوں کہ یہ کام اہلِ روایت کے فن سے بڑی حد تک غیرمتعلق تھا۔ اس لیے یہ دعویٰ کرنا صحیح نہیں کہ بخاری میں جتنی احادیث درج ہیں ان کے مضامین کو بھی جوں کا توں بلاتنقید قبول کرلینا چاہیے۔
اس سلسلہ میں یہ بات بھی جان لینے کی ہے کہ کسی روایت کے سنداً صحیح ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کا نفسِ مضمون بھی ہر لحاظ سے صحیح اور جوں کا توں قابلِ قبول ہو۔ ہم کو خود اپنی زندگی میں بارہا اس کا تجربہ ہوتا رہتا ہے کہ ایک شخص کی گفتگو کو جب سننے والے دوسروں کے سامنے نقل کرتے ہیں تو صحیح روایت کی کوشش کرنے کے باوجود ان کی نقل میں مختلف قسم کی کوتاہیاں رہ جاتی ہیں مثلاً کسی کو پوری بات یاد نہیں رہتی اور وہ اس کا صرف ایک حصہ نقل کرتا ہے۔ کسی کی سمجھ میں بات اچھی طرح نہیں آئی اس لیے وہ ناقص مفہوم ادا کرتا ہے۔ کوئی دورانِ گفتگو میں کسی وقت پہنچتا ہے اور اس کو معلوم نہیں ہوتا کہ پہلے کیا بات ہو رہی تھی۔ اس طرح متعدد نقائص ہونے کی وجہ سے بسااوقات نیک نیتی اور صداقت کے باوجود قائل کی بات اپنی صحیح صورت میں نقل نہیں ہوتی۔۷۷؂

اور جب کوشش کرنے کے باوجود صحیح روایت کی نقل میں مختلف قسم کی کوتاہیاں رہ جائیں تو ہم دوسرے سوال کا منطقی جواب پانے میں قطعاً کوئی غلطی نہیں کرسکتے۔
r ہمارا تیسرا سوال یہ ہے کہ اگر احادیث وحی ہیں تو قرآن کا حصہ کیوں نہ بن سکیں؟ سوال کی اہمیت اتنی واضح ہے کہ محتاجِ بیان نہیں‘ لیکن اس پر سب سے کم توجہ دی گئی ہے۔ ہمارے اب تک کے مطالعے کے مطابق علمائے کرام نے دلائل کے ساتھ دوٹوک انداز میں اس موضوع پر بہت کم لکھا ہے۔ اس لیے حدیث اور سنت پر موجود لٹریچر سے اس سوال کا جواب اخذ کرنے میں غلطی کا امکان تسلیم کرنے کے باوجود یہ تو طے ہے کہ اس سوال کے اطمینان بخش جواب کے بغیر ہم احادیث کو وحی کا درجہ نہیں دے سکتے۔ علمائے کرام قرآن مجید کو ’’وحی متلو‘‘ قرار دیتے ہیں اور اس سے مراد یہ لیتے ہیں کہ یہ وحی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی جاتی تھی اور یہ کہ اس کے الفاظ اور معانی دونوں بذریعہ وحی نازل ہوئے۔ اس کے برعکس یہ حضرات احادیث کو ’’وحی غیرمتلو‘‘کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ احادیث اللہ کی طرف سے صرف معانی و مفہوم کی صورت میں نازل کی جاتی تھیں جبکہ الفاظ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے ہوتے تھے۔ ہم اسی عقیدے کو بنیاد بناتے ہوئے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ علمائے کرام کے نزدیک احادیث غالباً اسی وجہ سے قرآن کا حصہ نہ بن سکیں کہ خدائی کلام میں بشری کلام شامل ہوجانے کا احتمال تھا۔ یہ مفہوم ہم نے ان حضرات کی مختلف تحریرات سے اخذ کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سب علمائے کرام اس موقف کے بھی حامی نظر نہیں آتے۔ تاہم اسی موقف کو موضوع بحث بنانا ہماری مجبوری ہے۔
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’سنت کی آئینی حیثیت‘‘ میں لکھتے ہیں:

اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن کو جس وجہ سے لکھوا لیا گیا تھا وہ یہ تھی کہ اس کے الفاظ اور معانی دونوں من جانب اللہ کے تھے۔ اس کے الفاظ کی ترتیب ہی نہیں‘ اس کی آیتوں کی ترتیب اور سورتوں کی ترتیب بھی خدا کی طرف سے تھی۔۔۔ اس کے مقابلے میں سنت کی نوعیت بالکل مختلف تھی۔ وہ محض لفظی نہ تھی بلکہ عملی بھی تھی۔ اور جو لفظی تھی اس کے الفاظ قرآن کے الفاظ کی طرح بذریعہ وحی نازل نہیں ہوئے تھے بلکہ حضوؐر نے اُس کو اپنی زبان میں ادا کیا تھا۔۷۸؂

مولانا محترم کے الفاظ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کو لکھوائے جانے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے الفاظ اور معانی دونوں من جانب اللہ تھے جبکہ احادیث کی پوزیشن اس کے برعکس تھی۔ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مولانا مودودیؒ نے واضح لفظوں میں احادیث کے قرآن مجید میں شامل نہ کیے جانے کی دلیل کے طور پر یہ الفاظ نہیں لکھے مگر ہمیں کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ اس سے لازماً یہی نتیجہ کیوں نہ اخذ کیا جائے؟ اسی طرح کا ایک اور اقتباس ہم مولانا تقی عثمانی کی ’’علوم القرآن‘‘ سے نقل کرتے ہیں:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو وحی نازل ہوئی وہ دو قسم کی تھی‘ ایک تو قرآن کریم کی آیات‘ جن کے الفاظ اور معانی دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھے اور جو قرآن کریم میں ہمیشہ کے لیے اس طرح محفوظ کر دی گئیں کہ ان کا ایک نقطہ یا شوشہ بھی نہ بدلا جا سکا ہے اور نہ بدلا جا سکتا ہے۔ اس وحی کو علماء کی اصطلاح میں ’’وحی متلو‘‘ کہا جاتا ہے۔
دوسری قسم اس وحی کی ہے جو قرآن کریم کا جزو نہیں بنی لیکن اس کے ذریعہ آپؐ کو بہت سے احکام عطا فرمائے گئے ہیں‘ اس وحی کو ’’وحئ غیرمتلو‘‘کہتے ہیں‘ یعنی وہ وحی جس کی تلاوت نہیں کی جاتی۔ عموماً ’’وحی متلو‘‘ یعنی قرآن کریم میں اسلام کے اصولی عقائد اور بنیادی تعلیمات کی تشریح پر اکتفا کیا گیا ہے ان تعلیمات کی تفصیل اور جزوی مسائل زیادہ تر ’’وحی غیرمتلو‘‘ کے ذریعہ عطا فرمائے گئے ہیں۔ یہ ’’وحی غیرمتلو‘‘ صحیح احادیث کی شکل میں محفوظ ہے اور اس میں عموماً صرف مضامین وحی کے ذریعے آپؐ پر نازل کیے گئے ہیں۔ ان مضامین کو تعبیر کرنے کے لیے الفاظ کا انتخاب آپؐ نے خود فرمایا ہے۔۷۹؂

اس اقتباس سے بھی صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں محفوظ شدہ وحی‘ الفاظ اور معانی دونوں پر مشتمل ہے اور اس طرح اس میں کسی نقطے یا شوشے کی تبدیلی بھی ممکن نہیں جبکہ ’’وحی غیرمتلو‘‘ احادیث میں محفوظ ہے اور یہ صرف مضامین کی صورت میں بذریعہ وحی نازل ہوئی ہے۔
ہم اس سے یہی نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ اگر احادیث بھی معانی اور الفاظ پر مشتمل وحی ہوتی جس طرح قرآن ہے تو علمائے کرام کو اس کے قرآن میں لکھے جانے پر کوئی اعتراض نہ ہوتا۔ لیکن چونکہ بقول ان کے ’’وحی غیرمتلو‘‘ صرف معنی کے اعتبار سے وحی ہے اس لیے قرآن میں نہیں لکھی گئی۔
ہم یہاں پر یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ ہماری طویل تحقیق و جستجو کے باوجود ہنوز ہمیں کوئی دلیل نہیں مل سکی ہے جس سے یہ موقف ثابت ہوتا ہو کہ ’’وحی غیرمتلو‘‘ کے مضامین بذریعہ وحی نازل کیے گئے ہیں اور الفاظ حضوؐر کے اپنے ہوتے تھے۔ اس کے حق میں کوئی ایک آیت تو کجا‘ ضعیف سے ضعیف روایت بھی نہیں پیش کی جا سکتی!
عموماً علماء حضرات درج ذیل دو حوالے حدیث کو وحی ثابت کرنے کے باب میں پیش کرتے ہیں:

کان جبریل ینزل علی النبی بالسنۃ کما ینزل علیہ بالقراٰن (سنن دارمی‘ بحوالہ تاریخ القرآن‘ عبدالصمد صارم‘ ص ۱۹۱)

یعنی جبریل ؑ قرآن ہی کی طرح سنت بھی نبیؐ پر نازل فرمایا کرتے تھے۔
اور ابوداؤد‘ ترمذی اور ابن ماجہ میں روایت شدہ یہ حدیث کہ اَلَا اِنِّیْ اُوْتِیْتُ الْقُرْاٰنَ وَمِثْلَہٗ ، سنو مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کی مثل (حدیث) بھی۔ نیز یہ حدیث بھی ملاحظہ فرمائیں جو ابوداؤد فی المراسیل میں حسان بن عطیہ سے روایت کرتے ہیں کہ جبریل ؑ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی طرح وحی لے کر آیا کرتے تھے جس طرح قرآن لے کر آتے تھے (محمد عاصم الحداد‘ سنت کیا ہے اور کیا نہیں‘ ص ۱۲۔۱۳)۔ اِن اقتباسات سے تو قطعاً یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حدیث اپنے مقام کے اعتبار سے قرآنی وحی سے کوئی مختلف چیز ہے۔
مولانا تقی عثمانی ’’علوم القرآن‘‘ میں زرقانیؒ کا ایک اقتباس نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھوں نے ’’بڑی اچھی بات لکھی ہے‘‘۔ یہ ’’اچھی بات‘‘ ملاحظہ فرمائیں:

’’اس مقام پر بحث کا لب لباب یہ ہے کہ قرآن کریم کے تو الفاظ اور معنی دونوں باتفاق بذریعہ وحی نازل ہوئے ہیں اور حدیث قدسیہ کے بارے میں بھی مشہور قول یہی ہے کہ ان کے الفاظ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں‘ البتہ احادیث نبویہ کے صرف معنی وحی ہیں الفاظ حضوؐر کے اپنے ہیں۔* اور جو احادیث آپؐ نے اپنے اجتہاد سے ارشاد فرمائیں ان کے معنی اور الفاظ دونوں حضوؐر کے ہیں۔ (مناہل العرفان فی علوم القرآن‘ ج ۱‘ ص ۴۴)۸۰؂

ہمیں خدشہ نہیں بلکہ یقین ہے کہ تمام علمائے کرام بلکہ خود مولانا تقی عثمانی بھی اس ’’اچھی بات‘‘ میں جو یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ’’جو احادیث آپؐ نے اپنے اجتہاد سے ارشاد فرمائیں ان کے معنی اور الفاظ دونوں حضوؐرکے ہیں‘‘ سے اتفاق نہ کرسکیں گے بلکہ کسی دوسرے موقع پر اس موقف کے منطقی نتائج کے رد میں بالآخر یہی کہیں گے کہ اجتہاد پر مبنی احادیث بھی صرف معنی کے لحاظ سے وحی ہیں اس لیے ’’وحی غیرمتلو‘‘ میں شامل ہیں۔ تاہم اس اقتباس سے درج ذیل تین باتیں ثابت ہوتی ہیں:
۱۔ احادیث قدسیہ قرآن ہی کی طرح معنی اور الفاظ کے لحاظ سے وحی ہیں۔
۲۔ باقی احادیث نبویہ صرف معنی کے لحاظ سے وحی ہیں۔
۳۔ اجتہاد پر مبنی احادیث کسی بھی لحاظ سے وحی نہیں بلکہ الفاظ اور معانی دونوں حضوؐر کے اپنے ہیں۔
سردست ہم دوسرے اور تیسرے نکتے سے صرفِ نظرکرتے ہوئے ان علمائے کرام سے یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ عام احادیث نہ سہی مگر جب احادیث قدسیہ معنی و الفاظ دونوں کے لحاظ سے قرآن ہی کی طرح الفاظ اور معانی دونوں میں وحی ہیں تو اُن کے جزو قرآن بننے میں کیا امر مانع ہوسکتا ہے؟ ویسے ہم اگر یہ جاننا چاہیں کہ جب ’’وحی غیرمتلو‘‘ کے ذریعہ بھی بہت سے احکام عطا فرمائے گئے ہیں تو یہ ’’وحی‘‘ بھی اگر قرآن میں شامل ہوکر قرآن ہی کی طرح محفوظ ہو جاتی تو اس سے آخر کیا خرابی برپا ہونے کا اندیشہ ہوتا؟ بس عملی طور پر یہ فرق پڑجاتا کہ اس کی بھی تلاوت کرنی پڑتی اور قرآن کی تھوڑی سی ضخامت بڑھ جاتی۔ آخر اب بھی ہم صحاح ستہ کو پڑھتے ہی ہیں‘ جب یہ قرآن میں داخل ہوجاتی تو اس کے پڑھنے سے کیا فرق پڑجاتا؟ ویسے یہ سوال تو ہم نے اس مفروضے کو صحیح تسلیم کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ ’’وحی غیرمتلو‘‘ مفہوم بلا الفاظ کے وحی تھی۔ یعنی الفاظ تو نازل نہیں ہوئے تھے‘ ان الفاظ کا صرف مفہوم نازل ہوا تھا۔ ہم یہ کہنے کی جسارت کرتے ہیں کہ یہ محض ایک دعویٰ ہے جس کا علمی دنیا میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ معانی اور الفاظ لازم و ملزوم ہیں۔ علمی لحاظ سے‘ ضمناً ہی سہی، ’’معنی بلالفظ‘‘ کے مہمل تصور کی حقیقت ہم ماہرین نفسیات و لسانیات سے جان سکتے ہیں مگر ہم یہاں مغربی مفکرین کو بوجوہ درمیان میں لائے بغیر یہی مناسب سمجھتے ہیں کہ علمائے کرام ہی کے صف کے ایک جید عالم کے ایک اقتباس کو نقل کر دیں۔ مولانا محمد حنیف ندوی اپنی کتاب ’’مطالعہ قرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:

معتزلہ اور باطنیہ کے اس موقف میں گھپلا یہ پنہاں ہے کہ انھوں نے پہلے تو خواہ مخواہ یہ فرض کر لیا کہ معانی کا الفاظ و حروف سے قطع نظر کرکے اپنا مستقل بالذات وجود ہے۔ اور پھر یہ سمجھ لیا کہ الفاظ اور پیرایۂ بیان ان ہی معانی کی تجسیم ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لفظ و معنی میں شروع ہی سے ایک طرح کا لزوم پایا جاتا ہے۔ چنانچہ فکروشعور کی کسی بھی سطح پر ہم معانی کو الفاظ کی گرفت سے آزاد فرض نہیں کر سکتے۔۸۱؂

مولانا محترم نے یہ بحث ’’وحی غیرمتلو‘‘ کے معنی اور الفاظ کو سامنے رکھ کر نہیں کی بلکہ معتزلہ اور باطنیہ کی تردید میں‘ اپنی دانست میں‘ ایک اصولی بات لکھی ہے۔ لیکن اس سے یہ موقف تو بہرحال ثابت ہو جاتا ہے کہ الفاظ کے بغیر معنی کا وجود اہلِ علم کے نزدیک نادرست بلکہ ایک مہمل تصور ہے۔ اب تک کی بحث سے ہمیں معلوم ہوچکا ہے کہ:
۱۔ ’’وحی غیرمتلو‘‘ صرف مفہوم اور معنی کی حد تک وحی ہے اور الفاظ کے بغیر نازل ہوا کرتی تھی نہ صرف یہ کہ یہ تصور درست نہیں بلکہ علمائے کرام نے اس کا کوئی ثبوت بھی پیش نہیں کیا۔ وہ اپنے اس موقف کی تائید میں کوئی دلیل پیش نہیں کرتے کہ ’’وحی غیرمتلو‘ مفہوم و معنی کے لحاظ سے وحی ہے‘ اس کے الفاظ مبنی بروحی نہیں۔ کسی دلیل کی عدم موجودگی میں یہ تصور (عقیدہ) بے بنیاد ٹھہرتا ہے۔
۲۔ اس کے برعکس یہی حضرات مقامِ حدیث کے دفاع میں جو احادیث پیش کرتے ہیں ان سے تو بدیہی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ ’’وحی غیرمتلو‘‘ بھی قرآن ہی کی طرح نازل کی جاتی تھی اور یہ کہ اس کے نزول کا ذریعہ بھی جبریل ؑ ہی تھے۔ قطع نظر اس کے کہ یہ موقف درست ہے یا نہیں‘ یہ دونوں موقف بالکل ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
قارئین بھی اگر ہمارے اخذ کردہ نتائج سے متفق ہوں تو ہم یہاں پر اپنا سوال دہرانا چاہیں گے کہ یہ ’’وحی‘‘ قرآن کا حصہ کیوں نہ بن سکی؟ اس طرح یہ عظیم الشان فرق تو یقیناًپڑ جاتا کہ یہ بھی‘ بقول مولانا تقی عثمانی: ’’قرآن ہی کی طرح محفوظ ہو جاتی پھر اس کے ایک نقطے اورشوشے میں بھی کوئی تبدیلی نہ ہو سکتی‘‘، لیکن یہ کوئی نقصان اور خرابی والی بات تو نہ ہوتی جس پر کوئی معترض ہوتا۔
اس سوال کے جوابات کا تجزیہ کرنے کے بعد ہم جس نتیجے پر پہنچے ہیں وہ یہ ہے کہ احادیث اس لیے قرآن کا حصہ نہیں بن سکیں کیونکہ یہ سرے سے وحی نہ تھیں۔ اگر یہ بھی وحی ہوتیں تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو یقیناًقرآن میں ہی درج کروا دیتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہی اس سوال کا ایک معقول اور منطقی جواب ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جتنے بھی جوابات ممکن ہیں ان میں سخن سازی اور تضادات کی بھرمار رہے گی۔
r ہمارا چوتھا سوال یہ ہے کہ احادیث اگر وحی تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی طرح احادیث کی کتابت کا حکم کیوں نہ دیا؟
تیسرے سوال کے تجزیئے کے بعد ہم اصولی طور پر اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ احادیث کو وحی ہونے کی صورت میں قرآن ہی کا حصہ بننا چاہیے تھا۔ مگر بعض حضرات‘ بلاکسی معقول دلیل کے‘ شاید اب بھی اصرار کرنا چاہیں کہ یہ بن لفظی وحی قرآن میں داخل ہوکر کسی بڑی مگر نامعلوم خرابی کا سبب بن جاتی۔ اس صورت حال کو سمجھنے کے لیے ہم چوتھے سوال کو مزید دو حصوں میں تقسیم کرکے جائزہ لیتے ہیں۔
۱۔ اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی نامعلوم وجہ کی بنا پر یہ مناسب نہ سمجھا تھا کہ قرآن میں ہی دوسری قسم کی وحی کو محفو ظ کروایا جاتا تو اس میں کیا امر مانع تھا کہ قرآن سے الگ لکھوا کر وحی کی یہ دوسری قسم بھی محفوظ کروا دی جاتی؟
۲۔ عہدنبوی میں احادیث کی کتابت کے اِکا دُکا واقعات سے کیا یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ یہ تدوین حدیث کی عمومی تحریک تھی جس طرح قرآن مجید کی حفاظت کی تحریک یا محض یہ انفرادی اجازت تھی؟ اس فرق کی وجہ؟
ان دونوں سوالات کے جوابات اتنے متنوع ہیں کہ اگر انھیں یکجا کیا جائے تو علمائے کرام‘ بظاہر ایک جیسا موقف رکھنے کے باوجود بے حد مختلف بلکہ زیادہ تر متضاد آرا کے حامل نظرآتے ہیں۔ ان جوابات پر غور کرنے سے پہلے اگر یہ بھی دیکھ لیا جائے کہ بذاتِ خود یہ سوالات معقول ہیں یا محض کسی’’منکرحدیث‘‘ کا پروپیگنڈا؟ ہمارے اس خدشے کی بڑی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ بالعموم جب ہمتیں پست اور ذوقِ تحقیق ختم ہو جائے تو انسانی طبیعت کسی پناہ گاہ کی متلاشی رہتی ہے۔ اظہار پر پابندی تو ممکن ہے مگر سوچنے کے عمل پر پابندی کبھی بھی ممکن نہ ہو سکی۔ چنانچہ یہ سوال علمائے کرام کے طبقے میں بھی پیدا ہوا۔ مولانا محمد حنیف ندوی ’’مطالعہ حدیث‘‘ میں لکھتے ہیں:

یہ سوال یقیناًذہنوں میں پیدا ہوتا ہے کہ احادیث و سنن کو اگر یہ اہمیت حاصل ہے کہ وہ دین کا مآخذ و منبیٰ ہیں (دوسرے الفاظ میں اگر وہ وحی ہیں۔ مولف) تو پھر ضروری تھا کہ قرآن حکیم کی طرح اس کی بھی عصرنبوت میں ہی باقاعدہ تدوین ہو جاتی۔۸۲؂

اس اقتباس سے جہاں اس سوال کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے وہاں یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ سوال دراصل پیدا ہی اس لیے ہوا کہ عہدِنبوت میں احادیث کی باقاعدہ تدوین نہ ہو سکی تھی۔ حالانکہ بعض علمائے کرام کو اس پر شدید اصرار ہے کہ عہدنبویؐ میں ہی احادیث کی تدوین ہوچکی تھی۔ یا بعض کے نزدیک یہ تدوین کم از کم شروع تو ہو ہی چکی تھی۔ ہم آگے چل کر متعلقہ اقتباسات پیش کریں گے۔ یہاں پر محض یہ باور کرانا مقصود ہے کہ:
یہ سوال بہرحال فطری ہے اور ہر سوچنے سمجھنے والے شخص کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہو جاتا کہ عہدرسالت میں ہی احادیث مدون ہو جاتیں تو ان کے یقینی ہونے میں کیا کوئی شک کرسکتا تھا؟ کیا اس صورت میں بھی احادیث کی سیکڑوں اقسام اور سیکڑوں تعریفیں ملتیں؟ بہرحال اس سوال کے جوابات کافی متنوع اور دلچسپ ہیں۔ ذرا ملاحظہ فرمائیں:
۱۔ کون کہتا ہے کہ احادیث قرآن کی طرح محفوظ نہیں ہوگئیں؟ عہدنبویؐ میں ہی ان کی کتابت اور تدوین شروع ہو چکی تھی۔
مولانا محمد تقی عثمانی‘ حجیتِ حدیث میں لکھتے ہیں:

واقعہ یہ ہے کہ احادیث کی تدوین خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدمبارک میں شروع ہو چکی تھی۔۸۳؂

ادھر صحابہ کرامؓ نے تو عہدنبوت سے بھی بڑھ کر بڑا کارنامہ سرانجام دیا۔

صحابہ کرامؓ نے احادیث کی بڑی تعداد تحریری شکل میں محفوظ کی تھی۔۸۴؂

حضرت مولانا محمد عبدالقیوم ندوی اپنی کتاب ’’فہمِ حدیث‘‘ میں لکھتے ہیں:

اس علم ۔۔۔ یعنی احادیث کا علم کی خود حضوؐر نے سختی سے نگرانی فرمائی اور ہر صورت سے اس کے فروغ اور حفاظت کا اہتمام فرمایا۔ اس علم کی حفاظت کا یہ اہتمام تھا کہ جب کلام فرماتے تو تین تین بار لفظوں میں دہراتے اور اپنے عمل مبارک کے اتباع کی سخت تاکید فرماتے۔۔۔ ان اسباب اور وجوہ اور دلائل و حقائق کے ہوتے ہوئے کس کا منہ ہو سکتا ہے جو علمِ حدیث کو معاذ اللہ ایک مشکوک اور مشتبہ قرار دے سکے اور۔۔۔ کون ہے جو حدیث کو بعد کی ایک چیز قرار دے سکے۔۸۵؂

یہی مولانا محترم آگے چل کر اس کی مزید تشریح کرتے ہیں:

حدیث کی تاریخ کے سلسلہ میں یہ بات ضرور معلوم کرلینی چاہیے کہ ایک تو باقاعدہ ابواب کی تفصیل اور راویوں کی ترتیب کے لحاظ سے تالیفیں ہوئیں۔ یہ بلاشبہہ ایک عرصہ بعد ہوا مگر اصل کتابت و جمع حدیث کا تعلق جہاں تک ہے اسے جاننے والے جانتے ہیں کہ حدیث کی حفاظت اور اس کی تدوین کا کام خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِمبارک ہی میں شروع ہوگیا تھا۔* اور کیوں نہ ہوتا جب کہ حدیث قرآن کے بعد اصل دین اور اساسِ دین ہے اور قرآن کا فہم اس پر موقوف ہے۔۸۶؂

مولانا محترم بہت سی مثالیں دینے کے بعد مزید لکھتے ہیں:

غرضیکہ یہ اور اس قسم کی صدہا روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ حدیث کا بڑا سرمایہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میموں میں قید تحریر میں آچکا تھا۔ جس میں ایک معتدبہ حصہ اور اہم ترین مسائلِ دینیہ کے اجزاء خود حضوؐر نے لکھوائے تھے اور بقیہ جو کچھ لکھا گیا تھا وہ بھی آپؐ کی اجازت اور مرضی سے۔۸۷؂

مولانا محترم کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ:

۱۔ حضوؐر نے علمِ حدیث کی حفاظت کی خود سختی سے نگرانی فرمائی اور ہر صورت سے اس کے فروغ اور حفاظت کا اہتمام کیا۔
۲۔ حدیث کی کتابت اور جمع کا کام خود حضوؐر نے شروع کیا تھا۔ بعد کے ادوار میں صرف باقاعدہ ابواب کی تفصیل اور راویوں کی ترتیب کا کام ہوا۔
۳۔ حدیث کا بڑا سرمایہ خود حضوؐر کے عہد میں ہی قیدِ تحریر میں آچکا تھا۔ اہم ترین مسائلِ دینیہ خود آپؐ نے لکھوائے اور بقیہ جو کچھ لکھا گیا وہ بھی آپؐ کی اجازت اور مرضی سے لکھا گیا۔
اب اس تحقیق کے بارے میں دیگر محققین علمائے اہلِ سنت کے ارشادات قابلِ توجہ ہیں:
ڈاکٹر محمد زبیر صدیقی* ایم اے‘ پی ایچ ڈی‘ اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’تاریخ تدوین حدیث‘‘ میں لکھتے ہیں:

کیا حدیث کی کتابت کا آغاز عہدنبویؐ میں ہوا؟ احادیث کی کتابت کب شروع ہوئی؟ یہ مسئلہ جتنا اہم ہے اتنا ہی مشکل بھی ہے۔ اس کے متعلق عرصۂ دراز سے علمائے اسلام میں اختلاف رائے چلا آ رہا ہے لیکن ان بزرگوں نے اس مسئلہ کا کوئی حتمی اور آخری فیصلہ نہیں کیا۔۸۸؂

ابو عبداللہ الحاکم نیشاپوری اپنی مشہور کتاب ’’معرفۃ علوم الحدیث‘‘ میں ارشاد فرماتے ہیں:

جب زمامِ خلافت امام عادل حضرت عمر بن عبدالعزیرؓکے ہاتھ میں آگئی تو آپ نے پہلی صدی ہجری کے آخر میں حدیثیں لکھنے کا حکم جاری کیا۔ صحیح بخاری کتاب العلم میں ہے کہ’’حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ نے ابوبکر بن حزم کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو حدیث ملے اسے قلم بند کر لو کیونکہ اس علم کے ختم ہو جانے اور علما کے اُٹھ جانے کا اندیشہ ہے۔ اور حدیث نبویؐ کے سوا اور کوئی شے قبول کیے جانے کے لائق نہیں۔ لہٰذا لوگوں کو چاہیے کہ یکجا ہوکر اس علم کو ظاہر کر دیں تاکہ ناواقف لوگ بھی اس سے واقف ہوجائیں۔ علم اسی وقت ختم ہوتا ہے جب وہ صیغۂ راز میں مستور رہے‘‘۔
انھوں نے حدیث جمع کرنے کے لیے اپنے عمّال کو عام مرکزی اسلامی شہروں میں ہدایات جاری کر دیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ کی فرمائش کے مطابق سب سے پہلے جس نے احادیث کو مدون کیا وہ مسلم بن عبداللہ بن عبداللہ بن شہاب زہری تھے۔
دوسرے لوگوں میں مکّے میں ابن جریح‘ مدینے میں ابن اسحاق یا مالک‘ بصرے میں ربیع بن صبیع یا سعید بن ابی عروبہ یا حماد بن مسلمہ‘ کوفے میں سفیان ثوری‘ شام میں اوزاعی‘ واسط میں ہشیم‘ یمن میں معمر‘ رے میں جرید بن عبدالحمید اور خراسان میں ابن مبارک۔ یہ سب کے سب دوسری صدی کے لوگ ہیں اور ان مجموعوں میں حدیثِ نبویؐ کے ساتھ اقوالِ صحابہ اور تابعین کے فتاوے بھی ملے جلے ہیں۔۸۹؂
یہی بات علامہ راغب الطباخ نے ’’تاریخ افکار و علومِ اسلامی‘‘ میں لکھی ہے:
اسی طرح ’’الرسالہ المستطرفتہ فی کتب السنۃ المشرفتہ‘‘ میں مذکور ہے کہ سب سے پہلے حدیث کی تدوین کرنے والے ابوبکر محمد بن مسلم ابن شہاب زہری مدنی ہیں‘ جنھوں نے یہ کام پہلی صدی ہجری کے آخر دور میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ کے حکم سے کیا تھا‘ جیسا کہ ’’حلیۃ الاولیاء (ابونعیم اصفہانی)‘‘ میں سلیمان بن داؤد سے مروی ہے کہ سب سے پہلے حدیث کی تدوین کی وہ ابن شہاب زہری ہیں اور خود ابن شہاب زہری کا بیان ہے کہ اس علم کو میرے مدون کرنے سے پہلے کسی نے مدون نہیں کیا تھا۔۹۰؂

یہی مصنف آگے چل کر لکھتے ہیں کہ:

رہی تدوین و کتابت‘ تو اس معاملہ میں صورت حال یہ تھی کہ ابتداء سارا اعتماد حفظ و یادداشت اور سینوں میں محفوظ رکھ لینے پر تھا‘ اور اس بات کی جانب ان کی توجہ نہ تھی کہ اس علم کی حفاظت کے لیے اسے لکھ بھی لیں‘ جیسا کہ انھوں نے اللہ کی کتاب کی حفاطت کے لیے یہ اہتمام بھی کیا تھا۔

دورِ اوّل میں حدیث کے نہ لکھے جانے کی مزید تحقیق کرتے ہوئے اس کی وجہ بھی لکھتے ہیں کہ احادیث کیوں نہ لکھی گئیں؟چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں:

لیکن جب اسلام پھیلا‘ اسلامی آبادیاں بہت وسیع ہوگئیں‘ صحابی دنیا کے گوشوں میں پھیل گئے اور اکابرصحابہؓ نے دنیا سے رحلت کی اور دوسری طرف ضبط و حفظ کی قوتوں میں انحطاط آنے لگا‘ تو علما نے تدوین حدیث کی ضرورت محسوس کی اور احادیث کو کتابی صورت میں لے آنا چاہا‘ اور بخدا یہی اصلی چیز ہے‘ اس لیے کہ ذہن و حافظہ نسیان و ذہول کا شکار ہوجاتا ہے اور قلم حفاظت کرتا ہے۔ یہی صورت حال تھی کہ عبدالملک بن جریج اور امام مالکؒ (متوفی ۱۷۹ھ) وغیرہ ائمہ کا زمانہ آیا تو ان لوگوں نے حدیثوں کی تدوین کی۔۔۔ اور الرسالۃ المستطرفہ میں مذکور ہے کہ علامہ ابن حجر عسقلانیؒ نے اپنی کتاب ’’فتح الباری‘‘ کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار (احادیث و سنن) صحابہ کرامؓ اور کبار تابعین کے زمانے میں کتابوں میں مدون و مرتب نہ تھے۔ اس کی دو وجہیں تھیں‘ ایک تو یہ کہ شروع شروع میں لوگ کتابتِ حدیث سے روک دیے گئے تھے‘ جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک روایت سے اس پر روشنی پڑتی ہے۔۹۱؂

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ’’سنت کی آئینی حیثیت‘‘ میں لکھا:

اہلِ عرب ہزاروں برس سے اپنے کام کتابت کے بجائے حفظ و روایت اور زبانی کلام سے چلانے کے عادی تھے اور یہی عادت ان کو اسلام کے ابتدائی دور میں بھی برسوں تک رہی۔ ان حالات میں قرآن کو محفوظ کرنے کے لیے تو کتابت ضروری سمجھی گئی کیونکہ اس کا لفظ لفظ آیات اور سورتوں کی ٹھیک اسی ترتیب کے ساتھ جو اللہ نے مقرر فرمائی تھی محفوظ کرنا مطلوب تھا۔ لیکن حدیث کے معاملہ میں اس کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کیونکہ اس میں مخصوص الفاظ اور ان کی خاص ترتیب کے وحی ہونے کا نہ دعویٰ تھا نہ تصور۔۹۲؂

اس اقتباس سے یہ تو معلوم ہوجاتا ہے کہ احادیث کی کتابت عہدنبویؐ میں نہیں کی گئی لیکن یہ سمجھنا پھر بھی مشکل ہے کہ احادیث کے لکھ لیے جانے سے کیا آفت برپا ہوجاتی؟ چلیے مان لیتے ہیں کہ احادیث کے مخصوص الفاظ اور ان کی خاص ترتیب کے وحی ہونے کا نہ دعویٰ تھا نہ تصور‘ لیکن اس کے باوجود اگر احادیث لکھ لی جاتیں تو کیا کوئی خاص دینی نقصان ہو جاتا؟ آخر اسی دور میں سیکڑوں تحریریں لکھی گئیں حالانکہ ان کے بھی وحی ہونے کا دعویٰ کسی کو نہیں تھا۔ دورِ جاہلی کے شعری مجموعے بھی تو لکھے جاتے رہے اور حیرت ہوتی ہے کہ عربوں کی یہ زبانی کلام سے کام چلانے کی ہزاروں برس پرانی عادت دیگر امور میں اُن کے آڑے نہیں آئی۔ اور ایسا ہوا تو صرف احادیث کے لکھے جانے کے معاملے میں!
مولانا سعید احمد اکبر آبادی‘ اپنی کتاب ’’فہم قرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:

بہرحال یہ ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدمبارک میں آپؐ کے اقوال و افعال کو قلم بند کرنے کا اہتمام نہیں تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپؐ کی وفات کے بعد صحابہ کرامؓ کے پاس بجز قرآن کے کوئی دوسرا صحیفہ نہ تھا۔ کسی ضرورت کے وقت اگر وہ کوئی حدیث بیان کرتے بھی تھے تو اپنے حافظہ سے بیان کرتے تھے۔۹۳؂

مولانا محترم اسی کتاب میں مزید لکھتے ہیں:

تدوین حدیث کی تحریک ۱۰۰ھ کے لگ بھگ شروع ہوگئی تھی اور حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ کے حکم سے ابن شہاب زہری اور بعض محدثین عصر نے حدیث کے مجموعے مرتب کیے۔ ان ائمہ حدیث نے یہ مجموعے اس جذبہ کے ماتحت مرتب کیے تھے کہ علماء کرام فنا ہو رہے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ علم بھی بالکل فنا ہوجائے۔۹۴؂

مولانا تقی الدین ندوی مظاہری ’’محدثین عظام‘‘ میں ارشاد فرماتے ہیں:

ان تمام باتوں کے باوجود یہ مسلّم ہے کہ قرآن مجید کی طرح حدیث کی تدوین کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔۹۵؂

ان کی تحقیق کے مطابق: ’’پہلی صدی ہجری کے اختتام تک کتابتِ حدیث کا مسئلہ مختلف فیہ رہا‘‘۔۹۶؂
اب ہم علماءِ کرام کی یہ تحقیق بھی سامنے لائیں گے اور وہ وجوہات بھی جن کے سبب بقول ان کے عہدنبوی میں احادیث کو لکھا جانا مناسب نہیں سمجھا گیا۔
محترم محمد عاصم الحداد اپنی تحقیق ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

اس زبانی روایت ہی کی بدولت مسلمانوں نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو محفوظ رکھا‘ خصوصاً اسلام کے ابتدائی دور میں جب ان پر ناخواندگی پوری طرح چھائی ہوئی تھی اور گنتی کے چند افراد کے سوا وہ سب کے سب لکھنے پڑھنے سے ناواقف تھے۔ وہ لکھنے کو اس پہلو سے پسند بھی نہ کرتے تھے کہ اس سے ان کا حافظہ کمزوری کی طرف مائل ہو سکتا تھا۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بشکل عام لکھنے سے منع فرمایا۔۹۷؂

حوالہ جات

۷۲۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ : تفھیم القرآن‘ جلد ۳‘ سورہ الانبیاء‘ حاشیہ ۶۰

* مولانا ابوالکلام آزاد ؒ نے اسی حدیث پر تنقید ان الفاظ میں کی ہے: ’’بلاشبہہ روایت صحیحین کی ہے‘ لیکن اس تیرہ سو برس کے اندر کسی مسلمان نے بھی راویانِ حدیث کی عصمت کا دعویٰ نہیں کیا‘نہ امام بخاری و مسلم کو معصوم تسلیم کیا ہے۔ کسی روایت کے لیے بڑی سے بڑی بات جو کہی گئی ہے وہ اس کی ’’صحت‘‘ ہے عصمت نہیں ہے۔ اور ’’صحت‘‘ سے مقصود صحت مصطلحۂ فن ہے نہ کہ صحت قطعی و یقینی مثل قرآن۔ روایات کی قسموں میں سے کتنی ہی بہتر قسم کی کوئی روایت ہو‘ بہرحال ایک غیرمعصوم راوی کی شہادت سے زیادہ کچھ نہیں۔ اور غیرمعصوم کی شہادت ایک لمحہ کے لیے بھی یقینیاتِ دینیہ کے مقابلہ میں تسلیم نہیں کی جاسکتی‘‘۔ (ترجمان القرآن‘ ج۲‘ ص ۴۹۹۔۵۰۰)
۷۳۔ " : رسائل و مسائل ‘ حصہ سوم‘ ص ۶۱۔۶۲
۷۴۔ " : تفھیم القرآن‘ جلد ۳‘ سورہ الحج‘ حاشیہ ۱۰۱
۷۵۔ " : تفھیم القرآن‘ جلد ۴‘ سورہ ص‘ حاشیہ ۳۶
۷۶۔ " : رسائل و مسائل ‘ حصہ پنجم‘ ص ۱۹
۷۷۔ " : رسائل و مسائل ‘ حصہ دوم‘ ص ۴۳۔۴۴
۷۸۔ " : سنت کی آئینی حیثیت‘ ص ۳۵۸۔۳۵۹
۷۹۔ مولانا محمد تقی عثمانی: علومِ القرآن‘ ص ۴۰۔۴۱

* دلیل انھیں بھی دستیاب نہ ہوسکی‘ بس دعویٰ ہی ہے کہ ’’احادیث نبویہ کے صرف معنی وحی ہیں الفاظ نہیں۔
۸۰۔ ایضاً‘ ص ۵۰
۸۱۔ مولانا محمد حنیف ندوی: مطالعہ قرآن‘ ص ۴۰۔۴۱
۸۲۔ ایضاً ‘ص ۲۲
۸۳۔ مولانا محمد تقی عثمانی: حجیتِ حدیث‘ ص ۱۰۳
۸۴۔ ایضاً‘ ص ۱۰۹
۸۵۔ مولانا محمد عبدالقیوم ندوی: فھمِ حدیث‘ ص ۱۱۔۱۷

* اس بارے میں ہم تو کچھ نہیں کہنا چاہتے مگر مولانا محمد حنیف ندوی جیسے بزرگوں کو ضرور غور کرنا چاہیے کہ وہ کیوں یہ تسلیم نہیں کرتے کہ احادیث کی تدوین کا کام عہدنبویؐ کا کارنامہ ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ فطری سوال ان کے ذہن میں کیوں پیدا ہوا۔
۸۶۔ ایضاً ‘ ص ۷۹
۸۷۔ ایضاً‘ ص ۸۲۔۸۳

* اس کتاب اور مصنف کی اہمیت کا اس بات سے اندازہ لگائیں کہ اس کا پیش لفظ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے لکھا اور فرمایا: ’’سب سے بڑی اور اہم بات یہ ہے کہ عہدِحاضر کے فتنہ انکار حدیث کے فرعونی فتنہ کے لیے ان شاء اللہ العزیز یہ تحقیقی کتاب عصائے موسٰی ؑ اور ضربِ کلیمی کا کام دے گی‘‘۔ (تاریخ تدوین حدیث‘ ص ۱۶)
۸۸۔ ڈاکٹر محمد زبیر صدیقی‘ ایم اے‘ پی ایچ ڈی: تاریخ تدوینِ حدیث‘ ص ۲۳۔۲۴
۸۹۔ ابو عبداللہ الحاکم نیشاپوری: معرفۃ علومِ الحدیث (ترجمہ مولانا محمد جعفرشاہ پھلواری)‘ ص ۱۸
۹۰۔ علامہ راغب الطباخ: تاریخ افکار و علومِ اسلامی ‘حصہ اول (ترجمہ افتخار احمد بلخی)‘ ص ۳۸۴
۹۱۔ ایضاً‘ ص ۳۸۶۔۳۸۷
۹۲۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ : سنت کی آئینی حیثیت‘ ص ۳۵۲۔۳۵۳
۹۳۔ مولانا سعید احمد اکبر آبادی: فھمِ قرآن‘ ص ۹۹۔۱۰۰
۹۴۔ ایضاً‘ ص ۱۰۲‘ ۱۰۳‘ ۱۰۴
۹۵۔ مولانا تقی الدین ندوی مظاہری: محدثین عظام اور ان کے علمی کارنامے‘ ص ۴۷
۹۶۔ ایضاً‘ ص ۵۸
۹۷۔ محمد عاصم الحداد: سنت کیا ھے اور کیا نھیں‘ ص ۳۳

____________