جناب خالد علوی بھی کم و بیش ان ہی الفاظ میں یہی وجہ بیان کرتے ہیں کہ ابتدائی دور میں احادیث نبویؐ نہیں لکھی گئی تھیں۔ کیوں؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب لکھنے پڑھنے کوپسند نہیں کرتے تھے۔ صحرائی قبائل لکھنے پڑھنے کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے اور لکھنے پڑھنے کے خلاف حقارت کا یہ جذبہ آج تک صحرائی قبائل میں بدستور باقی ہے۔ کتابت کی طرف عدم رجحان اور حافظے پر اعتماد کی وجہ سے لوگ یاد کر لیتے۔۹۸؂

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اس میں ایک اور وجہ کا اضافہ کرتے ہیں:

اہلِ عرب ہزاروں برس سے اپنے کام کتابت کے بجائے حفظ و روایت اور زبانی کلام سے چلانے کے عادی تھے۔ ان حالات میں قرآن کو محفوظ کرنے کے لیے تو کتابت ضروری سمجھی گئی۔ لیکن حدیث کے معاملہ میں اس کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کیونکہ اس میں مخصوص الفاظ اور ان کی خاص ترتیب کے وحی ہونے کا دعویٰ نہ تھا۔ (ملاحظہ کیجیے‘ حوالہ نمبر ۹۲)

حضرت پیر محمد کرم شاہ بھی یہی تحقیق پیش کرتے ہیں:

جن احادیث میں قرآن کریم کے بغیر کچھ اور لکھنے سے منع کیا گیا ہے اس کے مخاطب عام لوگ ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب عام طور پر لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔۹۹؂

جناب خالد علوی صاحب نے ایک وجہ اور بھی لکھی ہے:

صاحبِ توجیہہ النظر نے ابن قتیبہ سے توجیہہ نقل کی ہے کہ ’’آنحضوؐر کے اکثر صحابہؓ علمِ رسم الخط سے پوری طرح واقفیت نہیں رکھتے تھے اور ان کی تحریر کردہ باتوں میں غلطی اور شبہ کا احتمال غالب تھا اور استفادہ بھی نہیں ہو سکتا تھا اس لیے حضوؐر نے کتابتِ حدیث کی ممانعت فرما دی۔۱۰۰؂

محمد عاصم الحداد کو ‘ جنھوں نے پہلے یہ دلیل دی تھی عدمِ کتابت کی وجہ حافظہ کو کمزور ہونے سے بچانا تھی‘ اب ایک اور وجہ بھی یاد آگئی۔ آپ لکھتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایسے صحابہ کی تعداد اچھی خاصی ہوگئی جو احادیث کو لکھا کرتے تھے کیونکہ وحی ختم ہوجانے اور قرآن مکمل طور پر تحریری صورت میں آجانے کے بعد اب یہ اندیشہ نہ رہا تھا کہ وہ قرآن سے خلط ملط ہوجائیں۔۱۰۱؂

حضرت پیر محمد کرم شاہ بھی (حوالہ نمبر۹۹) عربوں کے اَن پڑھ ہونے کے علاوہ اختلاط والی وجہ بھی کا اضافہ بھی کرتے ہیں :

اگر سنتِ نبویؐ کو لکھنے کی عام اجازت دی جاتی تو اس سے اندیشہ تھا کہ کہیں نوآمیزی کے باعث آیاتِ قرآنی کے ساتھ احادیث کا اختلاط نہ ہوجائے‘‘۔*۱۰۲؂

یہ اختلاط والی وجہ بہت سے دوسرے علمائے کرام نے بھی لکھی ہے۔
ابو عبداللہ الحاکم نیشاپوری نے ’’معرفۃ علوم الحدیث‘‘ میں یہی وجہ لکھی ہے:

اس سے قرآن کے ساتھ حدیث کے خلط ملط ہوجانے کا اندیشہ تھا۔۱۰۳؂

علامہ راغب الطباخ نے ’’تاریخ افکار وعلوم اسلامی‘‘ میں اس کے علاوہ ایک اور وجہ بھی بیان کی ہے۔
اس کی دو وجہیں تھیں: ایک تو یہ کہ شروع شروع میں لوگ کتابتِ حدیث سے روک دیے گئے تھے‘ جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک روایت سے اس پر روشنی پڑتی ہے۔ کیونکہ اندیشہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ کچھ احادیث قرآن عظیم سے خلط ملط ہو جائیں اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اولاً بہتیرے لوگ لکھنا بھی نہیں جانتے تھے اور ثانیاً اس کی چنداں ضرورت بھی نہ تھی اس لیے کہ لوگوں کا حافظہ نہایت قوی تھا اور ان کے اذہان بہت تیز تھے۔۱۰۴؂
مولانا محمد حنیف ندوی بھی ’’اختلاط‘‘ والی دلیل دیتے ہیں اور اسے اصل وجہ قرار دیتے ہیں:

اصل وجہ یہ تھی کہ اس دور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کے سامنے اہم مسئلہ یہ تھا کہ تحریر کی صورت میں کہیں احادیث رسولؐاور قرآن کی آیات میں اختلاط نہ ہو جائے۔۱۰۵؂

مولانا تقی الدین ندوی مظاہری نے اختلاط والی وجہ تو نہیں لکھی البتہ انھوں نے بھی تین وجوہات لکھی ہیں: وہ فرماتے ہیں کہ احادیث کی کتابت اس لیے نہیں کی گئی کیونکہ:
۱۔ صحابہ کرامؓ کی جماعت مختصر تھی‘ انھیں دین سارے عالم میں پہنچانا تھا۔ تصنیف و تالیف کے لیے سکون و اطمینان کی ضرورت ہے۔
۲۔ وہ حافظے کے قوی تھے‘ انھیں کتابت کی چنداں ضرورت نہ تھی۔
۳۔ عام طور پر عربوں میں لکھنے کا رواج نہیں تھا۔۱۰۶؂
ڈاکٹر صبحی صالح بھی اختلاط کے خدشے کو بیان کرتے ہیں البتہ ان کے ہاں باقی وجوہات کا تذکرہ نہیں ملتا۔ وہ احادیث کے تحریر نہ کیے جانے کے متعلق فرماتے ہیں:

اسی لیے آغاز اسلام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے سوا دوسری چیزوں کے لکھنے کی ممانعت کر دی تھی تاکہ قرآن اپنے کلامِ ربانی ہونے کی صفت کو اپنے لیے مخصوص کر سکے اور کسی ایسی چیز سے مخلوط نہ ہو جو اس تقدس سے محروم ہو۔* ۱۰۷؂

آخر میں ہم سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک اقتباس نقل کرتے ہیں‘ جس میں انھوں نے تین وجوہات بیان کی ہیں جن کی بنا پر عہدنبویؐ میں احادیث نہیں لکھی گئیں تھیں۔ آپ رقمطراز ہیں:

پہلی بات جو اس باب میں جاننی ضروری ہے وہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس زمانے میں مبعوث ہوئے ہیں اس وقت عرب کی پوری قوم اَن پڑھ تھی اور اپنے سارے معاملات حافظے اور زبان سے چلاتی تھی۔ کتابت کے لیے کاغذ ناپید تھا۔ جِھلیوں اور ہڈیوں اور کھجور کے پتوں پر تحریریں لکھی جاتی تھیں۔ ان حالات میں جب حضوؐر مبعوث ہوئے تو آپؐ کے سامنے اولیں کام یہ تھا کہ قرآن مجید کو اس طرح محفوظ کریں* کہ اس میں کسی دوسری چیز کی آمیزش نہ ہونے پائے۔۔۔ آمیزش نہ ہوگی تو کم از کم شک پڑ جائے گا کہ ایک چیز آیتِ قرآنی ہے یا حدیث رسول؟۱۰۸؂

یہ سارے علمائے کرام اس بات پر تو متفق ہیں کہ عہد رسالتؐ میں احادیث نہ صرف کہ تحریر نہیں کی گئیں بلکہ اس کی ممانعت تھی۔ اس سے یہ بات تو قطعی طور پر ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ موقف کوئی جاندار موقف نہیں کہ احادیث عہدرسالتؐ میں ہی لکھی جاچکی تھیں یا کم از کم ان کا بڑا حصہ ضبطِ تحریر میں آچکا تھا۔ البتہ ان علمائے کرام کے نزدیک عہدنبوت میں حدیث کے نہ لکھے جانے کی مختلف وجوہات ہیں۔ ہم ان سب وجوہات کا پہلے خلاصہ درج کرتے ہیں۔ پھر ان پر تبصرہ کریں گے۔ ان تمام اقتباسات کا جائزہ لیں تو درج ذیل وجوہات سامنے آتی ہیں:
۱۔ عرب اَن پڑھ قوم تھی۔ چند افراد کے سوا سب کے سب لکھنے پڑھنے سے ناواقف تھے۔
۲۔ عرب حافظے کے تیز تھے۔ وہ لکھنے کو اس پہلو سے پسند نہیں کرتے تھے کہ حافظہ کمزوری کی طرف مائل ہو سکتا تھا۔
۳۔ صحابہ کرامؓ علمِ رسم الخط سے پوری طرح واقف نہ تھے۔ ان کی تحریر کردہ باتوں میں غلطی اور شبہ کا احتمال غالب تھا۔
۴۔ اندیشہ تھا کہ لوگ احادیث کو قرآن سے خلط ملط کر دیتے۔ اور بقول مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ لوگ شک میں تو پڑ ہی سکتے تھے کہ ’’ایک چیز آیتِ قرآنی ہے یا حدیث رسولؐ،،۔
۵۔ صحابہ کرامؓ کی جماعت ایک مختصر جماعت تھی‘ جنھیں سارے عالم میں دین پہنچانا تھا۔
۶۔ تصنیف و تالیف کے لیے سکون و اطمینان کی ضرورت ہوتی ہے (یعنی صحابہ کرامؓ جہاد اور تبلیغِ دین میں مشغول تھے)۔
۷۔ اصل میں کتابت کے لیے کاغذ ہی ناپید تھا‘ احادیث کس پر لکھی جاتیں؟
بالعموم یہی وہ وجوہات ہیں جو عہدِرسالتؐ میں احادیث کے نہ لکھے جانے کی بنیاد بتائی جاتی ہیں۔ یہاں پر ہم انتہائی اختصار سے درج بالانکات پر بالترتیب روشنی ڈالتے ہیں:
۱۔ کیا عرب اَن پڑھ قوم تھی اور چند افراد کے سواسب کے سب لکھنے پڑھنے سے ناواقف تھے؟
قرآن مجید کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہلِ عرب نے قرآن کو خدا کی کتاب ماننے کے بجائے اسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصنیف قرار دیا اور یہ کہا کہ دراصل انھیں ایک شخص لکھوا جاتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ قرآن کو انسانی کلام قرار دینے کا صریحاً مطلب یہ ہے کہ یہ انسان کے بس میں ہے کہ جب چاہے وہ اس طرح کا کلام بنا کر پیش کر دے۔ مگر قرآن نے تمام اہلِ عرب کو یہ چیلنج ببانگِ دہل‘ اور بار بار دیا۔ سورہ ہود میں ارشاد ہوا ہے:

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰۂُ ط قُلْ فَاْتُوْا بِعشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِہٖ مُفْتَریٰتٍ وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (آیت ۱۳)
کیا یہ منکرین کہتے ہیں کہ رسولؐ نے (اپنی طرف سے یہ آیتیں بنا کر اللہ تعالیٰ پر) ان کا افترا کیا ہے؟ کہہ دو تو ایسی ہی دس سورتیں تم بھی بنا کر لاؤ اور اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو بھی پکار سکو‘ اگر تم سچے ہو؟

یہ کھلا ہوا چیلنج کفار و مشرکین عرب کے پاس پہنچا تو وہ گنگ ہوکر رہ گئے۔ جب وہ اس کا جواب نہ پیش کر سکے تو ان پر بڑے جامع انداز میں تبصرہ کیا گیا۔ سورہ بنی اسرائیل (الاسراء) میں فرمایا گیا:

قُلْ لَّءِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلآی اَنْ یَّاتُوْا بِمِثْلِ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَأتُوْنَ بِمِثْلِہٖ وَلَوْ کَانَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ ظَہِیْرًا (آیت ۸۸)
کہہ دو اے رسولؐ اگر تمام جن و انس اس بات کے لیے مجتمع ہوں کہ اس قرآن کی مثال بنا کر لائیں تو اس کی مثال نہیں لاسکتے‘ اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہو جائیں۔

اس کے بعد اس چیلنج کو دوبارہ اور زیادہ پرزور انداز میں یوں پیش کیا گیا:

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰ ۂُ ط قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّثْلِہٖ وَادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (یونس: ۳۸)
یہ منکرین ابھی تک یہ کہتے ہیں (اس کتاب کو رسولؐ نے اپنی طرف سے بناکر) اللہ تعالیٰ پر افترا کیا ہے۔ کہہ دو تو تم بھی لے آؤ اس جیسی صرف ایک ہی سورہ اور اللہ کے سوا جن کو بھی (اپنی مدد کے لیے) پکار سکو تو پکار لو اگر تم سچے ہو!

یہی چیلنج سورہ البقرہ میں بھی دہرایا گیا ہے۔ ہم جس نکتے پر زور دینا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ چیلنج ایک اَن پڑھ قوم کو دیا گیا تھا یا ایک پڑھی لکھی قوم کو۔ ایک اَن پڑھ قوم کے سامنے ایک معمولی سی تحریر بھی ایک معجزہ کی حیثیت سے پیش کی جا سکتی ہے کیونکہ جواب کی تو توقع ہی نہیں۔ یہ چیلنج معجزہ تبھی ہو سکتا ہے جب مخاطبین اَن پڑھ نہیں بلکہ پڑھے لکھے طبقے سے تعلق رکھتے ہوں۔ اگر یہ بات فی الواقع درست ہوتی تو ہزاروں زبانیں اسی وقت شور مچانا شروع کر دیتیں کہ ہمارے سامنے یہ چیلنج رکھنا کیا معنی رکھتا ہے؟ ہم تو ناخواندہ قوم ہیں‘ ہم کیسے قرآن جیسا کلام پیش کر سکتے ہیں! اہلِ عرب کے معترضین کے اعتراضات قرآن نے نقل کیے ہیں مگر یہ اعتراض نقل نہیں کیا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ عرب کوئی اَن پڑھ قوم نہیں تھی۔
حیرت ہوتی ہے کہ قرآن میں ان آیات کی موجودگی میں اہلِ عرب کو ایک ناخواندہ قوم قرار دیا جاتا ہے۔ کوئی بھی معاشرہ ماضی میں سو فی صد پڑھا لکھا یا اَن پڑھ نہیں تھا۔ مولانا محمد تقی عثمانی‘ علوم القرآن میں یہ شہادت فراہم کرتے ہیں کہ:

قرآن کریم کے مخاطب الہڑ دیہاتی بھی ہیں‘ پڑھے لکھے لوگ بھی اور اعلیٰ درجے کے علما اور ماہرین فنون بھی۔۱۰۹؂

قرآن کے مخاطب کس قسم کے لوگ تھے‘ اس کے متعلق وہ لکھتے ہیں:

ہر شاعر اور ادیب کی فصاحت و بلاغت کا ایک مخصوص میدان ہوتا ہے‘ جس سے ہٹ کر اس کا کلام پھیکا پڑ جاتا ہے۔ عربی میں امرؤالقیس نسیب و غزل کا امام ہے‘ نابغۂ خوف و ہیبت کے بیان میں‘ اعشٰی حسنِ طلب اور وصف میں‘ اور زُہیر رغبت و امید میں بے نظیر ہے۔

یہ تھے وہ لوگ اور ان جیسے شاعر و ادبا جن کو قرآن نے چیلنج دیا۔ اہلِ عرب کوئی اَن پڑھ قوم نہیں تھی۔ اس بارے میں مولانا مناظر احسن گیلانیؒ بڑی ہی خوبصورت بات لکھتے ہیں:

میں اس کا تو قائل نہیں جیسا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ عرب کے ایامِ جاہلیت کا یہ مطلب ہے کہ ان کی حالت ہندوستانی بھیلوں اور گونڈوں کی تھی۔ نہ صرف قریش بلکہ اور بھی دوسرے قبائل کے صحیح حالات سے جو واقف ہیں وہ ایک سیکنڈ کے لیے یہ تسلم کرنے کے لیے تیار نہیں ہو سکتے‘ جبکہ جیسا کہ عنقریب آپ کے سامنے اس کی تفصیل آئے گی۔ ’’جاہلیت‘‘ کا یہ ترجمہ کرنا کہ وہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے‘ عربی زبان اور قرآن مجید کے عام محاوروں کے خلاف ہے۔ جو عربوں کی جہالت کا یہ مطلب سمجھتا ہے وہ دراصل واقعات سے جاہل ہے۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ لکھنے پڑھنے کے سلسلے میں عرب کا بھی تقریباً وہی حال تھا جو عموماً اس زمانہ میں اگر کامل متمدن ممالک نہیں تو نیم متمدن ممالک کا تھا۔ یعنی جس طرح قدیم زمانے میں تقریباً ہر ملک اور قوم میں لکھنے پڑھنے والوں کا ایک خاص پیشہ ور طبقہ ہوتا تھا اور عام پبلک کو اس سے چنداں تعلق نہیں تھا‘ نہ اس کی اتنی اہمیت تھی۔ کسی میں موبدوں‘ کسی میں برہمنوں‘ الغرض اسی قسم کے لوگوں کے ساتھ یہ کام مخصوص تھا۔ اگر بالکلیہ نہیں تو قریب قریب عرب کا بھی یہی حال تھا۔ آیندہ یہ بتایا جائے گا کہ عرب میں بھی ایک خاص تعداد خواندوں اور نویسندوں کی تھی۔ نہ صرف مرد‘ بلکہ ایامِ جاہلیت میں بھی بعض عورتیں پائی جاتی تھیں۔ شرفاء ہی نہیں بلکہ غلاموں میں بھی ایسے افراد موجود تھے۔۱۱۰؂

مولانا محمد حنیف ندوی صاحب‘ اس دلیل کا تجزیہ ان الفاظ میں کرتے ہیں:

اس کی ایک توجیہہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ آنحضرتؐ جس وقت منصبِ نبوت سے سرفراز ہوئے اس وقت مکہ مکرمہ میں دس سے کچھ ہی زائد افراد ایسے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ لطف یہ ہے کہ عام مورخین بھی یہی کہتے چلے آرہے ہیں کہ ’’عربوں میں اس دور میں لکھنے کا رواج کم تھا۔ ہم جو بات کہنا چاہتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ اگرچہ ان کی اکثریت جاہل تھی تاہم ان میں فنِ کتابت سے آشنا افراد کی تعداد اتنی کم نہ تھی جتنی کہ عام طور سے بیان کی جاتی ہے۔
آنحضرتؐ کی بعثت سے پہلے مکہ مکرمہ نہ صرف ایک معبد کی حیثیت سے مشہور تھا بلکہ کاروبار اور تجارت کا بہت بڑا مرکز بھی تھا اور یہ بات قرین قیاس نہیں معلوم ہوتی کہ کاروباری طبقہ تحریر و کتابت کی صلاحیتوں سے یکسر محروم ہو یا اس کی ضرورت و اہمیت سے قطعی ناواقف ہو۔ مکہ والے فنِ کتابت سے بہرہ مند تھے‘ اس کی تائید اس واقعہ سے ہوتی ہے کہ غزوۂ بدر میں جو لوگ اسیر ہوکرآنحضرتؐ کی خدمت میں پیش ہوئے‘ آنحضرتؐ نے ان کا فدیہ مقرر کیا کہ ان میں کا ہر ایک فرد مدینہ کے بچوں کو کتابت و قرأت کی تعلیم دے۔ مزیدبرآں کیا یہ حقیقت نہیں کہ وہ لوگ جن کو کاتب وحی کے پُرافتخار لقب سے نوازا جاتا ہے‘ جو تعداد میں چالیس سے کم نہیں تھے‘ ان میں اکثریت ان اصحاب ہی کی تھی جن کا تعلق مکہ مکرمہ سے تھا۔ ورقہ بن نوفل مکہ ہی کا رہنے والا تھا۔ اس نے زمانۂ جاہلیت میں تورات اور انجیل کو عربی تحریر میں منتقل کیا۔ زمانۂ جاہلیت میں عربی میں لکھنے پڑھنے کا رواج تھا۔ اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ قرآن حکیم میں ان تمام لوازم کا ذکر ہے جو لکھنے پڑھنے سے متعلق ہیں‘ مثلاً قرطاس‘ قلم‘ سیاہی وغیرہ۔ اسی طرح اور الفاظ بھی قرآن میں مذکور ہیں جن سے مکہ والوں کی تحریری صلاحیتوں کا پتا چلتا ہے‘ جیسے مرقوم‘ مسطور‘ سفرہ‘ کاتب‘ اسفار‘ زبر‘ صحف‘ سجل وغیرہ۔
مدینہ منورہ میں تشریف لے جاکر آنحضرتؐ نے تعلیم و تعلّم کی طرف زیادہ توجہ مبذول فرمائی اور اس طرح لکھنے پڑھنے کا دائرہ اور وسیع ہوا۔ اس دور میں مساجد علم کا مرکز تھیں اور مدینہ میں نو مسجدیں تھیں‘ جہاں مختلف قبائل کے بچے تعلیم پاتے تھے۔ خصوصیت سے مسجدنبویؐ میں ایک مقام جسے ’’صفہ‘‘ کہا جاتا ہے‘ تعلیم کا بہت بڑا مرکز تھا۔ یہاں صحابہؓ صبح و شام تحصیلِ علم میں مشغول رہتے۔ عبداللہ بن سعید بن العاصؓ انھیں لکھنا پڑھنا سکھاتے‘ جو اس فن کی باریکیوں سے اچھی طرح آگاہ تھے‘ اور آنحضرتؐ نے خود انھیں اس کام کے لیے مامور فرمایا تھا۔ اہلِ علم اس حقیقت سے بھی ناآشنا نہ ہوں گے کہ پہلی صدی ہجری میں آنحضرتؐ نے مردم شماری کا حکم دیا تھا اور فرمایا تھا کہ مدینے میں ان تمام بسنے والوں کی تعداد معلوم کی جائے‘ جو آغوشِ اسلام میں آچکے ہیں۔ چنانچہ صحیح بخاری میں باب کتابۃ الامام للناس کے تحت اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ مردم شماری میں ایک ہزار پانچ صد مسلمانوں کے نام درج کیے گئے۔
اس تجزیہ سے یہ حقیقت بھی نکھر کر سامنے آجاتی ہے کہ آنحضرتؐ کے عہدمبارک میں جو احادیث و سنن کی باقاعدہ اور رسمی تدوین نہیں ہوپائی تو اس کی وجہ صرف یہ نہ تھی کہ صحابہ میں پڑھے لکھے لوگ بہت کم تھے۔۱۱۱؂

یہ اقتباس ذرا طویل ہوگیا لیکن یہ ضروری تھا تاکہ قرآن کی تصریحات کے علاوہ دوسرے اہلِ علم کی رائے سے بھی آگاہی ہوجائے کہ عرب کوئی اَن پڑھ قوم نہ تھی۔
۲۔ بعض علمائے کرام نے عہدِ رسالت میں احادیث کے نہ لکھے جانے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ عرب حافظے کے تیز تھے اور لکھنے کو اس پہلو سے پسند نہیں کرتے تھے کہ حافظہ کہیں کمزور نہ ہو جائے۔
یہ وجہ بذاتِ خود اتنی کمزور اور غیرمعقول ہے کہ زیادہ تر علماءِ کرام نے اس کو قابلِ ذکر بھی نہ سمجھا۔ اس کی وجہ دراصل یہ ہے یہ دلیل خود اپنے اندر تضاد رکھتی ہے۔ اگر عرب لکھنے کو اس لیے پسند نہ کرتے تھے کہ ان کی قوتِ حافظہ کمزور پڑ جائے تو یہی قوتِ حافظہ قرآن مجید کے لیے کیوں نہ کافی سمجھی گئی؟ کیا صرف اقوال و افعال رسول کے لکھے جانے سے ہی قوتِ حافظہ پر فرق پڑ سکتا تھا؟ قرآن کے نازل کیے جانے سے پہلے کیا شاعر و ادبا صرف زبانی کام چلاتے تھے؟ اگر یہ بات درست ہے تو خانہ کعبہ پر ایامِ جاہلیت کے شعراء کس طرح اپنے اپنے اشعار لٹکایا کرتے تھے؟ یہ اشعار قوتِ حافظہ کے بل بوتے پر لٹکے ہوتے تھے یا کاغذوں پر لکھے ہوتے تھے؟ اشعار کو لکھنے سے عربوں کے حافظے کیوں کمزور نہیں ہوتے تھے؟ یہ خدشہ صرف مسلمانوں ہی کو لاحق ہوا اور وہ بھی احادیث رسول کو لکھنے کے معاملے میں ورنہ باقی کام مثلاً تجارت وغیرہ میں تو لکھنے سے عربوں کے حافظے پر کوئی فرق پڑنا تو تاریخ میں مذکور نہیں۔
یہاں یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردم شماری کا حکم دیا اور بخاری کی شہادت کے مطابق ایک ہزار پانچ سو مسلمانوں کے نام لکھے گئے (بحوالہ نمبر ۱۱۱) تو اس وقت عربوں کے حافظہ پر بھروسہ کیوں نہ کیا گیا؟ فی الواقع یہ دلیل اتنی بودی ہے کہ زیادہ تر اہل فکرودانش اسے قابلِ التفا ہی نہیں سمجھتے۔
مولانا محمد اسماعیل السلفی نے ’’حجیتِ حدیث‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’صحابہ کرامؓ نے ضخیم کتابیں بطور تذکرہ جمع فرمائیں‘‘ (ص ۴۶)۔ حیرت ہوتی ہے کہ اِن بزرگوں کے بقول صحابہ کرامؓ ایک طرف تو لکھنے کو پسند ہی نہیں کرتے تھے اور دوسری طرف ضخیم کتابیں بھی لکھ ڈالیں! یہ تو تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ ماضی میں اہلِ عرب کی قوتِ حافظہ غیرمعمولی تیز رہی ہو مگر یہ کس طرح مان لیں کہ یہ قوت حدیث ہی کے لکھے جانے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی تھی؟ حضور اکرمؐ کے عہد مبارک میں قوتِ حافظہ پر اعتبار کرنے کے بجائے کئی چیزیں لکھے جانے کا ثبوت ملتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا انتہائی غلط ہے کہ احادیث اس لیے نہ لکھی گئی تھیں کہ حافظہ کی قوت داؤ پر لگی ہوئی تھی اور صحابہ کرامؓ یہ ’’نقصان‘‘ برداشت کرنے پر آمادہ نہ تھے۔
۳۔ احادیث کے عہدرسالت میں نہ لکھے جانے کی تیسری وجہ صرف جناب خالد علوی صاحب نے بتائی ہے (حوالہ نمبر۱۰۰) کہ حضوؐر کے صحابہؓ رسم الخط سے پوری طرح واقف نہ تھے اور نیز یہ کہ ان کی تحریر کردہ باتوں میں غلطی اور شبہ کا احتمال غالب تھا۔
ہم جناب علوی سے صرف اتنا ہی دریافت کرسکتے ہیں کہ جب صحابہ کرامؓ رسم الخط سے واقف نہ تھے تو انھوں نے قرآن مجید کس طرح لکھ ڈالا؟ اور دوسری بات یہ کہ آپ نے پھر یہ کیوں لکھا کہ احادیث کے نہ لکھنے جانے کی وجہ یہ تھی کہ عرب لکھنے پڑھنے کو پسند ہی نہیں کرتے تھے؟ (حوالہ نمبر۹۸)۔ رسم الخط کو نہ جاننا ایک الگ بات ہے اور سرے سے لکھنے پڑھنے ہی کو ناپسند کرنا بالکل ایک دوسری بات۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ ہماری معلومات کے مطابق‘ کسی دوسرے اہلِ علم نے رسم الخط کے نہ جاننے والی بات کا ذکر تک نہیں کیا۔ مسلمانوں میں سے‘ کم و بیش‘ ہر کوئی جانتا ہے کہ قرآن مجید اور بعض احادیث کے علاوہ کئی دوسری چیزیں بھی تحریر کی گئیں تھیں اور یہ ظاہر ہے کہ رسم الخط کو جانے بغیر نہ تو یہ چیزیں لکھی جا سکتی تھیں اور نہ قرآن۔ ہم اس ’’دلیل‘‘ کو ڈوبتے کو تنکے کا سہارا تو کہہ سکتے ہیں لیکن اسے ’’دلیل‘‘ قرار دینا لفظ دلیل کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہوگا۔
اور پھر ذرا یہ بھی ارشاد فرمایا ہوتا کہ ان کی تحریر کردہ باتوں میں غلطی اور شبہ کا احتمال غالب تھا تو کتابتِ قرآن کو اس شبہے کے احتمال سے بچانے کی کیا صورت ہوگی؟
۴۔ چوتھی وجہ سب سے زیادہ بیان کی گئی ہے اور جمہور کا ہر دلعزیز قول بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ احادیث کے لکھے جانے کی صورت میں قرآن اور حدیث کے خلط ملط ہوجانے کا اندیشہ تھا حتیٰ کہ بقول مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ لوگ شک میں تو پڑ ہی سکتے تھے کہ ’’ایک چیز آیتِ قرآنی ہے یا حدیث رسول‘‘۔
اس دلیل پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس پر ہم اپنی طرف سے کچھ کہنے کے بجائے ان ہی حضرات علماءِ کرام کی تحریروں سے استفادہ کرنا زیادہ موزوں سمجھتے ہیں۔ کیا قرونِ اولیٰ میں مسلمان کبھی اس غلط فہمی میں پڑ سکتے تھے کہ کوئی حدیث‘ قرآن کی آیت ہے یا حدیث رسولؐ؟ اس کے بارے میں خود مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ، سورہ التکاثر کی تفسیر میں‘ زمانۂ نزول پر بحث کرتے ہوئے بڑے دو ٹوک انداز میں لکھتے ہیں:

حضرت اُبیؓ کے اس بیان سے یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ صحابہ کرامؓ کس معنی میں حضوؐر کے اس ارشاد کو قرآن میں سے سمجھتے تھے۔ اگر اس کا مطلب یہ ہو کہ وہ اسے قرآن کی ایک آیت سمجھتے تھے تو یہ بات ماننے کے لائق نہیں ہے‘ کیونکہ صحابہؓ کی عظیم اکثریت ان اصحاب پر مشتمل تھی جو قرآن کے حرف حرف سے واقف تھے‘ ان کو یہ غلط فہمی کیسے لاحق ہو سکتی تھی کہ یہ حدیث قرآن کی ایک آیت ہے؟‘‘۱۱۲؂

صحابہ کرامؓ کیوں اس غلط فہمی میں نہیں پڑسکتے تھے؟ اس کی وجہ بھی مولانا مرحوم کی زبانی سنیے۔ مولانا اپنی شہرۂ آفاق تفسیر‘ تفہیم القرآن جلد دوم میں رقمطراز ہیں:

قرآن کے کلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے کلام میں زبان اور اسلوب کا اتنا نمایاں فرق ہے کہ کسی ایک انسان کے دو اس قدر مختلف اسٹائل کبھی نہیں ہوسکتے۔ یہ فرق صرف اسی زمانہ میں واضح نہیں تھا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لوگوں میں رہتے سہتے تھے بلکہ آج بھی حدیث کی کتابوں میں آپؐ کے سیکڑوں اقوال اور خطبے موجود ہیں۔ ان کی زبان اور اسلوب‘ قرآن کی زبان اور اسلوب سے اس قدر مختلف ہیں کہ زبان و ادب کا کوئی رمز آشنا نقاد یہ کہنے کی جرأت نہیں کر سکتا کہ یہ دونوں ایک ہی شخص کے کلام ہو سکتے ہیں‘‘۔۱۱۳؂

اگر قرآن اور حدیث کی زبان ہی مختلف ہے‘ ان کے اسلوب بھی جدا ہیں‘ اور اُس زمانے میں ہی نہیں‘ عصرِحاضر میں ہم جیسے لوگ بھی غلط فہمی میں نہیں پڑسکتے تو عہدِرسالتؐ میں لوگ کیوں کر ’’شک میں پڑسکتے تھے کہ کیا قرآن ہے اور کیا حدیث؟‘‘کیا یہ بات کسی بھی لحاظ سے قابلِ فہم ہے؟
یہی بات آپ نے تفہیم القرآن جلد چہارم (سورہ الاحقاف) میں لکھی ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے کلام کی شان بھی وہ نہ تھی جو خدا کی طرف سے آپؐ پر نازل ہونے والے کلام میں نظر آتی ہے۔ جو لوگ بچپن سے آپؐ کو دیکھتے چلے آرہے تھے وہ خوب جانتے تھے کہ آپؐ کی زبان اور قرآن کی زبان میں کتنا عظیم فرق ہے اور ان کے لیے یہ باور کرنا ممکن نہ تھا کہ ایک آدمی جو چالیس پچاس برس سے شب و روز ان کے درمیان رہتا ہے وہ یکایک کسی وقت بیٹھ کر ایسا کلام گھڑ لیتا ہے جس کی زبان میں اس کی اپنی جانی پہچانی زبان سے قطعاً کوئی مشابہت نہیں پائی جاتی۔۱۱۴؂

اس اقتباس سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ صرف صحابہ کرامؓ کی عظیم اکثریت ہی نہیں عام کفار بھی یہ فرق بتاسکتے تھے کہ قرآن کی زبان الگ ہے اور حدیث کی زبان الگ۔ پھر بھی یہ کہنا کہ قرآن اور حدیث خلط ملط ہوسکتے تھے یا کسی کو یہ شک پڑسکتا تھا کہ پتہ نہیں فلاں عبارت قرآن کی آیت ہے یا رسول کا قول‘ ہم نہیں سمجھتے کہ کسی بھی لحاظ سے درست ہوسکتا ہے یا یہ دلیل قابلِ اعتنا بھی ہے۔ اسی بات کی مزید وضاحت مولانا مرحوم اپنی تفسیر کی جلد پنجم میں یوں کرتے ہیں:

جس رہنما کی زبان پر یہ خطبے اور جملے جاری ہوتے تھے وہ یکایک کسی گوشے سے نکل کر صرف ان کو سنانے کے لیے نہیں آجاتا تھا اور انھیں سنانے کے بعد کہیں چلا نہیں جاتا تھا۔ وہ اس تحریک کے آغاز سے پہلے بھی انسانی معاشرے میں زندگی بسر کرچکا تھا اور اس کے بعد بھی وہ زندگی کی آخری ساعت تک ہر وقت اُسی معاشرے میں رہتا تھا۔ اس کی گفتگو اور تقریروں کی زبان اور طرزِبیان سے لوگ بخوبی آشنا تھے۔ احادیث میں اُن کا ایک بڑا حصہ اب بھی محفوظ ہے جسے بعد کے عربی دان لوگ پڑھ کر خود بآسانی دیکھ سکتے ہیں کہ اُس رہنما کا اپنا طرزِ کلام کیا تھا۔ اس کے ہم زبان لوگ اس وقت بھی صاف محسوس کرتے تھے اور آج بھی عربی زبان کے جاننے والے یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس کتاب (قرآن) کی زبان اور اس کا اسٹائل اس رہنما کی زبان اور اُس کے اسٹائل سے بہت مختلف ہے حتیٰ کہ جہاں اس کے کسی خطبے کے بیچ میں اس کتاب کی کوئی عبارت آجاتی ہے وہاں دونوں کی زبان کا فرق بالکل نمایاں نظر آتا ہے۔
مسلسل ۲۳ سال تک ایسا ہونا کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ ایک شخص جب خدا کی طرف سے آئی ہوئی وحی کے طور پر کلام کرے تو اس کی زبان اور اسٹائل کچھ ہو اور جب خود اپنی طرف سے گفتگو یا تقریر کرے تو اس کی زبان اور اس کا اسٹائل بالکل ہی کچھ اور ہو۔*۱۱۵؂

یہی بات مولانا محترم نے شفیق بریلوی‘ ایڈیٹر ’’خاتونِ پاکستان‘‘ کراچی کو ایک خط کے جواب میں لکھی تھی۔ یہ خط مکاتیب سید ابوالاعلیٰ مودودی حصہ اول کے صفحہ نمبر ۱۳۷ پر موجود ہے۔ اس خط کا نمبر ۱۰۱ اور تاریخ ۱۱ فروری ۱۹۶۵ء ہے۔
مولانا محترم کے اس اقتباس سے معلوم ہوا کہ:

___ اُس دور کے لوگوں کو بھی معلوم تھا کہ قرآن کی زبان الگ ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان الگ۔ یہ بات صرف صحابہ کرامؓ ہی نہیں عام لوگ بھی جانتے تھے۔
___ اس دور کے لوگ بھی یہ پہچانتے ہیں کہ قرآن اور حدیث کی زبان اور اسلوب میں زمیں و آسمان کا فرق ہے۔ حتیٰ کہ اُن کے اپنے خطبے کے دوران اگر کوئی قرآنی آیت یا جملہ استعمال ہوا ہے تو فوراً پہچان لیا جاتا ہے‘ محض اس لیے کہ دونوں کا اسلوب اور زبان ہی جدا ہیں۔۔۔

دریں حالات ہم نہیں سمجھتے کہ عہدنبوتؐ میں اگر احادیث۔۔۔ قرآن میں نہ سہی‘ الگ ہی سہی‘ لکھوا دی جاتیں تو لوگوں کو قرآن اور احادیث کے خلط ملط ہوجانے کا اندیشہ تھا۔ ہم نے سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے خیالات طویل اقتباسات کی صورت میں اس لیے دیے ہیں کہ وہ خود احادیث کے نہ لکھوائے جانے کی ایک وجہ یہی بتاتے ہیں ورنہ کئی دیگر علماءِ کرام بھی اس بات کے قائل ہیں کہ قرآن اور احادیث کے اختلاط کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
مثلاً صاحبِ تدبر قرآن‘ مولانا امین احسن اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں:

قرآن اپنی فصاحتِ الفاظ اور بلاغت کے اعتبار سے بھی معجزہ ہے جس کے سبب سے کسی غیر کا کلام اس کے ساتھ پیوند نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا کلام بھی باوجودیکہ آپؐ اس قرآن کے لانے والے اور افصح العرب والعجم ہیں‘ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس وجہ سے اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ کسی غیر کا کلام اس کے ساتھ مخلوط ہوسکے۔۱۱۶؂

اس اختلاط والی دلیل کو مکمل طور پر ردّ کرتے ہوئے مولانا مناظر احسن گیلانیؒ اپنی مشہور کتاب ’’تدوین حدیث‘‘ میں لکھتے ہیں:

باقی یہ کہنا جیسا کہ بعضوں نے حدیث کی کتابت کی ممانعت کی توجیہہ کرتے ہوئے لکھا کہ قرآن میں اور حدیثوں میں خلط ملط ہوجانے کا اندیشہ تھا‘ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیثوں کے لکھنے کی ممانعت کردی۔ مگر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہر لکھی ہوئی چیز کو صحابہ کرامؓ یا ان کے بعد مسلمان قرآن کیوں سمجھ لیتے؟ آخر جس وقت قرآن نازل ہوکر لکھا جا رہا تھا اس زمانے میں تورات و انجیل بلکہ عرض کر چکا ہوں کہ عرب ہی میں لقمان کا مجلہ بھی مکتوبہ شکل میں پایا جاتا تھا۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیسیوں خطوط لکھوائے اور لکھواتے رہتے تھے۔ بس یہ سمجھ لینا کہ محض مکتوب ہوجانے کی وجہ سے لوگ غیر قرآنی چیزوں کو قرآن سمجھ لیتے کم از کم میری سمجھ میں یہ بات کسی طرح نہیں آتی۔۱۱۷؂

جناب مناظر احسن گیلانیؒ مرحوم ہی نہیں کسی بھی معقول شخص کی سمجھ میں یہ بات قطعاً نہیں آسکتی کہ حضوؐر نے کتابتِ حدیث کی ممانعت کا حکم اس لیے جاری فرمایا تھا کہ اگر احادیث لکھوا لی جاتیں تو لوگ انھیں قرآن سمجھنے لگتے۔ آخر اس میں کیا دشواری تھی کہ احادیث لکھواتے وقت صرف یہ بتا دیا جاتا کہ لوگو! یہ احادیث ہیں اور وحی کی دوسری قسم اور بس۔۔۔ کیا لوگ پھر بھی شک کرتے اگرچہ نبیؐ انھیں احادیث ہی کہہ کر لکھوا گئے ہوں؟ غرضیکہ احادیث کے نہ لکھوائے جانے کی بظاہر یہ سب سے بڑی ’’معقول‘‘ وجہ تھی مگر تجزیہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دلیل کمزور ترین دلیل ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ اگر احادیث وحی ہوتیں تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن ہی کی طرح انھیں بھی قلمبند کرواتے‘ ان کی حفاظت کا اہتمام کرتے نہ کہ اس کے برعکس ان کی کتابت منع فرماتے۔
(ب) چوتھے سوال کے تجزیئے میں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوا کہ آیا عہدنبویؐ میں قرآن کے علاوہ سرے سے کوئی اور چیز لکھی ہی نہیں گئی یا اگر لکھی گئی تو اس کی حیثیت کیا ہے؟
تاریخ تدوین حدیث کے مطابق عہدنبویؐ میں قرآن کے علاوہ بعض احادیث یا اور کئی چیزوں کے اِکا دُکا لکھے جانے کی شہادت ملتی ہے۔ مگر ان چیزوں کے لکھے جانے کے باوجود کسی نے انھیں قرآن نہیں سمجھا اور نہ کسی کو یہ شبہ ہوا کہ یہ آیاتِ قرآنی ہیں یا احادیث۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان واقعات سے کیا یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ جس طرح قرآن کی حفاظت کے لیے کتابت کا اہتمام کیا جاتا تھا اسی طرح احادیث کی کتابت کا بھی اہتمام ہوتا تھا یا یہ محض انفرادی نوعیت کے واقعات ہیں۔
ہم نے فصل چہارم میں یہ بات بالخصوص نوٹ کی تھی کہ قرآن کی کتابت کے لیے باقاعدہ کاتبین مقرر تھے جن کے سپرد یہ کام تھا کہ جوں ہی کوئی آیتِ قرآنی نازل ہوتی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو حکم دیتے کہ اس آیت کو فلاں سورہ میں فلاں جگہ لکھو۔ یہ کاتبین کی مرضی پر موقوف نہیں تھا کہ قرآن لکھیں یا نہ لکھیں۔ انھیں محض اجازت نہیں تھی اور نہ ان کی صوابدید پر موقوف تھا کہ جب مناسب سمجھیں اور جو مناسب سمجھیں اس کو لکھیں۔ ان کو اس کام پر باقاعدہ مقرر کیا گیا تھا۔ اب احادیث کے لکھے جانے کے چند واقعات پر تدبر کی نگاہ ڈالیں۔ جن اصحاب کو احادیث لکھنے کی اجازت ملی ان کے رتبے اور خصوصی حالات کو پیشِ نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ چنانچہ مولانا مناظر احسن گیلانیؒ اس بارے میں لکھتے ہیں:

چونکہ ایک واحد شخص کو انفرادی طور پر لکھنے کی یہ اجازت دی گئی تھی اس لیے اس سے اس کا اندیشہ بھی نہ تھا کہ ان مکتوبہ حدیثوں میں وہی عمومی رنگ پیدا ہو جائے گا جسے آپؐ ان چیزوں تک محدود رکھنا چاہتے تھے جن کا ہر مسلمان تک پہنچانا فرائضِ رسالت میں داخل تھا۔۱۱۸؂

یہ انفرادی اجازت جن صحابہ کو دی گئی تھی ان میں حضرت انس بن مالکؓ بھی تھے۔ ان کو حدیث لکھنے کی خصوصی اجازت جو ملی تھی اس کے بارے میں مولانا محترم آگے چل کر لکھتے ہیں:

حضرت انسؓ چونکہ آخر وقت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے‘ خود فرماتے تھے ‘ نو سال حضوؐر کی خدمت میں رہا۔ گویا وہ اور عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ ہمجولی تھے۔ لکھنا بھی آتا ہی تھا اور پھر بارگاہِ نبوت میں رسوخ کا حال یہ تھا کہ بسااوقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو یابُنی (میرے بیٹے) کے لفظ سے پکارتے تھے‘ ایسے چہیتے خادم کی بات ٹال دینا اور وہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بامروت طبیعت سے آسان نہ تھا‘ میں سمجھتا ہوں کہ کچھ ان ہی وجوہ سے ان کو بھی حدیثوں کے قلمبند کرنے کی اجازت مل گئی کیونکہ ایک آدمی کے لکھنے سے ظاہر ہے کہ عمومیت کا وہ رنگ کیسے پیدا ہو سکتا تھا جو قرآن کے صحیفوں کی عام اشاعت سے پیدا ہوچکا تھا۔۱۱۹؂

گویا حضرت انسؓ کو بھی حدیث کے لکھنے کا حکم نہیں دیا گیا‘ بلکہ خصوصی وجوہ کی بنا پر خود ان کے اجازت طلب کرنے پر مروتاً حضوؐر نے ان کو اجازت دی تھی۔ اور وہ بھی اس لیے کہ ایک آدمی کے لکھنے سے قرآن کی طرح عمومیت کا رنگ پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ وہی بات کہ اگر احادیث وحی ہوتیں تو محض چند صحابہؓ کو ان کے اجازت طلب کرنے پر صرف چند احادیث لکھنے کی اجازت نہ دی جاتی بلکہ قرآن کی طرح کاتبین وحی کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا اور ان کو حکم دیا جاتا کہ قرآن کی طرح احادیث بھی قلمبند کرلیا کرو۔ جن کو اجازت ملی بھی ان کے بارے میں مولانا فرماتے ہیں:

جن لوگوں کو کتابتِ حدیث کی انفرادی اجازت بارگاہِ نبوتؐ سے ملی تھی ان میں کوئی ابوبکرؓ بھی نہ تھا اور نہ ان میں نبیؐ کا کوئی جانشین اور مسلمانوں کا دینی و سیاسی امیر تھا۔۱۲۰؂

نیز فرماتے ہیں:

غور کرنے کی بات ہے کہ عورتوں‘ بچوں‘ حتیٰ کہ خادم و ملازمین تک کو اس زمانے میں جب یہ کتاب (قرآن) پڑھائی جاچکی تھی تو اس عمومیت و استفاضہ کا مقابلہ وہ مکتوبہ سرمایہ کیا کرسکتے تھے جو اکّے دکّے گنتی کے چند آدمیوں کے پاس موجود تھے۔۱۲۱؂

اس کی وضاحت ڈاکٹر محمد زبیر صدیقی ’’تاریخ تدوین حدیث‘‘ میں زیادہ بہتر انداز میں کرتے ہیں:

اس عہد میں اس کے متعلق (کتابتِ حدیث کے متعلق) جو کچھ ہوا وہ محض بعض صحابہؓ کے شخصی شغفِ حدیث اور ذاتی ذوق و شوق کا نتیجہ تھا اور اس عہد میں تدوین سے متعلق کوئی عمومی تحریک پیدا نہیں ہوئی۔۱۲۲؂

ہمارا سوال یہی تو ہے کہ اگر احادیث وحی ہوتیں تو کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فریضہ نہیں تھا کہ قرآن کی طرح احادیث بھی لکھوا جاتے نہ کہ محض چند صحابہؓ کے ذاتی ذوق و شوق تک چھوڑتے کہ چاہیں تو لکھ لیں‘ نہ چاہیں تو نہ لکھیں؟؟ علماءِ کرام کو اپنے جواب کی کمزوری کا احساس ہے تب ہی تو وہ سات وجوہات بیان کرتے ہیں جن کی بنا پر حضوؐر نے احادیث کے لکھنے کی ممانعت کر دی تھی۔
۵۔۶۔ پانچویں اور چھٹی وجوہ یہ تھیں کہ اول تو صحابہ کرامؓ کی جماعت مختصر تھی جنھیں سارے عالم میں دین پہنچانا تھا اور دوسری وجہ یہ کہ جہاد وغیرہ کی وجہ سے صحابہ کرامؓ کو سکون و اطمینان ہی میسر نہ تھا جو تصنیف و تالیف کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
صحابہ کرامؓ کی تعداد میں اختلاف ہے مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ صحابہ کرامؓ کی جماعت مختصر تھی اس لیے کتابتِ حدیث نہ ہو سکی‘ ایک عجیب نکتہ آفرینی ہے۔ جس جماعت نے قیصروکسریٰ کے تخت اُلٹ دیے‘ دین اسلام کو مشرق و مغرب تک پھیلا دیا‘ ان کے متعلق بلادلیل یہ کہہ دینا کہ وہ قلیل التعداد تھے‘ انتہائی سہوقلم ہی ہو سکتا ہے۔
مفتی امجد العلی صاحب ‘الدرایہ فی اصول الحدیث میں لکھتے ہیں:

صحابہ کرامؓ کی تعداد کا صحیح اندازہ لگانا بہت مشکل ہے اس لیے کہ کچھ تعداد دوسرے شہروں میں پھیل گئی تھی‘ کچھ تعداد دیہاتوں میں آباد ہوگئی تھی اسی طرح مختلف مقامات پر متفرق ہوگئے تھے۔ ابوزرعہ رازی رحمۃ اللہ علیہ سے ایک روایت میں یہ منقول ہے کہ آپؐ کی وفات کے وقت صحابہ کی تعداد ایک لاکھ سے کچھ زائد تھی‘ دوسرے قول میں منقول ہے کہ ایک لاکھ چودہ ہزار کی تعداد تھی۔۱۲۳؂

مولانا سید مناظر احسن گیلانی نے ابوزرعہ کی روایت کو درج کر کے یہ لکھا ہے کہ:

یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ابن ابی زرعہ نے یہ صحابیوں کی تعداد نہیں بتائی ہے‘ بلکہ اِن خاص اصحاب کی تعداد ہے جنھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور دیکھنے کے بعد آپؐ کے متعلق کوئی نہ کوئی بات روایت کی ہے۔ حدیث تاریخ کے جس حصہ کی تعبیر ہے اس کی ابتدائی رواۃ کی یہ تعداد کیا کوئی معمولی بات ہے؟۱۲۴؂

الغرض یہ کہنا انتہائی ناواقفیت کی دلیل ہے کہ صحابہ کرامؓ ایک مختصر سی جماعت تھے اس لیے حدیث کی کتابت کی طرف توجہ نہ کر سکے۔ صرف جنگِ جمل اور جنگِ صفین میں کام آنے والے صحابہ کی تعداد کچھ کم نہیں بتائی جاتی۔
مزید یہ کہنا کہ یہ جماعت جہاد وغیرہ کے کاموں میں مشغول تھی‘ اس لیے تصنیف و تالیف کے لیے جس سکون کی ضرورت ہے وہ انھیں حاصل نہیں تھا‘ لہٰذا حدیث کی کتابت کا اہتمام کرتے تو کیسے کرتے‘ یہ دلیل پہلی دلیل سے بھی زیادہ بودی اور کمزور ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ یہ ۔۔۔۔۔ صرف ایک آدھ کتاب میں ہی جگہ پاسکی۔
۷۔ آخری وجہ بعض علماءِ کرام نے یہ بتائی تھی کہ دراصل کاغذ ہی ناپید تھا‘ کتابتِ حدیث کس پر کی جاتی؟
یہ دلیل دیتے ہوئے‘ علماءِ کرام یہ بھول گئے کہ سامانِ کتابت کی کمی قرآن کی کتابت میں تو رکاوٹ نہ بن سکی‘ البتہ ’’وحی‘‘ کا دوسرا حصہ اس کی زد میں آگیا! ان سب دلائل و وجوہات کا تجزیہ کرتے ہوئے‘ جناب خالد علوی صاحب اپنی کتاب ’’حفاظتِ حدیث‘‘ میں لکھتے ہیں:

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ابتدائے اسلام میں احادیث قلمبند نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس زمانے میں کاغذ دستیاب نہ تھا‘ لکھنے والے میسر نہ تھے یا جہاد وغیرہ کے مشاغل کی وجہ سے اس قسم کے عملی کام کے مواقع نہیں تھے‘ حضرت ابوبکرؓ کا عمل ان سارے احتمالات کا ردّ ہے۔۱۲۵

حوالہ جات

۹۸۔ خالد علوی: حفاظتِ حدیث‘ ص ۵۹
۹۹۔ پیر محمد کرم شاہ: سنت خیرالانام‘ ص ۱۱۰
۱۰۰۔ خالد علوی: حفاظتِ حدیث‘ ص ۷۱
۱۰۱۔ محمد عاصم الحداد: سنت کیا ھے اور کیا نھیں‘ ص ۳۴

* پیر کرم شاہ صاحب نے تو پہلی وجہ یہی بتائی تھی کہ عرب اَن پڑھ قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ اگر حقیقت یہی ہے تو اختلاط والی دلیل یا وجہ پیدا ہی نہیں ہوتی کیونکہ اَن پڑھ قوم تو حدیث لکھنے سے رہی۔
۱۰۲۔ پیر محمد کرم شاہ: سنت خیرالانام‘ ص ۱۱۰
۱۰۳۔ ابو عبداللہ الحاکم نیشاپوری: معرفۃ علومِ الحدیث (ترجمہ محمد جعفر شاہ پھلواری)‘ ص ۱۷۔۱۸
۱۰۴۔ علامہ راغب الطباخ: تاریخ افکار و علومِ اسلامی ‘حصہ اول (ترجمہ افتخار احمد بلخی)‘ ص ۳۸۷۔۳۸۸
۱۰۵۔ مولانا محمد حنیف ندوی: مطالعہ حدیث‘ ص ۲۴
۱۰۶۔ مولانا تقی الدین ندوی مظاہری: محدثین عظام اور ان کے علمی کارنامے‘ ص ۵۰

* اختلاط والی دلیل کا تجزیہ تو ہم آخر میں کریں گے مگر یہاں یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ ڈاکٹر صاحب قرآن کو کلامِ ربانی کہہ کر حدیث کو اس سے الگ کرکے کہتے ہیں کہ ’’وہ اس تقدس سے محروم ہے‘‘ اور ہم یہی نکتہ ثابت کرناچاہتے ہیں کہ احادیث وحی (کلامِ ربانی) نہیں ہیں۔
۱۰۷۔ ڈاکٹر صبحی صالح: علومِ القرآن (ترجمہ: غلام احمد حریری) ‘ ص ۴۷۔۴۸

* سخت حیرت ہوتی ہے اس دلیل پر اور وہ بھی مولانا محترم جیسے مفکر کی جانب سے۔ اگر کتابت کے لیے کاغذ ناپید تھا اور لوگ صرف جِھلیوں وغیرہ پر ہی سہارا کرتے تھے تو یہ مشکل قرآن کی کتابت کے راستے میں رکاوٹ کیوں نہ بن سکی! یہ ساری مشکلات صرف ’’وحی خفی‘‘ کے لیے ہی رہ گئیں تھیں‘ کون معقول شخص یہ بات تسلیم کرسکتا ہے؟
۱۰۸۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ : سنت کی آئینی حیثیت‘ ص ۳۵۰
۱۰۹۔ مولانا محمد تقی عثمانی: علومِ القرآن‘ ص ۲۶۳
۱۱۰۔ مولانا سید مناظر احسن گیلانیؒ : تدوینِ حدیث‘ ص ۲۰۔۲۱
۱۱۱۔ مولانا محمد حنیف ندوی: مطالعہ حدیث‘ ص ۲۲۔۲۴
۱۱۲۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ : تفھیم القرآن‘ جلد ششم‘ سورہ التکاثر‘ زمانۂ نزول‘ ص ۴۴۰
۱۱۳۔ " " جلد دوم‘ سورہ بنی اسرائیل‘ حاشیہ ۱۰۵
۱۱۴۔ " " جلد چہارم‘ سورہ الاحقاف‘ حاشیہ ۸

* مولانا محترم کا یہ جملہ من و عن وہی بات کہہ رہا ہے جو ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ خدا کی طرف سے آئی ہوئی وحی بالکل مختلف ہے اور اقوالِ و افعالِ رسولؐ اس وحی سے بالکل مختلف ہیں‘ حتیٰ کہ ان کی زبان اور اسٹائل بھی مختلف ہے۔ ہمارے نزدیک یہی وجہ تھی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث کو قرآن کی طرح لکھوانے کا اہتمام نہیں کیا تھا۔ ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ وحی کی ایک قسم کو وہ لکھواتے اور دوسری سے بے اعتنائی برتتے۔
۱۱۵۔ " " جلد پنجم‘ سورہ الطور‘ حاشیہ ۲۷ (۵)
۱۱۶۔ مولانا امین احسن اصلاحیؒ : تدبر قرآن‘ جلد ہفتم‘ سورہ حٰمٓ السجدہ‘ آیات ۴۱۔۴۲‘ ص ۱۱۳
۱۱۷۔ مولانا سید مناظر احسن گیلانیؒ : تدوینِ حدیث‘ ص ۲۴۲
۱۱۸۔ ایضاً‘ ص ۲۵۹
۱۱۹۔ ایضاً ‘ ص ۲۶۷
۱۲۰۔ ایضاً ‘ ص ۲۷۸
۱۲۱۔ ایضاً‘ ص ۲۶۹
۱۲۲۔ ڈاکٹر محمد زبیر صدیقی‘ ایم اے ‘ پی ایچ ڈی: تاریخ تدوینِ حدیث‘ ص ۳۶
۱۲۳۔ مفتی امجد العلی: الدرایہ فی اصول الحدیث‘ ص ۱۸۷
۱۲۴۔ مولانا سید مناظر احسن گیلانیؒ : تدوینِ حدیث‘ ص ۲۹
۱۲۵۔ خالد علوی: حفاظتِ حدیث‘ ص ۱۴۲۔۱۴۳

____________