بنو طئی کے سخی اور نیک شہرت کے مالک سردار حاتم طائی کے صحابی بیٹے عدیؓ بن حاتم کی اسلام قبول کرنے کی داستان۔ یہ واقعات رافت پاشا کی کتاب ’’صور من حیاۃ الصحابہ‘‘ اور محمد حسین ہیکل کی کتاب ’’ابوبکر‘‘ سے ماخوذ ہیں۔

اس خبر نے اس کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی۔ دشمن کی طاقت اس قدر تیزی سے بڑھ جائے گی، یہ اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ کئی دن قبل جب پہلی مرتبہ اسے یہ خبرملی تھی، اسی دن سے اسے خطرہ محسوس ہونے لگا تھا کہ اگر اس نے بڑھتے ہوئے دشمن کا راستہ نہ روکا تو ایک دن خود اس کی سرداری ختم ہو جائے گی۔ آنے والے برُے دنوں کو روکنے کے لیے اس نے اپنے قبیلے میں دشمن قبیلے کے لوگوں کے آنے جانے پر پابندی لگا دی تھی۔ خاص طور پر ان کے مذہب کے متعلق بات کرنا تو سخت منع تھا۔ اس نے نہ صرف اپنے قبیلے میں، بلکہ ارد گرد کے علاقوں کے سرداروں کے ساتھ مل کر دشمن کی طاقت کو دبانے کا انتظام کیا تھا ، مگر اس کی ساری ترکیبیں دھری کی دھری رہ گئیں۔ دشمن کی طاقت بڑھتی رہی اور وہ دشمن کی بڑھی ہوئی طاقت پر کڑھتا رہا۔ اس کے دل میں نفرت کی آگ جلتی رہی ، لیکن دشمن سے صرف نفرت کرنے سے بھلا اس کی طاقت کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے! نوبت آج یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ اردگرد کے سارے قبائل نے دشمن کے آگے گھٹنے ٹیک دیے تھے۔
وہ لوگ جنھوں نے اس کے عظیم باپ کے فوت ہونے کے بعد اسے اپنا سردار بنایا تھا اور اسے اپنی آمدنی کا چوتھا حصہ دینے کا اعلان کیا تھا، اب اسے بدلے بدلے نظر آنے لگے تھے۔ یہ بات بھی وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کے قبیلے میں نہ تو دشمن کے ساتھ ٹکر لینے کی طاقت ہے اور نہ ہی کوئی اس کا ساتھ دے گا۔ سوچ سوچ کر اس کا دماغ شل ہو گیا۔ آخر اسے ایک راستہ نظر آیا ۔۔۔ وہ راستہ بہادری کے خلاف تھا، یعنی فرار ۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ بعض اوقات دشمن کی نظروں سے بچنے کے لیے ، اسے دھوکا دینے کے لیے بھاگنا ہی پڑتا ہے۔ یہ سوچ کر اس نے فرار ہونے کا ارادہ کر لیا۔ اس کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ ملک شام چلا جائے گا۔ وہاں کے لوگ اس کے ہم مذہب ہی نہ تھے ، بلکہ شام تو اس مذہب کا گڑھ تھا۔ اسے یقین تھا کہ شام والے اس کی ضرور مدد کریں گے اور پھر ایک دن وہ بڑا لشکر لے کر آئے گا اور دشمن کو ہمیشہ کے لیے تباہ و برباد کر دے گا۔ یہ سوچ کر اس نے اپنے غلام کو بلایا اور حکم دیا:
’’میرے لیے تیز رفتار اونٹنیاں تیار رکھنا۔ جیسے ہی خطرہ محسوس ہوا، ہم شام کی طرف روانہ ہو جائیں گے اور اپنے ارد گرد کے علاقوں پر نظر رکھنا اور مجھے پل پل کی خبر دینا۔‘‘ غلام نے ادب سے سر جھکادیا۔
آخر برادن آ ہی پہنچا۔ صبح کے وقت اس کے غلام نے آ کر اطلاع دی: ’’سردار، قریب کی بستی پر دشمن نے قبضہ کر لیا ہے ۔۔۔ ان کا رخ اب ہماری طرف ہے، وہ نہ جانے کب ہم پر حملہ آور ہوجائیں۔‘‘
’’تو پھر انتظار مت کرو۔ جلدی سے میرے سارے خاندان کو ان اونٹنیوں پر سوار کراؤ، ہمیں جلد از جلد یہاں سے روانہ ہوجانا ہے ۔۔۔‘‘
اس حکم کو دیے زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ تازہ ترین اطلاع آئی: ’’سردار، دشمن کے تیز رفتار دستے ہمارے علاقے میں داخل ہو چکے ہیں اور وہ کسی بھی وقت یہاں پہنچ سکتے ہیں ۔۔۔ کیا ہم ان کا مقابلہ کریں گے!‘‘ پوچھنے والے اس کے وفادار ساتھی تھے۔
وہ دکھ اور کرب سے بولا: ’’کاش یہ ممکن ہوتا ! میں خواہ مخواہ کی بہادری دکھانا نہیں چاہتا۔ مجھے معلوم ہے کہ ہم ان کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکتے اور مجھے اپنے لوگوں کو ہلاک کرانے کا کوئی شوق نہیں۔ میں تمھیں اجازت دیتا ہوں کہ چاہو تو بھاگ جاؤ اور چاہو تو ان لوگوں کی بات مان لو۔‘‘
یہ کہہ کر وہ جلدی سے اپنی اونٹنیوں کی طرف بڑھا۔ اس کے خاندان کے لوگ جلدی جلدی ان پر سوار ہو رہے تھے۔ اپنے ساتھ جتنا سامان وہ رکھ سکتے تھے انھوں نے رکھا اور بڑی افراتفری میں شام کی طرف روانہ ہو گئے۔
انھیں روانہ ہوئے ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ ایک عورت بھاگتی ہوئی اس جگہ پہنچی جہاں کچھ دیر قبل سردار کا قافلہ کھڑا تھا۔ اس عورت کو پہچانتے ہوئے ایک شخص بولا: ’’یہ تو سردار کی بہن ہے ۔۔۔ ہائے بے چاری کا بھائی جلدی میں اپنی بہن کو ساتھ لے جانا ہی بھول گیا۔‘‘
سردار کی بہن یہ آواز سنتے ہی سناٹے میںآگئی۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ گھبراہٹ کی وجہ سے اس کا بھائی اس قدر بزدل ہو جائے گا ۔۔۔ اس نے فوراً دوسری سواری کا انتظام کرنے کا سوچا ، مگر ابھی وہ کسی سے بات ہی کر رہی تھی کہ گھڑ سواروں کا ایک دستہ بجلی کی سی تیزی سے بستی میں داخل ہو گیا۔ سردار کی بہن کے لیے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ حملہ آوروں نے پوری بستی کو گھیر لیا تھا۔ انھوں نے جلدہی پتا چلا لیا کہ قبیلے کا سردار ’’عدی‘‘ فرار ہو چکا ہے اور افراتفری میں وہ اپنی بہن کو پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ سردار کا یوں فرار ہونا اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ مدد لے کر واپس آسکتا ہے۔ اسے واپس لانے کا اب ایک ہی طریقہ تھا کہ اس کی بہن کو گرفتار کر لیا جائے۔ جب سردار عدی کو معلوم ہو گا کہ اس کی بہن دشمن کی قید میں ہے تو وہ جنگ کرنے کے بجائے امن اور سلامتی کی بات کرے گا، اور حملہ آور جنگ کے بجائے صلح اور امن کو زیادہ پسند کرتے تھے۔ یہ دستہ ریاست مدینہ کی طرف سے آیا تھا اور اس کی قیادت حضرت علیؓ کر رہے تھے۔ انھوں نے سردار کے خزانے ، اسلحے کے گودام اور اس کے محل میں قید لوگوں کو اپنے ساتھ لیا اور مدینہ کی طرف چل دیے۔
مفرور سردار کی بہن بہت خوف زدہ تھی۔ اسے معلوم تھا کہ عرب میں قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا۔ خاص طور پر عورتوں سے تو بہت برا سلوک کیا جاتا ہے۔ اگر وہ کام آنے والی نہ ہوں تو انھیںیا تو بیچ دیا جاتا ہے یا قتل کر دیا جاتا ہے۔
لیکن اسے حملہ آور دستے کے سپاہی بہت مختلف لگے۔ان میں سے کسی نے بھی اسے تنگ نہیں کیا ۔ ان کا رویہ تمام قیدیوں کے ساتھ بہت اچھا تھا۔ دستے کے سردار حضرت علیؓ نے خاص طور پر حکم دیا تھا کہ وہ سردار کی بہن ہے اس لیے اس کے ساتھ شایانِ شان سلوک کیا جائے۔
مدینہ کے علاقے میں پہنچنے کے بعد سردار کی بہن کو وہاں کے سردار کے سامنے پیش کیا گیا تو وہ اسے دیکھ کر حیران رہ گئی۔ یہ سردار دوسرے قبیلے کے سرداروں سے بالکل مختلف تھا، بلکہ اس جیسا انسان اس نے زندگی میں پہلے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔ یہ اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے! وہ بے اختیار بول اٹھی:
’’میرا باپ فوت ہو چکا ہے اور میرا نگران گم ہو گیا ہے۔۔۔ مجھ پر احسان کریں۔۔۔ اللہ آپ پر احسان کرے گا۔‘‘
’’تمھارا نگہبان کون ہے؟‘‘ اس سے پوچھا گیا۔
’’سردار عدی بن حاتم۔‘‘
’’اچھا، تو اس سردار کی بہن ہے جو ہم سے خوفزدہ ہو کر فرار ہو گیاہے!‘‘
وہ یہ کہہ کر آگے بڑھ گئے۔ سردار کی بہن جانتی تھی کہ اس کے بھائی عدی نے دشمنی کی انتہا کر دی تھی۔ اسلام کا راستہ روکنے کے لیے ہر کام کیا تھا۔ اس نے لوگوں کے لیے اسلام کے متعلق کچھ بھی جاننا ناممکن بنا دیا تھا۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ رویہ اس کی سمجھ میں آتا تھا ، مگر اس کا یہ اندازہ درست نہیں تھا، وہ ان کے متعلق یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کسی کے دشمن نہیں۔
اگلے دن ہمت کرکے اس نے پھر یہی بات اُنؐ سے کہی ، لیکن جواب پھر کل والا ملا اور وہ مایوس ہو کر خاموش ہو گئی۔ اس نے کچھ دوسرے لوگوں سے بات کی تو انھوں نے اسے بتایا کہ ان کے متعلق تم کچھ نہیں جانتی۔ ان سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور احسان کرنے والا کوئی نہیں، تم پھر ان سے بات کرنا۔
تیسرے دن اس نے پھر ہمت کرکے کہا: ’’مجھے آزاد کر دیجیے ۔۔۔ میرا باپ فوت ہو چکا ہے، وہ لوگوں پر بہت رحم کھاتا تھا ۔۔۔ آپ مجھ پر رحم کھائیں!‘‘
آپؐ نے اس کی بات سنی اور اعلان کیا: ’’جاؤ تم آزاد ہو!‘‘
وہ خوشی سے بولی: ’’میں ملک شام جانا چاہتی ہوں، جہاں میرا خاندان گیا ہے۔‘‘
’’لیکن شام کی طرف تو ان دنوں کوئی قافلہ نہیں جا رہا۔۔۔ اور جب تک تمھارے لیے محفوظ سفر کا بندوبست نہیں ہو جاتا میں تمھیں شام جانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔‘‘
سردار کی بہن کو اب معلوم ہوا کہ اسے آزادی نہ ملنے کی اصل وجہ کیا تھی۔ وہ آپؐ سے بہت متاثر ہوئی۔ اسے یقین آنے لگا کہ واقعی اللہ کے رسولؐ کسی کے دشمن نہیں ہو سکتے۔ حضرت علیؓ نے بھی اسے تسلی دی کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں، اسے حفاظت سے اس کے خاندان کے پاس پہنچا دیا جائے گا۔

***

مفرور سردار عدی شام پہنچ گیا تھا۔ اسے اپنی بہن کے پیچھے رہ جانے کا سخت افسوس تھا۔ اس نے فوراً اپنے خاص آدمی کوروانہ کیا اور معلوم کرایا کہ اس کی بہن کے ساتھ کیا معاملہ ہوا۔ جب اسے پتا چلا کہ اسے گرفتار کر لیا گیا ہے تو اسلام کے خلاف اس کی نفرت اور غصے میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اس نے کچھ آدمی دوڑائے۔ انھوں نے آکر جو اطلاع دی اسے اس پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ بتانے والوں نے بتایا : ’’انھوں نے تمھاری بہن کی بہت عزت کی، رہنے کے لیے اچھی جگہ دی، کھانے کو بھی دیا۔ امید ہے کہ اسے جلدی رہائی مل جائے گی۔‘‘
سردار عدی کے لیے یہ اطلاعات خوشی کا باعث تھیں۔ وہ سوچنے لگا: ’’میں نے تو دشمن کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا، اسے تنگ کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی پھر میری بہن پر یہ احسانات اور نیک سلوک کیوں!‘‘
ایک دن سردار عدی اپنے گھر میں بیوی بچوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ اطلاع ملی کہ ایک قافلہ آر ہا ہے۔نہ جانے اسے یہ امید کیوں لگ گئی تھی کہ اس کی بہن اس قافلے میں ہو گی۔ وہ غور سے قافلے کو دیکھنے لگا۔ جب آنے والے قریب آگئے تو وہ پکار اٹھا: ’’یہ تو میری بہن لگ رہی ہے ۔۔۔ سردار عدی کی بہن ۔۔۔ حاتم کی بیٹی!‘‘
سردار عدی کا اندازہ درست ثابت ہوا، اس نے اپنی بہن کو ٹھیک پہچانا تھا۔ وہ خوشی سے دیوانہ وار اپنی بہن کی طرف دوڑا ، مگر وہ اس پر برس پڑی:
’’عدی تم ایک ظالم اور خودغرض بھائی ہو۔ تجھے شرم نہیں آئی کہ اپنے بیوی بچوں کو تو ساتھ لے آیا، اور اپنے سردار باپ کی عزت کو دشمن کے ہاتھ چھوڑ آیا۔‘‘
مفرور بھائی جانتا تھا کہ بہن کی ناراضی بجا ہے۔ اس نے شرم سے سر جھکا لیا اور کہا: ’’بہن تمھیں حق پہنچتا ہے کہ مجھے برا بھلا کہو ۔۔۔ مجھے جو سزا دو ، منظور ہے!‘‘
بھائی کی طرف سے یہ جواب سن کر وہ کچھ نرم ہوئی اور بولی: ’’عدی! آخر تم مجھے وہاں چھوڑ کر کیوں آئے ؟‘‘
اس نے بتایا کہ ایسا جان بوجھ کر نہیں ہوا، بلکہ جلدی اور افراتفری میں ہوا۔ بہن کا غصہ آہستہ آہستہ جاتا رہا۔ تب عدی نے اس سے پوچھا کہ دشمن نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا۔
بہن نے اسے ساری داستان سنائی اور دشمن سردار اور اس کے ساتھیوں کے اخلاق اور رویے کی بہت تعریف کی۔ عدی کی بہن نے جو کچھ اسے بتایا وہ ان اطلاعات کے مطابق تھا جو اسے اپنے بھیجے ہوئے آدمیوں کے ذریعے سے ملی تھیں۔ عدی کی بہن نے اسے یہ بھی کہا: ’’اے بھائی! تمھیں اس سردار سے ضرور ملنا چاہیے،ان کے ساتھ تم نے دشمنی اور نفرت کی انتہا کر دی ، لیکن انھوں نے تمھاری بہن کی حفاظت کی، اسے آزاد کیا، اپنے پاس سے سواری دی اور ایک ایسے محفوظ قافلے کے ساتھ بھیجا جس میں ہمارے قبیلے کا ایک شخص تھا۔ تمھیں چاہیے کہ اس شخص سے ضرور ملو اور اس کے نئے دین کو جانو۔ کیا خبر وہ اس دین سے بہتر ہو ، جس کو ہم مانتے ہیں ! اے بھائی مجھے یقین ہے کہ وہ تمھیں اپنا دین اختیار کرنے پر مجبور نہیں کریں گے۔‘‘
بہن کی ان باتوں نے عدی کو لا جواب کر دیا۔ اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ سب کچھ دیکھے جس کی اسے اطلاعات ملی ہیں۔
کچھ دنوں کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دشمن سردار کے علاقے میں جا پہنچا۔ اسے بتایا گیا کہ وہ مسجد میں چلا جائے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اس سے کیا سلوک ہو گا؟ سردار کے طور پر عزت کی جائے گی یا ایک ہارا ہوا سردار سمجھ کر اس کی ذلت اور توہین کی جائے گی۔ انھی اندیشوں اور خدشوں میں گھرا وہ مسجد پہنچا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ انھوں نے اخلاق سے جواب دیا اور پوچھا: ’’کون ہو تم؟‘‘
اس نے ڈرتے ڈرتے کہا: ’’عدی بن حاتم طائی۔‘‘
اس کا نام سن کر انھوں نے خوشی کا اظہار کیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ آنے کا کہا۔ عدی اس سلوک پر حیران تھا۔ ایک ہارے ہوئے سردار سے اس قدر خوش اخلاقی اور بے تکلفی اس کی سمجھ سے باہر تھی۔ ابھی وہ راستے ہی میں تھے کہ ایک غریب سی بڑھیا نے ان کا راستہ روک لیا۔ اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا بچہ بھی تھا۔ بڑھیا نے ان سے مالی مدد مانگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً جیب میں ہاتھ ڈالا اور جو کچھ تھا سارا اس کے حوالے کر دیا۔ عدی کے لیے یہ منظر بھی ناقابل یقین تھا۔ سوچنے لگا کہ یہ شخص بادشاہ نہیں ہو سکتا، ورنہ ایک عام سی بڑھیا اس قدر دلیری سے اس کا راستہ نہ روکتی۔ اس کے بعد آپؐ نے محبت سے عدی کا ہاتھ تھام لیا اور اپنے گھر لے گئے۔
گھر پہنچ کر ایک اور حیرت نے عدی کا استقبال کیا۔ یہ گھر ایک عام گھر تھا۔ صحن میں بیٹھنے کے لیے ایک ہی جگہ تھی۔ اس پر ایک تکیہ رکھا۔ عدی کو اس تکیے پر بیٹھنے کے لیے کہا گیا تو وہ بولا: ’’نہیں، نہیں آپ بیٹھیں۔‘‘ اسے بہت شرم آ رہی تھی۔ مگر اسے حکم دیا گیا کہ وہ اسی تکیے پر بیٹھے۔ اب وہ اس جگہ بیٹھنے پر مجبور تھا اورمیزبان خود زمین پر بیٹھ گئے۔ عدی کو یقین ہو چکا تھا کہ یہ ہستی نفرت نہیں محبت کی حقدار ہے۔ وہ اسی طرح کی سوچوں میں کھویا تھا کہ اسے ان کی آواز سنائی دی۔ وہ پوچھ رہے تھے: ’’عدی کیا! تمھیں اپنے مذہب کے بارے میں شک ہے؟‘‘
وہ بولا: ’’ہاں! آپ درست کہتے ہیں۔‘‘
’’لیکن تم اپنے مذہب پر عمل نہیں کرتے۔ تم سردار ہو اور اپنے قبیلے کے لوگوں کی آمدنی سے چوتھائی حصہ وصول کرتے ہو، تمھارا مذہب تمھیں اس کی اجازت نہیں دیتا۔‘‘
عدی حیران تھا کہ اس بات کا علم انھیں کیسے ہو گیا۔ پہلی دفعہ اس کے دل نے گواہی دی کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں، درست ہے۔ یہ واقعی اللہ کے رسول ہیں ! مگر اس کے ذہن میں فوراً ایک دوسرا خیال آیا۔ وہ اسی خیال میں گم تھا کہ انھوں نے فرمایا:
’’عدی! تم شاید سوچ رہے ہو کہ جب مسلمانوں کا نبی اس قدر غریب ہے تو دوسرے لوگوں کا کیا حال ہو گا؟ پھر اس قدر غریب لوگوں کا دین قبول کرنے سے کیا فائدہ؟‘‘
وہ خاموش رہا تو فرمانے لگے: ’’اللہ کی قسم، ایک دن ایسا آنے والا ہے جب مسلمان اس قدر مال دار ہو جائیں گے کہ کسی کو صدقے خیرات کی ضرورت نہیں رہے گی۔‘‘
عدی پھر خاموش رہا۔ اب ایک اور سوچ نے اس کے قدم پکڑ لیے تھے۔ تب اسے پھر ان کی پاک آواز سنائی دی۔
’’عدی تم سوچتے ہو گے کہ مسلمانوں کا دین بالکل مختلف ہے، ان کے دشمن ساری دنیا میں ہیں ، لیکن اللہ کی قسم! ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ پورے عرب میں اسلام کا پرچم لہرائے گا اور اس قدر امن اور سکون ہو جائے گا کہ قادسیہ نامی شہر سے ایک عورت اکیلی روانہ ہو گی اور حفاظت کے ساتھ مدینہ پہنچے گی اور اسے کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔‘‘
تھوڑی خاموشی کے بعد وہ دوبارہ گویا ہوئے:
’’اور عدی! شاید تم اسلام اس لیے قبول نہیں کر رہے کہ سوچ رہے ہو گے کہ اصل حکومت تو ایران اور روم کی ہے، اور وہ مسلمان نہیں۔ تو اللہ کی قسم! تم یہ خبر جلد ہی سنو گے کہ بابل کے سفید محلات اور ایران کے کسریٰ کے خزانوں پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا ہے۔‘‘
’’کیا ایران کے شہنشاہ کسریٰ بن ہرمز کے خزانوں پر؟‘‘
انھوں نے فرمایا: ’’ہاں!‘‘
عدی پر ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔ اس نے اسی وقت کہا: ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ ؐ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔‘‘

***

اسلام قبول کرنے کے بعد عدیؓ اپنے قبیلے میں واپس آگئے اور خاندان کے تمام لوگوں کو شام سے بلالیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک وہ اپنے قبیلے میں رہے اور اسلام پھیلانے کی کوششوں میں لگے رہے ۔ اگرچہ اب ان کی حیثیت ایک بادشاہ کی نہیں تھی مگر پھر بھی وہ ایک معزز سردار تھے اور ان کی قوم نے ان کی پیروی میں اسلام قبول کر لیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پورے عرب میں ایک عجیب طوفان برپا ہو گیا۔ اسود عنسی، مسیلمہ کذاب، اور طلیحہ نے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ مدینہ کے قریب عبس، زبیان اور بنو بکر نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا۔ یوں ایک طرح سے مدینہ کے علاوہ ہر جگہ سے اسلام سے بغاوت ہونے لگی۔ جھوٹے نبیوں نے واویلا مچایا کہ سچے نبی کبھی فوت نہیں ہوتے۔ ان حالات میں مدینہ سے باہر چند ہی لوگ ایسے تھے جن کا اسلام پر ایمان متزلزل نہ ہوا ہو۔ عدیؓ بن حاتم ان میں سے ایک تھے۔
ان کے قبیلے والوں نے انہیں بہت اکسایا کہ یہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے اور باغیوں سے اتحاد کرکے مسلمانوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے ، لیکن اسلام ان کے دل میں راسخ ہو چکا تھا۔ انھوں نے ایسے لوگوں کے مشورے کو ذرہ بھر اہمیت نہ دی ، بلکہ انھیں سمجھایا کہ وہ اپنے ایمان کوضائع نہ کریں اور اس نازک موقع پر انھیں حضرت ابوبکرؓ کے پاس جا کر اپنی حمایت کا یقین دلانا چاہیے۔ عدیؓ بن حاتم کو بہت حیرانی ہوئی جب انھوں نے لوگوں کی اکثریت کو اسلام سے بغاوت پر آمادہ دیکھا۔ تب انھوں نے فوری طور پر اپنے قریبی دوستوں کو جمع کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جتنی زکوٰۃ وہ ریاست کو جمع کراتے تھے، اسے جمع کیا اور مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے۔
جب یہ وفد مدینہ آیا تو حضرت اسامہؓ بن زیدؓ کا لشکر رومیوں پر اپنی طاقت کی دھاک بٹھا کر کامیابی سے واپس پہنچ چکا تھا۔ ہر طرف سے خطرات میں گھری ریاست کے لیے یہ بڑی خوشی کا وقت تھا۔
عدیؓ بن حاتم کا زکوٰۃ لے کر پہنچنا حضرت ابوبکرؓ صدیق کو بہت پسند آیا۔ انھوں نے انھیں بلایا، ان کی تحسین کی۔ عدیؓ بن حاتم نے اپنی خدمات پیش کیں اور کہا کہ اس آزمائش کے موقع پر وہ دین کی خدمت کے لیے حاضر ہیں۔ ابوبکرؓ نے ان سے فرمایا:
’’عدیؓ! آپ واپس اپنے قبیلے میں جائیں اور جو لوگ اسلام سے مرتد ہو چکے ہیں انھیں بتائیں کہ قرآن کا یہ فیصلہ ہے کہ جو لوگ نبیؐ کی زندگی میں ان پر ایمان لے آئیں ، لیکن بعد میں کفر کی حالت اختیار کریں، انھیں قتل کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے اگر انھوں نے توبہ کرکے کفر نہ چھوڑا تو ان کا انجام اچھا نہ ہو گا۔‘‘
عدیؓ نے اپنے خلیفہ کی بات پر سر تسلیم خم کیا اور سیدھا اپنے قبیلے میں پہنچے اور لوگوں تک ساری بات پہنچائی۔ قبیلے کے لوگوں نے ان کی بات کے جواب میں کہا: ’’ابوبکرؓ تو، بس ابوالفصیل ہیں۔ ہم ان کی اطاعت ہرگز نہیں کریں گے!‘‘
ان کی بات سن کر عدیؓ بن حاتم کو بہت غصہ آیا۔ دراصل اسلام کے باغیوں نے حضرت ابوبکرکا نام ابوالفصیل رکھ چھوڑا تھا۔ اس کا مطلب تھا بچھڑے کا باپ۔ گویا وہ اسلامی ریاست اور اس کے حکمران کو بہت کمزور سمجھتے تھے۔ عدی نے انھیں کہا:
’’ابوبکرؓ ہرگز ابوالفصیل نہیں بلکہ وہ ’’فحل اکبر‘‘ ہیں۔ یعنی بچھڑے ہرگز نہیں ، بلکہ سانڈ کی طرح طاقتور ہیں۔ ان کا لشکر تمھاری طرف آندھی اور طوفان کی طرح بڑھ رہا ہے ۔ یہ لشکر مرتدین اور باغیوں پر ہرگز رحم نہیں کرے گا اور قتل و غارت کا ایسا بازار گرم کرے گاکہ کسی بھی شخص کو امان نہیں مل سکے گی۔ میں تمھارے قبیلے کا شخص ہوں، تمھارے نفع و نقصان کا دھیان رکھنا میرا فرض ہے۔ اب آگے تم جانو اور تمھارا کام!‘‘
ان کے اس سخت اور دوٹوک رویے پر لوگ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے۔ تب عدیؓ نے انھیں مزید بتایا کہ تم جس حکومت کو کمزور سمجھتے ہو، میں نے اپنی آنکھوں سے اس کی فوج کو رومیوں کے ساتھ کامیاب معرکہ آرائی کے بعد واپس آتے دیکھا۔ پھر ’’ذی القصہ‘‘ نامی جنگ کا حال بتایا جس میں مدینہ کے قریبی مانعین زکوٰۃ کو شکست دی تھی۔ پھر انھوں نے یہ بتایا کہ اسامہؓ بن زید کا لشکر مدینہ میں واپس جانے کے بعد مسلمانوں کے کئی لشکر عرب کے علاقوں میں باغیوں کی سرکوبی کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔
ایک شخص یہ سن کر بولا: ’’تو کیا ابوبکرؓ نے ہماری طرف بھی کوئی لشکر روانہ کیا ہے!‘‘
’’جی ہاں، خالد بن ولید کی کمان میں ایک لشکر طلیحہ سے جنگ کے بعد ادھر ہی کا رخ کرے گا۔‘‘
خالدؓ بن ولید کا نام بنوطی کے لیے اجنبی نہیں تھا۔ وہ ان کی بہادری اور سختی ، دونوں سے واقف تھے۔ پھر انھیں حضرت عدیؓ کے اخلاص اور قبیلے سے خیرخواہی کابھی یقین تھا ۔ ان حالات میں انھوں نے دوبارہ اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا اور حضرت عدیؓ سے کہا:
’’ہم آپ کا مشورہ قبول کرتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ خالدؓ بن ولید کے پاس جائیں اور انھیں ہم پر حملہ کرنے سے روکیں۔ ہماری طرف سے انھیں یقین دلائیں کہ ہم ان کے مقابلے میں نہیں آئیں گے۔ مگر اس وقت ہم اپنے مسلمان ہونے کا اعلان نہیں کر سکتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بزاحہ میں طلیحہ کی فوج میں ہمارے رشتہ دار موجود ہیں۔ اگر ہم نے دوبارہ مسلمان ہونے کا اعلان کیا تو طلیحہ ہمارے رشتہ داروں کو قتل کرادے گا۔ ہم پہلے اپنے رشتہ داروں کو بلاتے ہیں اور پھر مسلمان ہونے کا اعلان کریں گے۔‘‘
عدیؓ کو ان لوگوں کی باتوں میں بڑی معقولیت نظر آئی ، اور انھوں نے خالدؓ بن ولید کے ہاں ان کی معذرت پہنچانے کا وعدہ کیا اور سخ کے علاقے کی طرف رخ کیا۔
طلیحہ ان لوگوں میں سے تھا جنھوں نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور مسلمانوں کے خلاف ایک لشکر بنا لیا تھا جو بزاحہ میں مقیم تھا۔
عدیؓ پہنچے اور خالدؓ بن ولید کے سامنے ساری صورتِ حال رکھ دی اور کہا: ’’آپ تین روز تک ٹھہر جائیں۔ اس عرصے میں ہمارے قبیلے کے وہ لوگ جو طلیحہ کے لشکر میں ہیں، آپ کے پاس آجائیں گے۔ ان لوگوں کی تعداد پانچ سو کے لگ بھگ ہو گی۔ یہ لوگ آپ کے لیے بہت مفید ثابت ہوں گے۔ اس لیے کہ ان کے پاس دشمن کی ہر خبر ہو گی۔۔۔ لیکن اگر آپ نے یہ مہلت نہ دی تو ایک تو آپ کو سخت مقابلہ کرنا پڑے گا، دوسرے لوگوں میں یہ تاثرابھرے گا کہ اسلام میں واپسی کا اب کوئی راستہ نہیں بچا۔‘‘
خالدؓ بن ولیدکے پاس صورتِ حال کی پوری خبریں تھیں اور عدیؓ بن حاتم کا بیان اس کی تصدیق کرتا تھا۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اگر بنی طے کے لوگ طلیحہ کو چھوڑ کراسلامی لشکر میں آجائیں تو دہرا فائدہ ہو گا۔ یعنی طلیحہ کے لشکر میں کمی اور اسلامی لشکر میں اضافہ ۔ چنانچہ انھوں نے بنی طے کی طرف کوچ کرنے کا ارادہ تین دن تک موخر کر دیا۔
یہ خوشخبری لے کر عدیؓ جب قبیلے پہنچے تو انھیں ایک عجیب خبر سننے کو ملی ۔ وہ یہ کہ قبیلے کے لوگوں نے طلیحہ کے لشکر میں اپنے آدمیوں کو یہ پیغام بھیجا ہے کہ فوراً واپس آ جائیں ، کیونکہ مسلمانوں نے طلیحہ کے لشکر پر چڑھائی کرنے سے قبل ان پر حملہ کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ اس لیے وہ اپنے قبیلے کو بچانے کے لیے واپس آجائیں۔
عدیؓ کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب کچھ دنوں بعد اس کے قبیلے کے تمام لوگ واپس آگئے۔ ان لوگوں کو اپنے قبیلے میں پہنچ کر جب معلوم ہوا کہ قبیلے کے تمام لوگ دوبارہ اسلام قبول کر چکے ہیں اور انھیں تو صرف خالدؓ بن ولید اور مسلمانوں کی تلواروں سے بچانے کے لیے واپس لایا گیا ہے تو وہ بھی دوبارہ حلقہ بگوش اسلام ہوگئے۔ یوں عدیؓ بن حاتم کی وجہ سے بنو طئی، طلیحہ کے بجائے خالدؓ بن ولید کی فوج کا حصہ بن گئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ عدیؓ نے اس کے بعد اپنے ہمسایہ قبیلے ’’جدیلہ‘‘ کو بھی سمجھا بجھا کر اپنے ساتھ ملا لیا اور مرتدین کی فوج کو مزید کمزور کرکے اسلامی ریاست کی فتح کی راہ ہموار کی۔ چنانچہ خالدؓ بن ولید نے عدیؓ بن حاتم اور اس کے قبیلے بنو طئی سے مل کر طلیحہ سے جنگ کرکے اسے فیصلہ کن شکست دی۔
عدیؓ بن حاتم بعد میں بھی اس وقت تک مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ رہے جب تک کہ پورے عرب میں مرتدین کا صفایا نہ ہو گیا۔ یوں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق پورے عرب کو اسلام کے آگے سرنگوں دیکھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ عدیؓ کی زندگی ہی میں مسلمانوں نے روم اور ایران کی عظیم ریاستوں پر قبضہ کر لیا اور ان کے سارے خزانے مسلمانوں کے ہاتھ لگے۔ اسلام کی وسیع سلطنت میں اس قدر امن و امان ہوا کہ ایک عورت مصر کے شہر قادسیہ سے چلی اور خیر و عافیت سے مدینہ پہنچی۔
عدیؓ بن حاتم کو یقین تھا کہ اللہ کے رسولؐ کی تیسری بات بھی پوری ہو گی ۔۔۔ اور ان کا یقین درست ثابت ہوا۔عمر ؒ بن عبدالعزیز کے زمانے میں مسلمان اس قدر خوش حال اور مال دار ہو گئے کہ کسی کو خیرات یا صدقے کی ضرورت نہ رہی۔

____________