اٹھارہواں باب 
 
پاکستان دو قسم کے عدالتی بحرانوں کا شکار ہے۔ ان میں سے ایک بحران سب کو نظر آتا ہے اور دوسرے بحران کی طرف بہت کم لوگوں کی توجہ جاتی ہے۔ پہلا بحران یہ ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ نے تقریباً ہمیشہ ڈکٹیٹروں، طالع آزماوؤں اور آئین توڑنے والوں کا ساتھ دیا ہے اور ان کے حق میں فیصلے دیے ہیں۔ ججوں کی ایک بڑی اکثریت نے آئین کو پامال کرکے برسراقتدار آنے والے فوجی جرنیلوں کے لیگل فریم ورک آرڈرز کی تحت حلف اٹھایا ہے اور یہ نہیں سوچا کہ وہ ایسا کرکے اپنے سابقہ حلف سے غداری کے مرتکب ہورہے ہیں۔ یہی داستان اس ملک میں باربار دہرائی گئی ہے۔ اس پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ جسٹس منیر سے لے کر جسٹس حمید ڈوگر تک سب کی داستانیں ہرسیاسی کارکن کو ازبر یاد ہیں۔ کچھ لوگوں کے خیال میں تو پاکستان کا اصل بحران ہی عدلیہ کا ہے۔ تاہم راقم کو اس نقطہ نظر سے اتفاق نہیں۔ میرے خیال میں اگر کوئی جج برسراقتدار فوجی ڈکٹیٹر کے خلاف فیصلہ دے بھی دیتا تو اس کا زیادہ سے زیادہ یہی نتیجہ نکلتا کہ اُس جج یا اس پوری عدالت کو برخواست کرکے اپنی مرضی کے جج تعینات کردیے جاتے۔ تاہم پھر بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا کہ انصاف مہیا کرنے کے مسند پر فائز ہونے والے لوگ خود سب سے بڑھ کر بے انصافی کے مرتکب ہوئے اور تاریخ میں اپنا نام بھی داغ دار کردیا۔ میرے نزدیک اس کا اصل جواب یہ ہے کہ یہ ہمارے بالادست طبقے (Elite Class) کی ذہنی پس ماندگی، کجروی، لالچ، بددیانتی اور منافقت کا ایک اظہار ہے۔ ہمارے بالادست طبقات میں سے اسی فیصد(80%) اسی معیار پر پورے اترتے ہیں۔ ہماری اعلیٰ عدلیہ بھی اسی بالائی طبقے سے تعلق رکھتی ہے، چنانچہ جو حال اس طبقے کے باقی لوگوں کا ہے، وہی حال اس کا ہے۔ جب تک بااثرو بالادست طبقے (Elite Class)کے شعور واحساس اور اقدارومعیار میں واضح تبدیلی نہیں آئے گی تب تک ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ احساس وشعور بڑھتا چلا جارہا ہے۔ مارچ اور پھر نومبر 2007میں جمہوری لبادہ پہنے ہوئے فوجی آمر کے اعلیٰ عدلیہ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کے خلاف ملک گیر احتجاج، سول سوسائٹی کا ابھار، اور تعلیم یافتہ لوگوں کا غم وغصہ احساس وشعور کی بڑھوتری کی دلیل ہے۔ تاہم یہ اب بھی معیارِ مطلوب سے بہت کم ہے۔ ابھی وطن میں وہ وقت آنے میں کچھ دیر ہے جب ججوں کی اکثریت خالصتاً خوفِ خدا اور اپنے ضمیر وآئینِ پاکستان کے مطابق فیصلے دے گی۔ شعور کو بڑھانے کی جدوجہد جاری رہی تو یہ مرحلہ آکر رہے گا۔ 
تاہم عدلیہ کا ایک دوسرا بحران بھی ہے جس پر بہت کم لکھا جاتا ہے۔ میرے خیال میں اس معاملے میں پاکستان کی پوری تاریخ میں کسی سیاسی پارٹی اور تھنک ٹینک نے کوئی حل پیش نہیں کیا اور کسی حکومت نے اس ضمن میں اصلاح کی طرف کوئی قدم نہیں بڑھایا۔ وہ بحران یہ ہے کہ پاکستان میں انصاف بہت مہنگا ملتا ہے، دیر سے ملتا ہے، اورفوجداری مقدمات میں نوے فیصد حالات میں ملتا ہی نہیں۔ رہے دیوانی معاملات، تو ان کا تو خدا ہی حافظ ہے۔ ہر کیس کئی کئی سال تک چلتا رہتا ہے اور فیصلے کی نوبت نہیں آتی۔ ایک ایسا عدالتی نظام بنایا گیا ہے جس میں ایک سچے مدعی کے لیے بھی جھوٹ بولے بغیر اپنے مقدمے کو آگے بڑھانا ممکن نہیں ہے۔ ایک سینئر وکیل نے ایک مرتبہ مجھ سے کہا کہ اسے کوئی ایسا کیس یاد نہیں جس میں اُس نے اپنے مقدمے کو ثابت کرنے کے لیے کسی نہ کسی مرحلے پر جھوٹ نہ بولا ہو۔ فوجداری مقدمات میں تو وکیل کو اپنے موکل کا جرم اچھی طرح معلوم ہوتا ہے اوراُس کے باوجود اُس جرم سے انکار کے دلائل تراشتا ہے۔ اگر یہ غلط بیانی نہیں تو اور کیا ہے۔ اگر کوئی فرد چاہے کہ وہ وکیل کی مدد کے بغیر اپنا مقدمہ خود لڑے اور سارے حقائق پیش کرکے انصاف حاصل کرے تو یہ ناممکن ہے۔ اس نظام میں پروسیجر کو اتنا پیچیدہ بنادیا گیا ہے کہ وکیل کی مدد کے بغیر کیس ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری عدالتوں میں انصاف نہیں ملتا بلکہ محض فیصلے ہوتے ہیں۔ جج ایک ریفری کا کردار اداکرتا ہے جس کاکام صرف یہ ہو تا ہے کہ دو مقابل وکیلوں میں کس کا زورِ بیان زیادہ ہے۔ مضبوط وکیل کے مقابلے میں ایک کمزور وکیل ہمیشہ اپنا کیس ہار جاتا ہے۔ جج صاحبان انصاف تک پہنچنے کے لیے اپنا دل ودماغ استعمال نہیں کرتے۔ اگر وکیل کوئی نکتہ بھول جائے یا کوئی دستاویز طلب نہ کرے تو جج کبھی اس کا ذکر نہیں کرتے ۔ چنانچہ اس ملک کے ایک عام آدمی کی فرسٹریشن کی سب سے بڑی وجہ یہی عدالتی نظام ہے۔ یہ عدالتی نظام ہمیں انگریز سے ورثے میں ملا تھا۔ آج تک کسی سیاسی پارٹی اور کسی حکومت نے اس میں بنیادی تبدیلیوں کے لیے کوئی تجویز نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ قانون اور انصاف کے حصول کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں جس کا انفرادی نتیجہ قتل وغارت گری اور اجتماعی نتیجہ مسلح بغاوت کی شکل میں ظاہر ہوتاہے۔ ہمارا نظامِ عدالت درحقیقت ایک سرمایہ دارانہ نظامِ عدالت ہے جس میں پیسے کے زور کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔ سرمایہ دار ملکوں میں یہ نظام ٹھیک کام کررہا ہے، اس لیے کہ وہاں سرمائے کا مسئلہ درپیش نہیں ہے اور وکیل جھوٹ نہیں بولتے بلکہ قانون کے اندر دی گئی رعایتوں سے اپنے موکل کے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ہم نے سرمایہ دارانہ نظام کی ساری خامیاں اپنا لی ہیں اور ان کی خوبیوں سے ہم تہی دامن ہیں۔ 
چنانچہ یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنے پورے نظامِ انصاف پر نظرثانی کریں تاکہ یہ ہمارے حالات کے مطابق بن جائیں، انصاف جلد ملے اور سستا ملے۔ 


انصاف کا بنیادی ادارہ جرگہ سسٹم 

پنچائیت یاجرگہ سسٹم سے ہمارا تعلق زمانہِ قدیم سے چلا آرہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم اس سسٹم کو اپنی ضروریات کے مطابق ڈھال لیتے۔ لیکن ہم نے اس کو مکمل طور پر فراموش کردیا۔ یہی سسٹم ایک خاص انداز میں مغربی دنیا میں بھی کام کررہا تھا جس کو انہوں نے جیوری اور اعزازی عدالت کی شکل دے دی۔ ہم نے اعزازی عدالتوں کو کبھی نافذ نہیں کیا اور جیوری کے نظام سے ہم بالکل نابلد ہیں۔ میری تجویز یہ ہے کہ ہر تحصیل کی سطح پر پچاس سے لے کر سو تک افراد کی ایک لسٹ بنائی جائے جو ایماندار، دیانت دار اور معاملہ فہم ہوں۔ جب بھی کوئی دیوانی کیس واقع ہوجائے تو مدعی بغیر کسی کو وکیل بنائے پوری تفصیل کے ساتھ اپنی درخواست سول سیشن عدالت میں دائر کردے۔ اس کے بعد عدالت مدعا علیہ کو بھی بلائے۔ دونوں فریق اتفاق رائے سے اپنے لیے جرگے کے ارکان کا انتخاب کرلیں۔ اگر اتفاق رائے نہ ہوتو دونوں فریق اپنی طرف سے دودو نام پیش کریں اورجج ان کے ساتھ ایک پانچویں فرد کو بھی شامل کرلے۔ جرگے کے یہ پانچوں افراد مل بیٹھ کر مقدمے کا کوئی حل یا فیصلہ ڈھونڈ لیں۔ جرگے کی تمام کاروائی کو قلمبند کیا جائے۔ دو مہینوں کے اندر اندر جرگہ اپنا فیصلہ سنائے۔ اگر اس فیصلے پر دونوں فریق راضی ہوں تو ٹھیک ہے۔ ورنہ یہ پوری کاروائی عدالت کے سپرد کردی جائے۔ جس فریق کو یہ فیصلہ منظور نہ ہو،وہ عدالت کے سامنے اپیل کرے۔ گویا جرگے کی پوری کاروائی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن جائے گی اور عدالت بنیادی طور پر اپیل کورٹ کا کردار ادا کرے گی۔ یہاں وکیلوں کو پیش ہونے کی اجازت ہو۔ اگر سول جج ضرورت محسوس کرے تو وہ کسی گواہ کو دوبارہ بھی بلا سکتا ہے مگر اُس پر وہ خود جرح کرے گا۔ جج کے لیے یہ لازم ہو کہ وہ صرف وکیلوں کی بحث پر اکتفانہیں کرے گا بلکہ کیس پر خود بھی غوروفکر کرے گا اور پھر وہ قدم اٹھائے گا جو انصاف کے حصول میں مددگار ثابت ہو۔ اس طرح جب ایک سول جج فیصلہ دے تو اس فیصلے کے خلاف صوبے کی ہائی کورٹ میں اپیل کی اجازت ہو۔ ہائی کورٹ کا فیصلہ آخری ہو۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ عام دیوانی مقدمات سپریم کورٹ میں نہیں جائیں گا۔ 
فوجداری مقدمات کے ضمن میں یہ طریق کار ہونا چاہیے کہ متاثرہ فریق اپنی پوری شکایت کے ساتھ کریمینل سیشن کورٹ میں اپنی شکایت درج کرے۔ اس کے ساتھ پولیس بھی اپنی رپورٹ پیش کرے۔ اس کے بعد جج اپنی صواب دید پر پانچ افراد پر مشتمل ایک جرگہ تشکیل دے۔ یہ جرگہ پورے معاملے کی تحقیق کرے، گواہوں کے بیانات لے اور دو ماہ کے اندر اندر یہ رپورٹ پیش کرے کہ اُس کے خیال میں جرم سرزد ہوا ہے یا نہیں۔ کریمینل کورٹ جج اس تمام مقدمے کو پڑھ کر جرم کے لیے سزا کا تعین کرے۔ اس فیصلے کے خلاف فریقین کو ہائی کورٹ کے کریمینل بنچ میں اپیل کا اختیار ہو۔ اس اپیل کا فیصلہ حتمی تصور ہوگا۔ ہر ڈویژن میں ہائی کورٹ کا مستقل بنچ کام کرے گا۔ 
درج بالا طریق کار کو اپنانے سے انصاف جلد اور سستا ملنے لگے گا اور فیصلہ انصاف سے قریب تر ہوگا۔ اس طریق کار میں سپریم کورٹ کا کام بھی بہت آسان ہوجائے گا کیونکہ اس کاکام صرف صوبوں اور وفاق کے درمیان تنازعات کو حل کرنے تک محدود ہوجائے گا۔سپریم کورٹ کو اپنی صوابدید پر کیس سننے کا اختیار نہ ہو۔ 
یہ بھی ضروری ہے کہ کسی ملزم کا فرار متاثرہ فریق کے لیے انصاف سے محرومی کا باعث نہیں ہونا چاہیے۔ آج کے دور میں یہ ناممکن ہے کہ ملزم کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اُس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اگر کوئی ملزم مفرور ہوجائے تو مقدمے کی کاروائی یک طرفہ طور پر جاری رکھی جائے اور مفرور کے ہاتھ آنے کے بعد کی گئی کاروائی کو کسی حالت میں بھی ازسر نو نہ کھولا جائے۔ مقدمے سے فرار کو بذات خود ایک جرم قرار دیا جائے اور اس کے لیے مفرورکو علیحدہ سے سزا دی جائے۔ ہمارے سب مروجہ قوانین پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے مثلاً کسی زخم کا جرمانہ کم ازکم اتنا ہونا چاہیے جو علاج پر خرچ ہونے والی رقم اور متاثرہ فریق کو پہنچنے والی تکلیف کے برابر ہو۔ ہرقانون میں ہر جرم کی کم ازکم سزا کا ذکر بھی کیا جائے تاکہ جج صاحبان اُس حد کے اندر رہیں۔ ہر ضلعے، صوبے اور وفاقی سطح پر محتسبین کا قیام عمل میں لایا جائے جن کا کام صرف یہ ہو کہ وہ سرکاری محکموں کے خلاف انفرادی شکایات سنیں۔ ان فیصلوں کے خلاف متعلقہ محکموں کو ہائی کورٹ میں اپیل کا حق حاصل ہو،تا ہم اس اپیل کے دوران میں فریقین کے طرف سے وکیلوں کو ہائر کرنے کی اجازت نہ ہو۔ 
جج صاحبان کی تقرری کے لیے بھی ایک شفاف طریقہ کار ہونا چاہیے۔ میری تجویز یہ ہے کہ ججوں کی تقرری باقاعدہ پبلک سروس کمیش کے ذریعے بطور ایڈیشنل سول سیشن جج اور ایڈیشنل کریمینل سیشن جج ہو۔ انہی میں سے ترقی کرکے ہائی کورٹ کے جج منتخب ہوں۔ براہ راست ہائی کورٹ کے ججز مقرر کرنے کے طریقہ کار کو ختم کردیا جائے۔ تحصیل کی سطح پر ہر سیشن میں کم ازکم اتنے جج ہونے چاہئیں کہ کسی جج کے پاس ایک وقت میں دوسو سے زیادہ مقدمات نہ ہوں۔ سپریم کورٹ کے جج صاحبان کو تقرری سے پہلے پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے انٹرویو کے لیے پیش کیا جائے۔ ججز کی تقرری پارلیمنٹ میں دوتہائی اکثریت کے ساتھ ہو۔ اس طرح اعلیٰ عدلیہ کے اندر توازن پیدا ہوجائے گا۔سب فیصلوں پر میڈیا کو تنقید کا حق ہو۔ آئین وقانون کی حتمی تشریح کا حق پارلیمنٹ کو حاصل ہو۔ ججوں کی برخواستگی کا اختیار پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت کو حاصل ہو۔ توہینِ عدالت کا قانون ختم کردیا جائے۔ ججوں کو ایک دوسرے کے خلاف کیس سننے کا اختیار نہ ہو بلکہ ایسے کیسوں کو پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کیس سنے اور فیصلہ دے۔ سپریم کورٹ کے جج صاحبان پر یہ پابندی ہو کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ملک کی سیاست میں براہ راست حصہ نہیں لیں گے کیونکہ یہ افراد کسی سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ ساری قوم کا سرمایہ ہیں۔ ان کا مقام تو یہ ہے کہ وہ یونیورسٹیوں کے تحقیقی ادارروں کو مشورے دیں، ملک کے سفیر بنیں، بین الاقوامی اداروں میں نمائندگی کریں، ملک کے اندر انہیں وہ ذمہ داریاں سونپی جائیں جو کسی اور کے بس میں نہ ہوں اور ان سے ملکی معاملات میں بے لاگ مشورے لیے جائیں۔ 


موجود مقدمات کے بوجھ کم کرنے کا طریقہ 

جیسا کہ ہم جانتے ہیں، اِس وقت بھی سپریم کورٹ کے سامنے ہزاروں مقدمات فیصلے کے انتظار میں ہیں۔ اس میں موجود سب دیوانی مقدمات کے بارے میں یہ طریقہ کار اختیار کیا جائے کہ ہر مقدمہ تین ارکان پر مشتمل ایک اعزازی جیوری کے حوالے کیا جائے۔ اس جیوری کے سامنے فریقین کے وکیل اپنا موقف پیش کریں اور متعلقہ فریق براہ راست بھی اپنا موقف پیش کرے۔ ان تمام چیزوں کو ریکارڈ کیا جائے۔ اس جیوری کا فیصلہ آخری اور حتمی ہو۔ 
جہاں تک فوجداری مقدمات کا تعلق ہے، اس ضمن میں ترجیحات کی ایک فہرست مرتب کی جائے۔ سب سے پہلے قتل، پھر زنا بالجبر، پھر ڈاکہ، پھر چوری کے مقدمات کو لیا جائے۔ اس طرح کم از کم بڑے جرائم کا فیصلہ ایک مختصر عرصے میں ہوسکے گا۔ 


اضافی عدالتوں کو ختم کرنے کی تجویز 

اس وقت کئی ناموں سے بہت سی عدالتیں بنائی گئی ہیں۔ مثلاً فیملی کورٹس، رینٹ کنٹرولر کورٹس، ڈرگ کورٹس اور شرعی عدالتیں وغیرہ۔ ان سب چیزوں نے بہت سی پیچیدگیوں کو جنم دیا ہے اور یہ انصاف کے حصول میں تاخیر کا سبب بن رہی ہیں۔ چنانچہ یہ ضروری ہے کہ اس طرح کی سب عدالتوں کو ختم کرکے ایک صاف اور واضح سسٹم بنایا جائے یعنی ہر تحصیل کی سطح پر سیشن کورٹ اور اس کے بعد صوبے کی سطح پر ہائی کورٹ کے سامنے سب مقدمات پیش ہوں اور ان کا فیصلہ جرگے کے مجوزہ نظام کے ذریعے ہو۔