مولانا نے بغیر اقتدار کے جہاد کے جائز ہونے کی ایک دلیل ابو بصیر رضی اللہ عنہ کے واقعے کو بھی بنایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بغیر اقتدار کے لوگوں نے جہاد کیا لیکن آپ نے اسے فساد قرار نہیں دیا، صلح حدیبیہ کے بعد، ابو بصیر اور ان کے ساتھی اس نوع کی آزمایش سے دو چار ہوئے کہ وہ نہ مکہ میں رہ سکتے تھے اور نہ مدینہ کی اسلامی حکومت انھیں قبول کر سکتی تھی۔ ایسی صورت میں انھوں نے ساحل سمندر کے کنارے اپنا الگ مرکز قائم کیا جہاں سے وہ جہاد کرتے رہے۔ تا آں کہ مشرکین قریش صلح حدیبیہ میں عائد کردہ شرط: جو مسلمان ہو کر مدینہ جائے گا اسے ہمارے پاس بھیجیں گے، کو واپس لینے پر مجبور ہو گئے۔
ابو بصیر اور ان کے ساتھیوں نے جو جہاد کیا، اس کے جائز ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں ہم سوال کرتے ہیں کیا ان کے پاس حکومت تھی؟ اور کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار قریش کے مقابلے میں ایک تیسری حکومت قائم کر رہے تھے؟ اگر نہیں تو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس جہاد کو فساد قرار دیا؟ ظاہر ہے کہ تمام سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی دلی ہمدردیاں ابو بصیر اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ تھیں لیکن صلح حدیبیہ کی رو سے آپ ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتے تھے۔‘‘ (۶۱۔ ۶۲)

مولانا کی اس بات کا تجزیہ کرنے سے پہلے ہم یہ چاہتے ہیں کہ اپنے قارئین کے سامنے ابوبصیر رضی اللہ عنہ کے واقعے کی پوری حقیقت اچھی طرح سے واضح کر دیں۔
ابو بصیر رضی اللہ عنہ صلح حدیبیہ کے بعد اسلام لے آئے۔ اسلام لانے کے بعد وہ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ آ گئے۔ جیسا کہ معلوم ہے، صلح حدیبیہ کی ایک شرط کے مطابق ریاست مدینہ اس بات کی پابند تھی کہ مکہ کا کوئی شخص اگرمسلمان ہو کر مدینہ آ جائے گا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو واپس کر دیں گے۔ چنانچہ مشرکین مکہ کی طرف سے دو آدمی انھیں واپس لے جانے کے لیے مدینہ پہنچے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے عہد نامے کے مطابق ابو بصیر کو ان کے حوالے کرتے ہوئے ان سے کہا: ابو بصیر، تم جانتے ہو کہ ان لوگوں کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہے، ہم اس معاملے میں بے وفائی نہیں کریں گے، اس لیے تم قریش کی طرف واپس چلے جاؤ۔ ابو بصیر نے عرض کی: کیا آپ مجھے ان مشرکین کو لوٹا رہے ہیں جو مجھے اپنے دین سے پھر جانے کے لیے اذیت دیں گے؟ آپ نے فرمایا: صبر کرو اور اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھو، یقیناًاللہ تمھارے لیے کوئی راستہ نکال دے گا۔ واپسی کے راستے میں مکہ سے آنے والے ایک شخص کو ابوبصیر نے باتوں میں لگا کر قتل کر دیا۔ اور دوسرا اپنی جان بچا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس مدینہ پہنچ گیا۔ اس نے آپ سے عرض کیا: اللہ کی قسم، میرا ساتھی قتل کر دیا گیا ہے، اور میں بھی یقینامار دیا جاؤں گا۔ اتنے میں ابو بصیر بھی ہاتھ میں تلوار لیے وہاں پہنچ گئے۔ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: یا رسول اللہ، مجھے ان کے حوالے کر کے عہد نامہ کی رو سے آپ پر جو ذمہ داری عائد ہوتی تھی، وہ آپ نے ادا کر دی۔ میرے کسی عمل کے آپ ذمہ دار نہیں ہیں۔ اب اللہ نے مجھے ان سے نجات دے دی ہے۔ اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ویل أمہ مسعر حرب لو کان لہ أحد.(بخاری،رقم ۲۵۲۹)
’’اس کی ناس ہو، کسی نے اگر اس کا ساتھ دیا تو یہ جنگ کی آگ بھڑکا کر رہے گا۔‘‘

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات سے ابو بصیر سمجھ گئے کہ آپ انھیں قریش کو واپس لوٹا دیں گے۔ لہٰذا وہ مدینہ چھوڑ کر سمندر کے کنارے مقیم ہو گئے۔ قریش میں سے بعض لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس صورت حال کا ذمہ دار ٹھیرانے کی کوشش کی اور آپ سے دیت کا مطالبہ کرنا چاہا تو ان کے امیر ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: اس معاملے کی ذمہ داری محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) پر نہیں ڈالی جا سکتی، کیونکہ ان پر جو ذمہ داری تھی، وہ انھوں نے ادا کر دی۔ انھوں نے اسے ہمارے نمائندوں کے حوالے کر دیا تھا اور ابو بصیر نے ان کے حکم سے ہمارے نمائندے کو قتل نہیں کیا۔ آہستہ آہستہ ابو بصیر کے پاس دوسرے نومسلم بھی جمع ہونے لگے۔ انھیں جب بھی یہ خبر ملتی کہ قریش کا کوئی قافلہ ادھر سے گزر رہا ہے تو وہ اسے لوٹ لیتے۔ قریش اس صورت حال سے بڑے پریشان ہوئے۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی بھیجا اور اللہ کا واسطہ دے کر درخواست کی کہ آپ ابو بصیر کو ایسا کرنے سے منع کر دیں۔ اس کے لیے انھوں نے عہد نامہ حدیبیہ کی یہ شرط بھی ختم کر دی کہ مکہ سے کوئی شخص مدینہ آئے تو اسے واپس کیا جائے گا۔ چنانچہ اس کے بعد سے نو مسلموں کے لیے مکہ سے مدینہ جانے کی راہ بھی کھل گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بصیر کو مدینہ بلوا لیا اور لوٹ مار کرنے سے منع فرمایا۔
یہ ابو بصیر رضی اللہ عنہ کے واقعے کی تفصیلات ہیں۔ اس واقعے کے حوالے سے مولانا محترم فرماتے ہیں کہ ابو بصیر نے ’’جہاد کیا لیکن آپ نے اسے فساد قرار نہیں دیا۔‘‘ ہم اس ضمن میں مولانا سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ:
۱۔ ابو بصیر کے اس عمل کو مولانا نے قرآن و حدیث کی کس نص کی بنیاد پر جہاد قرار دیا ہے؟ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی موقع پر اسے ’’جہاد‘‘ قرار دیا یا اس کی حوصلہ افزائی یا تحسین ہی فرمائی؟
۲۔ مولانا فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بصیر کے اس سارے عمل کو فساد قرار نہیں دیا۔ اس کے جواب میں ہم مولانا سے پوچھنا چاہیں گے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کے مکلف تھے کہ دنیا میں ہونے والے ہر غلط عمل پر تبصرہ فرمائیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بصیر کی کارروائیوں کو فساد قرار نہیں دیا تو کیا آپ نے انھیں کہیں جہاد قرار دیا؟ کیا پیغمبر ایک بین الاقوامی مبصر بھی ہوتا ہے؟
۳۔ کیا کسی قوم کے قافلوں کی لوٹ مار کو ’’جہاد‘‘ کہا جا سکتا ہے؟
۴۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بصیر کو قریش کے حوالے کرتے ہوئے یہ ہدایت کی تھی کہ وہ خدا سے اجر پانے کی نیت سے صبر کرے۔ کیا ابو بصیر کا ساراعمل نبی کی اس ہدایت کے مطابق تھا؟ کیا نبی کی موجودگی میں، نبی کی ہدایت کے بغیر، بلکہ اس کے برخلاف، قتال کے لیے تلوار اٹھانا جائز ہے؟
۵۔ کیا اسلامی اخلاقیات یہی ہے کہ جنگ کے کسی اعلان کے بغیر، امن و آشتی کے دور میں دشمن قوم کے غیر حربی قافلوں کے خلاف لوٹ مار کی کارروائی کی جاتی رہے؟
۶۔ اگر ابو بصیر کا یہ عمل جہاد تھا تو اس جہاد کا اجر پانے کے لیے مدینہ کے مسلمانوں میں سے کوئی اس میں شریک ہونے کے لیے ریاست مدینہ سے نکل کر ابو بصیر سے کیوں نہ جا ملا؟
۷۔ قریش کی درخواست پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بصیر اور اس کے ساتھیوں کو ’’جہاد‘‘ کے اس شان دار عمل سے رک جانے اور مدینہ آ جانے کو کیوں کہا؟
ان نکات کے علاوہ بھی مولانا نے اپنے مضمون میں بعض باتوں کو اپنی راے کے حق میں استدلال کے طور پر پیش فرمایا ہے، لیکن ان کا تعلق چونکہ براہ راست قرآن و حدیث کے نصوص سے نہیں ہے، بلکہ فقہا کی آرا اور قرآن و حدیث میں بیان ہونے والی باتوں سے بالواسطہ استخراج سے ہے، اس وجہ سے ہم یہاں ان سے تعرض نہیں کریں گے۔
مولانا محترم سے ہماری گزارش ہے کہ وہ ہمیں دین کا ایک طالب علم سمجھتے ہوئے ہمارے ان سوالوں کا جواب عنایت فرمائیں۔ مولانا اس سلسلے میں جو کچھ بھی لکھنا چاہیں گے، اسے ماہنامہ ’’اشراق‘‘ کے صفحات میں شائع کرنا ہمارے لیے باعث سعادت ہو گا۔ اس مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر، مولانا محترم کی طرح، ہم بھی یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ علمی سطح پر اس کی تنقیح ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ صحیح باتوں کے لیے دلوں میں جگہ پیدا فرمائیں، غلط باتوں کے شر سے ہم سب کو محفوظ رکھیں اور آخرت کی کامیابی کو ہم سب کا ہدف بنا دیں۔

 [ستمبر ۱۹۹۷ء]

____________