قرآن سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت موسیٰ کے دور میں بنی اسرائیل جب ایک زبردست آزمایش سے گزررہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں امامت کے منصب پر فائز کرنے کا فیصلہ کیا:

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَجَعَلَ اَھْلَھَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآءِفَۃً مِّنْھُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَ ھُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَ ھُمْ اِنَّہٗ کَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ. وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَھُمْ اَءِمَۃً وَّ نَجْعَلَھُمُ الْوٰرِثِیْنَ. وَ نُمَکِّنَ لَھُمْ فِی الْاَرْضِ وَنُرِیَ فِرْعَوْنَ وَھَامٰنَ وَجُنُوْدَ ھُمَا مِنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَحْذَرُوْنَ. (القصص ۲۸: ۴ ۔۶)
’’بے شک، فرعون سرزمین (مصر) میں بہت سرکش ہوگیا تھا اور اس نے اس کے باشندوں کو مختلف طبقوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ ان میں سے ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو اس نے دبا رکھا تھا۔ان کے بیٹو ں کو ذبح کر چھوڑتا اوران کی عورتوں کو زندہ رکھتا۔ بے شک، وہ (زمین میں) فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا۔ اور ہم یہ چاہتے تھے کہ ان لوگوں پر احسان کریں جو ملک میں دباکر رکھے گئے تھے اور ان کو پیشوا بنائیں اور ان کو وراثت بخشیں اور ان کو زمین میں اقتدار عطا کریں، اور فرعون و ہامان اور ان کی فوجوں کو ان کے ہاتھوں وہ دکھائیں جن کا وہ اندیشہ رکھتے ہیں۔ ‘‘

قرآن کی سورۂ بقرہ اصلاً وہ مقام ہے جہاں امامت پر بنی اسرائیل اور بنی اسمٰعیل کے نصب و عزل کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔اس میں اس بات کو یوں بیان کیا گیا ہے:

یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ.(البقرہ ۲: ۴۷)
’’اے بنی اسرائیل، یاد کرو میری اس نعمت کو جو میں نے تم پر کی اور اس بات کو کہ میں نے تمھیں دنیا والوں پر فضیلت دی۔‘‘

تاہم دنیاکی پیشوائی کی یہ نعمت نسلی برتری کی بنیاد پر نہیں دی گئی، بلکہ اس کی بنیاد وہ عہد تھا جس کا تفصیلی ذکر ہم بائیبل کے حوالے سے آگے بیان کریں گے۔ قرآن اسے یوں بیان کرتا ہے:

یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَوْفُوْا بِعَہْدِیْٓ اُوْفِ بِعَھْدِکُمْ وَاِیَّایَ فَارْھَبُوْنِ. (البقرہ ۲: ۴۰)
’’اے بنی اسرائیل، یاد کرو میری اس نعمت کو جو میں نے تم پر کی اور میرے عہد کو پورا کرو، میں تمھارے عہد کو پورا کروں گا اور مجھی سے ڈرو۔‘‘

اس سورہ میں ابتدائی تمہید کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو مخاطب کیا اور اس عہد کی پاس داری کی طرف انھیں متوجہ کیا جو وہ خدا سے کرچکے ہیں۔اس کے بعد ان کی تاریخ کے بعض اہم واقعات کے حوالے سے ان پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ اسی تذکرے میں بنی اسرائیل کے دوسرے جرائم کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل سے متعدد عہد لیے گئے تھے، مگر وہ ہر دفعہ عہد شکن ثابت ہوئے* ۔ان میں سے خصوصاً شریعت کی پاس داری کا عہد بڑے غیر معمولی حالات میں لیا گیا تھا:

وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْرَ خُذُوْا مَآ اٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّۃٍ وَّاسْمَعُوْا قَالُوْا سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا وَاُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْعِجْلَ بِکُفْرِھِمْ قُلْ بِءْسَمَا یَاْمُرُکُمْ بِہٖٓ اِیْمَانُکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ. (البقرہ ۲: ۳ ۹)
’’اور (یاد کرو) جبکہ ہم نے تم سے عہد لیا اورتمھارے اوپر طور کو اٹھایا،( اور حکم دیا کہ) جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور سنو(اورمانو)۔ انھوں نے کہا : ہم نے سنا اور نافرمانی کی اور ان کے کفر کے سبب سے بچھڑے (کی پرستش) ان کے دلوں میں رچ بس گئی۔ ان سے کہو کہ اگر تم مومن ہو تو کیا ہی بری ہے وہ چیز جس کا تمھارا ایمان تم کو حکم دیتا رہا ہے۔‘‘

پھراس سورت میں یہ بتایا گیا ہے کہ امامت کا منصب اصل میں سیدناابراہیم کو دیا گیا تھا اورابراہیم و اسمٰعیل کی نسل سے ایک امت مسلمہ کی بعثت پہلے ہی سے اللہ تعالیٰ کی اسکیم میں شامل تھی۔ اب یہ منصب بنی اسرائیل سے ان کی نافرمانی کے نتیجے میں سلب کیا جارہا ہے اور آل ابراہیم کی دوسری شاخ ،یعنی بنی اسمٰعیل میں منتقل کیا جارہا ہے، جنھوں نے توحید کی دعوت کو قبول کرلیا ہے۔تحویل قبلہ کا حکم (یعنی بیت المقدس سے بیت اللہ کو قبلہ بنانے کا حکم) اس کی علامت تھی، جس کے فوراً بعد بنی اسمٰعیل کو اس منصب پر فائز کرنے کا اعلان ان الفاظ میں کیا گیا ہے:
 

وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْھَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْہِ وَاِنْ کَانَتْ لَکَبِیْرَۃً اِلَّا عَلَی الَّذِیْنَ ھَدَی اللّٰہُ وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ.(البقرہ ۲: ۱۴۳)
’’ اور اسی طرح (یعنی جس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو اس منصب پر فائز کیا تھا)ہم نے تمھیں ایک بیچ کی امت بنایاتاکہ تم لوگوں پر گواہی دینے والے بنو اور رسول تم پر گواہی دینے والابنے۔ اور جس قبلہ پر تم تھے ہم نے اس کو صرف اس لیے ٹھہرایا تھا کہ ہم الگ کر دیں ان لوگوں کو جو رسول کی پیروی کرنے والے ہیں ان لوگوں سے جو پیٹھ پیچھے پھر جانے والے ہیں۔ بے شک یہ بات بھاری ہے مگر ان لوگوں کے لیے جن کو اللہ ہدایت نصیب فرمائیں۔ اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ وہ تمھارے ایمان کو ضائع کرنا چاہے۔ بے شک، اللہ تو لوگوں کے ساتھ بڑا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

یہ بات زیادہ صراحت سے سورۂ حج (۲۲) کی آیات ۷۵ ۔۷۸ میں بیان ہوئی ہے۔اس کے بعد آخر سورت تک شریعت کے احکامات دیے گئے ہیں تاکہ اس خدا پرستانہ معاشرہ کے خدو خال دنیا کے سامنے آجائیں۔ سورت کے آخر میں شریعت سے پاس داری کے ان کے اقرار کا بیان اس طرح ہے:

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَےْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ ... وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا. (البقرہ ۲: ۲۸۵)
’’رسول ایمان لایااس چیز پر جو اس پر اس کے رب کی طرف سے اتاری گئی اور مومنین بھی۔یہ سب اللہ پر ایمان لائے ... اور کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔‘‘

صحابۂ کرام نے بنی اسرائیل کے ’سَمِعْنَا وَ عَصَےْنَا ‘ کے برعکس ’سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا‘کے الفاظ کہے۔ یہی وہ الفاظ اور عہد ہے جس کی یاددہانی شریعت کے آخری احکامات اترتے وقت اس طرح کرائی گئی:

وَاذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَ مِیْثَاقَہُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِہٖٓ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ.(المائدہ ۵: ۷)
’’اور اپنے اوپر اللہ کے فضل کو اور اس کے اس میثاق کو یاد رکھوجو اس نے تم سے لیا، جب تم نے اقرار کیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی اور اللہ سے ڈرتے رہو۔بے شک، اللہ دلوں کے بھید خوب جاننے والا ہے۔‘‘

_______

* البقرہ۲: ۶۳، ۸۳۔۸۴، ۹۳۔

____________