ہم نے اوپر امت مسلمہ کی تاسیس کے پس منظر میں یہ واضح کیا ہے کہ آل ابراہیم کی ذمہ داری دہری تھی۔ ایک یہ کہ شرک کو بالجبر ختم کرنا تاکہ لوگ حق کے ردوقبول کا فیصلہ آزادانہ بنیادوں پر کر سکیں۔دوسرے الہامی شریعت کی بنیاد پر ایک خدا پرستانہ معاشرے کا قیام تاکہ حق کی شمع لوگوں کی ہدایت کے لیے ہمیشہ روشن رہے۔یہ دوسری ذمہ داری غیر مشروط اور ہر حال میں مطلوب تھی ، جبکہ پہلی صرف نبیوں اور رسولوں کی رہنمائی ہی میں سر انجام دی گئی ۔ جنھوں نے یا تو خود اس کام کو خدا کی نگرانی میں سر انجام دیا یا بہ صراحت اپنی امتوں کو یہ بتایا کہ انھیں کن علاقوں میں شرک کو بالجبر ختم کرنا ہے۔ چنانچہ بائیبل میں فلسطین کے علاقہ کو بنی اسرائیل کا میدان عمل قرار دیاگیا تھا،جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف بادشاہوں کو خطوط لکھ کر صحابۂ کرام (بنی اسمٰعیل) کا میدان عمل طے کیا تھا ۔ان علاقوں کو خلافت راشدہ میں فتح کرلیا گیا۔ صحابہ کا یہ جہاد قرآن کریم کی ان آیات کے مطابق ہوا تھا جن میں اللہ تعالیٰ نے حضور کو صحابہ پر اور صحابہ کو بقیہ دنیاکے لیے شہادت دینے والاقرار دیاتھا*۔تاہم ختم نبوت و رسالت کے بعد شرک کو بالجبر دنیا سے مٹانے کا یہ معاملہ بھی ختم ہوگیا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ذمہ داری صحابۂ کرام کو سونپی تھی جنھوں نے ہمیشہ کے لیے شرک کو اقتدار سے جدا کردیا۔ صحابۂ کرام کے بعد بھی بنی اسمٰعیل امت مسلمہ کی قیادت کے منصب پر فائز رہے۔ بغداد و اسپین کے ساتھ یہ معاملہ بھی اپنے انجام کو پہنچ گیا اور بنی ا سرائیل کی طرح بنی اسمٰعیل بھی آخر کار منصب امامت سے معزول کردیے گئے۔یوں تقریباً تین ہزار سال تک جاری آل ابراہیم کی امامت کا یہ دور ختم ہوگیا۔
تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کل عالم کے لیے ہے اور آپ کی شریعت قیامت تک کے لیے آخری شریعت ہے ، اس لیے بہرحال اس کے وارث بنی اسمٰعیل کے خاتمہ کے بعد بھی باقی رہے۔اسی طرح امت مسلمہ پر ایک خدا پرستانہ معاشرے کے قیام کی غیر مشروط ذمہ داری بھی اپنی جگہ باقی ہے۔ جہاں تک امت مسلمہ کی قیادت کا تعلق ہے تو آل ابراہیم کے بعد اس کا انحصار اس عہد و پیما ن پر ہے جو کو ئی قوم خود آگے بڑھ کر خدا سے باندھ لے ۔ بنی اسمٰعیل کے بعد اب تک دو قوموں نے آگے بڑھ کر یہ عہد باندھا ہے:
پہلی قوم ترک تھی۔ سلطان سلیم نے سن ۱۵۱۷ء میں مصر فتح کیا اور رسمی طور پر خلافت کا بار اپنے سر پر لے لیا۔ عثمانیوں نے خود کو شریعت کا محافظ قرار دیا،جس کے بعد وہ سیاسی اور روحانی طور پر امت مسلمہ کے امام قرار پائے۔ یہ ان کا عہد تھا جو انھوں نے خدا سے باندھا تھا۔جب تک انھوں نے اس کا حق ادا کیا، عروج ان کا مقدر رہا اور جب کوتاہی کی تو زوال کی کھائی میں انھیں گرناپڑا۔ کئی صدیوں تک یہ بار اٹھانے کے بعد کمال اتاترک کی قیادت میں ترکوں نے خلافت کا خاتمہ کرکے اس عہد کو ختم کردیا۔
جس وقت ترکی میں اتا ترک اسلام اور خلافت کو دیس نکالا دے رہے تھے، ہزاروں میل کے فاصلے پر واقع ہندوستان میں امت مسلمہ کاایک غلام گروہ ، خلافت کی بقا کے لیے اپنے انگریز آقاؤں کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ایسی جنگ کے لیے جس میں انھیں کچھ نہیں ملنا تھا ، ان لوگوں نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگادیا۔خلافت ختم ہوگئی۔ ان لوگوں کے ہاتھ عالم اسباب میں کچھ نہ آیا، مگر شاید ان کی بے پناہ قربانیوں کا اثر تھا کہ یہ قوم خدا کی نگاہ میں آگئی۔
آنے والے سالوں میں حیرت انگیز طور پر حالات اس قوم کے سیاسی اقتدار کے حق میں ہموار ہوتے چلے گئے...جب اس قوم کی فکری و سیاسی قیادت ، عوام الناس اور بڑی حد تک مذہبی قیادت نے یک سو ہوکر خدا سے یہ عہد کیا کہ اگر وہ انھیں زمین میں اقتدار دے گا تو وہ اسلام کا بہترین نمونہ دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔ یہ کم وبیش وہی صورت حال تھی جسے قرآن بنی اسمٰعیل کے حوالے سے یوں بیان کرتا ہے:

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ وَلِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ.(الحج۲۲: ۴۱)
’’یہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو سر زمین میں اقتدار بخشیں گے تو وہ نماز کا اہتمام کریں گے، زکوٰۃ ادا کریں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے۔ اور انجام کار کا معاملہ اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔‘‘

اہل پاکستان کا معاملہ بھی یہی ہوگیا ۔صرف اس فرق کے ساتھ کہ اس دفعہ یہ بات خدا کی طرف سے نہیں کہی گئی ، بلکہ لوگ آگے بڑھے اور خدا سے یہ عہد کرلیا۔خدا نے ان کے قائدین کی درخواست قبول کرکے راہ کی ہر مشکل کو آسان کیا اور یوں دنیا کی سب سے بڑی مسلم حکومت اور پانچویں عظیم سلطنت کے طور پرپاکستان دنیا کے نقشے پر ظاہر ہوا۔اس طرح اہل پاکستان حضرت موسیٰ کی اس تنبیہ کا مصداق بن گئے جو انھوں نے اپنی غلام قوم، یعنی بنی اسرائیل سے کہی تھی:

قَالُوْٓا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْ م بَعْدِ مَا جِءْتَنَا قَالَ عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّھْلِکَ عَدُوَّکُمْ وَیَسْتَخْلِفَکُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ. (الاعراف۷: ۱۲۹)
’’وہ بولے: ہم تو تمھارے آنے سے پہلے بھی ستائے گئے اور تمھارے آنے کے بعد بھی، اس نے کہا: امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو پامال کرے گا اور تم کو ملک کا وارث بنائے گاکہ دیکھے تم کیا روش اختیار کرتے ہو۔‘‘

اگلے باب میں اسی قوم کے حالات و تاریخ کا ایک تجزیاتی مطالعہ ، عروج و زوال کے قوانین کی روشنی میں، ہمارے پیش نظر ہے۔

_______

* البقرہ ۲: ۱۴۳۔ الحج ۲۲: ۷۵۔۷۸۔

____________