امامت کے اس منصب کا مطلب خدا کی کسی قوم سے خصوصی قرابت نہیں کہ ہر حال میں اس قوم کی مدد کرے ، بلکہ یہ پورا معاملہ آزمایش کے اصول پر کیا گیا تھا۔چنانچہ نزول قرآن کے وقت خدا نے یہ واضح کردیا کہ نافرمانی کی صورت میں وہ ماضی میں عذاب دینے میں کبھی جھجکا ہے اور نہ مستقبل میں جھجکے گا۔ بنی اسمٰعیل اور بنی اسرائیل ، دونوں کو مخاطب کرکے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ وَلَآ اَمَانِیِّ اَھْلِ الْکِتٰبِ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءً ا یُّجْزَبِہٖ وَلَا یَجِدْلَہٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّ لاَ نَصِیْرًا.(النساء ۴: ۲۳ ۱)
’’ نہ تمھاری آرزوؤں سے کچھ ہونے کا ہے، نہ اہل کتاب کی۔ جو کوئی برائی کرے گا ، اس کا بدلہ پائے گا اور وہ اپنے لیے اللہ کے مقابل کوئی کارساز اور مددگار نہیں پائے گا۔‘‘

سورۂ بنی اسرائیل (۱۷)میں بنی اسرائیل کے عروج و زوال کی داستان بیان کی گئی اور اسے ان کے اعمال سے منسوب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا:

وَ قَضَیْنَآ اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ فِی الْکِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا کَبِیْرًا. فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰھُمَا بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَکَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلاً. ثُمَّ رَدَدْنَا لَکُمُ الْکَرَّۃَ عَلَیْھِمْ وَاَمْدَدْنٰکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَجَعَلْنٰکُمْ اَکْثَرَ نَفِیْرًا. اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَ نْفُسِکُمْ وَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَھَا فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ لِیَسُوْٓءٗ ا وُجُوْھَکُمْ وَلِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ کَمَا دَخَلُوْہُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّلِیُتَبِّرُوْامَاعَلَوْا عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَرْحَمَکُمْ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا تَتْبِیْرًا.(۴ ۔ ۸)
’’ اور ہم نے بنی اسرائیل کو اپنے اس فیصلہ سے کتاب میں آگاہ کردیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فساد مچاؤگے اور بہت سر اٹھاؤ گے۔ پس جب ان میں سے پہلی بار کی میعاد آئی تو ہم نے تم پر اپنے زورآور بندے مسلط کردیے تو وہ گھروں میں گھس پڑے اور شدنی وعدہ پورا ہوکر رہا۔ پھرہم نے تمھاری باری ان پر لوٹائی اور تمھاری مال و اولاد سے مدد کی اور تمھیں ایک کثیر التعداد جماعت بنا دیا۔اگر تم بھلے کام کروگے تو اپنے لیے اور اگر برے کام کروگے تو بھی اپنے لیے۔ پھر جب دوسرے وعدہ کا وقت آیا (تو ہم نے تم پر اپنے زور آور بندے مسلط کردیے)تاکہ تمھارے چہرے بگاڑ دیں اور تاکہ وہ مسجد میں گھس پڑیں جس طرح پہلی بار گھس پڑے تھے اور تاکہ جس چیز پر ان کا زور چلے اسے تہس نہس کر ڈالیں۔ کیا عجب کہ تمھارا رب تم پر رحم فرمائے۔اور اگر تم پھر وہی کروگے تو ہم بھی وہی کریں گے۔ ‘‘

بنی اسرائیل کے بعد بنی اسماعیل کو منصب امامت پر فائز کیا گیا اور انھیں بتادیا گیا کہ ایسا نہیں ہے کہ بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل کے بعد خدا کے پاس اور لوگ نہیں بچے کہ وہ ہر حال میں ان کے ناز نخرے اٹھاتا رہے گا۔ فرمایا:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٓٗ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلاَ یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآءِمٍ ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ.(المائدہ ۵: ۵۴)
’’ ایمان والو، جو تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا( تو اللہ کو کوئی پروا نہیں)، وہ جلد ایسے لوگوں کو اٹھائے گا جن سے وہ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے، وہ مسلمانوں کے لیے نرم مزاج اور کافروں کے لیے سخت ہوں گے، اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرو انہ کریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے ، وہ جس کو چاہے بخشے گا۔ اور اللہ بڑی وسعت رکھنے والا اور علم والا ہے۔‘‘

اس تنبیہ کے ساتھ خدا سے وفاداری کی صورت میں حکومت و اقتدار کا وعدہ بنی اسمٰعیل سے اس طرح کیا گیا:

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ وِلَیُبَدِّلَنَّھُمْ مِّنْ م بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًا یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْءًا وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ.(النور ۲۴: ۵۵)
’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے عمل صالح کیے، ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار بخشے گا، جیسا کہ ان لوگوں کو اقتدار بخشا جو ان سے پہلے گزرے، اور ان کے لیے ان کے اس دین کو متمکن کرے گاجس کو ان کے لیے پسندیدہ ٹھہرایا، اور ان کی اس خوف کی حالت کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا۔ وہ میری ہی عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہ ٹھہرائیں گے۔ اور جو اس کے بعد کفر کریں گے تو (درحقیقت) وہی لوگ نا فرمان ہیں۔‘‘

____________