پانچویں بحث
 

آل ابراہیم کو لگنے والے امراض


یہ بحث اس وقت تک مکمل نہ ہوگی، جب تک کہ آل ابراہیم اور امت مسلمہ کی تباہی کا سبب بننے والے امراض کی نشاندہی نہ ہوجائے، تاہم اس سے قبل یہ واضح کرنا مناسب ہوگا کہ ہم آل ابراہیم اور امت مسلمہ کو متبادل اصطلاحات کے طور پر کیوں بیان کر رہے ہیں؟ اصل میں خدا کا عہد تو آل ابراہیم کے ساتھ ہی تھا ، مگر ان کے ساتھ دوسرے لوگ بھی شامل ہو گئے، اور یہی مطلوب بھی تھا کہ یہ لوگ حق کی شمع جلائیں اور دوسری اقوام ان سے فیض پائیں۔ چنانچہ بنی اسرائیل کے ساتھ جن ’’پردیسی‘‘ لوگوں کا ذکر بائیبل میں ملتا ہے، یہ وہی دوسری اقوام کے لوگ تھے۔اور بنی اسمٰعیل جو عربوں کے نام سے معروف تھے ، ان کے ساتھ عجمی مسلمان اسی حیثیت میں شامل تھے۔ یہ سب مل کر امت مسلمہ بناتے ہیں، مگر بغداد کی تباہی تک امت مسلمہ کی امامت و قیادت آل ابراہیم کے ہاتھ میں رہی، اسی لیے ہم ان دونوں کو متبادل اصطلاحات کے طور پر استعمال کررہے ہیں ۔
جیسا کہ ہم عرض کرچکے ہیں کہ امت مسلمہ کی اساس اصلاً دو چیزوں پر ہوتی ہے۔ ایک توحید سے وفاداری اور دوسری شریعت کی پاس داری۔ ہر وہ بیماری جو ان دو وظیفوں کی راہ میں رکاوٹ بنے، امت مسلمہ کے لیے تباہی کا پیغام لاتی ہے۔ قرآن اوربائیبل کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کو لگنے والا پہلا مرض جس نے انھیں بار بار توحید سے دور کیا ، وہ شرک تھا۔ اس دور کی بین الاقوامی تہذیب میں شرک جس طرح شامل تھا اور بالخصوص مصریوں کی غلامی میں رہنے کے بعد ان کے اذہان پر اس کے کتنے اثرات تھے ، اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ انھوں نے مصر سے نکلتے ہی حضرت موسیٰ سے ایک خدا بنانے کی فرمایش کی *۔ آپ کے طور پر جانے کے بعد بچھڑے کو خدا بنا بیٹھے** ، قرآن کے مطابق ان کے دلوں میں گویابچھڑے کی محبت گھول کرپلا دی گئی تھی*** ۔ شرک کے ان اثرات نے فلسطین میں بھی ان کا پیچھا نہ چھوڑااور انبیاے بنی اسرائیل نے اس معاملے میں جس طرح انھیں شدید تنبیہ کی ہے ، وہ بائیبل میں جگہ جگہ دیکھی جاسکتی ہے ۔
ان سب باتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ توحید کے فروغ کے جس مشن پر وہ مامور تھے ، انھوں نے بار بار اس سے روگردانی اختیار کی۔ ایک دوسرا مرض جو ان کو لاحق ہوا اور جو ان کی تاریخ کے آخری دور میں شرک سے بھی زیادہ بڑھ گیا ، وہ ظاہر پرستی کا تھا۔ اس نے انھیں شریعت کی پاس داری کی عظیم ذمہ داری کو پورا کرنے کے قابل نہ چھوڑا۔وہ شریعت اور اس کے مصالح کو چھوڑ کر فقہ کے ظاہری سانچے کے اسیر ہوگئے۔ قرآن ان کے اس فقہی سانچے کو بوجھ اور بیڑیوں سے تعبیر کرتا ہے ****۔ اس صورت حال کو اگر درست طور پر سمجھنا ہے تو ا س کے لیے انجیل کامطالعہ بے حد مفید ہوگا۔فقیہوں اور فریسیوں نے شریعت کے نام پر جو صورت حال پیدا کردی تھی، سیدنا عیسٰی علیہ السلام نے اس پر شاہ کا ر تنقید کی ہے، تاہم یہودی علما اپنی اصلاح کے بجاے ان کے دشمن بن گئے اور ان کی جان کے درپے ہوگئے۔
کچھ ایسی ہی صورت حال بنی اسمٰعیل اور دیگر مسلمان اقوام کے ساتھ پیش آئی۔ شرک کے خلاف قرآن کا مورچہ اتنا مستحکم تھا کہ بنی اسمٰعیل میں وہ بآسانی داخل نہ ہوسکا،تاہم اکابر پرستی کا مرض جس میں مبتلا ہوکر عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹاقرار دے دیا تھا ، اس امت میں بھی خوب پھیلا۔دور جدید میں شرک کی جگہ اب الحاد (atheism) نے لے لی ہے۔ موجودہ دور میں الحاد وہ رویہ بن گیا ہے جس میں براہ راست خدا کا انکار نہ بھی کیا جائے تب بھی اپنی خواہشات کو معبود اور دنیا کی زندگی کو نصب العین بناکر جیا جاتا ہے۔ یہ رویہ اس امت میں بڑا عام رہا ہے۔ قرآن اس رویہ کو اس طرح بیان کرتا ہے:

اَفَرَءَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہٗ ھَوٰہُ وَاَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰے سَمْعِہٖ وَقَلْبِہٖ وَجَعَلَ عَلَی بَصَرِہٖ غِشٰوَۃً فَمَنْ یَّھْدِیْہِ مِنْ م بَعْدِ اللّٰہِ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ. وَقَالُوْا مَاہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَایُھْلِکُنَآ اِلاَّ الدَّھْرُ وَمَالَھُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ اِنْ ھُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ. (الجاثیہ ۴۵: ۲۳ ۔ ۲۴)
’’کیا تم نے دیکھا اس شخص کو جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے، اور جس کو اللہ نے، علم رکھتے ہوئے،گمراہ کردیااور اس کے کان اور اس کے دل پر مہر کر دی، اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا؟بھلا ایسوں کو کون ہدایت دے سکتا ہے، بعد اس کے کہ اللہ نے (اس کو گمراہ کردیا ہو)؟ کیا تم لوگ دھیان نہیں کرتے؟ اور وہ کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو اسی دنیا کی زندگی تک ہے۔ (یہیں) ہم مرتے اور جیتے ہیں اور ہم کو بس گردش روزگار ہلاک کرتی ہے۔ اور ان کو اس باب میں کوئی علم نہیں ہے ، محض اٹکل کے تیر تکے چلارہے ہیں۔ ‘‘

قرآن و حدیث میں دنیا پرستی کی سختی سے مذمت کی گئی ہے، کیونکہ یہ سوچ شرک کی طرح انسان کو توحید سے کاٹ دیتی ہے اوراس مرض میں مبتلا مسلمان توحید و آخرت ، دونوں کے تقاضے بھول جاتے ہیں۔
ظاہر پرستی کا مرض اس امت میں بنی اسرائیل کی طرح پوری شدت سے ظاہر ہوا۔ فقہ کا فن ایک بنیادی انسانی ضرورت تھا ۔ یہ ضرورت ابتدائی صدیوں میں اسلامی اقتدار کے غلبے کے ساتھ ہی تیزی سے نمودار ہوئی،مگر تھوڑے عرصے میں ہی شریعت اور اس کے احکام کی روح فقہی انبار کے نیچے ایسی دبی کہ آج ہزار سال بعد کسی کو یہ سمجھانا بہت مشکل ہے کہ خدا کی بھیجی ہوئی مقدس شریعت ،جو خدا کے عہد ومیثاق کی بنیاد ہے، فقہ سے بلند تر چیز ہے ۔ لوگ فقہ کے انسانی کام اور مقدس شریعت میں جب فرق نہیں کرتے تو یہ بات وہ کیسے مان لیں کہ فقہی کام حالات سے متعلق ہوتا ہے اور شریعت مقدس اور غیر متبدل ہے۔ آہستہ آہستہ اس کے نتیجے میں شریعت ، اس کی روح اور اخلاقی اصول تو دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور فقہی موشگافیاں عین مطلوب بن جاتی ہیں۔ غالباً ایسی ہی صورت حال میں سیدنا مسیح نے یہ کہا ہوگا کہ تم لوگ مچھروں کو چھانتے ہو اور اونٹوں کو نگل جاتے ہو*****۔
شرک و الحاد، اکابر پرستی وحب دنیا اور ظاہر پرستی ہی وہ امراض ہیں جو جب کبھی امت مسلمہ کو لاحق ہوتے ہیں ، اسے ان فرائض کی ادائیگی سے روک دیتے ہیں جن کے لیے اس کی تشکیل کی گئی ہے، یعنی توحید سے وفاداری اور شریعت کی پاس داری۔

_______

* الاعراف۷: ۱۳۸۔
** الاعراف۷: ۱۴۸۔
*** البقرہ ۲: ۹۳۔
**** الاعراف۷: ۱۵۷۔
***** متی ۲۳: ۲۴۔

____________